ناول : ادھورا عشق ( قسط نمبر 11 )

ناول :: ادھورا عشق

رائٹر :: ایم تجمل بیگ

قسط نمبر 11

ٹھیک ہے ماما چلو چلتے ہیں احمد نے بے بسی کے ساتھ جواب دیا اور اپنی تیاریاں کرنے لگا جانے کی باوجود اس کے کہ اس کو کوئی بھی تیاری کرنے کی ضرورت نہیں تھی –
نمرہ نے اپنے اور احمد کے کپڑوں کے ساتھ ساتھ میمونہ بیگم کے کپڑے بھی بیگ میں ڈال لیے اور اب مزید ادھر ادھر تکنے لگی کہ کوئی چیز رہ نا جائے ادھر ہماری ورنہ گھر جاکر پریشانی لاحق ہوگی لیکن اسے کچھ بھی نا ملا اس کے سوا جو اس نے بیگ میں ڈال لیا تھا –
پھر وہ اچانک سائرہ کے کمرے کی جانب بڑھ گئی مگر اندر گئے بغیر ہی واپس آگئی شاید اسے یاد آگیا تھا کہ سائرہ آپی تو کالج میں ہے –
ماما تیاری مکمل ہوگئی ہے اب کب نکل رہے ہیں ہم سائرہ نے لان میں آکر آواز لگائی اور شازیہ بیگم کے ساتھ بیٹھی میمونہ بیگم اس کی جانب متوجہ ہوگئی-
جی بیٹا احمد کو بھی تیار کردو پھر نکلتے ہیں شام ڈھلنے سے پہلے پہلے میمونہ بیگم نے وہیں بیٹھے بیٹھے اسے ہدایت دی-
نمرہ احمد کو تیار کرنے مصروف تھی جب حمزہ ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ احمد کدھر کی تیاری ہے اتنا تیار شیار ہوکر کر کدھر کو نکل رہے ہو حمزہ نے فوراً ہی اپنا لہجہ مذاقیہ بنا لیا تھا –
بس ہم جارہے ہیں اپنے گھر آپ تو ہمیں منہ نہیں لگاتے اسی لیے اب یہاں رہنا ہمارے لیے دشوار ہوگیا ہے حمزہ بھائی نمرہ نے پوری طرح سنجیدگی سے جواب دیا اور حمزہ کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگی مگر نمرہ کچھ ہی پل بعد خود ہی ہنس پڑی اور حمزہ سب کچھ سمجھ کر اسے چپت رسید کرتا ہوا اسے اصل بات بتانے کے لیے مجبور کرنے لگا ان تو نمرہ کا کان بھی حمزہ کے ہاتھ میں آگیا تھا اور دوسری طرف احمد بیچارہ سہما ہوا بیٹھا یہ سارا تماشا دیکھ رہا تھا، اچھا بابا بتاتی ہوں پہلے میرا کان تو چھوڑو نمرہ نے التجائیہ لہجہ بناتے ہوئے کہا، حمزہ بھی کان چھوڑ کر سیدھا ہوکر بیٹھ گیا اور اسے وجہ بتانے کا کہنے لگا————–

* * * * * *

مجھے صرف تم ہی تو ضروری نہیں میرے ساتھ اور لوگ بھی اٹیچ ہیں ۔
میری بھی کچھ فیلنگز ہیں ۔
میری بھی دوست ہیں ۔
ان کو وقت دینا بھی میرا فرض ہے ۔
کیوں خوامخوہ مجھ پر رعب جما رہے ہو؟
ایک تم ہی تو ضروری نہیں اور بھی بہت ضروری لوگ ہیں میری زندگی میں –
سائرہ جو پہلے ہی سعدیہ کی حرکتوں سے تنگ تھی وہ اشعر کی شکایتیں پڑھ کر اسے اچھی خاصی سنا بیٹھی تھی مگر مگر اب وہ پچھتا بھی رہی تھی وہ اسی کشمکش میں تھی کہ ایک بار پھر لائف لائن کے میسج کا نوٹیفکیشن اسے ملا

*یوں جو بھول گئے ہو ہمیں*
*مل گیا ہوگا کوئی ہم سے بھی بہتر*

غالب گمان میرا س شعر کی طرز پر ہے اب خود ہی وضاحت فرمادیجئے

*سِسکتی رات میں تیرے خیال کی چادر*
*تیرے فقیر نے کاندھوں پہ ڈال رکھی ہے*
*عقیدتوں کی اِس لازوال نگری میں*
*تُمہارے درد کی دولت سنبھال رکھی ہے*

کچھ اس طرح کا حال بن گیا ہے بنا تیرے ورنہ میں تو کسی کی پرواہ بھی نہیں کرتا تھا اور ایک آپ ہو کہ میسج کا جواب دینا بھی گواہ نہیں کرتی-
اگر دیا ہی دیا ہے تو دل مضطر کو بے بے دردی سے کچل کر رکھ دیا ہے ۔
اگر مجھ سے بھی کوئی بہتر مل گیا ہے یا مجھ سے بات کرنے کو دل نہیں کرتا تو پھر مجھے صاف لفظوں میں بتا دیجئے میں خود ہی آپ کے رستے سے ایک طرف ہوجاؤں گا –
میں تو پتہ نہیں کیا کیا خواب دیکھ چکا تھا تمہارے سنگ مگر مگر تم نے سب خواب عذاب میں بدل ڈالے ۔

*وضاحت کا منتظر :: فقط تمہارا اشعر*

سائرہ اشعر کے میسج پڑھتے پڑھتے روپڑی اور خود کو کوسنے لگی اسے اشعر کے لایک ایک لفظ درد کی لہر اٹھتی ہوئی محسوس ہورہی تھی اسے خوب احساس ہوگیا تھا کے اس کے الفاظ تیر کا کام کرگئے ہیں جس نے اشعر کے دل کو بری طرح زخمی کرکے رکھ دیا ہے لیکن اب اسے اس باتوں کو سوچنے کی ضرورت نہیں تھی بلکہ اس ے ضرورت تھی تو اشعر کے زخموں پر مرہم رکھنے کی اس کے وہموں کو ذائل کرنے کی سو اس نے اشعر کے زخموں کو مندمل کرنے کے لیے اشعر کو ڈرتے ڈرتے کال ملا دی ۔
کچھ دیر کال جاتی رہی پھر کال پک کرلی گئی………….
ہیلو اشعر………
کچھ دیر خاموشی رہی پھر اشعر نے جواباََ اس کا نام لیا سائرہ!
جی بولو میری جان میں سائرہ فقط تمہاری سائرہ۔
سائرہ تم نے کیوں کیا ایسا……..
اشعر کی آواز میں نمی تھی ۔
مطلب؟؟
سائرہ نے وضاحت چاہی——–

* * * * * *

حمزہ بھائی آپ کو تو پتہ ہی بابا کا وہ کتنی جلدی اداس ہوجاتے ہیں ہمارے بنا بس آج صبح ہی ان کی کال آئی تھی اور ان کے حکم کی پیروی کرتے ہوئے ہی ہم گھر جارہے ہیں اپنے ورنہ آپ کو تو پتہ ہی کہ ان کی حکم عدولی کرنا اماں جی کو کس قدر گراں گزرتا ہے –
بس بس اب رلائے گی کیا پگلی حمزہ نے ہاتھ کے اشارے سے نمرہ کو چپ کردیا ورنہ وہ تو اسے پوری رام لیلیٰ سنانے کا ارادہ لیے بیٹھی تھی شاید –
احمد تیار ہوگیا نمرہ؟؟
جی ماما ہوگیا تیار نمرہ نے حمزہ کو سائیڈ پر کرکے اس کے بولوں میں کنگھی کرتے ہوئے جواب دیا –
میمونہ بیگم نے آٹھ کر ایک مرتبہ سارے سامان کا جائزہ لیا اور سامان اٹھا کر باہر لان میں ہی آگئی جہاں شازیہ بیگم کے ساتھ عمران صاحب بھی اب آ بیٹھے تھے جبکہ مہوش اور حمزہ اندر جاکر گیم کھیلنے میں مصروف ہوگئے تھے –
اچھا بھیا اب ہم اجازت چاہیں گے میمونہ بیگم اپنے بھائی سے گلے ملتے ہوئے اجازت طلب کررہی تھی –
اللہ خوش و خرم رکھے آپ کو ہمیشہ میں حمزہ کو کہتا ہوں وہ آپ کو بس اسٹینڈ تک چھوڑ آتا ہے عمران صاحب. نے دعاؤں کے ساتھ ان کی دوا کا بھی انتظام کردیا اور حمزہ کو آواز دیکر پھوپھو کو چھوڑنے کی تلقین کی –
سارے دروازے میں کھڑے انہیں روانہ کررہے تھے اور وہ بھی سب کو گلے مل کر نم آنکھوں کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر حمزہ کے ساتھ بس اسٹینڈ کی طرف روانہ ہوگئے————
* * * * * *
سائرہ میں سمجھتا تھا کہ میں ہی تمہارے لیے سب کچھ ہوں۔
تم میرے بن ادھوری ہو۔
میرا ایک مقام ہے جو تمہارے دل میں گھر کرگیا ہے۔
تمہارا سکون مجھ سے ہے ۔
تمہارے سارے خواب میرے سنگ ہیں ۔
میں تمہارے لیے بارش میں کی گئی پہلی دعا کی مانند ہوں ۔
میں ہی تمہارے لیے دعا ہوں اور میں ہی تمہارے لیے دعا ہوں تمہارے ہر درد کی ۔
میں ایک راز ہوں جسے تم نے دل میں چھپا رکھا ہے ۔
میں سمجھتا تھا کہ میں تمہاری شاموں کی رونق ہوں ۔
تمہارے خوابوں کی تعبیر ہوں ۔
کسی ریگستان میں پیاسے کو پانی کی طرح میں اہم ہوں تمہارے لیے –
مگر سائرہ……………….

اپنا تبصرہ بھیجیں