ناول ادھورا عشق ( قسط نمبر 16 )

ناول :: ادھورا عشق

رائٹر :: ایم تجمل بیگ

قسط نمبر 16

کس سے بات کررہے ہو؟
وہ میم یہ رمشا…
کیا رمشا؟
میم یہ رمشا تنگ کررہی تھی ۔
رمشا جو میم کو کمرے سے نکلتا دیکھ چکی تھی جلدی سے وہ اپنی کلاس کی طرف بھاگ گئی تھی اور میم کی بھی نظر اس پر نہیں پڑی تھی۔
کدھر ہے رمشا؟
میم وہ سامنے………
حمزہ نے جیسے ہی سامنے دیکھ کر بتانا چاہا تو اس کے الفاظ منہ میں ہی سب کررہ گئے کیونکہ رمشا تو وہاں سے کب کی جاچکی تھی اور اب وہاں صرف ایک گلاب کا درخت منہ چڑھا رہا تھا ۔
میم ابھی وہیں تھی سچی کہہ رہا ہوں ۔
حمزہ نے ہچکچاتے ہوئے کہا ۔
اگر تھی تو کہاں گئی؟
میم میں جھوٹ نہیں بول رہا وہ یہیں تھی اور اور مجھے تو شعر بھی سنا رہی تھی ۔
حمزہ نے خوف زدہ لہجے میں کہا ۔
اچھا جی کیا شعر سنایا تھا اس نے؟
میم وہ اس نے کہا تھا کہ
*ان کا یوں آنکھیں نکال کر ہمیں دیکھنا*
حمزہ نے ابھی ایک مصرع ہی پڑھا تھا کہ اسے احساس ہوا کہ میں غلط پڑھ رہا ہوں اور وہ چپ ہوگیا ۔
پورا شعر سناؤ ۔
میڈم اسی طرح کا شعر کہا تھا اس نے مگر میں شاید کچھ غلطی کررہا ہوں ۔
میم نے ہلکی سے مسکراہٹ کے ساتھ اسے کلاس میں جانے کا کہا اور خود رمشا کی کلاس کی جانب بڑھ گئیں ۔
اب رمشا کا ایک رنگ آ رہا تھا تو دوسرا جارہا تھا ۔
اسے خوف لاحق ہوگیا تھا کہ شاید میری مرمت ہوگی اب۔
اس کا دودھ جیسا سفید چہرہ اب سرخ سیب جیسا ہوگیا تھا اور قریب تھا اس کی جو صورت آنکھوں سے آنسو بہہ نکلتے کہ اتنے میں میم کلاس سے نکل گئی اور رمشا کی جان میں جان آئی۔—————–

___________________

سائرہ آرام سے آرام سے بھاگو نہیں پہلے ہی آپ ٹھیک نہیں ہو مزید چوٹ لگ جائے گی سعدیہ اس کے پیچھے بھاگتی ہوئی چلا رہی تھی ۔
سعدیہ ڈارلنگ چوٹ تو پہلے ہی دل پر لگ چکی ہے اب تو کوئی چوٹ چوٹ محسوس ہی نہیں ہوتی ۔
اب تو درد سہنے میں مزہ آتا ہے ۔
سائرہ کے بھاگتے بھاگتے بلند آواز میں جواب دیا ۔
سائرہ یونی میں سب سے سلجھی ہوئی اور عقلمند سمجھی جاتی تھی مگر آج….
آج تو شاید وہ اپنے حواس کھو بیٹھی تھی کیونکہ وہ بہکی بہکی باتیں کررہی تھی اور اسی وجہ سے ہر کوئی جو بھی راہداری میں تھا سائرہ کی جانب متوجہ ہوگیا تھا ۔

سائرہ کچھ دیر بھاگنے کے بعد جب ایک جگہ رک گئی تو تب اسے احساس ہوا کہ وہ کس قدر حماقت کر بیٹھی ہے۔

سائرہ اب دانتوں میں انگلی دبائے اپنے اردگرد لوگوں کے ہجوم کو دیکھ رہی تھی جن کی نظریں سائرہ پر ہی ساکت ہوکر رہ گئی تھی۔
سائرہ اب پریشان تھی کہ اب کیا کرے کیونکہ اس سے واقع ہی بہت بڑی حماقت سرزد ہوچکی تھی ۔ کیونکہ اسے اب اپنی ساکھ خطرے میں نظر آرہی تھی اس لیے اسے فوراً کوئی ہیلا کرنے کی ضرورت تھی لہذا اس نے فوراً ہی ایسی ایکٹنگ شروع کردی جیسے کہ وہ پاگل ہوئے جارہی ہو۔
اب وہ ایسی حرکت کرنے ہی والی تھی کہ جس سے ظاہر ہوجاتا کہ یہ سچ میں پاگل ہوگئی ہے کہ اتنے میں سعدیہ اس کا بازو پکڑے ہوئے کنٹین کی جانب لے گئی ۔
سائرہ یہ سب کیا تھا؟
کیوں خود کو بدنام کررہی ہو؟
سائرہ یہ کس قسم کی بیہودگی تھی ہاں؟
سعدیہ جس کو پہلے ہی سائرہ پر بہت زیادہ غصہ تھا اب تو مزید اس کا پارہ ہائی ہوچکا تھا۔
سعدیہ قسم سے مجھے خود بھی نہیں معلوم کی یہ اتنی گھٹیا جمحرکت مجھ سے کیسے سر زد ہوگئی ہے۔
کیوں میں ایسے پاگلوں کی طرح بھاگ گئی تھی؟
سعدیہ شاید یہ اسی کی آمد کا ہی اثر تھا ۔
اس کی باتوں کا ہی مشہ تھا جس کی وجہ سے میں بہک گئی تھی ۔ سائرہ بولتی جارہی تھی۔
اب تو سعدیہ کو سچ میں محسوس ہونے لگ گیا تھا کہ سائرہ پاگل ہوجائے گی۔
اس سے پہلے کے سائرہ کوئی اور حرکت کرتے سعدیہ نے اسے ٹھنڈا رانی جوس پلایا اور پھر اسے لیکر یونی کے گیٹ سے ہوتے ہوئے باہر سڑک پر آگئی اور کسی ٹیکسی وغیرہ کا انتظار کرنے لگی۔
پانچ منٹ کے انتظار کے بعد ٹیکسی آگئی اور سعدیہ سائرہ کو ساتھ لیتے ہوئے ٹیکسی میں بیٹھ گئی اور ڈرائیور کو گلشن ٹاؤن بلاک نمبر 3 میں جانا کا کہا جو کہ سعدیہ کی رہائش گاہ کا پتہ تھا–————-

__________________

چھٹی کی گھنٹی بجی اور حمزہ فوراً ہی کلاس سے باہر نکل آیا اور راہداری میں کھڑا ہوگیا ۔
پانچ منٹ بعد رمشا بیگ اٹھائے ہوئے اس کے پاس سے گزری ۔
رمشا ایسے جارہی تھی جیسے اس سے واقف ہی نا ہو اور وہ رستہ میں کھڑا ایک انجان مسافر ہو اور ان دونوں کی منزل بھی الگ الگ ہو۔
جیسے ہی رمشا حمزہ کے قریب آئی تو حمزہ نے اس کا بازو پکڑ لیا۔
رمشا یونہی انجان بنی اس کی طرف دیکھنے لگی ۔
ہاتھ چھوڑو میرا رمشا نے کہا۔
تم چاہتی کیا ہو؟
تمہارا ساتھ ۔
رمشا نے پھر وہی جواب دیا جو وہ پہلے بھی کہہ چکی تھی۔
یہ کیا بیہودہ پن ہے؟
“اسے ہی تو عشق کہتے ہیں”
او ہو تم مجھے ہی کیوں چاہتی ہو؟
حمزہ نے اپنی پیشانی کو پکڑتے ہوئے کہا۔
“یہ دل کی ضد ہے جناب”
تمہارا دل کیا کہتا ہے رمشا نے حمزہ سے پوچھا؟
میرے پاس ان فضول کاموں کے لیے وقت نہیں یہ کام تمہیں ہی مبارک۔
میں نے یہ پوچھا کہ تمہارا دل کیا کہتا ہے دل کی سنو اور مجھے بتاؤ؟
کچھ بھی کہتی ہو۔
حمزہ میری آنکھوں میں دیکھو۔
رمشا نے حمزہ سے کہا اور حمزہ نے فوراً ہی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے رمشا کی آنکھوں میں دیکھنا شروع کردیا ۔
ان آنکھوں میں دیکھو تمہارے لیے کیسے جذبات ہیں؟
کیسے عشق میری آنکھوں میں ابل رہا ہے۔
دیکھو میری آنکھیں کیسے تجھے دیکھنے کی عجلت میں کتبے حسین مناظر چھوڑے بیٹھی ہیں ۔
دیکھو میری آنکھیں تجھے دیکھ کر کس قدر پرسکون ہیں ۔
رمشا شاید کچھ اور بھی کہتی کہ حمزہ بول پڑا کہ یہ سب فلمی باتیں ہیں مجھے ان پر یقین نہیں ۔
جب تمہیں یقین آئے گا تو بہت دیر ہوچکی ہوگی اور پھر تم تنہا ہی عشق کا سمند عبور کرنا چاہو گے مگر تم اس میں لاکھ بار ڈوبو گے مگر مرو گے نہیں اور پھر تمہیں میں یاد آؤں گی اتنا کہہ کر رمشا آگے بڑھ گئی اور حمزہ وہیں بت بنا کھڑا رہ گیا—————–

جاری ہے……………

اپنا تبصرہ بھیجیں