کچھ باتیں حافظ صلاح الدین کے ساتھ

سوال: اپنے مکمل نام, لقب, جائے پیدائش اور سنِ پیدائش وغیرہ سے آگاہ فرمائیں.
جواب: میرا نام صلاح الدین یوسف بن حافظ عبد الشکور بن عبد الرزاق بن محمد اعظم ہے. والد مرحوم مولانا محمد یوسف جے پوری رحمہ اللہ (مصنف “حقیقۃ الفقہ”) کے شاگرد تھے. ان سے والد مرحوم نے قرآن مجید کا ترجمہ پڑھا تھا. تو ان کے نام پر ہی والد صاحب نے میرا نام محمد یوسف رکھا تھا. لیکن جب تحریر کی طرف راغب ہوا تو امتیازی نام کی ضرورت محسوس ہوئی. چونکہ صلاح الدین ایوبی کا نام بھی یوسف تھا, اسی مناسبت سے میں نے اپنا نام بھی صلاح الدین یوسف کر لیا. اس نام کی حیثیت تخلص کی بجائے ایک لقب کی سی ہے. علامہ احسان الہی ظہیر رحمہ اللہ نے یہ سن کر فرمایا تھا کہ نام کی ترکیب “یوسف صلاح الدین” ہونی چاہیے لیکن مجھے صلاح الدین یوسف ہی اچھا لگا. اور اب مجھے صلاح الدین یوسف کے نام ہی سے جانا جاتا ہے.
میری پیدائش 1946ء میں جے پور میں ہوئی, جو قبل از تقسیم ایک ہندوستان ریاست کی راجدھانی تھی اور اب صوبہ راجھستان کا حصہ ہے.

🔺 سوال: آپ کا تعلیمی سفر کیسا رہا؟ اس سے کچھ آگاہ فرمائیں.
جواب: ہمارے گھرانے میں تعلیم و تعلم کا سلسلہ ذیادہ نہیں تھا. والد صاحب قرآن کریم کے حافظ اور اس کے مطالب و معانی کو خوب سمجھنے والے تھے مگر باقاعدہ عالم دین نہیں تھے. لہذا تعلیمی سلسلہ نہ ہونے کی وجہ سے میرا ذیادہ بچپن یونہی کھلنڈرے پن میں گزرا. صرف والد صاحب سے گھر میں “دستور المتقی” کا کچھ حصہ سبقا سبقا پڑھا جس سے اردو سے کچھ واقفیت ہو گئی. لیکن اسکول نہیں گیا.
جب والد صاحب کراچی منتقل ہوئے تو وہاں مسجد رحمانیہ اہل حدیث بوہرہ کراچی میں ناظرہ قرآن مجید پڑھنا شروع کیا. ناظرہ مکمل ہو جانے کے بعد حفظ کا ارادہ نہیں تھا لیکن ہمارے ناظرے کے استاد قاری محمد بشیر تبتی رحمہ اللہ گھر تشریف لائے اور والد صاحب کو اس بات پر مجبور کیا کہ وہ مجھے قرآن مجید حفظ کروائیں. چنانچہ ان کی خواہش اور اصرار پر مجھے شعبہ حفظ میں داخل کروا دیا گیا. وہاں ایک نوجوان استاد قاری اشفاق تھے؛ نہایت محنتی، اوقات کے بڑے پابند اور پڑھانے میں کسی رُو رعایت کے قائل نہ تھے. اللہ کی توفیق اور ان کی محنت کی وجہ سے محض ایک سال میں قرآن کریم مکمل حفظ کر لیا.
جس طرح ناظرہ قرآن پڑھنے کے بعد حفظ قرآن کا کوئی ارادہ نہ تھا, اسی طرح حفظ قرآن کے بعد درس نظامی کی تعلیم کا بھی کوئی خیال نہیں تھا. لیکن علماء کے مشورے کی وجہ سے والد صاحب رحمہ اللہ نے حفظ قرآن کے بعد مجھے علومِ دینیہ کی تحصیل پر لگا دیا. اس وقت دو کمروں پر محیط “جامع العلوم سعودیہ” نام کا چھوٹا سا ایک مدرسہ ہوتا تھا. ایک کمرے میں دو استاد قرآن کریم کے ناظرے اور حفظ کی کلاس لیتے تھے جبکہ دوسرے کمرے میں جو اس سے قدرے بڑا تھا، شعبہ درس نظامی قائم تھا. میں نے وہیں درس نظامی شروع کیا. مدرسے کے بڑے استاد مولانا حاکم علی رحمہ اللہ تھے جو جامع المنقولات والمعقولات تھے اور اسباق کی تفہیم میں انہیں خاص ملکہ حاصل تھا. نہایت کامیاب, محنتی اور دل لگا کر پڑھانے والے استاد تھے. مجھے مولانا حاکم علی رحمہ اللہ سے چند ابتدائی اسباق پڑھنے کا شرف حاصل ہوا اور تاحال میں ان کے تدریسی انداز کی چاشنی محسوس کرتا ہوں. ابھی دوسرا یا تیسرا سال ہی تھا کہ انتظامیہ نے ایک نیا استاد رکھا. یہ ایک بزرگ اور نیک آدمی تھے لیکن تدریسی تجربہ نہیں تھا اور صرف و نحو کے قواعد بھی ان کی لوح حافظہ سے تقریبا نکل چکے تھے. ظاہر بات ہے جو استاد صرف و نحو میں کمزور ہو وہ کامیاب مدرس نہیں ہوسکتا اور حصولِ علم کے جذبے سے سرشار طلبہ ایسے استاد سے مطمئن نہیں ہوسکتے. سو طلبہ نے انتظامیہ تک اپنے جذبات پہنچائے لیکن انتظامیہ نے ان استاد کو بدلنے سے معذرت کر لی. نتیجتا ہم طلبہ نے اس مدرسے سے معذرت کر لی.
ہم طلبہ نے جامع العلوم سعودیہ چھوڑا تو حصول تعلیم کے لیے پنجاب جانے کا ارادہ بنا. دوسرے طلبہ کے برعکس یہ فیصلہ میرے لیے خاصا مشکل ثابت ہوا. ایک تو اس لیے کہ پنجاب میرے لیے ایک بالکل نیا علاقہ تھا جبکہ میری مستقل بود و باش کراچی کی تھی. دوسرا یہ کہ میری عمر 13، 14 سال تھی اور اس عمر میں والدین کے لیے بچے کو کسی دور دراز علاقے میں بھیجنا مشکل ہوتا ہے. تاہم اللہ تعالی کے فضل سے یہ مشکل مرحلہ بھی سر ہو گیا. والد مرحوم فرمانے لگے: مجھے تمہارا پنجاب جانا اچھا تو نہیں لگتا لیکن تمہیں روکنا بھی مجھ پسند نہیں ہے ؛ تم جانا چاہتے ہو تو جاؤ، ہماری طرف سے رکاوٹ نہیں ہوگی. یعنی فیصلہ اب میرے ہاتھ میں تھا. مولانا حاکم علی رحمہ اللہ کو علم ہوا تو انہوں نے روکنے کی بہت کوشش کی اور یہاں تک کہا کہ میں خود تمہیں پڑھاؤں گا. لیکن اللہ کی مشیت یہی تھی کہ محدثین اور اکابر علماء کی سنت کے مطابق مجھے زیادہ نہیں تو ایک آدھ علمی سفر سے گزرنا تھا کہ ایسے اسفار کے فوائد و برکات مسلمہ ہیں.
بہرحال میں نے کراچی سے لاہور کا رخ کیا اور وہاں “دار العلوم تقویۃ الاسلام” میں داخلہ لے لیا. مولانا داؤد غزنوی رحمہ اللہ یہاں کے مہتمم تھے. مولانا حافظ محمد اسحق رحمہ اللہ شیخ الحدیث تھے اور نہایت محنتی اور وقت کے پابند تھے. مولانا حاکم علی رحمہ اللہ کے بعد میں نے زیادہ فیض ان ہی سے پایا. دیگر اساتذہ میں مولانا عبدالرشید گوہڑوی رحمہ اللہ اور مولانا عبدالرشید مجاہدآبادی حفظہ اللہ شامل تھے.

🔺 سوال: ازواج و اولاد کے متعلق آگاہ فرمائیں.
جواب: بیوی الحمد للہ ایک ہی ہے. اللہ تعالی نے بیوی ایسی عطا کی ہے جو ظاہری اور باطنی ہر قسم کی خوبیوں سے آراستہ ہے. اس لیے کبھی دوسری شادی کا سوچا بھی نہیں. ایک ہی بیوی سے بڑی خوشگوار زندگی گزری ہے اور ابھی تک گزر رہی ہے. بس دعا فرمائیں کہ بقیہ زندگی بھی اسی طرح بھرپور انداز سے گزر جائے جس طرح اب تک گزری ہے.
الحمد للہ میرے سات بچے ہیں؛ چار بیٹیاں اور تین بیٹے. چاروں بیٹیاں شادی شدہ ہیں اور اپنے اپنے گھروں میں خوش و خرم ہیں؛ الحمد للہ. دو بیٹے ساتھ ہی بالائی منزل میں رہتے ہیں, وہ بھی شادی شدہ ہیں. تیسرا بیٹا ابھی زیر تعلیم ہے اور اس کی شادی ابھی نہیں ہوئی.

🔺 سوال: روحانی طور پر کن شخصیات سے بہت متاثر ہیں؟ تحریر اور تقریر میں کن شخصیات کو پسند کرتے ہیں ؟
جواب: ہمارے علماء اہلحدیث میں روحانیت کا وہ سلسلہ نہیں ہے جو عام طور پر دوسرے حلقوں میں پایا جاتا ہے. اسی لیے ہمارے ہاں اس انداز کی روحانی شخصیات بھی نہیں جو دوسرے حلقوں میں متعارف ہیں. تا ہم اہلحدیث علماء کتاب و سنت کے دائرے میں رہتے ہوئے اوراد و وظائف کا اہتمام کرتے ہیں. اس لیے معروف روحانی تصورات کی بات کی جائے تو کسی بھی شخصیت سے ایسا کوئی تعلق نہیں رہا کہ جسے ضروری سمجھا جاتا ہے بلکہ شریعت کے مقابلے میں ایک دینِ طریقت ہے مکمل.
البتہ بعض علماء تقوی و صالحیت کی بنا پر معروف رہے ہیں جس طرح حافظ یحیی عزیز میرمحمدی رحمہ اللہ وغیرہ. ہمارے ہاں روحانیت کا یہی مفہوم ہے.
تحریر میں تو بیشتر اچھے لکھنے والوں کو پڑھ رکھا ہے. مولانا ابو الکلام آزاد, سید سلمان ندوی, شبلی نعمانی, نعیم صدیقی, مولانا اسماعیل سلفی, مولانا مودودی, ماہر القادری اور شورش کشمیری رحمہم اللہ وغیرہ سر فہرست ہیں. ان تمام حضرات کی تحریروں سے استفادہ کیا ہے. طالب علمی کے دور سے لے کر آج تک استفادے کا سلسلہ جاری ہے اور میں دیگر علماء سے بھی گزارش کروں گا کہ وہ اچھے لکھنے والے لوگوں کی تحریریں پابندی کے ساتھ پڑھا کریں. اس سے انشاء اور تحریر کا سلیقہ بھی پیدا ہوگا اور اچھی نثر نگاری بھی آئے گی.
تقریر میں سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور ابو الکلام آزاد رحمہما اللہ کی تعریف بہت سنی ہے لیکن ان کو سننے کا موقع نہیں ملا. البتہ جن اچھے خطباء کو سنا ہے ان میں کراچی کے ایک خطیب مولانا احتشام الحق تھانوی رحمہ اللہ تھے. پھر ہماری جماعت اہلحدیث میں حافظ اسماعیل روپڑی رحمہ اللہ بڑے زبردست اور جادو بیاں خطیب تھے. شورش کاشمیری اپنے انداز کا بڑا منفرد خطیب تھا. اسی طرح علامہ احسان الہی ظہیر رحمہ اللہ کو بھی اللہ نے خطابت کا اچھا ملکہ دے رکھا تھا.

🔺 سوال: اچھا شعری و ادبی ذوق ہونا عالم کی شخصیت پر کیا اثرات ڈالتا ہے؟ علماء میں یہ رجحان مفقود ہو جانے کی کیا وجوہات ہیں ؟
جواب: شعری اور ادبی ذوق ہونا اصحابِ علم کیلیے بہت اچھا ہے. اس میں کمی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے علماء ادبی چیزوں کا مطالعہ نہیں کرتے, اشعار وغیرہ نہیں پڑھتے. ہمارے علماء کو یہ کمی دور کرنی چاہیے. ہر صاحب علم کے اندر یہ ذوق ہونا چاہیے. اس کے بڑے فوائد ہیں. بول چال میں بھی تقریر میں بھی اور تحریر میں بھی.
علاوہ ازیں ٹی وی اور نیٹ وغیرہ نے لوگوں کی ترجیحات بدل دی ہیں. ان کے پاس وقت ہو یا نہ ہو وہ ٹی وی پروگراموں کو دیکھنا ضروری سمجھتے ہیں. لیکن افسوس بلکہ ماتم والی بات یہ ہے کہ دینی جرائد و رسائل اور دینی و علمی کتب کا مطالعہ ان کے معمولات ہی سے خارج ہے. حالانکہ یہ ان کی ایک علمی ضرورت ہے. مطالعے سے ذہنی افق بھی وسیع ہوتا ہے,
معلومات میں اضافہ ہوتا ہے, خطبہ جمعہ کے لیے نئے نئے موضوعات اور ان سے متعلقہ تیار مواد مل جاتا ہے اور بے شمار فوائد ہیں. کاش! نوجوان علماء مطالعے کی اہمیت کو سمجھیں اور اس کو اپنا معمول بنائیں.

🔺 سوال: تفسیر احسن البیان جیسی جامع اور مفید تفسیر لکھنے کا کیا سبب بنا؟ سعودی حکومت کا چھاپنا اور پھر سنا کہ بین بھی کیا اس سب پر روشنی ڈالیں.
جواب: اصل بات یہ ہے کہ احسن البیان تفیسر لکھنے کے انداز میں نہیں لکھی گئی بلکہ حاشیہ کے انداز میں لکھی گئی تھی اور اس کو مختصر سے مختصر رکھنے کا کہا گیا تھا. اس تفسیر کے لکھنے کا سبب یہ تھا کہ سعودی حکومت نے اس سے پہلے مولانا شبیر احمد عثمانی کی تفسیر شائع کروائی تھی. چونکہ اس تفسیر میں بہت فکری گم راہیاں تھی اور جب کمیٹی کے علم میں یہ چیزیں لائی گئیں کہ اس میں بہت سے فکری انحرافات ہیں تو انہوں نے اس کی اشاعت کو بند کر دیا. جب تفیسر عثمانی بند ہوگئی تو عبد المالک مجاھد صاحب کے ذہن میں یہ آیا کہ اس کی جگہ ہم کوئی تفسیر ان کو دیں. عبد المالک مجاھد صاحب کی کوشش تھی کہ میں کوئی ایسا حاشیہ لکھواؤں جو وہاں شائع ہو سکے. اس کے لیے پہلے انہوں نے ادریس فاروقی صاحب کا انتخاب کیا اور ان کو اس کام لیے آمادہ گیا. چنانچہ انہوں نے بارہ سپاروں تک حاشیہ لکھا اور نظر ثانی کے لیے مجھے دیا گیا, میں نے اس کو دیکھ کر بتایا کہ یہ تو ذیادہ مفید نہیں ہے اور میں نظر ثانی کرکے اس میں جان نہیں ڈال سکتا. پھر عبد المالک مجاھد صاحب کہنے لگے کہ آپ ہی ہمیں لکھ کر دے دیں. اس طرح یہ حاشیہ لکھنے کا آغاز ہوا اور ان کی خواہش کے مطابق نہایت ہی مختصر وقت میں مرتب کیا گیا. یہ تو اللہ تعالی کا خصوصی فضل و کرم ہوا کہ اللہ تعالی نے اس کو اتنا حسن قبول عطا فرمایا. اس میں میرا کوئی کمال نہیں ہے.
باقی اس کی اشاعت جو سعودی گورنمنٹ کی طرف سے ہوئی ہے, اس میں مولانا عبد المالک مجاھد کی خاص کوششوں کا دخل ہے. ان کی کوششوں کی وجہ سے یہ وہاں شائع ہوئی. سعودی حکومت کا طریقہ کار یہ ہے کہ انہوں نے ایک کمیٹی بنا رکھی ہے جو اشاعت سے قبل ہر کتاب کا کئی پہلؤوں سے جائزہ لیتی ہے. تو اس کمیٹی نے اس تفیسر کا مکمل جائزہ لیا اور پھر اس کی اشاعت کی اجازت دی اور الحمد للہ اس کی اشاعت ہوئی.
اور اس کو بین کرنے کی جو باتیں ہیں یہ محض افواہیں ہیں جو دیوبندی حضرات اڑاتے رہتے ہیں. اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں. اور افواہ اڑانے کی وجہ یہ ہے کہ سعودی حکومت نے تفسیر عثمانی کی جگہ تفسیر احسن البیان کو شائع کیا۔ ظاہر سی بات ہے دیوبندیوں کو اس کی بہت تکلیف ہے اور ان کی بڑی خواہش اور کوشش ہے کہ اس کو بند کروایا جائے اور اس کیلیے انہوں نے بڑے بڑے اعتراضات لکھ کر بھی بھیجے.
الحمد للہ! اللہ تعالی کی توفیق سے اس کی اشاعت تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ اس میں بین والی بالکل غلط ہے. حرمین شریفین میں بھی موجود ہے البتہ حرم مکی میں اتنی زیادہ نظر نہیں آتی. اس کی وجہ یہ ہے کہ شاید لوگ وہاں سے اٹھا کر زیادہ لے جاتے ہیں. لیکن مسجد نبوی میں یہ کثیر تعداد میں جگہ جگہ موجود ہے. ہاں ایک بات یہ ہے کہ سعودی حکومت پہلے یہ بہت زیادہ تقسیم کرتی تھی, اب ان کی کچھ معاشی صورت حال گردگوں ہے. اس کی وجہ سے اس کی تقسیم میں بھی کمی آئی ہے لیکن بہر حال اس کی اشاعت کا سلسلہ جاری ہے. الحمد للہ.

🔺 سوال: تفسیر کے علاوہ اپنی کونسی قلمی کاوش کو مفید ترین سمجھتے ہیں ؟ کبھی ایسا بھی ہوا کہ کسی کتاب کا مسودہ ضائع ہو گیا ہو ؟
جواب: الحمد للہ مسودہ تو کبھی ضائع نہیں ہوا. اصل میں مسودہ ضائع اس وجہ سے بھی نہیں ہوتا کہ میرا مسودہ ایک ہی ہوتا ہے. یعنی میں نے کوئی مسودہ دو بار نہیں لکھا, اگر مجھے دوبارہ لکھنا پڑ جائے تو لکھا بھی نہیں جاتا. میں نے جو بھی کتاب لکھی ہے وہ پہلا مسودہ ہی ہے. اس لیے الحمد للہ مسودہ کبھی ضائع نہیں ہوا.
اور جہاں تک بات ہے مفید ترین کتاب کی تو میرے نزدیک میری جتنی بھی کتابیں ہیں وہ سب ہی مفید ترین کتابیں ہیں. لیکن چونکہ میں خود لکھنے والا ہوں, اس لیے ہو سکتا ہے میرا کہنا لوگوں کے نزدیک قابل قبول نہ ہو. اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ بالخصوص ہمارے علماء مطالعہ کے عادی ہی نہیں ہیں. اللہ تعالی کے فضل و کرم سے میری ہر کتاب ہی مفید ہے اور حالات حاضرہ کے مطابق ہے. جن جن چیزوں پر ضرورت تھی ان ہی پر میں نے قلم اٹھایا ہے. مثال کے طور پر طلاقِ ثلاثہ کا مسئلہ ہے, مفرور لڑکیوں کے نکاح کا مسئلہ ہے, خواتین کے امتیازی مسائل, اسی طرح مرد اور عورت کی نماز کے فرق کا مسئلہ, اہلحدیث اور تقلید کے مسائل وغیرہ. تو میں سمجھتا ہوں میری کتابوں کے جتنے بھی موضوعات ہیں وہ نہایت ہی اہمیت کے حامل ہیں اور میں تمام علمائے اہلحدیث سے کہوں گا کہ وہ ان کتابوں کا ضرور مطالعہ کریں۔ یہ تمام کتابیں ہر اہلحدیث عالم کو ضرور پڑھنی چاہییں.

🔺 سوال: الاعتصام کی ادارت کا زمانہ کیسا تھا؟ اس کے بارے میں کچھ بتائیں. آپ کی علیحدگی کی وجہ کیا بنی ؟
جواب: یہ واقعہ یوں ہے کہ ہفت روزہ الاعتصام کے مدیر علامہ احسان الہی ظہیر رحمہ اللہ تھے جبکہ اس کا ڈیکلریشن مولانا عطاء اللہ حنیف رحمہ اللہ کے نام پر تھا اور شمارے کے حسن و قبح کے قانونی ذمہ دار وہی تھے. ایک دفعہ حضرت الشیخ عطاء اللہ حنیف بھوجیانی اور علامہ صاحب رحمہما اللہ کے درمیان الاعتصام کے علمی معیار کے برقرار رکھنے میں اختلاف ہوگیا. اس کی وجہ یہ تھی کہ رسالے میں کوئی قابلِ اعتراض مضمون شائع ہوا تھا جس کی وجہ سے نگرانی کا مسئلہ بنا. مولانا عطاء اللہ حنیف نے علامہ صاحب کو پابند بنانا چاہا کہ وہ اشاعت سے پہلے ایک نظر انہیں دکھا لیا کریں تاکہ آئندہ ایسی صورتحال سے بچا جا سکے. لیکن علامہ صاحب نے اس نگرانی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور یوں معاملہ خاصا بگڑ گیا. بہر حال اس اختلاف کے نتیجے میں الاعتصام کو مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے ترجمان کی حیثیت سے شائع کرنے سے روک دیا گیا. سو اس کی جملہ ذمہ داری حضرت الشیخ رحمہ اللہ کے سر آ پڑی؛ قانونی ذمہ دار تو آپ روز اول سے ہی تھے.
اس موقع پر میں نے اپنا تعاون حضرت الشیخ رحمہ اللہ کو پیش کیا. اس وقت تک لکھنے لکھانے کا کچھ نا کچھ تجربہ ہو چکا تھا جس کا ایک نمونہ خلافت و جمہوریت کی تاریخی و شرعی حیثیت کی صورت میں سامنے آچکا تھا البتہ صحافت کا با قاعدہ تجربہ نہ تھا. بہرحال میں معاون کے طور پر الاعتصام سے وابستہ ہوا اور چند سال کے بعد اس کی ادارت مجھے سونپ دی گئی. اس وقت یہ ہماری جماعت کا سب سے معیاری پرچہ تصور کیا جاتا تھا. اس کے مضامین میں اعلی معیار کے ساتھ ساتھ مسلکی پہلو کو بھی مدنظر رکھا جاتا تھا جس کی وجہ سے پوری جماعت میں الاعتصام کا خاص مقام تھا. اور اب بھی کسی حد تک یہ مقام اسے حاصل ہے.
میں نے مولانا عطاء اللہ حنیف رحمہ اللہ کی نگرانی میں کام جاری رکھا. وہ بھی بعض دفعہ معاملات دیکھ لیا کرتے تھے ؛خاص طور پر میری تحریریں وہ غور سے دیکھتے تھے. اور جو کچھ وہ لکھتے, مجھے مجبور کرتے تھے کہ اس پر نظر ثانی کروں. حالانکہ میں کہتا تھا کہ میری حیثیت ہی کیا ہے لیکن ان کے اصرار کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑتے تھے. یہ پندرہ سولہ سال پر محیط دور انتہائی خوش گوار انداز سے گزرا.
حضرت الشیخ کی وفات کے بعد ان کے صاحبزادے کے ہاتھ میں نظام آگیا تو ان کے ساتھ نباہ ہونا مشکل ہوگیا. اور بھی بعض وجوہات تھیں جن کی تفصیلات بیان کرنا مناسب نہیں ہیں. بہرحال اللہ تعالی کو الگ ہونا منظور تھا تو الگ ہوگئے. میری بحثیت مجموعی الاعتصام سے وابستگی کی مدت کم و بیش 23 سال بنتی ہے.

🔺 سوال: مولانا عطاء اللہ حنیف رحمہ اللہ سے وابستہ یادوں سے ہمیں مستفید فرمائیں.
جواب: میری وابستگی ان کے ساتھ اس طرح کی تھی کہ میں دار العلوم تقویۃ الاسلام میں پڑھتا رہا ہوں. ان کا گھر بالکل مدرسے کے سامنے تھا اور ان کی کتابوں کی دکان جو ان کے بیٹے چلاتے تھے, وہ بھی اس مدرسہ کے ساتھ والی دکانوں میں سے ایک تھی. ان ہی میں مکتبۃ السلفیہ بھی تھا اور مولانا وہاں پر بھی بیٹھتے تھے. تو گویا ہمہ وقت مولانا سے ملاقات رہتی تھی. نمازیں بھی وہ ہمارے مدرسہ کے ہال میں پڑھتے تھے. اس طرح ان کے ساتھ گہری وابستگی رہی ہے. پھر فراغت کے بعد الاعتصام سے وابستگی ہوئی تو باقاعدہ ان کے زیر تربیت رہ کر کم و بیش 23 سال تک کام کرنے کا موقع ملا. الحمد للہ.
رہی مولانا مرحوم کی یادیں, تو یہ تلخ و شیریں یادوں کی ایک طویل داستان ہے. الاعتصام کی مولانا عطاء اللہ حنیف رحمہ اللہ پر خصوصی اشاعت میں میرے دو مضامین موجود ہیں, انہیں دیکھا جا سکتا ہے. باقی یادیں تو ساری عمر رہتی ہیں. مختصرا آپ کے فائدے کی چند بتا دیتا ہوں:
مولانا عطاء اللہ کو مطالعہ کا بڑا شوق تھا. سلف صالحین بالخصوص امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم رحمہما اللہ کی کتابوں کے مطالعہ کا بڑا شوق تھا اور ان کو نئے سرے سے شائع کرنے کا جذبہ بھی بے پایاں و بے انتہا تھا. لیکن اس زمانے میں وسائل کی بہت کمی تھی. اس کے باوجود انہوں نے اس سلسلے میں بہت کام کیا. میں سمجھتا ہوں ان سا جذبہ ہر اہلحدیث عالم کے اندر ہونا چاہیے.
دوسری بات یہ تھی کہ وہ مطالعہ کے بارے میں یہ ترغیب دیتے تھے کہ ہر کتاب کا بالاستیعاب مطالعہ کیا کریں. وہ خود بھی مطالعہ کیا کرتے تھے اور ضروری ضروری چیزیں حاشیے میں نوٹ کر لیا کرتے تھے. بعد میں اس سے استفادہ کرنا بڑا آسان ہوتا تھا. یہ بھی ان کی ایک عادت تھی جو بہت مفید تھی. ان کی جتنی بھی زیر مطالعہ کتابیں ہیں ان میں نوٹس لکھے ہوئے ہیں جن سے اب بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے. گویا مطالعہ ان کی زندگی کا انتہائی اہم پہلو تھا.
اسی طرح پاک و ہند سے نکلنے والے رسائل کا باقاعدگی سے مطالعہ کیا کرتے تھے اور ان کی فائلیں بنا کر رکھتے تھے. برہان اور معارف, دو پرچے ہندوستان سے نکلتے تھے اور اس وقت ان کے معیار کا کوئی پرچہ نہیں تھا. دونوں پرچوں کو وہ بڑے شوق سے پڑھتے تھے اور ان کی فائلیں بھی محفوظ کر رکھی تھیں. انہی دو رسالوں کی طرز پر انہوں نے ماہنامہ “رحیق” جاری کیا تھا جو تین سال کی مدت کے بعد لوگوں کے عدم تعاون کی بدولت بند ہوگیا. رحیق کا علمی و تحقیقی معیار بھی بھی برہان اور معارف کے پائے کا تھا. اس کو لوگ آج تک بھی یاد رکھتے ہیں.

🔺 سوال: بہت سے مسائل ایسے ہیں جن میں ہمارے علماء میں اختلاف ہے؟ یہ سب فطری ہے یا خود پیدا کردہ ہے؟ آپ کے نزدیک اس کا کوئی مؤثر حل موجود ہے؟
جواب: اختلافات فطری ہی ہوتے ہیں, انہیں خود پیدا کردہ کہنا تو درست نہیں. اس کی وجہ بنیادی طور پر یہ ہوتی ہے کہ سب اہل علم اپنی اپنی تحقیق کرتے ہیں اور نتائج تحقیق ایک دوسرے سے اختلاف پر مبنی ہوتے ہیں. اس لیے یہ اختلافات فطری ہی ہیں ان کو غیر فطری یا پیدا کردہ قرار نہیں دیا جا سکتا. البتہ اس کا حل کیا ہے؟
اس کا اصل حل تو یہ ہے کہ علماء کی ایسی کمیٹی بنے جو ان تمام مسائل پر اور اس کے ساتھ ساتھ مسائلِ حاضرہ پر تحقیقی انداز سے گفگتو کرے. ان مسائل پر مقالے لکھے جائیں, ان کو وقت دیا جائے, مقالے مرتب کروائے جائیں اور ان پر بحث و مباحثہ ہو تو اس طرح اختلافات کچھ کم کیے جا سکتے ہیں. پھر بھی مکمل طور پر ختم نہیں کیے جا سکتے لیکن بہت حد تک ان کو موثر انداز سے حل کیا جا سکتا ہے.

🔺 سوال: طلبہ کو سید مودودی, سید قطب اور ان جیسے دیگر مفکرین کا لٹریچر کس حد تک پڑھنا چاہیے ؟
جواب: ان حضرات کا لٹریچر موجودہ مسائل کے حل کے لیے یقینا مفید ہے لیکن اس کے بعض خطرناک اور زہریلے اثرات بہرحال ہیں. اس لیے جو نو آموز اور نو خیز طلبہ ہیں ان کیلیے ان کا پڑھنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے. اس کا حل اصل میں یہ ہے کہ پہلے ہمارے نوجوان علماء کو اپنے جید علماء کی تحریروں کا گہری نظر سے مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ ان کے اندر صحیح معنوں میں اپنی مسلکی عصبیت پیدا ہو جائے اور وہ صحیح نقطہ نظر سے آشنا ہو جائیں بلکہ جید علماء کے مقالات کو اس حد تک پڑھیں کہ ان کے اندر ایسی حس پیدا ہو جائے کہ وہ کسی کے افکار کو پڑھتے ہوئے اس میں موجود انحراف کو فورا محسوس کر لیں۔ جب اس قسم کی صلاحیت ان میں پیدا ہو جائے تو پھر وہ ان حضرات کا لٹریچر پڑھیں, ان شاء اللہ امید ہے کہ وہ گمراہی کی بجائے افادیت کا باعث بنے گا.
عام شخص کیلیے ان حضرات کا لٹریچر پڑھنا مفید کم اور نقصان دہ ذیادہ ہے. پڑھنے والے کے اندر فکری انحرافات پیدا ہو سکتے ہیں. صرف وہی طلبہ ان کتب سے کما حقہ استفادہ کر سکتے ہیں جو اپنے علماء کی تحریریں پڑھ کر حق و باطل کے امتیاز کی صلاحیت پیدا کر چکے ہوں.

🔺 سوال: علماء اور طلبہ میں حسِ مزاح اور خوش طبعی کا پہلو تقریبا ختم ہو چکا ہے. اس کی کیا وجہ ہے؟
جواب: مزاح اور خوش طبعی کا جو مسئلہ ہے یہ اصل میں زیادہ تر فطری چیز ہے. مزاج میں مزاح و ظرافت اللہ تعالی کسی کسی کو عنایت کرتا ہے. تو مزاج اور طبیعتوں کا فرق بنیادی چیز ہے.
دوسری بات یہ ہے کہ کچھ حد تک لطافت و ظرافت کا مزاج مطالعہ کی وجہ سے بھی پیدا ہو سکتا ہے. ہمارے علماء کا ذوق ادبی نگارشات پڑھنے کی طرف بہت ہی کم ہے. جبکہ یہ چیزیں اپنے اندر لطافت کا بہت سامان لیے ہوئے ہوتی ہیں. جب علماء انہیں پڑھتے نہیں ہیں تو وہ ظریفانہ حس سے بھی محروم ہی رہ جاتے ہیں.

🔺 سوال: اہلحدیثوں کی مختلف تناظیم سے تعامل کی نوعیت کیا ہونی چاہیے؟
جواب: ہماری جماعت کی کئی تنظیمیں ہیں اور سب ہی مسلک اہلحدیث کی دعوت دیتی ہیں. لہذا کسی ایک تنظیم سے اس طرح وابستہ ہو جانا کہ دوسری تنظیموں سے رابطہ اور تعلق ختم کر دیا جائے, قطعا غلط اور نامناسب رویہ ہے جو بد قسمتی سے مختلف تنظیموں سے وابستہ لوگوں میں پایا جاتا ہے.
اسی لیے میں کہتا ہوں کہ بیک وقت ان سب سے الگ بھی رہیں اور ان سب سے وابستہ بھی رہیں. یعنی کسی تنظیم سے لڑائی جھگڑا بھی نہ ہو اور ہر تنظیم سے اس حد تک تعلق ہو کہ جو بھی بلائے اس کے اجتماعات میں, میٹنگز میں اور ان کی مشاورت میں شریک ہوا جائے. کسی سے اس انداز کا اختلاف اور ناراضگی نہ رکھی جائے کہ میں نے فلاں تنظیم کے پاس نہیں جانا اور فلاں جماعت سے تعلق نہیں رکھنا بلکہ سب کے ساتھ تعلق رکھے اور کسی سے بھی عناد نہ رکھے.
الغرض یہی سب سے بہتر طریقہ ہے کہ تنظیمی وابستگی کسی سے نہ ہو اور عمومی تعلق سب سے ہو.

🔺 سوال: پاکستان میں اہلحدیث کا مستقبل کیسا دیکھتے ہیں؟
جواب: پاکستان میں اہلحدیث کا مستقبل خوش آئند ہے ان شاء اللہ. لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ جتنی کوششیں ہو رہی ہیں ان میں مذید وسعت اور شدت پیدا کی جائے اور آپس کے جو تنظیمی اختلافات ہیں, ان کو حل کرنے پر زور لگایا جائے تو پھر اہلحدیث کا مستقبل پاکستان میں روشن ہے اور مزید روشن ہو سکتا ہے. ان شاء اللہ.

🔺 سوال: بعض حضرات آپ کو ناصبیت سے جوڑتے ہیں, اس بارے میں کیا کہیں گے ؟ ناصبیت اور رافضیت میں سے کون سا فتنہ ذیادہ خطرناک ہے؟
جواب: جو حضرات مجھے ناصبیت کی طرف منسوب کرتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو یزید کی اس حد تک مخالفت کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ اور حضرت مغیرہ بن شعبہ اور دیگر بہت سے جلیل القدر صحابہ رضی اللہ عنہم کی اہانت کر گزرتے ہیں. میرا موقف یہ ہے ہمارا اصل مقصد صحابہ کا دفاع ہے جبکہ یزید صحابی نہیں. لیکن یزید کا دفاع اس لیے ضروری ہے کہ اس کی آڑ میں قصرِ صحابیت پر نقب زنی کی جاتی ہے. لہذا یزید پر لعنت ملامت دراصل قصرِ صحابیت تک پہنچنے کا چور دروازہ ہے.
دوم یہ کہ تاریخی طور پر بھی جو کچھ یزید کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے اس کا کوئی صحیح ثبوت نہیں اور صحابہ کرام نے اس کو خلیفۃ المسلمین اور امیر المؤمنین تسلیم کیا تھا بلکہ عالم اسلام میں اس کی خلافت تسلیم کی جا چکی تھی. تو اس لحاظ سے وہ بالکل شرعی امیر تھا اور اس کا دفاع کرنا صحابہ کو بچانے کے لیے ضروری ہے.
پھر ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ جو گروہ ہمیں ناصبیت سے منسوب کرتا ہے وہ اس اصطلاح سے واقف ہی نہیں. ناصبیت کا مطلب تو یہ ہوتا ہے کہ حضرت علی, حضرت حیسن رضی اللہ عنہما اور اہلبیت کے خلاف باتیں کی جائیں جبکہ ہم تو الحمد للہ ان کا بھی دفاع کرتے ہیں. کیونکہ ہم تو صحابہ کے دفاع کے مشن پر ہیں اور حضرت علی اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما بھی جلیل القدر صحابہ ہیں؛ ان کی توہین ہم کس طرح کر سکتے ہیں !
سو یہ حضرات ناصبیت کی طرف منسوب کرکے جھوٹا الزام لگاتے ہیں. رہی یہ بات کہ ناصبیت اور رافضیت میں زیادہ خطر ناک کون سا فتنہ ہے تو ظاہر بات ہے اصل فتنہ تو رافضیت کا ہے. اور جو لوگ یزید پر لعن طعن کرتے ہیں تو یہ بھی اصل میں رافضیت کا راستہ ہموار کرتے ہیں اور در پردہ وہ روافض ہی کی سہولت کاری کا کردار ادا کرتے ہیں.

🔺 سوال: انکار حدیث کا فتنہ جوانوں کے سامنے منہ کھولے کھڑا ہے, اس سلسلے میں ہماری رہنمائی فرمائیں. فتنہ انکار حدیث پر کون سی کتب تجویز کریں گے ؟
جواب: انکارِ حدیث کا فتنہ آج کل بہت خطرناک صورت حال اور مختلف شکلیں اختیار کرتا جا رہا ہے اور اس کا جس انداز سے رد ہونا چاہیے, اس موثر انداز سے نہیں ہو پا رہا. تاہم نوجوانوں کو اس موضوع پر ہمارے علماء کی لکھی گئی کتابوں کا گہری نظر سے مطالعہ کرنا چاہیے.
اس موضوع پر سب سے بہترین کتابیں مولانا اسماعیل سلفی رحمہ اللہ کی ہیں مگر ان کو سمجھنا صرف باذوق لوگوں کا کام ہے. پھر حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ کے مقالات ہیں دو جلدوں میں, “دوامِ حدیث” کے نام سے. اس کے علاوہ مولانا عبد الغفار حسن رحمہ اللہ کی کتاب “عظمت حدیث” اور حافظ عبد اللہ روپڑی رحمہ اللہ کی کتاب “احادیث اور مودودیت” بھی مفید ہیں. میری بھی اس موضوع پر دو کتابیں چھپ چکی ہیں؛ ایک عظمتِ حدیث اور دوسری فتنہِ غامدیت. اسی طرح ایک عربی کتاب کا ترجمہ “حجیتِ سنت” کے نام سے ادارہ تحقیقات اسلامی کی طرف سے شائع ہوا ہے. وہ بڑی مفصل,جامع اور عام فہم کتاب ہے۔ پھر ڈاکٹر مصطفی السباعی کی کتاب “السنة ومكانتها في التشريع الإسلامي” کا بھی ترجمہ ہو چکا ہے, یہ کتاب بھی مفید ہے. اسی طرح الاعتصام کا حجیت حدیث نمبر شائع ہوا تھا جو اب دوبارہ بھی شائع ہو چکا ہے. اور بھی اس طرح کی تحاریر جو اس موضوع پر ہیں ان کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے.
میری چند اور کتابیں بھی آ رہی ہیں ان شاء اللہ. جن میں امین احسن اصلاحی صاحب کی تفسیر “تدبرِ قرآن” کا جائزہ ہے. حمید الدین فراحی کے افکار کا جائزہ ہے۔ یہ سب منکرین حدیث کا گروہ ہے اور عوام الناس کو پتہ بھی نہیں چلتا. جبکہ ان کے افکار کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جو منکرین حدیث عام طور پر مشہور ہیں, یہ حضرات ان سے زیادہ خطرناک ہیں اور اِن کے اندر اُن سے زیادہ انکار حدیث کے جراثیم موجود ہیں. جاوید احمد غامدی اور عمار خان ناصر بھی اسی فکر کے پروردہ ہیں. میں نے اس پورے ٹولے کا اللہ تعالی کی توفیق سے تفصیلی جائزہ لیا ہے, اب یہ مسودہ تقریبا مکمل ہوگیا ہے الحمدللہ. البتہ اس کی اشاعت آہستہ آہستہ ہو گی. امید ہے سال ڈیڑھ سال تک یہ ساری چیزیں منظر عام پر آجائیں گی. ان شاء اللہ.

🔺 سوال: آپ ما شاء اللہ زندگی بھر علمی و قلمی مشاغل میں مصروف رہے ہیں. گھریلو معاملات کتنا کو اثر انداز ہوتے تھے یا ہیں؟ گھر سے شکایت تو نہیں ہوتی تھی؟
جواب: ظاہری سی بات ہے کہ گھریلو معاملات میں تو ہر صورت حصہ لینا پڑتا ہے اور انہیں وقت دینا ہوتا ہے. میں نے بھی گھریلو معاملات میں ہر صورت حصہ لیا ہے اور اب بھی حصہ لیتا ہوں. یہ نہیں ہے کہ میں بالکل گوشہ نشین ہو کر سارے کام کرتا ہوں. لکھنے پڑھنے کا کام بھی الحمد للہ جاری رہتا ہے اور گھریلو معاملات بھی چلتے رہتے ہیں. جیسا کہ میں نے پہلے بتایا ہے کہ اللہ تعالی نے نیک صالحہ بیوی دی ہے. اس وجہ سے گھریلو معاملات خوشگوار انداز میں طے ہو جاتے ہیں. گھر کے کام کبھی بھی علمی اور قلمی مشاغل میں رکاوٹ نہیں بنے. دونوں کام بیک وقت ساتھ ساتھ جاری رہے ہیں. اب کمزوریِ صحت اور اور عمر کے تقاضے کی وجہ سے نقاہت تو محسوس ہوتی ہے مگر الحمد للہ علمی اور تحریری کام جاری ہے. چھوٹی موٹی شکایات تو زندگی میں ساتھ ساتھ چلتی رہتی ہیں لیکن کبھی تکلیف دہ تجربہ نہیں ہوا الحمد للہ.

🔺 سوال: موجودہ دور کے حوالے سے ہمیں اور تمام طلبۃ العلم کو کیا نصیحت فرمائیں گے؟
جواب: مدرسے کے ہر طالب علم کیلیے یہی نصیحت ہے کہ طالبعلمی کے زمانے کو غنمیت سمجھتے ہوئے اس میں وہ علمی رسوخ حاصل کرنے کی کوشش کریں جو ان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہو. علمی رسوخ اور اچھی صلاحیتوں کے حامل علماء لوگوں کی آنکھوں کا تارا اور دلوں کے راج دلارے بن کر زندگی گزارتے ہیں.
طلبہ اپنے اساتذہ سے اکتسابِ فیض کے ساتھ ساتھ ان کا پورا احترام بھی ملحوظ خاطر رکھیں کہ بے ادب محروم گشت از فضلِ رب ! اپنی طالبعلمی کی زندگی ہی میں حسنِ کردار اور تقوی شعاری کا نمونہ بن جائیں. امام وکیع رحمہ اللہ کی اپنے ہونہار شاگرد امام شافعی رحمہ اللہ کو کی گئی نصیحت سامنے رکھیں. امام شافعی فرماتے ہیں:
شکوت الی وکیع سوء حفظی
فاوصانی الی ترک المعاصی
لان العلم نور من الہ
و نور اللہ لا یعطی لعاصی
کہ میں نے اپنے استاد وکیع سے حافظہ کی کمزوری کا شکوہ کیا تو انہوں نے مجھے گناہ ترک کرنے کی نصیحت کی. اور کہا کہ دین کا علم تو اللہ کا نور ہے اور اللہ کا نور نافرمانی اور گناہ کرنے والے کو عطا نہیں کیا جاتا.
اس دور کی زندگی ہی آپ کی آنے والی تمام زندگی کا حقیقی آئینہ ہے.
دوسری بات یہ ہے کہ طالب علمی کے دور میں ہی اپنے ذوق و رجحان کا جائزہ لیں اور اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں. اگر آپ کا رجحان تقریر و خطابت کی طرف زیادہ ہے تو اس کی طرف زیادہ توجہ دیں, تدریس کا ذوق ہے تو اس کو جِلا بخشیں اور نصابی کتب پر خوب محنت کریں, انشاء و تحریر کا شوق ہے تو مشہور ادباء اور اچھا لکھنے والوں کی تحریریں پڑھیں تا کہ آپ کا یہ شوق ادبی ذوق میں ڈھل جائے اور تحریر و انشاء کے طریقے سے آپ آشنا ہوجائیں. الغرض آپ جو کچھ اپنے ذوق یا صلاحیتوں کے اعتبار سے بننا پسند کرتے ہیں اس کیلیے خصوصی محنت کریں. لیکن یہ بھی یاد رکھیں کہ لیکن یہ اضافی محنت تدریسی کتابوں کا حرج نہ کرے. تدریسی کتب کو محنت اور توجہ سے پڑھنا یہ اولین ترجیح ہونی چاہیے کیونکہ علمی رسوخ انہی کتابوں کو محنت سے پڑھنے سے حاصل ہوتا ہے.
زندگی کے میدان میں جب قدم رکھیں تو صبر و قناعت کو اختیار کریں اور حُبِّ جاہ و مال سے بچ کر رہیں. ایک ہی جگہ جم کر دین کی خدمت کریں, اسی میں برکت ہے اور اسی میں عزت ہے.

(سبحانك اللهم وبحمدك نشهد أن لا إله إلا أنت نستغفرك ونتوب إليك)

اپنا تبصرہ بھیجیں