ناول ادھورا عشق ( قسط نمبر 15)

ناول :: ادھورا عشق

رائٹر :: ایم تجمل بیگ

قسط نمبر 15

چلو اترو ۔
سائرہ جو اپنی سوچوں میں گم تھی حمزہ کی آواز پر چونک گئی اور جلدی جلدی اپنا بیگ سنبھال کر گاڑی سے نیچے اتر گئی۔
کلاس میں جاتے ہوئے سائرہ کی ٹکر مریم سے ہوگئی اور پھر دونوں کے درمیان جھگڑا شروع ہوگیا ۔
مریم ایسی ہی لڑکی تھی۔ زیادہ خوبصورت تو نا تھی مگر امیر زادی ضرور تھی ۔
اسی لیے وہ کم ہی کسی کو منہ لگاتی تھی اور اپنے ہی attitude میں رہتی تھی ۔
آج بھی سائرہ جلدی جلدی اپنی کلاس میں جارہی تھی کہ سامنے سے وہ خود آکر لگی تھی ۔سائرہ کی کوئی غلطی نا تھی مگر پھر بھی ڈانٹ سائرہ ہی کو کھانی پڑرہی تھی اور سائرہ بھی خاموشی سے بت بجے سنے جارہی تھی۔
سائرہ کو دیکھ کر لگتا تھا کہ وہ ذہنی طور پر کہیں اور موجود ہے ادھر تو ہے ہی نہیں ۔
سائرہ چلو کلاس میں یہ چپ نہیں کرے گی ۔
سعدیہ سائرہ کا بازو پکڑتے ہوئے کلاس میں جا پہنچی اور مریم پیچھے بس آوازیں ہی کستی رہ گئی۔
سعدیہ ایک بات بتاؤں ۔
ہاں ضرور کیوں نہیں ۔
جلدی بتاؤ۔
چلو بھی خاموش کیوں ہوگئی ہو۔
چلو رہنے دو پھر کبھی سہی۔
سائرہ نے مسکراتے ہوئے سعدیہ کو ٹال دیا۔
دیکھو سائرہ مجھے تم نے کشمکش میں مبتلا کیا پہلے اور اب مجھے کشمکش کے دریا میں چھوڑ کر تم باہر نکل رہی ہو ۔
باخدا میں تمہارا قتل کردونگی ۔اچھا ہوگا کہ بتا دو کیا بتانے لگی تھی تو۔
سعدیہ ضد نا لیا کرو یار کہا نہ کہ بس کچھ نہیں ۔
بات اب بھی مبہم ہی تھی اور سعدیہ ابھی تک دانت پیچ رہی تھی ۔
یہ آئی کتاب سائرہ کے سر پر ۔
ایک اور کتاب پڑی سائرہ کی کمر پر ۔
بتاتی ہو کہ کتابوں سے ہی قتل ہونے کا ارادہ ہے؟
اچھا بابا صبر کرو بتاتی ہوں تم تو بس………..
سائرہ بات ادھوری نا چھوڑا کرو قسم سے بہت غصہ آتا ہے مجھے سعدیہ نے اب کی بار بہت زیادہ جل کر کہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

_______________________

حمزہ عمران…….
Present ۔
حمزہ عمران……
Present
حمزہ نے اب کی بار زیادہ بلند آواز میں اپنے ہونے کا احساس دلایا ۔
حمزہ آپ کل کہاں تھے؟
میں وہ میم…
حمزہ سے کوئی بات نہیں بن رہی تھی ۔
بتاؤ بھی کہا تھے کل؟
میم وہ پھوپھو…..
کیا پھوپھو ؟
میم وہ پھوپھو اور بچے….
حمزہ جلدی بتاؤ کیوں نہیں آئے تھے کل؟
میڈم وہ پھوپھو اور کزن وغیرہ آئے ہوئے تھے جس کیو جہ سے میں سکول نہیں آسکا ۔
چلو باہر جاؤ اور hands up کرکے کھڑے ہوجاؤ۔
حمزہ منہ بسورتا ہوا کلاس کے باہر برآمدے میں چلا گیا اور ہاتھ اوپر کرکے کھڑا ہوگیا ۔
حمزہ کی نگاہ اپنے شوز پر تھی کہ اسے سیٹی کی آواز سنائی دی ۔
اس نے سیٹی کی آواز پہچان لی تھی وہ “رمشا” تھی جو اسے چھٹیوں سے چند دن پہلے ہی اپنی محبت کا اظہار کر کی تھی مگر حمزہ ایک لا پرواہ سا اور محبت سے دور بھاگنے والا لڑکا تھا اس لیے حمزہ نے اس کو کوئی جواب نہیں دیا تھا۔
یہ نہیں کہ رمشا خوبصورت نا تھی بلکہ وہ تو اتنی خوبصورت تھی کہ تقریباً سارے سکول کے لڑکے اس کو اپنی گرل فرینڈ بنانے پر تلے ہوئے تھے اور وہ تھی کہ کسی کو گھاس نہیں ڈالتی تھی مگر جب اس کو حمزہ پسند آگیا تو باقی تمام لڑکے خود بخود ایکجانب ہٹ گئے تھے مگر حمزہ صاحب اپنی ہی موج مستی میں تھے انہیں تو سچ میں کوئی لڑکی بھاتی ہی نا تھی ۔
اور آج بھی جب رمشا نے دوسری سٹی ماری تو حمزہ نے سر اٹھا کر اوپر دیکھا۔

آہ
*ان کا یوں آنکھیں بھر کر ہمیں دیکھنا*
*اے خدا ہم ان کو دیکھیں یا ان کا دیکھنا دیکھیں*

جیسے ہی حمزہ نے اوپر دیکھا تھا رمشا نے ایک لمبا سانس لیکر ایک شعر کہا جس کو سن کر حمزہ نے فوراً نظر جھکا لی ۔
ہائے *اینی بے پروائی نا کر سجنا تو وی رہ جاویں گا*

(اتنی لاپروائی بھی نا کرو ورنہ جنازے سے بھی رہ جاؤ گے)

شعر سن کر حمزہ نے نظر اٹھائی اور غصے سے کہا کہ تم چاہتی کیا ہو؟
تمہارا ساتھ بدستور جواب ملا۔
مجھے کسی کا ساتھ نہیں چاہیے۔
مجھے تو چاہیے رمشا نے پھر کہا۔
کسی اور کو ڈھونڈ لو مجھ سے یہ امید نا رکھو حمزہ نے دوبارہ کہا۔
کوئی اور اگر دل کو لبھاتا تو تمہاری کیا ضرورت تھی؟
تم کیسی بہودہ باتیں کررہی ہو جاؤ چلی جاؤ میم آجائے گی ۔
حمزہ کس سے محو گفتگو ہو؟
اتنے میں میم بھی باہر آگئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

___________________

سعدیہ ایک ایسی خوشخبری جسے سن کر تم جھوم اٹھو گی۔
سعدیہ اس ویک اینڈ پر بہت مزہ آنے والا ہے یقین کرو۔
بابا کیسے یقین کروں؟
کچھ جانے بنا ہی یقین کرلوں؟
بس تم یقین رکھو بہت مزہ آئے گا ۔
بتاتی ہو یا پھر اکھیڑ دوں جڑ سے ہی؟
اب کی بار سعدیہ نے سائرہ کے بالوں کو پکڑ لیا اور سائرہ کے منہ سے ایک دلخراش سی چیخ برآمد ہوئی مگر سعدیہ نے پھر بھی اس کے بالوں کو نا چھوڑا۔
جلدی بتاؤ ورنہ آج تو تم گئی ۔
اچھا بتاتی ہوں پہلے بال چھوڑو ۔
نہیں پہلے بتاؤ ۔
سچی بتاؤں گی بال چھوڑو پرومس سائرہ نے التجا کی۔
چلو اب بتاؤ سعدیہ نے بال چھوڑتے ہوئے کہا۔
سعدیہ کل کو پتہ ہے کیا ہے؟
کل جمعہ ہے ہفتہ ہے ۔
میرا مطلب کل ویک اینڈ ہے۔
ہاں باباکل ویک اینڈ ہے تو؟
تو کل بہت خاص دن ہے ۔
کیسے؟
کل کو ایک بہت خاص دن ہے بس سمجھ لو۔
سائرہ پھر پہیلیاں بھجوا رہی ہو سعدیہ نے غصے سے کہا۔
اچھا تو سنو پھر کل کا دن کیوں خاص ہے؟
کل کو……
ایک لمبا سناٹا چھا گیا ۔
تھاڑ ایک تھپڑ سائرہ کی کمر پر رسید ہوا ۔
سائرہ پاگلوں کی طرح سر کو گھمانے لگی ۔
جلدی بتا کیا کل کو ۔
کل کو أشعر آرہا ہے سائرہ یہ کہہ کر اٹھ کر باہر کی جانب بھاگ گئی اور سعدیہ بھی اس کے پیچھے ہی ہولی ۔

جاری ہے……………

اپنا تبصرہ بھیجیں