ناول : ادھورا عشق ( قسط نمبر 8 )

ناول :: ادھورا عشق

رائٹر :: ایم تجمل بیگ

قسط نمبر 8

ماما بیٹھیں پھوپھو جی آپ بھی بیٹھیں حمزہ نے گاڑی کا شیشہ نیچے کرتے ہوئے کہا –
مہوش بیٹا احمد کو بھی بھیج دو باہر وہ بھی ہمارے ساتھ ہی جائے گا اور آپ اپنی پیاری سی کزن کے ساتھ گھر میں ہی مقیم رہیں گی اوکے شازیہ بیگم نے اپنی بات کی تائید چاہی تھی- جی ماما ٹھیک ہے مہوش نے پھولے ہوئے منہ کے ساتھ جواب دیا –
مہوش اب ہم چلتے ہیں پاپا کو لینے اور آپ گھر کا اچھے سے خیال رکھنا حمزہ نے چڑانے والے انداز میں مہوش کو کہا اور گاڑی آگے بڑھا دی-
بیٹا تم کیوں اپنی بہنا کو تنگ کرتے رہتے ہو ہر وقت وہ ابھی بچی ہے اسے زیادہ تنگ نا کیا کرو ورنہ وہ بہت زیادہ چڑچڑی ہوجائے گی میمونہ بیگم نے حمزہ کو سمجھاتے ہوئے کہا – جی بس ویسے ہی پھوپھو جی اسے تنگ کرنے کا مزہ بہت آتا ہے میں تو بس کچھ دیر فریش ہونے کے لیے اسے تنگ کرتا ہوں ورنہ میری تو جان بستی ہے اپنی پیاری سی بہنا میں – میں تو اسے ایک کانٹا بھی نہیں چبھنے دینا چاہتا، میرے بس میں ہو تو میں ساری خوشیاں اپنی بہنا کے نام کردوں حمزہ گاڑی چلاتے چلاتے اموشنل ہوگیا تھا شازیہ بیگم اور میمونہ بیگم ایک دوسرے کی جانب حیرانگی کے ساتھ دیکھ رہی تھی انہیں ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے حمزہ ایک دم ب٤ ہوگیا ہو اور ساری ذمہ داری اس پر آ پڑی ہو – باتوں ہی باتوں میں انہیں پتہ ہی نا چلا کہ کب ائرپورٹ آگیا اب وہ گاڑی پارک کرکے اترے ہی تھے کہ سامنے سے عمران صاحب آتے ہوئے دکھائی دئیے –
ماما وہ رہے پاپا حمزہ نے اپنی ماما کو مطلع کیا جو ابھی تک میمونہ بیگم سے محو گفتگو تھیں –
کچھ ہی دیر میں عمران صاحب ان کے پاس موجود تھے اور حمزہ اپنے بابا کے گلے لگا شکوہ کررہا تھا پاپا میں نے آپ کو بہت مس کیا میرا دل نہیں لگتا تھا آپ کے بغیر حمزہ اور بھی نا جانے کیا کچھ کہتا کہ شازیہ بیگم نے اسے یہ کہتے ہوئے روک دیا کہ اب بس بھی کرو ہمیں بھی ملنے دو باقی گلے شکوے گھر جاکر کرینا خوب اور حمزہ اپنے بابا سے علیحدہ ہوکر سامان کو گاڑی کی ڈگی میں رکھنے لگا – بیٹا خیال کرنا اس میں کچھ حساس چیزیں بھی ہیں ان کا خیال کرنا ورنہ نقصان کے ذمہ دار آپ خود ہونگے عمران صاحب نے حمزہ کو مسکراتے ہوئے ہدایت سے نوازا –
چلیں پاپا آپ ڈرائیو کریں اب حمزہ نے کہا………
نہیں بیٹا میں تھکا ہوا ہوں آپ ہی کرو ڈرائیو عمران صاحب نے معذرت چاہتے ہوئے حمزہ کو حکم دیا اور حمزہ گاڑی کو ڈرائیو کرتا ہوا اپنے کنبے کے ساتھ گھر کی اوڑھ بڑھنے لگا————

سائرہ وہ دیکھو کتنے خوبصورت پھول ہیں شاید وہ ہمارے لیے ہی کھلیں ہیں آپ یہیں ٹھہرو میں لیکر آیا اشعر پھولوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے سائرہ کی مخملی انگلیوں سے اپنی انگلیاں جدا کرتے ہوئے پھولوں کی جانب بڑھ گیا –
آدھا گھنٹہ ہونے کو تھا لیکن اشعر کی کوئی خبر نا تھی سائرہ پریشان سی کھڑی دور کہیں پھولوں کو گھوڑے رہی تھی کہ اچانک جنگل کی ایک جانب سے اسے اشعر کی آواز سنائی دی اور وہ اس جانب دیوانہ وار بھاگنے لگی کیا دیکھتی ہے کہ سامنے ایک کھائی میں گرتا ہوا اشعر اسے ہی پکار رہا تھا –
اشعررررررررر سائرہ زور سے چلاتی ہوئی اچانک اٹھ بیٹھی اور اپنی دائیں بائیں ایسے جھانکنے لگی جیسے اس کی قریب ہی کوئی کھائی ہو اور اشعر اس میں گرتے ہوئے اسے پکار رہا ہو –
سائرہ کی آواز سن کر باہر اشعر بھاگتے ہوئے کمرے میں آیا تھا اور صورتحال کا جائزہ لینے لگا-
مس سائرہ خیریت ہے کیوں اتنی زور سے چلا رہی تھی آپ؟؟ کیا کوئی ڈراؤنہ خواب دیکھا تھا یا پھر کوئی چھپکلی وغیرہ نے حملہ کردیا تھا اب کی بار آخری جملہ کہتے ہوئے اشعر کی آواز میں مذاق کی ایک لہر تھی –
سائرہ نے اشعر کو غور سے دیکھا اور شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ بس کچھ نہیں ایک ڈراؤنہ خواب تھا جس کی وجہ سے اچانک چیخ نکل گئی سائرہ نے وضاحت کی-
اوہ اچھا چلو اب اٹھ گئی ہو تو تیاری کرلو باہر آپ کے ہمسفر آپ کے انتظار میں ہیں اشعر اس کو باہر والوں کے حالات کے متعلق واضح کرکے خود بھی کمرے سے نکل گیا اور سائرہ بھی اٹھ کر گھر جانے کی تیاری کرنے لگی-
کچھ لمحے بعد وہ تیار ہوکر اپنی میم اور اپنی سہیلیوں کے ساتھ بس وین میں سوار ہوچکی تھی اور بس اب پھر اسلام آباد کی جانب رواں دواں تھی———–

حمزہ نے گھر کے سامنے گاڑی روکی اور نیچے اتر کر سب سے پہلے ڈگی کی جانب بڑھا جس میں اس کی مطلوبہ چیز آرام فرما تھی –
حمزہ گاڑی میں سے سامان ابھی نکال ہی رہا تھا کہ مہوش بھی اپنی کزن کے ساتھ گاڑی کی آواز سن کر باہر آ کی تھی اور آتے ہی اپنے بابا سے لپٹ گئی تھی –
عمران صاحب بچوں سے ملکر گھر کو ہولیے –
شازیہ بیگم جلدی سے کھانا لگاؤ بہت بھوک لگی ہوئی ہے عمران صاحب شازیہ بیگم کو کھانے کا حکم دے کر خود فریش ہونے کے لیے واش روم کی اوڑھ بڑھ گئے-
تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی انتھک محنت کے بعد شازیہ بیگم اور میمونہ بیگم مختلف نوع کے کھانے تیار کرنے میں کامیاب ہوہی گئیں اور ان کا ہاتھ بٹانے میں نمرہ اور مہوش نے بھی خوب کردار ادا کیا –
دو گھنٹوں کے بعد اب سارے ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھے کھانے کے ساتھ ساتھ احمد کی شرارتوں اور حمزہ کا مہوش کو تنگ کرنا ان سب سے بھی لطف اندوز ہورہے تھے-
شازیہ بیگم کھانے کے بعد چائے کا بھی انتظام ہے یا صرف یہ چار پانچ قسم کے کھانوں سے ہی ہمیں بہلانے کا ارادہ ہے عمران صاحب نے بھی حمزہ کے ساتھ خود کو شرارت کرنے پر آمادہ کرتے ہوئے شازیہ بیگم کو تنگ کیا –
ہاں ہاں چائے کا بھی انتظام ہے مجھے معلوم ہے کہ چائے کے بغیر آپ کو روٹی ہضم ہی کہاں ہوتی ہے شازیہ بیگم نے کہا-
چلو مہوش برتن اٹھاؤ نمرہ کو بھی ساتھ لے لو شازیہ بیگم نے حکم صادر کیا، جی ماما اٹھاتی ہوں مہوش اچھے بچوں کی طرح فوراً اٹھ کھڑی ہوئی اور چند ہی منٹوں میں سارے برتن اٹھا کر سنک میں رکھ دیے اتنے میں شازیہ بیگم چائے کی ٹرے اٹھائے پہنچ گئی اور ایک بار پھر سب چائے سے لطف اندوز ہونے لگے –
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ………….!!
دروازے کی بیل کی ساتھ ساتھ کسی کی آواز بھی ان کے کانوں میں پڑی تھی –
جی وعلیکم السلام جیسے ہی عمران صاحب نے چائے کے کپ سے نظر ہٹا کر دروازے کی جانب دیکھا تو سائرہ کے سر پر پٹی دیکھ کر ان کے ہاتھ میں پکڑا چائے کا کپ زمین پر جا پڑا اور وہ دیوانہ وار سائرہ کی جانب لپک پڑے۔

جاری ہے……

اپنا تبصرہ بھیجیں