پروفیشنل ازم سنت نبوی کی روشنی میں

انسان جو کام کرے دھیان سے اچھی طرح ہر پہلو سے مکمل کرے
اس سے اللہ تعالٰی خوش ہوتے ہیں

قرآن کریم کی ایک آیت اور ایک حدیث شریف کا مطالعہ

(رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے صاحبزادے حضرت ابراہیم سلام اللہ علیہ کو دودھ پلانے کے لیے اس وقت مدینہ منورہ کے نواحی علاقہ عوالی میں کسی خاتون کے سپرد کیا ہوا تھا کبھی کبھی آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خود بھی بچے کی زیارت کے لیے تشریف لے جایا کرتے تھے آپ کے باقی صاحبزادوں کی طرح ان کا بھی بچپن ہی میں انتقال ہوگیا تھا
وفات سے قبل آخری بیماری میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بھی اپنے عزیز کے پاس پہنچ گئے تھے) ، حدیث کے راوی سیرین انصاری کہتےہیں کہ اس نازک وقت میں میں اور میری بہن بھی وہیں موجود تھے ہم دونوں بہن بھائی اس صورت حال کو دیکھ کر رو رہے تھے جس میں ہم سے رونے کی آواز بھی نکل جاتی تھی لیکن رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ہمیں رونے سے منع نہیں فرمایا
جب حضرت صاحبزادہ صاحب کا انتقال ہوگیا تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ہمیں آواز سے رونے سے منع فرما دیا
اور حضرت فضل ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما نے اسے غسل دیا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور حضرت عباس وہیں تشریف فرما رہے جب جنازہ قبرستان لایا گیا تو حضرت عباس اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قبر کے کنارے تشریف فرما رہے اور حضرت فضل بن عباس اور اسامہ بن زید نے انہیں قبر میں اتارا راوی کہتےہیں کہ میں قبر کے قریب رورہا تھا مجھے کسی نے رونے سے نہیں روکا اسی دن سورج گرہن بھی لگا تھا لوگوں نے کہا کہ حضرت صاحبزادہ سلام اللہ علیہ کے انتقال کی وجہ سے گرہن لگا ہے تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سورج گرہن کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں لگتا
جب لحد پر اینٹیں لگ گئیں تو اینٹوں میں معمولی سا خلا رہ گیا (ایسے معمولی خلا کے ہوتے ہوئے قبر پر مٹی ڈالی جائے تو زیادہ نہیں تو کچھ مٹی کے ذرے لحد میں بھی چلے جاتے ہیں جو کفن کو بھی جا لگتے ہیں ) تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس خلا کو بھی بند کردو ،
کسی نے عرض کیا کہ (اس باریک بینی کا)کوئی نفع ہے اور نہ ہی نظر انداز کرنے کا کوئی نقصان ہے تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن اس (صفائی کے اہتمام) سے زندوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں (جیتے جی اپنے عزیز یا اس کے کفن کو مٹی میں نہیں رولا جاتا)
اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مزید ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالٰی یہ پسند فرماتے ہیں کہ بندہ جب کوئی کام کرے تو اچھے طریقے سے کرے (یعنی پورے آداب کے ساتھ ہمہ پہلو کامل اور مکمل کرے,
تدفین کے عمل کو بھی باریک بینی سے مکمل کرنا چاہیے)
(تاریخ دمشق ابن عساکر ٢٩٠/٣٤)

جس چیز کے بارے میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرمائیں کہ اللہ تعالٰی اسے پسند فرماتے ہیں اس کے دین ہونے میں اور عبادت ہونے میں کیا شک ہے
اس لیے جو کام کریں ڈھنگ سے کریں ، انتظام سے کریں،
دوکانداری کریں تو بروقت دوکان کھولیں اور پوری توجہ سے ڈیوٹی دیں کام کے وقت اخبار ، موبائل اور دوستیوں کی طرف توجہ نہ دیں
تدریس کریں تو ہر وقت معیار تدریس بہتر کرتے رہیں اور طلبہ کے نفع کے حریص رہیں
ڈاکٹر مریض کا علاج پوری یکسوئی اور توجہ سے کریں اور سرچ اور ریسرچ اور سیمینارز میں شرکت کے ذریعے اپنی علمی استعداد بڑھاتے رہیں
خطابت کریں تو مطالعہ کریں اور حالات کے تقاضوں پر نظر رکھیں اور وعظ دلچسپ اور مؤثر بناتے رہیں اور اپنے سامعین تک دین پہنچانے کا فکر کرتے رہیں
مریض کی عیادت کریں تو ہمہ پہلو اس کی راحت کا خیال رکھیں میڈیسن بروقت دیں ڈاکٹر کے ویزٹ کے وقت تیماردار خود توجہ کرے
یہ چند مثالیں ہیں
ہرکام چاہے اپنا ہو یا کسی کی خدمت کرے پوری توجہ سے کرے ہمہ جہت سے کام مکمل کرے اور یہ سمجھ کر کرے کہ میری اس توجہ سے اور میرے اس انتظام سے میرے اللہ مجھ سے خوش ہو رہے ہیں
منتظم آدمی خود ترقی کرتاہے ، اس کا کاروبار ترقی کرتا ہے اور اس کا ادارہ مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن رہتاہے

اس مضمون کی ایک مختصر روایت ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا سے بھی منقول ہے جو ذیل میں نقل کی جاتی ہے
حضرت داؤد علیہ السلام کو اللہ تعالٰی نے زرہ سازی کا علم دیا تھا (زرہ دشمن کی تلوار ، تیر اور نیزے سے بچنے کے لیے لوہے کی جیکٹ ہوتی تھی جیسے آج کل بلٹ پروف جیکٹ ہوتی ہے) زرہ میں زنجیر کی کڑیوں کی طرح کڑیاں ہوتی ہیں حق تعالٰی شانہ نے داؤد علیہ السلام کو تاکید فرمائی تھی کہ زرہ کی کڑیاں ایک تناسب سے بنائیں

حدیث شریف عربی متن اور اُردو ترجمہ

عن عائشة أم المؤمنين رضى الله عنها قالت:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنَّ اللهَ تعالى يحبُّ إذا عملَ أحدُكمْ عملًا أنْ يتقنَهُ
(السيوطي الجامع الصغير ١٨٥٥ حسن)
رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالٰی پسند فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی شخص عمل کرے تو اچھی طرح کرے

قرآن مجید کی آیت

اَنِ اعۡمَلۡ سٰبِغٰتٍ وَّ قَدِّرۡ فِی السَّرۡدِ وَ اعۡمَلُوۡا صَالِحًا ؕ اِنِّیۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ (سورہ سبا آیت 11)
ترجمہ:
کہ (اے داؤد ) پوری پوری زرہیں بناؤ، اور کڑیاں جوڑنے میں توازن سے کام لو
اور تم سب لوگ نیک عمل کرو۔ تم جو عمل بھی کرتے ہو میں اسے دیکھ رہا ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں