ناول : ادھورا عشق (قسط نمبر 7)

ناول : ادھورا عشق

رائٹر : ایم تجمل بیگ

قسط نمبر 7

چلو بیٹا اٹھو شاباش جلدی کرو فریش ہوجاؤ نماز کے فوراً بعد ہم ایئر پورٹ کی جانب روانہ ہوجائیں گے تمہارے پاپا کو پک کرنے کے لیے شازیہ بیگم حمزہ کے بعد مہوش کو اٹھا کر حمزہ کی پھوپھو میمونہ بیگم کے پاس جاکر بیٹھی گئی-
حمزہ اور مہوش اٹھ کر نہا دھو کر فریش ہوگئے اور لان میں بیٹھیں ہوئی شازیہ بیگم اور میمونہ کے پاس آگئے..
ماما ہم ریڈی ہیں آپ بھی تیار ہوجائیں تاکہ ہم وقت پر پہنچ جائے ورنہ پاپا وہاں ہمارا ویٹ کرتے رہینگے حمزہ نے شازیہ بیگم جو میمونہ بیگم سے محو گفتگو تھی ان سے کہا-
اچھا بیٹا میں جب تک تیار ہوتی ہوں تب تک تم نماز مغرب ادا کر آؤ اور مہوش تم بھی گھر میں ہی نماز ادا کرلو شازیہ بیگم حمزہ اور مہوش کو نماز کی تلقین کرکے خود نہانے کے لیے غسل خانے کی اوڑھ بڑھ گئی اور پاس بیٹھی ہوئی میمونہ بیگم بھی نماز کی تیاری کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی——

سائرہ اشعر کا ہاتھ تھامے ایک نہایت خوشگوار اور ہرے بھرے جنگل سے نکل کر اب کسی انجانی شاہراہ پر چل رہی تھی –
وہ نہیں جانتی تھی کہ اس نے اشعر کا ہاتھ کیوں تھاما ہوا ہے اور اس کا ہاتھ تھام کر وہ ڈگر پر چل رہی ہے –
لیکن اشعر کا ہاتھ تھامے وہ محسوس کررہی تھی کہ جیسے ساری کائنات سمٹ کر اس کے ہاتھ میں آگئی ہو، جیسے ہر چیز ان کے ایک ہونے سے خوشی منارہی ہو –
چرند پرند ٹھہر کر انہیں دیکھ رہیں ہوں –
وہ سب سے بے خبر یا پھر جانتے ہوئے بھی کہ سب لوگ انہیں پر نظریں جمائے بیٹھیں ہیں پھر بھی وہ ان دنیا والوں سے بے خبر اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھے-
چلتے چلتے وہ اب جنگل سے نکل کر سڑک کے پار دوسری جانب اب پہاڑوں پر پہنچ چکے تھے –
پہاڑوں میں اونچے نیچے ڈھلوانوں کی صورت رستوں پر سفر کرتے ہوئے اس نے اشعر کا ہاتھ کھونے کہ ڈر سے مضبوطی سے تھاما ہوا تھا –
اشعر تم بھی میرے ساتھ انہیں پہاڑوں کی طرح کھڑے ہوجانا…!!
ان کی طرح ہر موسم چاہے وہ بہار میں خوشیوں کا موسم ہو یا خزاں میں پت جڑ کا موسم ہر حال میں مجھ سے کیے ہوئے وعدوں کی پاسداری رکھنا –
یقیناً تم میرے ساتھ ان پہاڑوں سے بھی زیادہ ثابت قدمی کا مظاہرہ کرو گے سائرہ نے خود ہی سوال کرکے خود ہی جواب دے دیا تھا-
اشعر اشعر وہ دیکھو کتنی خوبصورت جھیل ہے چلو نا وہاں جاتے ہیں –
ادھر بیٹھ کر اپنے دل کی باتیں بہتے پانی کے ساتھ ایک دوسرے کی نظر کرتے ہیں –
نفرتوں کے بیج اکھاڑ پھینکتے ہیں محبتوں کی نئی بنیاد رکھتے ہیں –
سائرہ ایک بات کہوں؟؟؟
أشعر سارے سفر میں پہلی دفعہ سائرہ سے مخاطب ہوا تھا اور وہ بھی ایک سوال انداز میں…..
جی جی ضرور حکم کریں میرے ہمنوا، سائرہ تھوڑا شوخ لہجے سے بولی-
سائرہ……………………………..وہ سائرہ کا نام لیکر آسمان کی طرف گھرانے لگا جیسے اوپر سے اسے کوئی الہام ہونا ہو اور اس کے بعد اس نے بات شروع کرنی ہو…..
پھر آسمان کی طرف ہی دیکھتے ہوئے اس نے کہنا شروع کیا کہ سائرہ اگر کبھی زندگی میں آپ کو محبت’ عزت ‘ قدر’ میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کرنا پڑے تو قدر کا انتخاب کیجئے۔ قدر کی بہتات آپ کو محبت اور عزت سے بھی سیراب کردے گی! اور آپ کی زندگی میں چاشنی جیسی مٹھاس بھر دے گی – بغیر عزت و قدر کے محبت کی کوئی حیثیت نہیں۔بغیر عزت اور قدر کے محبت ایک کانٹے دار درخت کی طرح ہے جو صرف جلانے اور نقصان پہنچانے کے کام آتا ہے-
اگر آپ قدر کا انتخاب کرو گے تو آپ کی محبت بھی لازوال ہوگی لیکن اس کے برعکس اگر آپ محبت کا انتخاب کرو گے تو پھر بغیر قدر کے محبت ایک خالی درخت کی مانند ہوگی –
ایک ایسا درخت جس پر موسم بہار میں کئی پرندے اپنا آشیانہ بناتے ہیں لیکن خزاں آتے ہی جب اس درخت کے پتے جھڑتے ہیں تو پرندے بھی وہاں سے کوچ کرجاتے ہیں –
اور محبت بھی بغیر قدر کے خزاں میں سوکھے ہوئے درخت کی ہی مانند ہے –
اگر اس رشتے میں قدر نا ہو تو پھر محبت بھی کوچ کرجاتی ہے-
اشعر اپنی بات کہہ کر آسمان سے نظر ہٹا کر اب پانی میں چھوٹے چھوٹے کینکر مارنے لگا-
اچھا ٹھیک ہے میں اب سے ہی قدر کا انتخاب کرتی ہوں – آپ میرے لیے سب سے زیادہ محترم ہو، آپ کی قدر کرنا مجھ پر واجب ہے اور میں اپنے اس عہد کو لحد میں اترنے تک نبھاؤں گی-
لیکن اس سے پہلے تم بھی میرے ساتھ ایک وعدہ کرو، ایک عہد کرو، اس خوبصورت جھیل میں تیرتی ہوئی مچھلیوں آسمان پر اٹھکھیلیاں کرتے بادلوں، روح تک اترتی ہوئی یخ ٹھنڈی ہواؤں، پہاڑوں کی خامشی، ڈوبتے ہوئے سورج، اپنے گھروں کو رواں دواں پرندوں اور (اللہ وحدہ لا شریک) کو گواہ بنا کر کہو کہ تم مجھے کبھی تنہا نہیں چھوڑو گے————–

جی ماما میں جارہا ہوں نماز پڑھنے اور تم بھی گھر میں نماز ادا کرلو حمزہ شازیہ بیگم کو بتانے کے ساتھ ساتھ مہوش کے بالوں کو ہلکہ سا جھنجھوڑتا ہوا اسے بھی نماز کی تلقین کر کے باہر کی جانب بڑھ گیا، لیکن مہوش کو ایسے انداز میں تلقین کرنا بالکل بھی پسند نہ آیا یہی وجہ تھی کہ وہ اچھی خاصی ہرٹ ہوئی تھی جس کی وجہ سے اس کی آنکھوں میں آنسو بھی آئے تھے لیکن وہ آنسو ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی کیونکہ اسے پتہ تھا اگر آنسو ظاہر کردیے تو پھر جو مذاق بنے گا میرا وہ مجھے ہی پتہ ہے-
حمزہ نماز کے بعد اپنے کلاس فیلو فہد کے ساتھ مسجد کے سامنے ہی گپ شپ میں مصروف ہوگیا اسے پتہ ہی نا چلا کہ آدھا گھنٹہ کیسے گزر گیا – اس نے اچانک اپنی واچ پر نظر ڈالی اور ایک دفعہ اس کی اوسان خطا ہوگئے-
کیا ہوا حمزہ خیریت ہے تمہارے چہرے پر ہوائیاں کیوں اڑ رہی ہیں؟؟؟
فہد نے اس کے چہرے کے تاثرات جو کہ اچانک بدل گئے تھے دیکھتے ہوئے سوال کیا –
بس یار کیا بتاؤں پاپا کو لینے جانا تھا ایئر پورٹ سے اور میں تیرے ساتھ ادھر گپ شپ میں مصروف ہوگیا لہذا اب مجھے اجازت دو گھر میں میرا انتظار کر رہے ہونگے ان شاء اللہ پھر کبھی ملیں گے اوکے بائے اللہ حافظ حمزہ فہد کو اپنی بات بتا کر فوراً ہی پلٹ آیا حتی کے اس کے جواب کا بھی انتظار نہیں کیا-
جیسے ہی وہ گھر پہنچا سب گھر والے اسے کھا جانے والی نظروں سے تک رہے تھے – حمزہ بیٹا کونسی نماز پڑھنے گئے تھے جو اتنی دیر لگادی ہم کب سے آپ کا ویٹ کررہے ہیں شازیہ بیگم نے کچھ خفگی کا اظہار کیا، بس ماما ایک دوست مل گیا تھا نماز کے بعد اور اس کے ساتھ گپ شپ میں ٹائم کا پتہ ہی نہیں چلا حمزہ نے ساری صورتحال کو واضح کرکے سامنے رکھ دیا – اچھا چلو پھر جلدی جلدی گاڑی نکالو پہلے ہی بہت لیٹ ہو کے ہیں تمہارے پاپا وہاں ہمارا انتظار کرتے کرتے آدھے رہ گئے ہونگے شازیہ بیگم نے حمزہ کو حکم دیتے ہوئے باہر کی جانب قدم بڑھائے اور حمزہ بھی اثبات میں سر کو حرکت دیتا ہوا گاڑی نکالنے چلا گیا——

حالات کیسے بھی ہوں چاہے زمانہ ہمارے خلاف ہو، لوگ جو بھی کہیں تم مجھے کبھی تنہا نہیں چھوڑو گے سائرہ نے اشعر سے وعدوں کچھ عہدوں پر پختگی کا اظہار کیا تھا –
میں اشعر تمہاری آنکھوں جیسی اس جھیل میں تیرتی مچھلیوں کو، اور تمہارے اور میرے ملاپ پر آسمان پر اٹھکھیلیاں کرتے بادلوں کو، روح کو تازگی بخشتی ہوئی ان ہواؤں کو،
پہاڑوں کی خامشی کو، اداسی میں بجھ کر ڈوبتے ہوئے سورج کو، اپنے گھروں کو رواں دواں ان پرندوں کو، اپنی اس حسین ملاقات کے ساتھ ساتھ اللہ ( وحدہ لاشریک) کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ یہ اشعر کبھی بھی کسی بھی جگہ پر چاہے لاکھوں میل کی دوری ہو، منزلیں نظروں سے اوجھل ہوں اور پاؤں پر آبلے رقص کرنے لگیں، زمانہ مخالفت میں اکٹھا ہوجائے میں پھر بھی تمہیں تنہا نہیں چھوڑوں گا ہر وقت خود کو کسی کی امانت سمجھ کر ہر محبت کو ٹکڑا دونگا اشعر نے اپنے جذباتوں کو دل سے نکال کر زبان کے رستے سے سائرہ کے سامنے رکھتے ہوئے اس کے عہدوں پر لبیک کہا تھا اور سائرہ کا چہر ایک دم خوشی سے کھل اٹھا تھا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کے وہ کیا کرے اور دوسری جانب اشعر اس کی گالوں میں پڑتے ہوئے ڈمپل دیکھ کر اس کے حسن کی داد دیے بنا نہیں رہ سکا تھا –
اشعر میرے خیال سے اب ہمیں چلنا چاہیئے کیونکہ سورج بھی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کررہا ہے اور کچھ ہی دیر میں رات کا اندھیرا بھی انگڑائیاں لیتا ہوا ہر سو پھیل جائے گا اور پھر جنگلی جانور لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے عجیب عجیب سی آوازیں نکالیں گے آخری بات کو سائرہ نے ڈرتے ڈرتے ادا کیا جس پر اشعر کی ہنسی چھوٹ گئی اور وہ کھلکھلا کر ہنس پر اور دوسری جانب سائرہ اس کے اس عمل پر جھنجھلا اٹھی اور اسے ہلکی ہلکی چپٹ رسید کرنے لگی -اچھا اچھا معذرت چاہتا ہوں محترمہ آپ کا اندازہ ایسا تھا کہ میں ہنسی روک ہی نا سکا اشعر نے اسے اس کی حالت کے متعلق بتایا اور ایک بار پھر ہنس دیا جس پر سائرہ روہانسی سی ہوگئی –
اچھا بابا سوری آئندہ کبھی نہیں ہنسوں گا وعدہ اشعر نے اس کو راضی کرنے کے لیے کہا لیکن وہ ٹس سے مس نا ہوئی، کافی کوشش کے بعد بھی سائرہ کو کوئی اثر نہیں ہوا اور وہ اپنی جگہ پر براجمان رہی، اچھا پھر میں جارہا ہوں کوئی درندہ وغیرہ آئے تو مجھے نہ پکارنا اشعر نے آخری حربہ آزمایا جو کہ کار آمد ثابت ہوا اور سائرہ
اسے تھپڑ مارتی ہوئی اس کے ساتھ چلنے لگی—–

جاری ہے————–

اپنا تبصرہ بھیجیں