ناول ادھورا عشق ( قسط نمبر 17)

ناول : ادھورا عشق

رائٹر : ایم تجمل بیگ

قسط نمبر 17

سعدیہ کے گھر کے سامنے ٹیکسی رکی۔ سعدیہ نے کرایہ دیا اور سائرہ کو بازو سے پکڑ کر گھر لے گئی ۔
ہے کیا ہوا سائرہ کو کیوں اس کا چہرہ اترا ہوا ہے اور تم کیوں اتنی ستی ہوئی لگ رہی ہو ہاں؟
ماما اس سب کی وجہ سائرہ ہی ہے ۔
اس نے آج یونیورسٹی میں عجیب سی حرکتیں کی ہیں ۔
عجیب عجیب سی باتیں کہی ہیں ۔
ساری یونیورسٹی اس کی طرف متوجہ تھی اس سے پہلے کہ یہ کوئی اور ایسی حرکت کرتی جس سے اس کی عزت پر حرف آتا میں اس کو اپنے گھر لے آئی ہوں۔
اب ماما آپ خود دیکھیں دیکھیں سائرہ کی حالت کیسی ہوگئی ہے لیکن پھر بھی یہ مطمئن اور خوش ہے پتہ نہیں کیا خو ی ہے اسے۔
سائرہ بیٹا کیا بات ہے تم ٹھیک تو ہو نا؟
جی آنٹی میں بالکل ٹھیک ہوں ۔
بلکہ خوش بھی ۔
تو یہ کو سائرہ کہہ رہی ہے اس کا کیا مطلب؟
I don’t know
سائرہ نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔
سعدیہ تم مجھے پوری بات بتاؤ کیا ہوا آج یونیورسٹی میں؟
وہ ماما آج اس نے کوئی بات مجھے بتانی تھی لیکن جب میں نے اصرار کیا تو یہ اٹھ کر بھاگ گئی اور پھر………
سعدیہ نے تمام کاروائی اپنی ماں کی گوش گزار دی ۔
او یہ تو بہت برا ہوا ۔
وہی تو میں کہہ رہی ہوں بہت برا ہوا لیکن اب کیا کیا جائے ماما؟
تم ایسا کرو کہ اسے اپنے کمرے میں لے جاؤ اور کچھ وقت آرام کرواؤ ان شاء اللہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا ۔
ٹھیک ہے ماما میں لے چلتی ہوں اپنے کمرے میں آپ دعا کرنا کہ یہ جلد از جلد ٹھیک ہوجائے مجھے تو بہت پریشانی لاحق ہوگئی ہے ۔
اللہ پاک جلد از جلد صحت کاملہ عطا فرمائے میری پیاری بیٹی کی پیاری سی سہیلی کو۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین ”
سعدیہ آمین کہتی ہوئ سائرہ کو سہارا دیتے ہوئے اپنے کمرے میں لے گئی—————–

_____________________

حمزہ یہاں کھڑے ہو خیریت ہے کیا آج گھر جانے کا ارادہ نہیں؟
اور یہ کیا ہوا ہے تمہیں کیوں چہرہ اترا ہوا ہے؟
حمزہ کا ہمشن سعد اس سے پوچھ رہا تھا ۔
ہاں کیا مطلب؟
حمزہ نے چونک کر جواب دیا اور سوال بھی پوچھ لیا جیسے کہ اسے سمجھ ہی نا آئی ہو ۔
میرا مطلب ابھی تک یہاں کھڑے ہو خیریت؟
ہاں یار وہ جو رمشا ہے نا وہ……
حمزہ خاموش ہوگیا ۔
کیا ہوا رمشا کو بولو؟
کچھ نہیں بس کوئی بات نہیں۔
حمزہ سعد کو ٹالتا ہوا جلدی جلدی پارکنگ کی طرف نکل گیا اور سعد بھی اپنا بیگ اٹھائے ہوئے ایک جانب چلا گیا۔
حمزہ نے گاڑی نکالی اور بھگاتا ہوا یونیورسٹی کے جانب لے جانے لگا ۔
یونیورسٹی کے باہر جا کر حمزہ نے ہارن دیا ۔
ہارن کی آواز سن کر چوکیدار باہر آگیا اور حمزہ کو بتایا کہ سائرہ بٹیا آج سعدیہ بٹیا کے ساتھ جلد ہی چلی گئی تھی ٹیکسی میں بیٹھ کر ۔
بہت بہت شکریہ چاچا جی ۔
حمزہ کی چوکیدار کے ساتھ اچھی خاصی دعا سلام ہوگئی تھی اس کی وجہ یہ تھی کہ حمزہ جب بھی سائرہ کو لینے آتا تو کچھ دیر چوکیدار کے پاس ہی بیٹھ جاتا تھا اور اس کے ساتھ دکھ سکھ بانٹتا تھا اور جیسے ہی سائرہ باہر آتی تھی تو چوکیدار یعنی “چاچا رفیق” اسے دعائیں دیتا ہوا رخصت کردیتا تھا ۔
حمزہ اور چوکیدار یعنی چاچا رفیق کے درمیان اچھی خاصی دوستی ہوگئی تھی یہی وجہ تھی کہ حمزہ اس کی وقتاً فوقتاً مالی امداد بھی کرتا رہتا تھا ۔
اب بھی حمزہ کو چوکیدار نے ہی ان کے جانے کی اطلاع دی تھی اور اب وہ اکیلا ہے بوجھل دل کے ساتھ گھر جارہا تھا ۔
حمزہ گھر پہنچا اور پاؤں گھسیٹتا ہوا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔
السلام عليكم ماما!
حمزہ نے شازیہ بیگم کے کمرے کے سامنے سے گزرتے ہوئے سلام کیا ۔
وعلیکم السلام بیٹا!
ماما سائرہ آج جلدی کیوں آگئی تھی۔
حمزہ جو کہ اپنے کمرے میں جارہا تھا اپنی ماما کو فارغ دیکھ کر پوچھ بیٹھا ۔
کیا مطلب آپ کہ سائرہ وقت پر آگئی؟
جی ماما مجھے چوکیدار نے بتایا تھا کہ آج سائرہ اور سعدیہ جلد ہی چلی گئی تھیں ۔
لیکن بیٹا وہ ابھی تک گھر تو نہیں پہنچی ۔
ہمممم ماما آپ سعدیہ آپی کو کال کرکے پوچھ لیں شاید وہ انہیں کے گھر ہو ۔
چلو بیٹا میں کال کرتی ہوں—————

________________

سائرہ اب سو چکی تھی اور سعدیہ وضو کرکے ظہر کی نماز ادا کررہی تھی جبکہ بشریٰ بیگم یعنی سعدیہ کی ماما سبزی بنا رہی تھی ۔
سعدیہ نے جیسے ہی سلام پھیرا تو اس کے موبائل کی گھنٹی بجنے لگی ۔
اس نے فون اٹھایا تو سکرین پر آنٹی شازیہ کا نام جگمگا رہا تھا ۔
سائرہ کی ماما کا نام دیکھ کر سعدیہ نے اپنے سر پر ہلکی سے چپت رسید کی اور پھر کال پک کرتے ہوئے شازیہ بیگم کو سلام کیا ۔
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ آنٹی جی!
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
بیٹا کیسی طبیعت ہے آپ کی؟
جی الحمدللہ میں ٹھیک ہوں آپ سنائیں؟
ہاں میں بھی بالکل ٹھیک ہوں ۔
بیٹا وہ سائرہ ابھی تک گھر نہیں آئی ۔
مجھے حمزہ نے بتایا ہے کہ چوکیدار کی اطلاع کے مطابق آپ آج جلد ہی واپس آگئی تھیں اور آپ کے ساتھ سائرہ بھی تھی۔
جی جی آنٹی جی آج ہم جلد ہی آگئیں تھی اس لیے کہ مجھے کچھ کام تھا سو میں سائرہ کو بھی ساتھ لیتی آئی تھی ۔
سعدیہ شاید انہیں اصل بات نہیں بتانا چاہتی تھی اس وجہ سے کہ وہ سائرہ کی سر والی چوٹ کو لیکر پہلے ہی بہت پریشان تھیں ۔
اچھا بیٹا اب وہ کہاں ہے؟
جی وہ تو فلحال سو گئی ہے اگر آپ کہو تو جگا دیتی ہوں ۔
نہیں نہیں بیٹا اسے سوئی رہنے دو جب جاگ جائے تو اسے گھر چھوڑ جانا یا کال کردینا حمزہ یا مہوش لے آئے گی۔
جی بہتر آنٹی جی۔
سائرہ اور سعدیہ کا گھر ایک دو کلو میٹر کے فاصلے پر تھا اس لیے انہیں زیادہ پریشانی نہیں ہوتی تھی ایک دوسرے کے ہاں آنے جانے میں ۔
کون ہے سعدیہ کس سے بات کررہی ہو؟
سائرہ جو کے اب اٹھ چکی تھی اور منہ دھو کر سعدیہ کے پاس آ کھڑی ہوئی تھی ۔
وہ آپ کی ماما تھی میں نے ان کو بتایا ہے کہ سائرہ سوئی ہوئی ہے جب جاگ گئی تو میں اسے بھیج دونگی یا خود چھوڑ جاؤنگی۔
سعدیہ میں چلتی ہوں ماما بہت پریشان ہونگی ۔
سائرہ نے سعدیہ کو اتنا کہا اور گیٹ کی جانب بڑھ گئی ۔
سائرہ رکو تو کھانا کھا کر چلی جانا۔
نہیں شکریہ میں جاکر کھا لونگی۔
سائرہ یہ کہتے ہوئے گیٹ سے نکلی اور اکیلی ہی گھر کی جانب روانہ ہوگئی ۔
سعدیہ نے جب دیکھا کہ سائرہ اکیلی جارہی ہے تو اس نے بھی فوراً چادر لی اور سائرہ کے پیچھے ہولی ۔
سعدیہ نے سائرہ کو روکا اور ایک رکشہ کروا کر سائرہ کو ساتھ لیے اس کے گھر کی جانب روانہ ہوگئی—–

جاری ہے……..

اپنا تبصرہ بھیجیں