مولانا اسلم شیخوپوری رحمہ اللہ معمولی تاجر سے کروڑ پتی کیسے بنے

تجارت عزت والا پیشہ ہے، تجارت نوکری چاکری سے بہت مختلف پیشہ ہے، نوکری چاہے جیسی بھی ہو ، پروفیشنل ہو غیر پروفیشنل ہو، لاکھوں روپے ماہوار پر ہو یا کروڑوں روپے کی تنخواہ پر ہو ہر حالت میں نوکری کرنے والا اپنے مالک کا نوکر ہوتا ہے، اور اسی کے رحم و کرم پر زندگی گزارتا ہے، اور مالک کے اشارے پر ناچتا بھی ہے، نوکری کے ٹائم میں وہ غلام سے کم نہیں ہوتا، جس کا اندازہ ہم سب کو ہے، لیکن بدقسمتی سے علماء کرام کا بڑا طبقہ بلکہ 90 فی صد اسی غلامی میں ملوث ہیں، سال بھر مدرسہ میں درس و تدریس کے فرائض پوری ایمانداری سے انجام دیتے ہیں، سالانہ چھٹی ہوتی ہے، اس میں اپنے بال بچوں کے ساتھ وقت گزارنے کے بجائے چندہ کی غرض سے در در کی ٹھوکریں کھاتے ہیں رمضان جیسے مہینے میں آرام سے بیٹھ کر عبادت کرنے کے بجائے کڑی دھوپ میں گھر گھر پہونچتے ہیں اور چندہ اکھٹا کرکے مدرسہ کے ناظم یا سکریٹری کے ہاتھ میں تھما دیتے ہیں، لیکن پھر بھی وقت پر انہیں تنخواہ نہیں ملتی،تنخواہ نہ ملنے پر اگر تھوڑی سی اونچی آواز میں ان نام نہاد ذمداروں سے بات کرلی تو کبھی کبھی تو یہی انکے نوکری سے نکالے جانے کا سبب بن جاتا ہے،اور لاک ڈاؤن کے بعد تو صاف ستھرا جواب آنے لگا ہے کہ ہم سال بھر تنخواہ نہیں دیں گے آپ کو چندہ سے نکالنا ہوگا جیسے احمقانہ جملے کا استعمال ہو رہا ہے اور کہیں کہیں سے تو یہ بھی خبریں آرہی ہے کہ مدرسہ کے سارے اساتذہ کو معطل کردیا گیا اور یہ کہ دیا گیا ہے کہ اگر مدرسہ والوں کو ضرورت ہوگی تو لاک ڈاؤن کے بعد آپ سے رابطہ کریں گے اللہ ہی حفاظت کرے
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک موقع پر علماء کرام کو مخاطب کرکے ارشاد فرمایا کہ اے علماء کی جماعت تجارت اختیار کرو عام مسلمانوں کے کندھوں پر بوجھ نہ بنو تجارت کے ذریعے انسان خود کا بھی گھر چلاتاہے اور دوسروں کا بھی،
میدان تجارت میں علماء کرام باآسانی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں کیونکہ انکے پاس انبیاء کرام اور حضرات صحابہ کے تجارت کے آئڈیاز اور طریقے ہیں،
انہیں آئڈیاز کو اپنا کر پاکستان کے جناب مولانا اسلم شیخوپوری رح نے تجارت میں قدم رکھا باوجود اپنے پاؤں کے معذوری کے انہوں نے بزنس کے لائن ایسی تاریخ رقم کردی کہ اپنے جیسے عالموں کے لئے آئڈیل اور نمونہ بن گئے، آپ رحمہ اللہ کے خیالات بڑے دلچسپ تھے۔ آپ فرماتے تھے: ’’دین کا کام پوری آزادی کے ساتھ اور بغیر کسی کی محتاجی کے کرنے کی صورت یہی ہے کہ انسان کمائی کا کوئی پیشہ اختیار کرے۔‘‘ آپ رحمہ اللہ نے یہ بھی فرمایا تھا: ’’میں یہ محنت، مشقت اس لیے کرتا ہوں، تاکہ قیامت کے دن جب میرے بچے اٹھیں تو اللہ کہیں کہ یہ اپنے ہاتھوں سے محنت کرنے والے مزدور کے بچے ہیں۔‘‘ وہ یہ بھی سمجھتے تھے ایک عالم دین کو عام لوگوں کی نظر میں بے وقعت نہیں ہونا چاہیے۔
تجارت کے کارزار میں اترے تو بہت تھوڑے سرمائے اور کم سطح سے آغاز کیا۔ سب سے پہلے کتابیں فروخت کرنا شروع کیں۔ کتابوں کی منتقلی اور گاہک تک پہنچانا اپنی جسمانی معذوری کے باعث مشکل ہوتا۔ لہذا اس کام کو جاری نہ رکھ پائے۔ پھر بطورمزدور ہوٹلوں کو مٹر نکال کر اور پیک کر کے فراہم کرنا شروع کیا۔ آپ کے رفیق کار قاری عبد المنان نے ذکر کیا کہ مولانا شہید اور ان کی اہلیہ فجر سے پہلے پیکنگ مکمل کر دیتے۔ پھر یہ تھیلیاں قاری عبد المنان اور ان کے بھائی کے ذریعے نماز فجر سے پہلے جھونپڑا پٹیوں میں بنےہوٹلوں کو سپلائی کی جاتیں۔ اگلے مرحلے کے طور پر تسبیح، رومال اور مسواک وغیرہ کی فروخت شروع کی۔ اس سے متعلق مولانا کا نظریہ یہ تھا کہ ایسا کاروبار کیا جائے جس میں خدمت اور عبادت کا پہلو بھی ہو۔ انہوں نے اپنے تمام پروڈکس کو حلیمی پروڈکس کا نام دیا تھا’’حلیمی مسواک‘‘ اس سے متعلق عجیب خواہش تھی کہ اللہ کرے میری یہ مسواک اتنی مقبول اور عام ہو جائے کہ میں حرم شریف کے گیٹ سے جا کر اپنی مسواک خریدوں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ خواہش پوری کی۔ ایک سفرِ حرمین میں اپنی مسواک کو حرم شریف میں فروخت ہوتے دیکھا اور اسے خریدا۔
حضرت مولانا کا ’ شربت امراض قلب‘‘ بھی خدمت خلق کا ہی پس منظر لیے ہوئے ہے۔ آپ کی مسجد کے ایک نمازی دل کے مرض میں مبتلا تھے۔ وہ ہر روز بڑی مشکل سے سیڑھیاں چڑھ کر صحن تک اور صحن سے ہال تک پہنچتے۔ مگر چند دنوں میں آپ نے دیکھا کہ وہ صحت مند نظر آ رہے ہیں۔ ان سے وہ نسخہ معلوم کیا جس کی وجہ سے انہیں افاقہ ہوا تھا۔ متعلقہ حکیم صاحب سے رابطہ کرنے پر معلوم ہو اکہ نسخہ ایک اور صاحب کے پاس ہے۔ بالآخر دس ہزار روپے میں انہوں نے وہ نسخہ عنایت کر دیا۔ مولانا نے نہایت خالص اشیا سے دوائی تیار کروائی۔ بہت کارگر ثابت ہوئی۔ ایک شخص کے دل کا ’’والو‘‘ بند تھا، اسی سے کھلا۔
آپ کی مصنوعات میں ’’حلیمی شہد‘‘ غیر معمولی طور پر مقبول ہوا۔ صرف دو کَین شہد سے تجارت کا آغاز کیا۔ آپ رحمہ اللہ کی شانِ محنت ملاحظہ ہوکہ آپ کراچی(پاکستان) کے علاقے شیر شاہ جا کر خود بوتلیں خرید کر لاتے۔ پھر جمعرات شام سے جمعہ شام تک بوتلیں دھو دھو کر خشک بھی کرتے اور پیک بھی۔ صاف بوتلیں اس لیے نہ خریدتے کہ وہ مہنگی تھیں۔ اس طرح قیمت بہت زیادہ بڑھ جانے کا اندیشہ تھا۔ جس سے ظاہر ہے گاہک کا نقصان ہوتا۔ اپنے کاروبار میں طلبہ کو بھی شامل کر لیتے۔ انہیں کہتے: اپنے عزیز، رشتہ داروں کے لیے لے جائیں، جو نفع ہو وہ آپ کا۔ شہد کا یہ کاروبار دو کین سے شروع ہو کر دو ٹرک تک پہنچا، ہنوز بھی جاری ہے۔
ایک منجن بنا کر فروخت کرنا شروع کیا۔ اس کا نسخہ بہت مہنگا تھا۔ بہت نایاب چیزیں ڈلتی تھیں۔ لیکن پھر بھی کافی پیسے خرچ کرکے اس نسخہ کو خریدا کہتے کہ ہم معیار پر سمجھوتہ ہرگز نہیں کر سکتے۔ یہ بھی یاد رکھو! ہم چاہتے ہیں ہماری وجہ سے کسی کی صحت وغیرہ کا نقصان نہ ہو۔
علم اور تجارت ساتھ ساتھ
ایک ’’سنت گفٹ‘‘ شروع کیا۔ اس میں شہد کی بوتل، مسواک، عطر، تسبیح، سرمہ، بادام والی کھجور اور چھوٹا رومال وغیرہ شامل تھا۔ یہ بھی بہت مقبول ہوا۔آپ نے کئی ایک کاروبار کیے۔ مقامی سطح سے ایکسپورٹ، امپورٹ تک پہنچے۔
دلچسپی کی بات یہ ہے کہ وہ اپنے ماتحت میں کام کرنے والوں کو ڈانٹ ڈپٹ اور گالیاں نہیں دیتے تھے اور نہیں سخت سست کہتے تھے، بلکہ ان کے ساتھ بہت پیار سے پیش آتے تھے، کبھی بھی انہوں نے ٹیکس کی چوری نہیں کی وقت پر ہی ٹیکس ادا کر دیتے تھے۔
علماء کرام کو چاہیے کہ وہ بزنس کے میدان میں آئے، ان شاءاللہ اگر علماء کرام نے تجارت کے میدان میں قدم رکھا تو مسلم اور غیر مسلم تاجروں کو ان سے صحابہ کرام کے تجارت کے طریقے کو سیکھنے کا موقع ملے گا، اور مارکیٹ کالا بازاری سے پاک ہو سکے گا

اپنا تبصرہ بھیجیں