محبت تیرے انجام پے رونا آیا (ناول)

محبت تیرے انجام پے رونا آیا (ناول)

محبت کی کہانی میں کہاں یہ موڑ آتے ہیں
کہ جن کو دل میں رکھتے ہیں وہی دل توڑ جاتے ہیں

“ہانیہ تم اتنا کیوں گھور گھور کر دیکھ رہی ہو اسے ۔”

حمنہ نے ہانیہ کو راحیل کو گھور گھور کر دیکھتے دیکھا تو ایک دم ٹوک دیا ۔

“ارے یار دیکھ رہی ہوں آٹھویں کلاس میں پورا صوبہ ٹاپ کرنے والے مہان اور ذہین سٹوڈنٹ کو ۔۔”
“کہیں پیار تو نہیں ہو گیا اس سے ”
حمنہ نے ہانیہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا ۔

“ہاں ایسا بھی ہو سکتا ہے ”
ہانیہ نے ابھی بھی اپنی آنکھوں کا ذاویہ تبدیل نہیں کیا تھا ۔
“ہو نہیں سکتا ہو چکا ہے ۔ہماری لاڈو رانی راحیل کے پیار میں گٹے گوڈوں سمیت ڈوب چکی ہیں ۔”
ہانیہ نے کندھے اچکا دیئے ۔

راحیل اپنے ماں باپ کا سب سے بڑا بیٹا تھا جو بہت لائق فائق سٹوڈنٹ تھا ۔۔بورڈ میں پورا صوبہ ٹاپ کیا تو اس کے والد نے اسی خوشی میں اپنے گاؤں اور اپنے رشتہ داروں کی دعوت کی ۔جس میں ہانیہ کے خاندان نے بھی شرکت کی جو کہ راحیل کے دور پار کے رشتہ دار تھے ۔
ہانیہ آتے جاتے کام کرتے راحیل کو دیکھ رہی تھی ۔اسے یوں ہی منہ اٹھائے راحیل کو دیکھتے ہوۓ حمنہ نے دیکھ لیا تھا ۔
ہانیہ نےگھر جاتے ہوئے راحیل کو ایک چین اور گھڑی انعام میں دی اور جاتے جاتے محبت کا اظہار بھی کر گئی ۔
راحیل جو کہ محبت کے نام سے ناآشنا تھا اسے بس اپنی پڑھائی میں ہی اور کتابوں میں ڈوب رہنے والا لڑکا تھا وہ یہ سن کر بڑا حیران ہوا ۔کوئی لڑکی ایسا کیسے کر سکتی ہے ۔کیسے پہل کر سکتی ہے ۔لڑکی کے لیے سب سے مشکل امر محبت کا اظہار ہوتا ہے پر ہانیہ نے وہ پہاڑ سر کر لیا تھا ۔

راحیل پوری رات ہانیہ کے الفاظ پر غور کرتا رہا اسے وہ الفاظ بہت پیارے لگے تھے ۔اور ہانیہ بھی بہت پیاری لگی جس کا معصوم سا خوبصورت چہرہ جو کہ دوپٹے میں لپیٹا اور بھی خوبصورت لگ رہا تھا ۔۔۔اسی کے الفاظ اور معصوم چہرے کے ارد گرد گھومتے راحیل نے رات گزار دی ۔

راحیل گاؤں سے شہر ہوسٹل میں آ گیا ۔امی ابو گاؤں میں ہی تھے گاؤں شہر سے بہت دور تھا ۔
راحیل نے اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیم کے اخراجات بھی خود ہی اٹھانے شروع کر دیا تھا ۔
راحیل اب بھی ہانیہ کے بارے میں سوچتا رہتا تھا پر وہ نہ تو اس سے ملنے گیا نہ ہی کبھی اس سے کوئی رابطے کی کوشش کی ۔اسی طرح ایک دن جیسے ہی راحیل اسکول سےواپس ہوسٹل آیا ۔اسے کسی کا میسج موصول ہوا ۔

“آئی لویو ”
راحیل بڑا حیران ہوا ۔وہ تو کچھ ماہ پہلے کسی کے انہی الفاظ کے سحر میں جکڑ کر رہ گیا تھا ۔
اب یہ کون ہو سکتا ہے جو مجھے اتنا جانتا ہے جو مجھ سے محبت کا اظہار کر رہا ہے ۔
” جی آپ کون ”
راحیل نے ریپلائے دیا ۔
“میں وہی جس نے کچھ ماہ پہلے آپ سے محبت کا اظہار کیا تھا ۔”
جواب آیا ۔
“پر میرا موبائل نمبر کہاں سے ملا ”
راحیل حیرانی اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ریپلائے کر رہا تھا ۔
“ڈھونڈنے سے تو خدا بھی مل جاتا ہے یہ تو تھا ہی نمبر ۔”
“خوشی ھوئی آپ سے بات کر کے ۔”
راحیل نے دھڑکتے دل سے جواب دیا ۔
“یہ آپ جناب وغیرہ چھوڑ دو مجھے ہانیہ کہ کر بلا سکتے ہو ۔”
راحیل جواب دیکھ کر ہنسنے لگا ۔
“جی ہانیہ جی ”
ریپلائے دیکھ کر ہانیہ نے سر پیٹ لیا ۔
اب راحیل بھی ہانیہ سے بات کرنے کو بے چین رہتا تھا ۔وہ دونوں رات رات بھر باتیں کرتے ۔۔ہانیہ کی تین بہنوں کو پتہ تھا اس کی محبت کا ۔

“کیا کر رہے ہو ”
“تمیں یاد کر رہا ہوں چنٹو ”
“واو نائس نیم چنٹو ۔”
پسند آیا تمیں ۔
“بہت پیارا نام ہے تھنکس اتنا پیارا دینے کے لیے ۔”
“اچھا اپنی پک تو سینڈ کرو کیسا لگ رہے ہو اب ”
“جی کرتا ہوں واٹساپ ”
راحیل نے اپنی پک سینڈ کر دی ۔
“فوری سے پک سین ہو گئی اور ساتھ اسی ٹائم اس کی بھی پک آ گئی ۔
آج بھی وہ دوپٹے میں لپیٹاصاف ستھرا چہرہ بہت خوبصورت لگ رہا تھا ۔
جو لڑکا محبت کے نام سے بھی نا واقف تھا آج وہ محبت میں پڑ چکا تھا ۔

“راحیل تم اپنا بلکل خیال نہیں رکھتے پڑھنے پڑھانے میں ہی لگے رہتے ہو ۔”
“ارے میری چنٹو تم ہو نہ میرا خیال رکھنے کے لیے میں کیوں رکھوں گا خیال اپنا ۔”
“زیادہ باتیں نہ بناؤ اور اپنے بال بنواو اتنے بڑے بال ہیں تمہارے ۔”
“آپ کا حکم سر آنکھوں پر اور کوئی حکم ”
“حکم تو میں دوں گی پر ابھی صرف آپ کو کہ رہی ہوں اپنا خیال کیا کرو ورنہ ۔”
“ورنہ کیا کرو گی ۔؟؟؟”
“ورنہ کھانا کھانا چھوڑ دوں گی اور بات نہیں کروں گی ۔”
“ارے میری ملکہ آپ حکم کرو غلام آپ کے حکم سے روگردانی نہیں کرے گا اور کھانا پینا نہ چھوڑنا پلیز ۔”
“”چلو ابھی بال بنواو اور اپنی پڑھائی پر توجہ دو ہمیشہ کی طرح اچھی پوزیشن ہی آنی چاہیے ۔
“جی بیگم صاحبہ اور کوئی حکم “؟؟

“کوئی حکم نہیں بس “

راحیل اور ہانیہ کی محبت پروان چڑھ رہی تھی انہوں نے بچوں کے ناموں تک بھی سوچ لیا تھا ۔۔۔

پانچ سال گزر چکے تھے ہانیہ اور راحیل کو بات کرتے ہوئے۔۔۔
راحیل اسی کے سپنے دیکھتا اسی کو اپنی دلہن دیکھتا اسی کے ساتھ دیکھتا ۔
راحیل کا خیال تھا جب اپنی تعلیم مکمل کے واپس گھر جاؤں گا اامی کو سب بتا دوں گا اور امی کو اعتماد میں لے لوں گا اور امی ابو سے بات کر کے رشتہ ڈال آئیں گیں ۔
پر راحیل کے سارے سپنے ٹوٹ کر خاک میں مل گئے ابھی تو اس کی نہ تعلیم مکمل ھوئی تھی اور نہ ہی ابھی وہ گھر گیا تھا ۔ راحیل نے اعتکاف بیٹھنا تھا اس لیے اس نے اپنے جمع کئے پیسوں میں سے تین سوٹ لے کر امی کے لیے بھیجے اور تین سوٹ لے کر ہانیہ کے لیے بھیجے ہانیہ بہت خوش ھوئی .

راحیل کی اور ہانیہ کی آخری بار بات اٹھارویں روزے کو ھوئی تھی اور راحیل بیسویں روزے کو اعتکاف بیٹھ گیا ۔
جب دس دن بعد راحیل اعتکاف سے اٹھا تو اسے پہلی خبر ہانیہ کی منگنی کی ملی ۔
راحیل کے جسم سے تو جان ہی نکل گی۔۔

راحیل جیسے اپنا بنانے کا سوچتا رہتا تھا اسی نے راحیل کو دغا دے دیا ۔

راحیل کو خبر سنتے ہی تیز بخار نے گھیر لیا ۔ راحیل نے ہانیہ کو کال کی ۔ “ہانیہ میری محبت میں تم نے کہاں کمی دیکھی تھی جو اتنا بڑا فیصلہ کر لیا ۔اگر تم نے شادی کرنی ہی کسی اور سے تھی تو مجھے اس محبت والے راستے پر کیوں لے کر آئ تھی بتاؤ ہانیہ ۔؟؟

تمیں پتہ ہے میں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا میری ہانیہ جو مجھے اپنا کہتے نہیں تھکتی تھی جس کے ساتھ مل کر میں نے کئی سپنے بنے تھے وہ مجھے یوں اکیلا چھوڑ دے گی ۔۔آخر میں نے ایسا کیا کیا تھا ہانیہ جو تم نے مجھے اتنی بڑی سزا دی ۔؟؟ “راحیل میں تم سے آج بھی محبت کرتی ہوں ” “محبت کرتی ہو تو شادی بھی کرو یہ کیسی محبت جس میں ملنا نصیب ہی نہ ہو ؟؟

“۔ “میں نے تماری روح سے محبت کی ہے راحیل اور تم سے ہی محبت کرتی رہوں گی ۔” “ہانیہ میں یہ محبت نہیں مانتا جس میں روح کسی کی اور جان کسی کی ” یہ کہ کر راحیل نے کال بند کر دی ۔۔۔ پر اسے ابھی بھی آس تھی کہ شاید ہانیہ نے کسی کے دباؤ میں آ کر ہاں کر دی ہو ۔ پر اس کی یہ خوش فہمی بھی ھلد جلد ہی دور ہو گئی جب ہانیہ کی بہنوں نے راحیل کو بتایا کہ ہانیہ کی خوشی سے ہی یہ رشتہ ہوا ہے ۔

بس یہ سننا تھا کہ راحیل کی تو جیسے روح ہی نکل گئی ۔ اس نے سوچا بھی نہیں تھا ہانیہ جس نے پورے پانچ سال تک محبت کے دعوے کئے بچوں کے نام تک سوچے وہ اسے یوں چھوڑ جائے گی ۔وہ اس کا مان بھروسہ سب توڑ دے گی ۔جس نے اسے محبت کے راستے پر چلنا سکھایا آج وہ اسے چھوڑ کر چلی گی ۔ راحیل کو بخار نے جکڑ کر رکھ دیا بے ہوشی طاری رہنے لگی ۔

راحیل کی یہ حالت دیکھ کر اس کی بہن نے اسے کافی حوصلہ دیا ۔

وہ بھی صرف اس کی زندگی سے پریشان پوسٹیں پڑھ کر اور چڑ چڑا پن محسوس کر کے ۔ راحیل زندگی کی طرف واپس تو لوٹ ہی آیا پر اس کا محبت پر سے اعتبار اٹھ گیا ۔ راحیل کا واحد سہارا اب اسکی بہن تھیں۔۔۔ جس نے راحیل کو دکھ پریشانی کے دھندل سے نکال کر خوشیوں کی طرف راغب کرنے کا عزم کر لیا تھا۔۔۔

ختم شد________

نوٹ!!

*ناول میں نام فرضی رکھے گۓ ہیں۔

*تحریر بالکل حقیقت پر مبنی ہے۔ *

پوسٹ پہ تنقید براۓ اصلاح کیلۓ کوٸ بھی کمنٹ کریں امید ہے کہ بندہ احقر کی چھوٹی سی کاوش کو آپ ضرور پذیرائی سے نوازیں گے۔۔ پسند آنے پہ اپنی قیمتی آراہ سے ضرور آگاہ کیجیۓ گا۔۔ محبتیں سلامت رہیں۔

ابوبکر قاسم

اپنا تبصرہ بھیجیں