حرام محبت موت کا سبب (ایک سچا واقعہ)

ایک سچا واقعہ

محبت جیسی بھی ہو حرام ہی ہوتی ہے ایک ابن آدم اور صنف نازک کے درمیان نکاح سے پہلے تک اور ایک ایسی ہی محبت کا داغ لیے چار دن سے سحر کمرے میں بند ہوئے روئے جارہی تھی –
اس کی منگنی ہوچکی تھی اس کے ماموں کے بیٹے کے ساتھ –
جیسے ہر لڑکی کو شوق ہوتا ہے کہ اس کی شادی کسی امیر زادے کے ساتھ ہو اسی طرح سحر کا بھی یہی دل چاہتا تھا اسے منگنی میں ہی کافی زیادہ زیور پہنا دیا گیا تھا اور وہ محبت خوش تھی اور مزے لے لے کر اپنی سہیلیوں کو بتاتے ہوئے نا تھکتی تھی کہ میرا منگیتر سعودیہ میں اپنا کاروبار کرتا ہے اور اس کی سہیلیاں اس کی قسمت پر رشک کرتی تھیں- لیکن اسے کسی اور کے ساتھ بھی محبت تھی جو شاید تسکین نفس کی خاطر رکھی گئی تھی اس کے علاوہ اس کا مقصد کوئی اور نا تھا –
اسی محبت میں تقریباً کافی مرتبہ نفس کی خواہش پوری ہوچکی تھی لیکن اس بات سے سب بے خبر تھے سحر دو منہ لیے گھر والوں کو اور ان کے ساتھ ساتھ اپنے منگیتر کو بھی ڈس رہی تھی –
لیکن زندگی میں ہر چیز سے پردہ اٹھتا ہے اور ہر راز روشن دن کی طرح واضح ہوجاتا ہے اور ان کا راز جو کے ان کےنفس کو عارضی طور پر تسکین بخشتا تھا ظاہر ہوگیا –
اس کا عاشق جس کے ذریعے وہ اپنے نفس کو تسکین دیتی تھی وہ بھی اس راز سے پردہ اٹھتے ہی اپنا شہر چھوڑ چکا تھا وہ خود تو اس مصیبت سے آزاد ہوچکا تھا لیکن سحر کو وہ ان مصائب میں جھکڑ گیا تھا –
دوسری طرف آج سحر کے انکل ان کے گھر آئے بیٹھے تھے اور ان کے ساتھ ساتھ دوسرے معزز رشتے دار بھی وہاں موجود تھے-
انکل قسم سے ایسا کچھ بھی نہیں ہوا یہ سب کچھ ہمارے خلاف سازش ہے کوئی ہم کو بدنام کرنا چاہ رہا ہے سحر اپنے چاچا جی کے پاؤں میں بیٹھی آنسو بہا رہی تھی اور وضاحت پہ وضاحت دے رہی تھی مگر جب شک سرایت کرجائے تو وہ بھلاں کب نکلتا ہے سو انہوں نے بھی اس کی بات مان لی مگر ایک شرط پر کہ وہ اس کا میڈیکل ٹیسٹ کروائیں گے اب کی بار ایک بار پھر سحر کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں تھی مگر اس نے پراعتماد لہجے میں حامی بھر لی –
آج جب اس کے ٹیسٹ کی رپورٹ آئی تو تو اس کا جھوٹ سب کے سامنے واضح ہوچکا تھا اور اب ان سے ان کے چاچا جان اور چچی جان انگوٹھی، زیورات اور اپنے باقی تحائف کی واپسی کا مطالبہ کررہے تھے مگر سحر کے آنسو تھے کے رھنے کا نام نہیں لے رہے تھے اس کا چاچا اور چاچی اپنا سامان واپس لیکر ہر قسم کا تعلق ختم کرکے اپنے گھر کو روانہ ہوگئے مگر ادھر سحر کے والدین کی عزت مٹی میں مل چکی تھی وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نا رہے تھے –
آج سحر کو کمرے میں بند ہوئے چار دن ہوگئے تھے اور ان چار دنوں میں اس کے ساتھ جسم کی خاطر محبت کرنے والے کا ایک میسج تک اسے موصول نہیں ہوا تھا اور نا ہی وہ اس کی کال پک کررہا تھا اور نا ہی اس کے میسج کا جواب-
اب سحر کے تو آنسو بھی رو رو کر خشک ہو کے تھے مگر شرمندگی اتنی تھی کہ وہ کمرے سے باہر نکلنے سے موت کو گلے لگانا بہتر سمجھ رہی تھی اور پھر اس نے چوتھے دن کی رات غالباً 1 بجے اپنے ہاتھوں خود کو موت کی گھاٹ اتار لیا تھا اور زندگی بھر کی شرمندگی سے آزاد ہوچکی تھی مگر ابھی ایک مرحلہ باقی تھا آخرت کا ہاں آخرت کا ایک مرحلہ-

اپنا تبصرہ بھیجیں