محبت کی کہانی

بھاٸ آپ کیوں ہر وقت اداس رہتے ہو؟
محمود جو کہ طارق کا چھوٹا بھاٸ تھا
طارق کو اداس دیکھ کہ سوال کیا۔
کیا کروں یار کبھی تو والدین ہمارے دشمن بن جاتے ہیں۔
والدین کو اپنے بچوں کے جذبات کی قدر کرنی چاہیۓ۔
محمود جو کہ کراچی میں زیر تعلیم تھا اور چند ہی ہوۓ تھے گاٶں کو لوٹے ہوۓ۔
اور وہ طارق کی کہانی سے ناواقف تھا۔
__¥¥¥¥
طارق نے پڑھاٸ مکمل کرنے کے بعد ٹیچنگ کا شعبہ اختیار کیا تھا۔۔
طارق کے ہمساۓ جو کہ کہیں سے ہجرت کر کہ یہاں شفٹ ہوۓ تھے انکی لڑکی سے بہت محبت تھی۔
طارق اور ساٸرہ بچپن کے اچھے دوست تھے
ہمیشہ اکٹھے اسکول سے کالج اور اکیڈمی ساتھ جاتے تھے۔۔
ساٸرہ کی بھی تعلیم مکمل ہوچکی تھی۔۔
ان کے والدین اب ساٸرہ کے لیۓ کسی اچھے رشتے کی تلاش میں تھے۔۔
¥¥¥¥¥¥__
طارق ہماری محبت میں اب تک کسی چیز کی کمی نہیں رہی۔
اب ہمیں چاہیۓ کہ ہم نکاح جیسی عظیم خوشیوں میں بندھ جاٸیں۔
طارق اداس تھا۔
کیا ہوا طارق تم کچھ بولتے کیوں نہیں ہو۔۔
تمھیں شادی نہیں کرنی؟یا صرف مجھے ہی شادی کا شوق ہے۔
نہیں یار ایسی بات بلکل نہیں ہے۔
طارق نے اداس لمحوں کو الوادع کہنا چاہا اور فلحال یہ وقت قیمتی بنانا چاہا۔۔
طارق پلیز مجھے کچھ جواب دو۔؟
ساٸرہ میں نے دو مہینوں سے تم سے ایک بات چھپاٸ ہوٸ ہے۔
ساٸرہ جو کہ کافی جلد باز تھی کیا تم مجھ سے محبت نہیں کرتے؟
ساٸرہ تم ایسے سوچ بھی کیسے سکتی ہو؟
تمہارے ذہن میں ایسے خیالات پناہ ہی کیوں لیتے ہیں۔۔
تو طارق مجھے کچھ بتا کہ مجھے اس الجھن سے باہر کیوں نہیں نکالتے تم؟
بات یہ ہیکہ دو مہینے سے میں اپنے والدین سے تمہارا ہاتھ مانگنے کی درخواست کر رہا ہوں۔۔
طارق نے بات مکمل نہیں کی تھی کہ ساٸرہ نے جٹ سے کہا پھر کیا کہا انہوں نے کب مانگیں گے رشتہ۔؟
ساٸرہ ایسی ویسی کوٸ بات نہیں ہے۔۔
بابا نے تو بلکل ہی انکار کر دیا ہے یہ کہ کر کہ ہم خاندانی لوگ باہر کے لوگوں میں رشتے نہیں کرتے۔
جبکہ مما بھی بابا کی ہاں میں ہاں ملاٸ جا رہی ہیں۔۔
ساٸرہ افسردگی سے یعنی کہ آپ کے والدین کی نظر میں ہم غیر خاندانی ہیں؟
یار والدین یہ سوچتے ہیں میں اگر ایسا سوچتا تو تمہارے ساتھ محبت کرتا۔۔
طارق نے ساٸرہ کی الجھن دور کرنے اور اپنی محبت جتانے کی کوشش کی۔۔
____
طارق محمود سے یار بھاٸ ایک تو ہی تو ہے جو میرٕے دکھ کو سمجھ سکتا ہے۔
تو بھی مما بابا سے کچھ کہ نا۔
بھاٸ کل میں نے اشارے اشارے میں مما کو کہا بھی تھا۔مگر مما نے کہا کہ ابھی تمہارے والدین حیات ہیں تمھیں ان باتوں میں الجھ کر اپنا وقت ضاٸع کرنے کی کوشش نہی کرنی چاہیۓ۔
یار بھاٸ اگر تو تھوڑا سا میرا ساتھ دے تو میں بھاگ کہ شادی کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہوں۔۔
محمود بھی آخر اس باپ کی اولاد تھا جن کو اپنے خاندانی ہونے پہ فخر تھا۔
جٹ سے بولا اگر ایسی حرکت کی تو تا حیات ہم کسی کو منہ دکھانے لاٸق نہیں رہیں گے۔
____
طارق نے گھر میں بڑے بھاٸ کے سوا کسی کے سامنے اپنی محبت اور شادی کرنے کی منتیں سے گریز نہیں کیا تھا۔۔
مگر سب کا وہی جواب تھا کہ جو بابا مما مناسب سمجھیں۔
____
طارق کے والدین نے طارق کی روز روز کی منتوں سے تنگ آکر طارق کو گاڑی دے کر سوات روانہ کر دیا۔۔کہ وہاں جا کہ گاڑی کی مرمت کرواٶ۔
طارق جاتے وقت اپنا چھوٹا موباٸل محمودکے پاس ہی بھول گیا تھا۔۔
اس بات کا اسے سوات جا کہ علم ہوا۔۔
اور وہ بہت پریشان بھی ہوا کہ اس میں ساٸرہ کا نمبر وغیرہ بھی سیو تھا۔
_____
طارق کو سوات بھیج کر اسکے والدین نے ساٸرہ کے والدین کو اطلاع دی کہ ہم نہیں چاہتے کہ ہمارا بیٹا آپکی بیٹی سے شادی کرے اسلیۓ تمشادی کر دو یا اسکا کوٸ رشتہ آنے تک اسے کسی رشتہ دار کے ہمراہ ٹہرنے کا کہو۔
___
ساٸرہ کے والدین طارق کے والدین کی اس حرکت سے بہت پریشان ہوۓ۔
اور کہا کہ ہم بھی اتنے بےغیرت نہیں کہ تمہاری مرضی کے خلاف اپنی لاڈلی کی شادی تمہارے بیٹے سے کریں۔۔
____
اسوقت دو خاندانوں کے بیچ محبت ضد,اور انا کا مسلہ حاٸل ہو چکا تھا۔۔
جبکہ محبت سے زیادہ ضد,اور انا کا مسلہ زیادی قوی تھا۔۔
____
ساٸرہ کے لیۓ پہلے بھی کٸ رشتے آتے رہے۔
مگر اسکی ماں کو طارق اور ساٸرہ کی محبت کا پتہ تھا اسلیۓ ساٸرہ کو خبر کیۓ بنا وہ رشتے موڑ دیتی۔۔
مگر اس دفعہ انہوں نے ساٸرہ کی منگنی کا پختہ عزم کر لیا تھا۔
___
شام کو ساٸرہ کے بابا کسی سے فون پر بات کر رہے تھے ۔
ساٸرہ چاۓ دینے آٸ تو اس نے دروازے میں کھڑے ہوکر بابا کی باتیں سن لیں۔۔
اور پریشان سی کمرے میں داخل ہوگٸ۔۔
بابا آپ یہ کیا باتیں کر رہے تھے کس سے کر رہے تھے۔۔
نہیں بیٹا کچھ نہیں جاٶ تم سو جاٶ آرام سے۔۔
ساٸرہ ساری رات سوچتی رہی۔۔
ساٸرہ کو طارق پہ غصہ آرہا تھا کہ وہ موباٸل ساتھ کیوں نہیں لے کہ گیا۔۔
ساٸرہ تو یہ سمجھ رہی تھی کہ وہ جان بھوج کہ یہاں چھوڑ کہ گیا ہے۔۔
مگر حقیقت ایسی نہیں تھی۔۔
___
طارق کی واپسی سے دو دن قبل ساٸرہ کا رشتہ طے ہوچکا تھا۔۔
اور منگنی کے موقع پہ ساٸرہ کے بابا نے وہ سب باتیں ساٸرہ سے کہ دیں تھیں جو کہ طارق کے والدین نے ان سے کہا تھا۔
__
طارق واپس گھر آیاتو سب سے پہلے ساٸرہ کی منگنی کی خبر سن کر بہت افسردہ ہوا۔۔
پریشانی کو نا سہ سکا اور طارق بہت سخت بیمار ہوگیا۔۔
____
اب طارق جو الفاظ اسکے والدین نے ساٸرہ کے والدین سے کہا تھا اسکی وجہ سے مجبور ہوچکا تھا۔
اور ساٸرہ اپنے والدین کے فیصلے سے مجبور ہو چکی تھی۔
__
پانچ مہینے گزر گۓ اور ساٸرہ کی شادی کے دن طے ہوگۓ۔۔
ساٸرہ بہت پریشان تھی مگر والدین کا فصلہ رد بھی نہیں ہو سکتا تھا۔۔
ساٸرہ کی شادی ہوگٸ اور اس طرح طارق اور ساٸرہ کی بچپن کی محبت دو خاندانوں کے انا کے مسلے پہ قربان ہوگٸ۔۔
۔______
ساٸرہ اس شادی سے بلکل متفق نہیں تھی,
ساٸرہ اپنے شوہر صادق کے ساتھ اکثر لڑاٸ جھگڑے میں رہتی۔
آہستہ آہستہ ساٸرہ کا دل اپنے شوہر سے اٹھتا گیا۔۔
اور کٸ گھریلو مسلے بھی جنم لیۓ اس دورانیے می۔۔
ایک سال گزر جانے کے بعد ساٸرہ نے شوہر سے خلع لینے کا فیصلہ کر لیا۔
گھر آکر ساٸرہ نے والدین کو صاف صاف اطلاع دے دی کہ اب وہ اس گھر میں کبھی نہیں جاۓ گی۔
__¥¥
ساٸرہ کے شوہر نے خلع سے انکار کر دیا اور عدالت میں کیس داٸر کر وا دیا۔۔۔
ایک سال مسلسل دونوں خاندان بری طرح سے کیس میں الجھے رہے۔۔
ایک سال کہ بعد عدالت نے ساٸرہ پہ نو لاکھ کا جرمانہ عاٸد کیا۔۔
اور ہدایت کی کہ ایک مہینے تک نو لاکھ روپے جرمانہ ادا کرے گی تب اسکا شوہر پیپرز پہ ساٸن کرنے کا پابند ہوگا۔
____
ساٸرہ کے والدین اتنی رقم کی اہلیت نا رکھتے تھے۔۔
اسلیۓ وہ سوچ میں تھے کہ کیا کیا جاۓ۔
___
طارق نے موقع سے فاٸدہ اٹھایا اور چپکے سے نو لاکھ روپے ساٸرہ کے پہلے شوہر کو ساٸرہ کا خلع لینے والا جرمانہ ادا کیا اور ساٸرہ کے والدین کو اطلاع دی کہ جرمانہ میں ادا کر چکا ہوں۔۔
اس کے بدلے اب ساٸرہ کی مجھ سے شادی کروا دی جاۓ۔۔
___
طارق اپنے والدین سے چھپ کر شادی کر چکے تھے۔۔
تین مہینے وہ گھر سے باہر رہے اسکے بعد آخر طارق کے والدین بھی طارق کے جذبات سے واقف ہوگۓ اور طارق اور ساٸرہ کو واپسی گھر بلا لیا۔۔
___
اب دونوں خاندان بہت خوش تھے۔۔
اور طارق اور ساٸرہ ابدی خوشیوں کے گھر میں قدم رکھ چکے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ختم شد
راٸیٹر: ابوبکر قاسم

اپنا تبصرہ بھیجیں