ناول : ادھورا عشق ( قسط نمبر 10 )

ناول:: ادھورا عشق

رائٹر:: ایم تجمل بیگ

قسط نمبر 10

سائرہ بیٹا کیا ہوا تھا آپ کا ایکسیڈنٹ کیسے ہوا؟
بس پھوپھو جی ہمیں خود پتہ نہیں چلا مجھے تو ہوش بھی ہسپتال میں ہی جاکر آئی تھی اور آنکھیں کھولتے ہی میں نے سفید کپڑوں میں ملبوس دو نرسوں کو دیکھا تھا میں تو سمجھی تھی کہ شاید یہ فرشتے ہیں جو مجھ سے حساب لینے آئے ہیں لیکن جلد ہی مجھے معلوم ہوگیا کہ ہم ہسپتال میں ہیں سائرہ نے مزاحیہ انداز میں چٹکلا چھوڑا اور ناشتہ کرنے والے سب اب ہنسنے میں مصروف تھے-

چل بس کر یار سائرہ کہ پہلی دفعہ دیکھا ہے ناشتہ سعدیہ نے خود چھوتے بریڈ کو جیم لگاتے ہوئے کہا……
چڑیل کہیں کہ تو خود دسواں بریڈ ٹھوس رہی ہے اور مجھے تیسرے پہ ہی ٹوک رہی ہو سائرہ نے اینٹ کا جواب پتھر سے دیتے ہوئے کہا۔
سعدیہ چوتھے بریڈ کا آخری لقمہ بھی منہ میں ٹھوس کر اٹھ کھڑی ہوئی اور بیگ اٹھا کر سائرہ کو بازو سے پکڑا اور اٹھا کر شازیہ بیگم اور عمران صاحب سے پیار لیتے ہوئے کالج کو چل دی——–

جی بھائی صاحب اب ہم بھی چلتے ہیں جمال صاحب اداس ہوتے ہونگے اب تین دن ہونے کو ہیں ان سے جدا ہوئے میمونہ بیگم نے ناشتہ سے فارغ ہوکر عمران صاحب سے اجازت طلب کی تھی –

جی جیسے آپ کو مناسب لگے عمران صاحب نے بھی خوشی سے اجازت دے دی-

نمرہ بیٹا بیگ تیار کر لو اپنا سامان وغیرہ سمیٹ لو ہم جا رہے ہیں۔
کدھر ماما ہم کہاں جارہے ہیں احمد نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا، بیٹا ہم اپنے گھر جاتے ہیں آپ کے بابا کا فون بھی آیا تھا وہ بہت اداس ہوچکے ہیں میمونہ بیگم نے احمد کی گال کو تھپتھپاتے ہوئے جواب دیا-
لیکن مما ابھی تو رہنے کا مزہ آئے گا کیونکہ سائرہ آپی رات ہی کو لوٹی ہے اور آپ تو جانتی ہی ہیں سائرہ آپی مجھے کتنی اچھی لگتی ہیں احمد نے اداس ہوتے ہوئے کہا –
لیکن بیٹا اب ہمیں جانا ضروری ہے پھر کبھی آجائیں گے گھبراؤ نہیں میمونہ بیگم نے احمد کو تسلی دی———–

سائرہ اور سعدیہ پندرہ منٹ کی مسافت طے کرکے کالج پہنچ چکی تھیں ۔
السلام علیکم چاچا جی…….
سائرہ اور سعدیہ نے کالج کے گیٹ پر بیٹھے چوکیدار کو سلام کیا۔
وعلیکم السلام بیٹی جیتی رہو اللہ آپ کو خوش رکھے….
رفیق چوکیدار جس کی عمر غالباً 55 سال کے قریب تھی سلام کے جواب کے ساتھ ساتھ انہیں دعاؤں سے بھی نوازا اور وہ دعائیں لیتی ہوئی کلاس کی جانب بڑھ گئیں –

How are you Saira?
How are you Saira?
How are you Saira?

سائرہ کے کلاس میں داخل ہوتے ہی اس کے کانوں میں دو تین آوازیں How are you Saira کی ٹکڑائیں تھیں.

I am fine and you?

سائرہ نے خوش دلی سے جواب دیتے ہوئے ان سے بھی حال احوال پوچھا اتنے میں تبسم میم کلاس میں داخل ہوئی اور سب لڑکیاں خاموشی سے آٹھ کر کھڑی ہوگئی سائرہ اور سعدیہ بھی جلد از جلد اپنی جگہ پر جا پہنچی اور جاکر کھڑی ہوگئیں –

Sit down students

تبسم میم نے انہیں بیٹھنے کی ہدایت کی اور سائرہ کو اپنے پاس بلا لیا…….
سائرہ آپ کی چوٹ کیسی ہے؟
جی میم اب الحمد للہ کافی بہتر ہے بلکہ ٹھیک ہونے کو ہے سائرہ نے جواب دیا ۔
اچھا ماشاء اللہ
اللہ پاک جلد از جلد صحت یاب فرمائے آپ کو، تبسم میم نے دعائیں دیں ۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین سائرہ نے بھی ان کی دعاؤں پر آمین کہا اور اپنی جگہ پر آکر بیٹھ گئی….

کلاس ختم ہوئی اور سعدیہ سائرہ کو لیکر کنٹین کی جانب چل پڑی……..
سعدیہ میرا موبائل تھا تیرے پاس سائرہ کو جیسے کچھ یاد آیا تھا اور اس نے اپنا موبائل دیکھنا چاہا تھا لیکن اس کے پاس موجود نہیں تھا۔
جی میرے پاس ہی ہے لیکن پہلے مجھے ایک بات بتاؤ یہ “لائف لائن” کون ہے؟؟
سعدیہ یار دے دو مجھے ضروری کام ہے پلیز سائرہ نے التجا کی ۔
ہاں مجھے پتہ ہے کہ لائف لائن کو جواب دینا ہے لیکن پہلے بتاؤ یہ کون ہے پھر دونگی موبائل سائرہ کو تنگ کرتے ہوئے سعدیہ نے اسے موبائل دکھا کر دوبارہ اپنے پیچھے چھپا لیا تھا –

یار یہ وہ ہے سائرہ نے اس سے آگے کچھ بھی نہیں کہا….
کون وہ؟؟
سعدیہ نے جواب چاہا…..
یار وہی سائرہ نے پھر بات ادھوری ہی چھوڑ دی…….
وہی کون اس کا کوئی نام وغیرہ بھی اس کے گھر والوں نے رکھا ہی ہوگا کہ نہیں اس کا نام بتاؤ سائرہ چڑ کر کہنے لگی…….
ہاں نام تو ہے اس کا مگر مجھے شرم آتی ہے یار تم خود ہی سمجھ جاؤ نا اب ہر بات جو دل میں زبان پہ آسکتی نہیں سائرہ نے ایک بار پھر نام بتانے سے گریز کیا تھا……..
نہیں آج تم اپنی زبان مبارک سے اس کا نام پکارو گی سائرہ ورنہ میں تجھ سے ناراض ہوں سعدیہ نے اس کا موبائل میز پر رکھتے ہوئے کہا۔

سائرہ نے موقع غنیمت جانتے ہوئے جیسے ہی موبائل اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو سعدیہ نے پھر جلدی سے موبائل اٹھا لیا اور نام بتانے کی شرط رکھی موبائل واپسی کی –

یار تم بہت ضدی ہو سعدیہ قسم سے سائرہ نے خفگی سے کہا.
یار وہ ڈاکٹر نہیں تھا کشمیر کے ہسپتال میں سائرہ اتنا کہہ کر خاموش ہوگئی…
کون وہ جس کا نام شاید ڈاکٹر ناصر تھا وہ والا چالیس سال کا سعدیہ نے تو گویا اسے تنگ کرنے کا پورا منصوبہ تیار کیا ہوا تھا۔

نہیں یار وہ دوسرے والا سائرہ نے پھر بات کو ادھورا ہی رکھا تھا ۔

کونسا؟؟
کہیں ڈاکٹر اشعر تو نہیں وہ شرابی آنکھوں والا لمبے لمبے بالوں والا خوبصورت سا ڈاکٹر اشعر سائرہ نے اب اس کا پورا نقشہ کھینچ کر سائرہ کے سامنے رکھتے ہوئے کہا ۔

اب کی بار سائرہ کچھ شرما سی گئی تھی اور نظریں نیچے کر کے مسکرانے لگی تھی ۔
اچھا جی اب محترمہ کو شرم آرہی ہے سائرہ نے مزید ماحول کو خوشگوار کرنا چاہا مگر سائرہ وہاں سے اٹھ کر لائیبریری میں چلی آئی اور آکر مختلف کتابوں کو ٹٹولنے لگی اتنے میں سعدیہ بھی پہنچ گئی اور اس کو موبائل دیتے ہوئے معذرت کے ساتھ ساتھ اسے بتایا کہ لائف لائن یعنی اشعر صاحب کے صبح سے ستر میسج آچکے ہیں اس بھی جواب دے دو ۔

سائرہ نے لپک کر موبائل پکڑا اور اوپن کرتے ہی میسج باکس کو کھول لیا اور سچ میں 70 ستر میسج دیکھ کر حیران رہ گئی اور سب سے پہلے گڈ مارننگ کے جواب میں گڈ مارننگ کا ریپلائی دیا اور پھر کچھ سوچنے لگی ابھی سوچوں میں گم ہی تھی کہ میسج کا نوٹیفکیشن موبائل پر جگمگانے لگا سائرہ نے اوپن کیا تو سامنے لائف لائن کی طرف سے کچھ شکایتیں درج تھیں…..

جاری ہے…..

اپنا تبصرہ بھیجیں