ایٹم بم کا خالق | J. Robert Oppenheimer |

تھوڑا جنونی سائنسدانوں سے نکل کر اب کچھ بڑے سائنسدانوں پر بات کرتے ہیں !

البرٹ آئنسٹائن اور جے رابرٹ اپنہمر میں کچھ چیزیں مشترک تھیں ۔ دونوں ہی اسرائیلی نیوکلیئر فزیسسٹ تھے اور دونوں نے ایٹم بم کے پروجیکٹس پر کام کر کے اسے بنانے میں اپنی خدمات دیں اور پھر ایٹم بم کو ٹیسٹ بھی کیا لیکن جب ایٹم بم کی تباہی کو دیکھا تو یہ دونوں سائنسدان نیوکلیئر ہتھیاروں کے خلاف بھی ہو گے تھے ۔
رابرٹ جب چھوٹے تھے تو ان کے ٹیچر نے سکول میں ہی ان کا ٹیلنٹ پہچان لیا تھا ۔انھوں نے ان کے والدین سے کہا کہ ” ایک دن یہ لڑکا بڑا ہو کر ساری دنیا کو ہلا دے گا ” اور ہوا بھی کچھ ایسا ہی ۔
جنگ عظیم دوم کے دوران نازی جرمنز اور امپریل جیپنیز آرمی سے نپٹنے کے لئے انھوں نے امریکن گورنمنٹ کے ایٹم بم بنانے کے خفیہ مشن جس کا نام تھا ” The Manhattan project” پر ٹیم لیڈر بن کر کام کرنا شروع کر دیا ۔
اور اس خوف سے کہ کہیں نازی جرمنز ان سے پہلے ایٹم بم نا بنا لے ان کی ٹیم دن رات کام کرنے لگی ۔
جولائی 16 1945 کو ان کی سائنسدانوں اور انجینئرز کی ٹیم نے ٹریٹنتی سائٹ ( نیو میکسیکو ) میں ایٹم بم کا کامیاب تجربہ کیا ۔
دور سے آسمان میں 40000 ہزار فٹ کی بلندی پر اڑتے روشنی ، آواز اور دھوئے کے بادل کو دیکھ کر انھوں نے دل ہی دل میں دنیا کی تباہی کی حقیقت کو جان لیا اور سمجھ گئے کہ انھوں نے کیا چیز بنا دی ہے ۔
ان کا اندازہ ٹھیک تھا اور ٹیسٹ کرنے کے صرف 21 دن بعد 6 اگست 1945 کو امریکہ نے ہیروشیما پر ایٹم بم گرا ڈالا ۔جس میں شہر کے 90 فیصد یعنی 80000 لوگ مارے گئے ۔ 9 اگست 1945 کو ناگاساکی میں ایٹم بم گرایا گیا 40000 افراد کا قتل عام کیا گیا جس کے بعد چاپان جنگ سے دستبردار ہو گیا اور یوں جنگ عظیم دوم کا خاتمہ ہوا ۔
ان کے اندر پھر انسانیت کی اتنی تباہی دیکھ کر پچھتاوے کی لہر دوڑ گئی اور انھوں نے امریکی صدر ٹرومین سے اس پر اختجاج کیا جس کی وجہ سے انھیں صدر سے اوول آفس سے دھکے مار کر نکال دیا گیا اور ان کی سیکورٹی بھی لے لی گئی ۔
لیکن انھوں نے مرتے دم تک جوہری ہتھیاروں کی مخالفت کی ۔
لیکن ان کو آج بھی The Father of atom bomb کہا جاتا ہے ان کی ایٹم بم کو لے کر ان کے جنون کی وجہ سے !

اپنا تبصرہ بھیجیں