بابا جانی! فون اٹھائیں

چار سال قبل میری گلی میں ایک فیملی نے گھر کرائے پر لیا۔یہ ایک نیا شادی شدہ جوڑا تھا۔ لڑکے کی عمر لگ بھگ تیس سال تھی۔کچھ ملاقاتیں ہوئیں تو پتا چلا کہ دونوں نے محبت کی شادی کی ہے اور اب زندگی بہتر بنانے کی تگ ودو میں مصروف ہیں۔ لڑکے کا نام ارشد تھا۔ یہ لوگ مظفر گڑھ کے رہنے والے تھے۔ میں چونکہ خود ملتان کی پیدائش ہوں اس لیے سرائیکی لوگوں سے مجھے ویسے بھی بڑی محبت ہے۔ میں سرائیکی سمجھ بھی لیتا ہوں، بول بھی لیتا ہوں۔عام طور پر میرے لاہوریے دوست میری سرائیکی سن کر بہت حیران ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں بہت اچھی سرائیکی بولتا ہوں لیکن مجھے پتا ہے کوئی بھی خالص سرائیکی بندہ ایک منٹ میں میری بونگی سرائیکی پکڑ سکتا ہے۔ارشد بھی ایسا ہی کرتا تھا۔ میں پورا زور لگا کر خالص سرائیکی لہجے میں بات کرتا تو وہ ہنس پڑتا”نوخیز بھائی! نہ میں پنجابی ٹھیک بول سکتا ہوں نہ آپ سرائیکی“۔اس کی بات ٹھیک تھی لیکن ہم دونوں ایک دوسرے کی مادری زبانوں میں گفتگو کرکے خوشی محسوس کرتے۔وہ مجھے سرائیکی میں ”ڈُو“ کے چکر میں پھنسائے رکھتا جبکہ میں دھیان رکھتا کہ کب وہ بائی(بائیس) کو بے دھیانی میں ”باوی“ بولتاہے۔سرائیکی میں کھڑے ہونے کو جبکہ پنجابی میں بیٹھنے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ہم پنجابی میں کہتے ہیں ”فلاں بندہ اوتھے آیا بیٹھا اے“۔ سرائیکی میں کہتے ہیں ”فلاں بندہ اُتھاں آیا کھڑا اے“۔پنجابی عموماً ہر لفظ کے پہلے حرف پر ’زبر‘ لگاتے ہیں اور سرائیکی ’زیر‘ کے عادی ہیں۔ ارشد کے منہ سے جب بھی سنا”کِراچی“ ہی سنا۔ارشد مجھے روایتی سرائیکی لہجے میں ”سائیں“ کہہ کر بلاتا اور میں اسے پنجابی میں ”سوہنیو“ کہہ کر مخاطب کرتا۔شادی کے ایک سال بعد اس کے ہاں بیٹا پیدا ہوا۔ اسی دوران کچھ عرصے بعداس کے والد صاحب کاانتقال ہوا تو ترکے میں اسے کچھ زمینیں ملیں جسے اُس نے فروخت کر کے لاہور میں ایک سکول کھولنے کا ارادہ کیا۔ مجھ سے مشورہ کیا تو میں نے بے بسی کا اظہار کیا کہ مجھے سکول کھولنے کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ارشد نے تن تنہا ہی یہ کام سرانجام دیا، کرائے پر ایک پندرہ مرلے کی عمارت حاصل کی،مناسب تنخواہ پردس اساتذہ رکھے اور اپنی اہلیہ کو بھی سکول میں پڑھانے پر مامور کر دیا۔ یہ دونوں میاں بیوی انتہائی محنت سے سکول کا معیار بلند کرنے میں لگ گئے۔دیکھتے ہی دیکھتے اِن کے سکول میں بچوں کی تعداد تین سو سے بھی بڑھ گئی۔ ارشد بہت خوش تھا۔ معاشی حالات بھی کافی بہتر ہوگئے تھے، چھوٹی سی گاڑی بھی لے لی تھی۔انہی دنوں اللہ نے ایک اور کرم کیا اور ارشد کے ہاں ایک بیٹے نے جنم لیا۔میاں بیوی تو جیسے نہال ہوگئے۔یہ بچہ دونوں کی بھرپور توجہ کا مرکز بن گیا۔ارشد نے ایک بہت اچھا کام کیا کہ بچے کو سرائیکی زبان سے آشنا کیا۔یہ دونوں اپنے بچے سے سرائیکی میں گفتگو کرتے تھے۔ بچہ تین سال کا ہوا تو اپنی توتلی زبان میں ایسی پیاری سرائیکی بولتا کہ بے اختیار اس پر پیار آجاتا۔ارشد نے اپنے موبائل کی رنگ ٹون بھی بچے کی آواز پر لگائی ہوئی تھی۔ جب بھی ارشد کو کوئی فون آتا، بیل بجنے کی بجائے بچے کی آواز آتی”بابا جانی فون چاؤ‘۔رواں سال فروری میں بچے کی سالگرہ تھی جو انہوں نے بڑے اہتمام سے مقامی ہوٹل میں منائی۔اسکے بعد کرونا شروع ہوگیا۔ایک دم سے ساری سرگرمیاں بند ہوگئیں۔سکول آف ہوگیا اورمحتاط لوگ گھروں میں مقید ہوکر رہ گئے۔احتیاط کا تقاضا بھی یہی تھا۔لاک ڈاؤن کے دوران ارشد سے میری وڈیو کال پر بات ہوتی رہی۔وہ فکر مند تھاکہ سکول کی عمارت کا کرایہ مسلسل ادا کرنا پڑ رہا ہے، ٹیچرز کی تنخواہ بھی باقاعدگی سے جارہی ہیں لیکن بچوں کی فیس نہیں آرہی۔ خود اُسے بھی احساس تھا کہ جب بچوں کو تعلیم ہی نہیں دی جا رہی تو فیس کا تقاضا کس منہ سے کرے۔میں نے اسے مشورہ دیا کہ آن لائن کلاسز کا آغاز کرے۔ لیکن اس نے بتایا کہ اُس کا سکول کوئی بہت بڑا سکول تو ہے نہیں، سارے غریب اور لوئر مڈل کلاس کے بچے ہیں جن کی اکثریت کے پاس اینڈرائڈ فون تو ہے لیکن انٹرنیٹ کنکشن نہیں ہے۔ ڈیٹا آن کرکے اگر وہ کلاس اٹینڈ کریں گے تو فیس سے زیادہ پیسے پیکج کرانے میں لگ جائیں گے۔پہلے تو ہماری روز بات ہوتی تھی۔ پھر دھیرے دھیرے وہ فون اٹینڈ کرنے میں بھی تساہل برتنے لگا۔ شائد گھر سے باہر بھی بہت کم نکلتا تھا کیونکہ میں نے اسے کافی دنوں سے گلی میں نہیں دیکھا تھا۔ اس دوران ہمارے گھر میں جب بھی چکن بریانی بنتی، ارشد کے گھر ضرور بھیجی جاتی کیونکہ مجھے پتا تھا کہ وہ بریانی کا بہت شوقین ہے۔کرونا سے پہلے وہ ہر تیسرے دن برکت مارکیٹ کی بریانی کھانے پہنچا ہوا ہوتا تھا۔ایک دن مجھے اچانک خیال آیا کہ پتا نہیں ارشد کو ہمارے گھر کی بریانی پسند بھی آتی ہے یا نہیں، تو کیوں نہ اُسے برکت مارکیٹ کی بریانی ہی گفٹ کی جائے۔ میرے پاس بریانی والوں کا نمبر موجود تھا۔ میں نے اُنہیں تین پلیٹ بریانی کا آن لائن آرڈر نوٹ کروایا اور اپنا ایڈریس لکھوا کرتاکید کی کہ ڈلیوری والے کو ہیلمٹ،ماسک اور دستانے ضرورپہنا کر بھیجیں۔انہوں نے خوشخبری سنائی کہ وہ پہلے ہی اِس SOP پر عمل کر رہے ہیں۔ میں مطمئن ہوگیا۔ آدھے گھنٹے بعد دروازے پر بیل ہوئی۔ بیٹے نے بتایا کہ ڈلیوری والا آیا ہے۔میں نے باہر نکل کر آرڈر وصول کیا، پیسے ادا کیے۔ باقی بیس روپے بچتے تھے،وہ میں نے اُسے بطور ٹپ عطا کردیے۔ اس نے پیسے جیب میں ڈالے اور موٹر سائیکل کو کک لگائی ہی تھی کہ میں نے اسے رکنے کا اشارہ کیا۔ بریانی کا ایک پیکٹ اپنے بیٹے کو دیا اور دو پیکٹ ڈلیوری والے کے حوالے کرتے ہوئے گذارش کی کہ ذرا ایک منٹ رک جائیں، اسی گلی کے ایک گھر میں یہ دو پیکٹ دیتے جائیں۔ یہ کہتے ہوئے میں نے موبائل نکالا اور ارشد کا نمبر ملایا۔جونہی پہلی بیل گئی، میرے کانوں میں ایسی آواز پڑی کہ یوں لگا جیسے میرے پاؤں من من کے ہوگئے ہیں۔ڈلیوری والے کی جیب میں رکھے موبائل سے آواز آرہی تھی”باباجانی! فون چاؤ……“

اپنا تبصرہ بھیجیں