ناول ادھورا عشق ( قسط نمبر 14)

ناول::ادھورا عشق

رائٹر::ایم تجمل بیگ

قسط نمبر 14

کیا میں؟
بولو بھی کچھ اس سے آگے۔
جب سائرہ کچھ نا بولی تو اشعر نے جلا کر اس سے کہا۔
میرا مطلب جب تم آؤ گے تو کہاں ملیں گے ہم؟
سائرہ نے بات بدل دی مگر وہ اشعر ہی تھا اسے معلوم ہوگیا تھا کہ سائرہ بات بدل رہی اس نے دوبار استفسار کیا کہ بتاؤ پہلے کیا کہنے والی تھی؟
کچھ نہیں أشعر بس ویسے ہی۔
پھر بھی کچھ تو بتاؤ کہ کیا جب میں تم آؤ گے تو میں….. اس سے آگے کیا تھا؟
أشعر نے اب کی بار ضد پکڑ لی تھی ۔
اشعر یہی کہ جب تم آؤ گے تو میں کس طرح اپنی خوشی کو ضم کرونگی؟ کس سے میں اپنی خوشی کا اظہار کرونگی؟ کوئی بھی تو نہیں آپ کے علاوہ میرے پاس جس کو میں اپنے اس تعلق سے آشنا کرسکوں ۔
بس یہی سوچ رہی تھی میں سائرہ وضاحت دیکر خاموش ہوگئی۔
او ہو یار سائرہ تم بھی کیا سوچنے لگ پڑی ہو چھوڑو ان سب باتوں کو جب ہم ملینگے تو خوب دل کا بوجھ ہلکا کریں گے اور میں تجھ سے مل کر ایک بہت بڑی خوشخبری بھی سناؤ گا اب فلحال تم سو جاؤ۔
ٹھہرو ٹھہرو اشعر جو کہ کال ڈسکنیکٹ کرنے ہی لگا تھا سائرہ کی آواز سن کر رک گیا۔
جی بولو أشعر نے کہا!
وہ خوشخبری کیا ہے یہ تو بتاؤ۔
نہیں جب میں آؤنگا تب ہی بتاؤں گا ابھی نہیں ۔
أشعر پلیز بتادو ورنہ تجسس بڑھتا جائے گا اور میں بے چین ہی رہوں گی ۔
نہیں اب سو جاؤ بس دو دن کی ہی تو بات ہے پھر مل کر بتاؤں گا اشعر نے یہ کہہ کر کال کٹ کردی اور سائرہ نے منہ بناتے ہوئے موبائل ایک جانب پٹخ دیا اور وہ دوسرے تکیے پر جالگا ۔
سائرہ اب خوشخبری کے متعلق سوچنے لگی مگر اسے کچھ سمجھ نا آیا لیکن پھر بھی وہ مسلسل سوچتی ہی رہی ۔سوچتے سوچتے رات دو بجے کے قریب اس کی آنکھ لگ گئی اور وہ نیند کی وادیوں میں کھو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

* * * * * * *

اٹھو حمزہ شاباش چلو مسجد میں فجر کی نماز کے بعد درس بھی ہوگا کیونکہ آج جمعہ ہے اس لیے وہ بھی سن کر آنا گھر ۔
ماماکچھ دیر اور سونے دیں پلیز ابھی تو اذان ہورہی ہے پون گھنٹہ باقی ہے جماعت میں حمزہ نے کلاک کی طرف دیکھ کرہانک لگائی اور کمبل دوبارہ منہ پر اوڑھ لیا۔

حمزہ میں نے کہہ دیا نا کہ اٹھ جاؤ تو بس اٹھ جاؤ ۔
میں جاری ہوں مہوش اور سائرہ کو جگانے میرے آنے سے پہلے اٹھ جانا ورنہ صبح صبح ناشتہ ہوجائے گا آپ کا۔

سائرہ بیٹا اٹھ جاؤ نماز پڑھو اور کچھ کلام پاک کی تلاوت کرلو تاکہ آپ کا دن اچھا گزرے ۔
جی ماما بہتر سائرہ آنکھیں مسلتی ہوئی اٹھ بیٹھی اور بیڈ کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئی ۔
سائرہ ایسی ہی تھی ایک آواز پہ ہی اٹھ جاتی تھی چاہے وہ ایک گھنٹہ پہلے ہی کیوں نا سوئی ہو۔
مہوش بھی اٹھ چکی تھی لیکن حمزہ ابھی تک کمبل میں منہ دیے لیٹا ہوا تھا ۔

شازیہ بیگم جب دوبارہ حمزہ کے کمرے میں داخل ہوئی تو حمزہ جوتوں کی آواز سن کر فوراً ہی اٹھ بیٹھا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اگر اب بھی نا اٹھا تو شامت آجائے گی ۔

حمزہ آٹھ کر واش کی جانب بڑھ گیا ۔طہارت کرکے اب وضو کررہا تھا جب اسے عمران صاحب کی آواز سنائی دی تھی ۔
بس پاپا دو منٹ آگیا عمران صاحب جو اسے مسجد جانے کے لیے بلا رہے تھے حمزہ نے انہیں جوابدیا ۔

حمزہ کے دو منٹ پانچ منٹ بعد پورے ہوئے تھے اور اب وہ اپنے باباکے ساتھ مسجد جارہا تھا ۔
سائرہ، شازیہ بیگم اور مہوش ایک ساتھ نماز پڑھ رہے تھے جیسے ہی نماز سے فارغ ہوئیں تو سب نے کچھ دیر تسبیح کرنے کے بعد سورت یٰسین کی تلاوت کی اور پھر شازیہ بیگم کے ساتھ سائرہ بھی ناشتہ بنانے میں مصروف ہوگئی اور مہوش اپنے کمرے میں جاکر سکول جانے کی تیاری کر ے لگی۔
قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ

*ترجمہ*
تم مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کرونگا ۔

بھائیوں اللہ پاک نے انسان کے ذمے محنت کرنا لگایا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دعا کی بھی تلقین کی ہے ۔اللہ تعالیٰ خود فرماتے ہیں کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کرونگا ۔
بھائیوں اللہ پاک ہی ایسی ہستی ہے جس سے نا مانگا جائے تو وہ ناراض ہوجاتا ہے ورنہ دنیا تو ایسی ہے کہ اگر اس میں بسنے والوں سے مانگا جائے تو وہ ناراض ہوجاتے ہیں اور اکتا جاتے ہیں ۔

اور بھائیوں آج چونکہ جمعہ ہے تو اس دن دعاؤں کا اور دورد پاک کا زیادہ اہتمام کرنا چاہیے کیونکہ ہمارے پیارے نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے کہ

*ترجمہ*
جمعہ کے دن میں ایک ایسا وقت بھی آتا ہے جس میں دعا قبول ہوتی ہے ۔

تو بھائیوں ہمیں اس دن یعنی جمعہ کے دن ضرور دعاؤں کا اہتمام کرنا چاہیے کیونکہ کہ دعا ہی ایسی چیز ہے جس سے قسمت بدل جاتی ہے اور بہت سی پریشانیاں ختم ہوجاتی ہیں ۔

حمزہ آج برے انہماک کے ساتھ درس سن رہا تھا اسے دعا کے فائدے سن کر بہت افسوس ہورہا تھا کیونکہ اس نے تو ایک عرصے سے دعا مانگی ہی نہیں تھی اور اب جو اسے دعا کی فضیلت کے متعلق علم ہوا تو دل ہی دل میں تہیا کر ے لگا کہ اب خلوص دل سے دعا مانگا کرے گا اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی۔
درس ختم ہوا تو حمزہ عمران صاحب کے ساتھ چلتا ہوا گھر پہنچ گیا ۔

گھر پہنچے تو ناشتہ تیار ہی تھا حمزہ نے ناشتہ کیا اور سکول جانے کی تیاری کرنے لگا اور ادھر سائرہ بھی اپنے موبائل کو چارجر سے الگ کرکے بیگ میں ڈال رہی تھی ۔

موبائل کو بیگ میں ڈال کر بیگ ایک طرف رکھ دیا اور اپنے بالوں کو کنگھی کرنے لگی ۔
کنگھی کرتے کرتے اسے اشعر کے ساتھ کی گئی رات والی باتیں یاد آنے لگیں اور وہ منہ ہی منہ میں کچھ گنگنانے لگی شاید کوئی سونگ ہی رہا ہوگا ۔

سائرہ بڑے مزے کے ساتھ بالں میں کنگھی کررہی تھی کہ حمزہ کمرے می داخل ہوا مگر سائرہ بدستور کنگھی کرتے ہوئے کچھ گنگناتی رہی ۔
آپی چلو آ جاؤ جلدی میں یٹ ہو رہی ہوں ۔حمزہ نے جلائے ہوئے لہجہ میں کہا ۔
پانچ منٹ ویٹ کرو پیارے بھائی میں آئی ۔سائرہ نے پانچ منٹ کا وعدہ کیا اور جلدی جلدی اپنے بال سمیٹنے لگی اتنی دیر میں حمزہ باہر جاچکا تھا ۔
تقریباً دس منٹ کے بعد سائرہ حمزہ کے ساتھ اگلی سیٹ پر بیٹھی اپنی یونیورسٹی کی جانب رواں تھی————-

جاری ہے…….

اپنا تبصرہ بھیجیں