میں مجبور تھی ماں

میں بے بس تھی ماں

سیفی بھائی

ایک سچا واقعہ :
نہیں عائشہ تم نہیں جاسکتی بیٹا میں اب کبھی بھی تمہیں اس کے گھر نہیں جانے دونگی آپ نے بنا بتائے ہوئے پہلے ہی بہت دکھ برداشت کیے ہیں لیکن اب مزید میں تمہیں دکھ برداشت نہیں کرنے دونگی-
عشرت بیگم عائشہ جو کہ ان کی لاڈلی اور حسین ترین بیٹی تھی جس کو انہوں نے ایک ایسے لڑکے کے ساتھ بیاہ دیا تھا جس کی نا تو صورت اچھی تھی اور نہ ہی سیرت ۔
صرف اس کے پاس ایک اچھا مکان تھا اور کچھ بینک بیلنس لیکن اس کے والدین نے شاید اسے کبھی کسی لڑکی کے ساتھ اچھا سلوک کرنا یا بڑوں کا ادب کرنا بالکل بھی نہیں سکھایا تھا- پھر حسین ترین بیوی کی موجودگی میں خود گھر سے دور دوست کو فون کرکے گھر میں شراب دینا بھی اس کا شیوہ تھا عجیب شخص تھا مگر عشرت بیگم کو اس کی دولت نے اندھا کردیا تھا اور وہ اپنی بیٹی کو اس کے ساتھ بیاہنے کو صد فیصد مطمئن تھی یہاں تک کہ سارے خاندان والے اس کے خلاف تھے –
پھر ایک دن ایسا بھی آیا کہ وہ بدصورت اور غلیظ ترین کردار کا مالک شخص برات لیکر عشرت بیگم کے گھر اس کی بیٹی کیلیے پہنچ چکا تھا اس کے ساتھ ایک دو بزرگ اور کچھ چند لفنگے دوست جو ایسے لگ رہے تھے کہ ابھی ابھی نشہ کرکے آئے ہوں باقی اور کوئی نہیں تھا – ادھر عائشہ کی بہن اور دو بھائیوں کے ساتھ ساتھ اس کے والد صاحب بھی بہت افسردہ تھے لیکن عشرت بیگم کی خوشی کی تو کوئی انتہا ہی نہیں تھی وہ تو اپنے ہونے والے داماد کو دیکھ دیکھ کر پھولے نا سما رہی تھی ۔
پھر نکاح ہوا کھانا وغیرہ کھایا ویڈیو بنی اور سب اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے اور عائشہ بھی ساجد کے ساتھ اپنے گھر کو لوٹ گئی یعنی عشرت صاحب کے داماد ساجد صاحب کے ساتھ اس کے گھر کو لوٹ گئی اور اب وہ گھر ہی اس کا گھر تھا –
ولیمہ وغیرہ ہوا سبھی گھروں کو جا چکے اور عشرت بیگم کے گھر میں بھی کچھ رش کم ہوا اور سکون کا سانس لیا –
زندگی اپنے ڈگر پر چلنے لگی کچھ ہی ماہ گزرے تھے کہ عشرت صاحبہ کے داماد صاحب کی حرکات سکنات سامنے آنے لگیں پہلے تو عائشہ برداشت کرتی رہی اور گھر میں کچھ نا بتایا یہاں تک کہ اس کا اپنے دوستوں کے ساتھ اس کی موجودگی میں شراب پینا بھی کسی کو نہیں بتایا –
عائشہ پر نشے کی حالت میں تشدد بھی ہوتا رہا لیکن وہ اپنی ماں کے فیصلے پر سر تسلیم خم کیے ہوئے تھی اس نے کبھی اپنے ماں باپ سے اس کا ذکر تک نا کیا اور سب کچھ چپ چاپ برداشت کرتی رہی –
ایک دن وہ نشہ کرکے عائشہ کو پیٹ رہا تھا کہ اتنے میں عائشہ کا بھائی اپنی بیوی کے ساتھ اس کے گھر پہنچ گیا اور اس کی یہ حرکت دیکھ کر غصے سے بے قابو ہوگیا اور فوراً ہی عائشہ کو لیکر گھر آگیا –
گھر پہنچ کر عائشہ سے وجہ پوچھی تو عائشہ نے سب کچھ حرف بہ حرف اپنی ماں کی موجودگی میں ہی سب کی گوش گزار دیا اور دھاریں مار مار کر رونے لگی اور اپنی ماں کو کوسنے لگی کہ ماں تو نے مجھے کس جہنم میں پھینک دیا، کس جانور کو میرا ہمسفر بنا دیا، ماں میں نے کونسا ایسا گناہ کیا تھا جو مجھے یہ سزا دی وہ روتے ہوئے ماں سے سوال بھی کررہی تھی –
بیٹا بس اب ہم آپ کو اس گھر میں کبھی بھی نہیں بھیجیں گے چاہے جو بھی ہوجائے تم نے بیٹا اتنے ظلم خاموشی سے برداشت کیے بیٹا مجھے معاف کردینا مجھے معاف کردینا اب کی بار عشرت بیگم بھی رو پڑی تھی –
چند دن گزرے تھے کہ ساجد عائشہ کو لینے گھر پہنچ گیا لیکن عشرت بیگم اور عائشہ کے بھائیوں نے اسے ساتھ بھیجنے سے بالکل انکار کردیا اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ ہم اپنا سامان اٹھانے آرہے ہیں اور تجھ سے طلاق کا مطالبہ بھی کرتے ہیں تو طلاق دے دے –
دو سے تین دن بعد وہ سامان لینے گئے مگر یہ کیا اس نے تو سارے سامان کو آگ لگا دی تھی جو کہ جل رہا تھا –
جب عائشہ کے بھائیوں نے یہ دیکھا تو فی الفور آگ بجھانے لگے لیکن اس نے ان کے اور پانی والی جگہ کے درمیان اوپر سے ایک بڑا سا شیشے کا ایک ٹکڑا پھینکا جس کی وجہ سے عائشہ کے دونوں بھائی زخمی بھی ہوئے اور آگ بجھانے میں بھی بہت زیادہ دشواری پیش آئی جس کی وجہ سے بہت زیادہ سامان جل بھی گیا –
سامان وغیرہ لیکر وہ زخمی حالت میں گھر پہنچے اور اس پر مقدمہ درج کروادیا کچھ ہفتے مقدمہ چلنے کہ بعد عائشہ کے حق میں فیصلہ ہوگیا اور اسے طلاق کے ساتھ ساتھ ایک ظالم شخص کے ظلم سے نجات بھی مل گئی –
پھر کچھ ماہ بعد اس کا ایک نہایت ہی سلجھے ہوئے گھر میں رشتہ ہوا اور وہ اس لڑکے کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی بسر کرنے لگی اور ایک سال بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو رحمت سے نوازا یعنی ان کو بیٹی عطاء کی جس کا نام انہوں نے حوریہ رکھا –
اب عشرت بیگم حوریہ کو اپنی گود میں اٹھائے عائشہ سے محو گفتگو تھی اور عائشہ سے کہہ رہی تھی کہ بیٹا کبھی بھی میری غلطی تم نا دھرانا یہ نا ہو کہ تمہاری بیٹی بھی تمہاری طرح بے بس ہوجائے اور چپکے چپکے ظلم سہتے سہتے اس فانی دنیا سے کوچ کر جائے اور تجھے خبر تک نا ہو-

اپنا تبصرہ بھیجیں