ناول : ادھورا عشق (قسط نمبر 13)

ناول:: ادھورا عشق

رائٹر:: ایم تجمل بیگ

قسط نمبر 13

شرط یہ ہے کہ آج تم میرے ساتھ چائے پیو گی۔
نہیں میں نہیں آسکتی اب اتنی دور کشمیر میں ۔
او تو چلو ہم آجاتے ہیں آپ کے پاس ۔آپ کے علاقہ میں ہی ۔
کیا کہا ذرا پھر سے کہنا…..
سائرہ کو جیسے اپنے کانوں پر یقین ہی نہیں آیا تھا ۔
جانم میں کہہ رہا ہوں کہ میں ملنے آجاتا ہوں آپ کے پاس۔
کیا سچ میں تم آؤ گے یا پھر صرف یہ دلاسہ ہی ہے؟
میں سچ میں آؤں گا سائرہ یقین رکھو اور اسی ویک اینڈ پر آؤں گا۔
اچھا کیا تم میرے لیے آؤ گے؟
سائرہ نے اب بچوں سے سوال شروع کردیئے ۔
اور میں کس کے لیے آؤنگا؟ میرا اور ہے کون وہاں تیرے سوا سائرہ؟
أشعر نے سائرہ کو اس کی بات کا احساس دلایا ۔
ہوسکتا ہے کہ آپ کو کوئی کام ہو اور بہانے کررہے ہوں کہ تم سے ملنے آنا ہے فقط۔
او میرے خد میں کیسے سمجھاؤں تجھے میں سچ میں تجھ سے ہی ملنے آرہا ہوں بخدا مجھے جھوٹ بول کر کیا ملے گا۔
اشعر اسے یقن دلاتے ہوئے پر تول رہا تھا ۔
God is best
میرا اللہ بہت اچھا ہے اس نے میری دعائیں رد نہیں فرمائیں ۔اس نے میری دعائیں سن لی ہیں ۔او اشعر میں کب سے دعاؤں میں تجھ سے ملنے کا راستہ تلاش کررہی تھی اور اب اللہ تعالیٰ نے خود آپ کو میرے پاس بھیجنے کے ارادہ کرلیا ہے واہ کیا بات ہے۔

سائرہ کیا کہا تم مجھے دعاؤں میں بھی یاد رکھتی ہو پھر تو میں بہت خوش قسمت ہوں اور اپنی قسمت سے خوش بھی ہوں۔
تھوڑی دیر مزید بات جاری رہی اور پھر کال بند کردی گئی سائرہ نے موبائل کو جس پر اشعر کا نام جگمگا رہا تھا بڑی چاہت سے ہونٹوں کے ساتھ لگایا اور اپنے بیگ میں رکھ لیا اور ایک بند رکشے کے ذریعے گھر کی جانب روانہ ہوگئی———

* * * * * *

حمزہ اٹھو کھانا تیار ہے جلدی کرو ۔
مما سونے دو نا آج بہت تھکاوٹ ہوچکی ہے پلیز کچھ دیر اور ماما۔
نہیں کھانا تو لازمی کھانا ہی پڑے گا ورنہ کمزور ہوجاؤ گے تم۔
او مما آپ بھی نا پتہ نہیں کیسے کیسے وہم پال لیتی ہیں حمزہ نے اٹھتے ہوئے منہ بنا کر کہا اور شازیہ بیگم ہنستی ہوئی کمرے سے نکل گئیں اور حمزہ اٹھ کر واش روم کو ہولیا شوز اس نے اتارے ہی نہیں تھے اس لیے اسے اپنا جوتے تلاش کرنے کی نوبت پیش نہیں آئی تھی۔

حمزہ منہ دھوکر کھانے کے ٹیبل پر آچکا تھا جہاں سائرہ، مہوش، عمران صاحب اور شازیہ بیگم سمیت سبھی اسکے منتظر تھے۔
آئیے آئیے بادشاہ سلامت بیٹھیے عمران صاحب نے مسکراتے ہوئے ایک کرسی کے جانب اشارہ کرتے ہوئے حمزہ کو بیٹھنے کا کہا اور حمزہ کھسیانی سی ہنسی ہنستے ہوئے کرسی پر جا بیٹھا ۔
کھانا شروع ہوگیا۔ کھانے کے دوران ہلکی پھلکی باتیں اور چٹکلے بھی اڑتے رہے اور عمران صاحب بچوں سے ان کے گزرے ایام کے متعلق پوچھنے لگے جو کے ان کے بغیر ہی گزرے تھے ۔
کھانے کے دوران ہی انہیں سب حالات سے آگاہ کردیا گیا اور پھر کھانے کا دور ختم ہوا تو چائے کا دور چل پڑا جو کہ پانچ منٹ بعد اختتام کو پہنچ گیا ۔
اب سب سے پہلے سائرہ اللہ حافظ اور شب بخیر کہتی ہوئی آٹھ کر اپنے کمرے کی جانب چل پڑی اس کے پیچھے ہی مہوش بھی اٹھ کھڑی ہوئی ۔ دونوں کو جاتا دیکھ کر حمزہ کیسے بیٹھا رہ سکتا تھا ۔ان کو جاتا دیکھ کر حمزہ بھی اٹھ کھڑا ہوا اور کمرے کی جانب بڑھ گیا لیکن عمران صاحب کی آواز سن کر وہیں ساکت ہوگیا اور منہ پھر کر اب عمران صاحب کی طرف دیکھنے لگا- جی پاپا حمزہ نے جواب دیا ۔بیٹا آپ نے عشاء کی نماز ادا نہیں کی ابھی تک اس لیے پہلے وضو کرے نماز پڑھ لو پھر سونا ۔ جی بہتر پاپا حمزہ کہتا ہوا وضو کرنے لگا ۔
وضو کرکے حمزہ نے نماز ادا کی اور پھر بیڈ پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

* * * * * *

سائرہ اپنے کمرے میں سونے کے لیے آگئی تھی مگر نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی ۔
نیند آتی بھی کیسے اسے اتنی بڑی خوشخبری جو مل گئی تھی اس لیے اب اس کی آنکھوں میں نیند کے بجائے صرف انتظار تھا ۔ان لمحوں کا انتظار تھا جب اشعر نے اس کے روبرو ہونا تھا ۔ان لمحوں کا انتظار تھا جب اس کی دعائیں قبولیت کے درجے کو پہنچی تھیں ۔
اچانک اس نے موبائل اوپن کیا اور گیلری میں جاکر اشعر کی تصویر کھول کر اسے زوم کرلیا یہ وہی تصویر تھی جو اشعر نے اسے واٹسپ کی تھی ۔تصویر کو زوم کرکے وہ بڑے غور سے دیکھنے میں محو تھی اور سوچ رہی تھی کہ جب اشعر سامنے آئے گا تو کیا کہے گی وہ اسسے؟
کیا بات کرے گی اس سے؟
کیا وہ بات کر ھی پائے گی اس سے یا پھر…….
وہ اسی سوچوں میں گم تھی کہ اچانک دروازہ ناک ہوا ۔مگر سائرہ نے کوئی جواب نا دیا بلکہ موبائل کو تکیے کے نیچے رکھ کر اس طرح لیٹ گئی جیسے سچ میں سوئی پڑی ہے ۔
دوسری مرتبہ پھر دستک ہوئی اور اس بار سائرہ نے اٹھ نیند کی فل ایکٹنگ کرتے ہوئے دروازہ کھول دیا ۔
سامنے مہوش کھڑی ہوئی تھی مگر اس کی آنکھوں میں نیند کا شائبہ تک نا تھا ۔
سائرہ کو پہلے تو اس پر بہت غصہ آیا کہ خوامخوہ میرے جزبات کو ٹھیس پہنچائی اس نے مگر پھر خاموش رہی اور اس سے آنے کی وجہ پوچھی۔
کیوں آئی ہو یہاں وہ بھی رات کے گیارہ بجے؟
وہ آپی مجھے نیند نہیں آرہی تھی مہوش نے منہ جھکائے ہوئے ہی جواب دیا ۔
تو میں کیا کروں پھر کیا آپ کو لوری سناؤں؟
نہیں آپی لوری نا سنائیں بس مجھے وہ ہے نا آپ کا…..
چپ کیوں ہوگئی ہو بولو بھی کیا میرا ہاں؟
وہ مجھے اپنا موبائل دے دیں تاکہ میں کچھ دیر گیم کھیل لوں نیند تو آنے سے رہی ۔
اچھا کتنی مطمئن ہوکر کہہ رہی ہو جیسے میں سچ میں تجھے اپنا موبائل دے دونگی ۔
چل بھاگ جا یہاں سے موبائل ابھی فارغ نہیں ہے کل لے لینا ۔
مجھے ابھی چاہیے مہوش ضد کرنے لگی۔
چل بھاگ جا یہاں سے اور اب میرے قریب بھی نا بھٹکنا ورنہ اتنی رات گئے پٹائی کرودنگی ۔
نہیں آپی آج تو میں موبائل لیکر ہی جاؤنگی ۔
مہوش چلو جاکر سوجاؤ ورنہ
ابھی رونہ کا پوری طرح اد بھی نہیں ہونے پایا تھا کہ سائرہ کا موبائل چیخنے لگا ۔سائرہ نے مہوش کو غصے سے واپس بھیجتے ہوئے دروازہ بند کرلیا اور اپنے موبائل کی جانب بڑھی جو کہ تکیے کے نیچے پڑا ہوا تھا ۔چند سیکنڈ لگے تھے اسے یہ سمجھنے میں کہ یہ کس کی کال ہوسکتی ہے اور پھر اس کا گمان بھی غلط نہیں ہوا تھا کیونکہ کال اشعر ہی کی تھی ۔جیسے ہی اسنے موبائل اٹھا کر کال پک کی تو أشعر نے سب سے پہلے سائرہ سے یہی سوال کیا کہ ابھی تک سوئی کیوں نہیں ۔
بس نیند نہیں آرہی اس لیے۔سائرہ نے جواب دیا ۔کوئی وجہ تو ہوگی نیند نا آنے کی ۔اشعر نے پھر سوال کیا۔ہاں تمہارے متعلق ہی سوچ رہی تھی ۔کیا سوچ رہی تھی؟ یہی کہ جب تم آؤ گے تو میں……..
سائرہ میں پر ہی خاموش ہوگئی————-

جاری ہے…………….

اپنا تبصرہ بھیجیں