ناول : ادھورا عشق ( قسط نمبر 9 )

ناول :: ادھورا عشق

رائٹر :: ایم تجمل بیگ

قسط نمبر 9

عمران صاحب کی طرف دیکھ کر شازیہ بیگم بھی فلفور سائرہ کی جانب بڑھی تھیں –

سائرہ بیٹا کیا ہوا یہ؟؟
سر پر پٹی کیونکر؟؟
کیا حادثہ ہوا ہے؟؟
کب ہوا ہے حادثہ؟؟
عمران صاحب پے در پے سوال کیے جارہے تھے –

شازیہ بیگم نے انہیں تسلی دیتے ہوئے کمرے کی جانب بھیج دیا اور سائرہ کا بازو پیار سے تھام کر اسے بھی ساتھ لیکر عمران صاحب کے پیچھے ہی ان کے کمرے کی جانب چل پڑی-

اب عمران صاحب کے کمرے میں شازیہ بیگم اور سائرہ کے علاوہ میمونہ بیگم، مہوش، حمزہ، نمرہ اور احمد بھی موجود تھے –

آپ پانی پیے پہلے شازیہ بیگم نے عمران صاحب کو گلاس تھماتے ہوئے کہا – عمران صاحب نے پانی کا گلاس پکڑا اور ایک ہی سانس میں گھٹ گھٹ کر کے پی گئے-

بیٹا بتاؤ آپ کے سر پر چوٹ کیسے آئی عمران صاحب نے شفقت سے سائرہ کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس سے پوچھا، پاپا وہ پکنک پر جاتے ہوئے ہمارا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا جس کی وجہ سے یہ ہلکی سی چوٹ آئی ہے اور میں اب الحمد للہ کافی بہتر ہوں سائرہ نے وضاحت کی – تو بیٹا آپ نے ہمیں اطلاع کیوں نہیں دی؟؟

پاپا میں آپ کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی ایک تو آپ پاکستان میں نہیں تھے اور اوپر سے میں اپنے متعلق آپ کو کچھ بتا دیتی تو آپ بہت زیادہ پریشان ہوجاتے سائرہ نے نظریں جھکائے ہوئے ہی اس سوال کا بھی جواب دیا –

شازیہ بیگم جاؤ ہماری بیٹی کے لیے کھانا لاؤ اور اس کے ساتھ ساتھ دودھ بھی لاؤ گرم کر کے ان شاء اللہ ہماری بیٹی بہت جلد ٹھیک ہوجائے گی عمران صاحب نے سر کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔

پاپا میں اب تھوڑا آرام کرنا چاہتی ہوں اگر اجازت ہو تو…..
سائرہ نے دودھ وغیرہ پینے کے بعد اپنے بابا سے اجازت چاہی تھی –
جی ضرور بیٹا آپ جاسکتی ہیں اپنے کمرے میں عمران صاحب نے بھی خوش دلی سے اجازت دیتے ہوئے کہا———

*****

ہیلو اشعر؟؟
سائرہ نے کمرے میں آتے ہی اشعر کو میسج کیا تھا ابھی وہ میسج کرکے موبائل رکھنے کو ہی تھی کہ اسے بھی ایک میسج موصول ہوا، سائرہ نے میسج اوپن کیا تو سامنے “جی مس سائرہ” لکھا جگمگا رہا تھا –

سائرہ کا دل خوشی سے لبریز ہوگیا اور اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ خوشی کے ساتھ زور زور سے چیخے مگر رات کے اس پہر اسے ایسا کرنا مناسب نا لگا اور وہ خاموشی سے ہی replay دینے لگی-

کون مس سائرہ؟؟
سائرہ نے ریپلائی دیا –
وہ پریوں کے دیس کی ملکہ جیسی، غزالی آنکھوں جیسی، خوابوں کی تعبیر جیسی، خزاں کی رتوں میں بہاروں جیسی، تازہ گلاب کی پتیوں جیسی، پھولوں پہ بیٹھی تتلیوں جیسی،
کلیوں جیسی معصوم کلیوں جیسی، ساون کی پہلی بارش جیسی، سردی کی پہلی دھوپ جیسی، اور تو اور وہ میری مراد جیسی سائرہ –

اشعر نے تو گویا پوری غزل لکھ کر بھیج دی، اب پتہ چل گیا ہوگا کون مس سائرہ………
اشعر نے بھی ریپلائی دیا –

اشعر تم بھی نا پتہ نہیں کیا کیا کہتے رہتے ہو سائرہ نے واپس میسج بھیجا –

اچھا بتاؤ گھر پہنچ گئی ہو؟
گھر والے کیسے ہیں؟
اور آپ کی طبیعت کیسی ہے؟
اشعر نے میسج پر ہی سائرہ سے کافی سوال پوچھ لیے تھے –

جی الحمد للہ سب بہتر ہیں میری طبیعت میں بھی پہلے سے کافی زیادہ بہتری رونما ہوئی ہے –

چلو اشعر اب مجھے نیند تنگ کررہی ہے اور سر میں درد بھی شروع ہوگیا ہے صبح بات کرتے ہیں اوکے اللہ حافظ اینڈ گڈ نائٹ………
سائرہ نے لاسٹ میسج کیا اور موبائل سائیلنٹ پر لگا کر سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور منہ پر کمبل اوڑھ کر آنکھیں موند لیں——

*****

سائرہ چل اٹھ جلدی کر یار کیسے مزے سے سوئی ہوئی ہے تو اور ادھر میم نے کالیں کرکرکے میرے کان کھا لیے ہیں سعدیہ نے سائرہسے کمبل کھینچ اس کو جنجھوڑتے ہوئے کہا-

کیا مصیبت ہے یار سعدیہ سکوں سے سونے تو دو اتنے دنوں بعد تو اتنی اچھی نیند آئی ہے سائرہ نے دوبارہ کمبل منہ پر اوڑھتے ہوئے کہا، نہیں اب میں نہیں سونے دونگی چل جلدی اٹھ جا سعدیہ نے دوبارہ کمبل کھینچے ہوئے کہا–

سائرہ آنکھیں ملتے ہوئے آٹھ بیٹھی اور موبائل اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھا دیا لیکن سعدیہ نے موبائل جھٹ سے اٹھا لیا اور سائرہ کو بازو سے پکڑ کر واش روم تک چھوڑ آئی اور خود آکر سائرہ کا موبائل دیکھنے لگی-

سائرہ کتنی ظالم ہو یار تم بھی، سائرہ جو پندرہ منٹ بعد ابھی ابھی واش روم سے فریش ہوکر نکلی ہی تھی کہ سعدیہ کی بات سن کر وہی ٹھٹک کر رک گئی _
کیا مطلب میں نے کونسا تجھے قتل کردیا ہے یا تمہاری زمین پر قبضہ کرلیا ہے ہاں بتاؤ کیا ظلم کیا ہے تجھ پر سائرہ نے اپنے بال تولیے کے ساتھ سکھاتے ہوئے جواب دیا –

میرے ساتھ تو نہیں خیر مگر اس کے ساتھ بہت ظلم کیا ہے تو نے سعدیہ نے موبائل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا،
کیا مطلب کس کے ساتھ سائرہ نے وضاحت چاہی؟
کوئی ہے اس میں life Line کا نام سے سیو——-
اس کے ہی کوئی 36 کے قریب میسج آئے ہوئے ہیں اور ابھی تک تجھے خبر بھی نہیں-
سعدیہ تو نے میسج کیوں دیکھے سائرہ نے سعدیہ سے اپنا موبائل چھینتے ہوئے کہا-
یار سائرہ میں نے تو بس گیم کھیلنے کے لیے لیا تھا مجھے کیا پتا تھا کہ میم سائرہ صاحبہ بھی کسی کو “لائف لائن” کا نام دے چکی ہیں –

ویسے یہ ہے کون لائف لائن؟؟

بس ایک دوست ہی ہے عام سا اور تو کچھ نہیں سائرہ نے جھجھکتے ہوئے جواب دیا –
اچھا کبھی ہماری بھی بات کروا دو اپنے عام سے دوست سے سعدیہ اب سائرہ کو تنگ کرنے لگی تھی-

سعدیہ؟؟ سعدیہ کے کانوں میں ایک آواز پڑی تھی۔
جی آنٹی سعدیہ نے وہیں بیٹھے بیٹھے شازیہ بیگم کو جواب دیا ۔
بیٹا ناشتہ تیار ہوگیا ہے سائرہ کو لیکر آجاؤ جلدی ورنہ ٹھنڈا ہوگیا تو خود گرم کرنا پڑے گا دوبارہ آپ کو-

چل سائرہ یار میرے تو پیٹ میں چوہے بھاگ رہے ہیں گھر سے نکلتے وقت ناشتہ بھی نہیں کیا تیری فکر میں سعدیہ نے مچلتے ہوئے سائرہ کو شیشے کے سامنے سے اٹھایا ۔

دو منٹ ویٹ کرو اور پیٹ کی پجاری سائرہ نے بازو چھڑواتے ہوئے کہا-
اب وہ سب بیٹھے ناشتہ کررہے تھے کہ میمونہ بیگم نے سائرہ سے تفتیش شروع کردی ۔

جاری ہے—–

اپنا تبصرہ بھیجیں