ناول : ادھورا عشق ( قسط نمبر 12 )

ناول:: ادھورا عشق

ایم تجمل بیگ

قسط نمبر 12

کچھ دیر خاموشی رہی پھر وہ گویا ہوا
مگر سائرہ سائرہ تم نے میری امیدوں کی کرنیں ختم کردی ۔
سائرہ تم نے ایک ایسے پنچھی کو اس وقت آزاد کردیا جب اسے قفس کی ظالم سلاخوں سے محبت ہوچکی تھی۔
سائرہ تو مجھے بہتے سمندر میں بہایا اس وقت جب میں تیرنا بھی نہیں جانتا ہوں –
سائرہ تم نے ہاں تم نے میرے زخم مندمل ہونے سے پہلے ہی اسے دوبارہ کریدا ہے ۔
سائرہ تو نے میرے اہم ہونے کے وہم کو ختم کردیا –
اب کی بار اشعر شکایتیں کرتا کرتا رو پڑا-
اس سے پہلے کہ اس کی آواز میں ہچکی باندھتی اس نے خود ہی کال کٹ کردی-
اشعر تمہیں مجھ سے اتنی شکایتیں کیونکر کیا میں نے سچ میں تمہیں اتنی زیادہ اذیت سے دوچار کیا ہے؟؟
اشعر کیا سچ میں مجھ سے یہ غلطی سرزد ہوئی ہے جس کی وجہ سے تم اتنے ٹوٹ چکے ہو؟
سائرہ اب سر کو پکڑے آنکھوں سے آنسو بہا رہی تھی –
اس نے دوبارہ اشعر کو کال ملائی مگر کوئی رسپانس نہیں آیا۔
اشعر پلیز کال تو پک کرو پلیز وہ روتے ہوئے اس کا نام لیکر دوبارہ کال کرنے لگی مگر آگے سے فون بیزی کردیا گیا۔
اف خدایا میں یہ کیا کر بیٹھی ہوں سائرہ ندامت کے آنسو بہاتے ہوئے رب سے شکوہ کنا تھی –
اشعر پلیز کال پک کرو میں تمہیں سب کچھ بتاتی ہوں کیوں ایسا ہوا اس میں میری کوئی غلطی نہیں میں بے بس تھی اب پلیز میں تمہیں کال کرتی ہوں کال پک کرو سائرہ نے میسج لکھ کر اشعر کو سینڈ کردیا لیکن دو منٹ گزرنے کو تھے کہ کوئی جواب موصول نہیں ہوا آخر اس نے جواب کا انتظار کیے بنا ہی کال ملا دی اور آنکھیں بند کرکے موبائل کان کو لگا لیا تیسری بیل پر کال پک کر لی گئی –
مگر دوسری جانب خاموشی تھی ۔
ہیلو اشعر؟
جی بولو میں اشعر ہوں آگے سے بھرائی ہوئی آواز آئی———–

تقریباً آدھ گھنٹے کی مسافت طے کرکے وہ بس اسٹینڈ پر پہنچ چکے تھے اور اب گاڑی روک کر حمزہ گاڑی سے سامان نکالنے میں مصروف تھا –
پھوپھو جان آپ کھڑی ہوں میں ٹکٹیں لیکر آیا ۔
حمزہ انہیں گاڑی کے نزدیک ہے کھڑا رہنے کا کہہ کر ٹکٹیں لینے چلا گیا ۔
حمزہ ٹکٹیں لیکر جلد ہی واپس لوٹ آیا اور انہیں اب بس میں بیٹھا کر فی امان اللہ کہتا ہوا گاڑی میں بیٹھ کر واپس گھر کو روانہ ہوچکا تھا –
حمزہ نے جو سفر میمونہ بیگم اور ان کے بچوں کے ہمراہ آدھے گھنٹے میں طے کیا تھا وہی سفر حمزہ سترہ منٹ میں طے کرکے گھر پہنچ چکا تھا اور مہوش کو پانی کا کہہ کر کمرے کی جانب بڑھ گیا –
کچھ ہی لمحوں بعد مہوش پانی کا گلاس لیے اس کے سرہانے کھڑی تھی اس نے مہوش سے پانی کا گلاس پکڑا اور ایک ہی سانس میں گلے میں انڈیل لیا اور اوندھے منہ وہیں لیٹ گیا بنا جوتے اتارے ہوئے۔
مہوش اس کی اس حرکت سے بالکل بھی جوف دہ یا حیران نہیں ہوئی تھی کیونکہ اسے پتی تھا کہ حمزہ ایسا ہی ہے لاپرواہی کرنے والا اور اسے کچھ یاد آیا اور وہ کمرے کا دروازہ بند کرتے ہوئے باہر نکل گئی——-

او شکر ہے خدایا تم نے فون تو اٹھایا –
تم کیوں اتنے خفا ہو مجھ سے،
میری پوری بات تو سن لیتے،بات سنے بغیر ہی آپ نے کیا کچھ سمجھ لیا خود ہی، اور پھر مجھے بھی نا جانے کیا کیا گردانتے رہے –
اچھا چلو بتاؤ کیا بات ہے کس وجہ سے تم نے مجھے ایسے مخاطب کیا تھا وہ کونسی ایسی وجہ تھی جس کی وجہ سے میرے ساتھ تمہارا لہجہ ناگزیر ہوا تھا؟
اشعر نے وجہ جاننی چاہی…….
کیا بتاؤں آج کالج آئی تھی جدھر جاتی تھی ادھر ہی کوئی نہ کوئی روک کر حال چال پوچھنے لگتا تھا دو تین گھنٹے ایسے ہی کبھی اس کو بتاؤ اپنا حال اور کبھی اس کو اور اوپر سے موبائل سعدیہ کے پاس تھے جس کی وجہ سے مجھے مجبوراً ان سب کے جواب دینے پڑ رہے تھے ورنہ اگر موبائل پاس ہوتا تو بندہ کچھ اسے لیکر تھوڑا ٹائم پاس کرلیتا ہے – اور جب موبائل میرے پاس آیا تو تمہارے میسج اتنے زیادہ تھے کہ…………..
بس مجھے غصہ آگیا اور………….
سائرہ نے وضاحت دیتے ہوئے اور سے آگے بات ادھوری ہی چھوڑ دی ۔
اور کیا؟
اشعر نے مزید وضاحت چاہی باوجود اس کے کہ وہ سمجھ چکا تھا ۔
اور میں نے آپ کے ساتھ یہ سب کچھ کردیا –
I’m really sorry please
سائرہ نے مکمل وضاحت دیکر معافی چاہی –
ہاں ایک شرط پر معاف کرونگا اگر منظور ہو تو بتاؤ ورنہ ناراض ہوں میں تجھ سے أشعر شاید مذاق کے موڈ میں آگیا تھا ۔
چلو پہلو بتاؤ شرط کیا ہے؟
پہلے بتاؤ من ور ہے تمہیں شرط؟
أشعر نے مزید تنگ کیا اسے۔
بابا پہلے شرط تو بتاؤ پھر ہی کچھ جواب دونگی۔
سائرہ نے غصہ کے ساتھ مگر نرم لہجے میں کہا-
اچھا تو پکا شرط بتادوں؟
اشعر آج اچانک ہی ایسے ٹریٹ کررہا تھا ورنہ وہ حسب عادت ایسا کچھ بھی نہیں کرتا تھا-
اچھا اب بتاؤ بھی یا میں رو دوں اب؟
سائرہ سچ میں روہانسی سی ہوگئی –
اچھا بابا بتاتا ہوں شرط یہ ہے کہ—————–

جاری ہے————

اپنا تبصرہ بھیجیں