ناول : ادھورا عشق (قسط نمبر 6)

ناول :: ادھورا عشق

ایم تجمل بیگ

قسط نمبر 6

اچھا چلو بتا ہی دیتا ہوں کیا یاد کرو گی حمزہ نے کندھے اچکاتے ہوئے یوں کہا جیسے سامنے کوئی مجرم ان کا فیصلہ سننے کے لیے صدیوں_____ سے بےتاب بیٹھا ہو اور اب تک وہ اپنے لیے فیصلے کی امید بھی کھو چکا ہو-

اچھا تو میں کہنا یہ چاہ رہا تھا کہ آج ابو جان واپس آرہے ہیں اور میرے لیے ایک عدد لیپ ٹاپ کے ساتھ ساتھ ریموٹ کنٹرول گاڑی بھی لارہے ہیں –

ہیں ہیں کیا بولے جارہے ہو پاگلوں کی طرح کچھ بھی؟؟؟
مہوش _____حمزہ کی بات سن کر یوں اچھلی تھی جیسے اس نے اپنے سامنے کسی جن بھوت کق دیکھ لیا ہو اور وہ بڑے برے ناخنوں کے ساتھ اس کو نوچنے آرہا ہو-

میری پیاری بہناں میں سچ کہہ رہا ہوں میرے لیے لیپ ٹاپ اور ایک عدد کھلونا گاڑی آرہی ہے جسے دیکھ کر تم جل جل کر ہی فنا ہوجاؤ گی حمزہ نے تنگ کرنے والے انداز میں کہا-

حمزہ کی باتیں سن کر مہوش نے تنک کر گویا اسے یاد دلاتے ہوئے کہا کی تمہارے ساتھ فرسٹ آنے پر لیپ ٹاپ کا وعدہ ہوا تھا نا کے _____ٹھرڈ آنے پر لہذا تم اس خوشفہمیوں سے نکل کر حقیقت کو تسلیم کرو کہ تمہیں کوئی لیپ ٹاپ نہیں ملنے والا اور جا کر سوجاؤ –

حمزہ مہوش کو اپنی بات کا یقین دلا رہا تھا مگر مہوش مسلسل انکار ہی کیے جارہے تھی –
ان کا شور سن کر شازیہ بیگم ان کے کمرے_____ میں پہنچ چکی تھی لیکن شور کی وجہ سے ان دونوں کو شازیہ بیگم کی آمد کی خبر نہیں ہوئی اور وہ مسلسل جھگڑے ہی جارہے تھے-

اے بچوں کیا شور ڈالا ہوا ہے؟؟
شازیہ بیگم کو جب معاملے کی سمجھ نا آئی تو انہوں نے آخر ان دونوں سے پوچھنا ہی مناسب سمجھا——

مس سائرہ میرے خیال سے آج آپ کی واپسی ہے اور آج آپ اس ہسپتال کو الوداع کہہ کر گھر کو لوٹ جاؤ گی –

اشعر نے سائرہ کی شرمندگی کو کچھ کم کرنے____ کےلیے اس بات کو موضوع بنایا جو کہ بہت کارآمد بھی ثابت ہوا اور سائرہ جو کچھ دیر پہلے اشعر کی نظروں کے تیر اپنے اوپر دیکھ کر کچھ پزل سی ہوگئی تھی اب نارمل انداز سے اسے کہنے لگی کہ جی آج ہماری ____واپسی ہے اور یقیناً گھر والے بھی ہمارے منتظر ہونگے لہذا بنا تاخیر کیے بس چند ہی لمحوں میں ہم روانہ ہوجائیں گے سائرہ نے تفصیلاََ اسے بتایا –

آج واپسی ہے سائرہ کی اور پھر کبھی ہم پتہ نہیں کبھی ملیں گے بھی یا نہیں؟؟

کیا یہ جو محبت ہمیں ایک دوسرے سے ہوئی اور دو دنوں میں ہی اپنی انتہا کو پہنچ گئی ہے یہ یوں اچانک ختم ہوجائے گی؟

کیا میری محبت یو ہی اپنے زوال کو پہنچ جائے گی؟؟
کیا پھر کبھی بھی نہیں مل پاؤں گا میں اس کے ساتھ کہ جس کو دیکھ____ کر میرے دل نے مجھ سے کہا تھا کہ اے بندہ خدا محبت واجب ہوگئی ہے تجھ پر –

دیوار پر اپنی نظر کو مرکوز کرکے سوچوں کے تانے بانے بنتے اپنے آپ ____سے لاکھوں سوال کرتے ہوئے ڈاکٹر اشعر کی آنکھیں تقریباً بھیگ ہی چکی تھی آج ڈاکٹر اشعر کو بھی یقین ہوگیا تھا کہ……..

اگر اتنا ہی آسان ہوتا کسی سے جدا ہونا….
تو فرشتے نا آتے جسم سے روح لینے کو…..

ڈاکٹر صاحب….!!!!
سائرہ کی آواز پر ڈاکٹر اشعر بو کھلا گئے اور فوراً سائرہ کی طرف متوجہ ہوکر کہنے لگے جی میم بتائیے-

مجھے اپنا connect number دے دیجئے تاکہ میں اپنی میڈیسن کے حوالے سے آپ سے مشورہ طلب___ کرتی رہوں سائرہ نے بہت بہادری کے ساتھ اپنی پوری ہمت جمع کرکے اشعر سے خود ہی رابطے کے لیے نمبر کا مطالبہ کیا تھا-

جی جی ضرور کیوں نہیں-ڈاکٹر اشعر نے اپنا فون نمبر ایک کاغذ پر لکھا اور سائرہ کے حوالے کردیا——-

ماما دیکھیں نا حمزہ کیا کہہ رہا ہے؟؟؟
کیا کہہ رہا ہے حمزہ؟؟
شازیہ بیگم نے مہوش کا سوال سن کر مہوش _____سے ہی الٹا سوال کرڈالا……
ماما آپ حمزہ سے ہی پوچھیے مجھے تو اس کی بات سن کر ہی جلن ہورہی ہے-

میں اپنی زبان سے اس کے الفاظ نہیں دہرا سکتی-

شازیہ بیگم حیرانگی سے حمزہ کی طرف دیکھ کر بولی کہ بتاؤ کیا کہا ہے تم نے مہوش سے جو وہ اتنی جیلسی فیل کررہی ہے کہ تمہارے الفاظ وہ اپنی زبان سے کہنا ہی نہیں چاہ رہی……
حمزہ جو مہوش کی باتیں سن کر لطف اٹھا رہا تھا شازیہ بیگم کی بات سن کر جواب دینے کے لیے سیدھا ہوکر بیٹھ گیا-
ماما آپ نے تھوڑی دیر پہلے مجھے کیا بتایا تھا؟؟؟
حمزہ نے شازیہ بیگم کو جواب طلب نظروں سے دیکھا…..
بیٹا پہیلیاں نا بجھواؤں بات بتاؤ کیا ہے؟؟
ماما ابھی آپ نے ہی تو تھوڑی دیر پہلے بتایا تھا کہ پاپا میرے لیے گاڑی کے ____ساتھ ساتھ لیپ ٹاپ بھی لیکر آئینگے حمزہ نے کہا-

تو میں نے کونسا جھوٹ بولا تھا سچ ہی تو کہا تھا حمزہ کا لیپ ٹاپ بھی آج شام کو آئے گا شازیہ بیگم نے کہا…….
حمزہ شوج لہجے سے کہنے لگا کہ ماما میں نے بھی اسے یہی بتایا تھا مگر میری بات سن کر تو اسے بہت بڑا شاک لگا تھا مگر شاید اب اسے آپ کی بات پر یقین آجائے-

ماما یہ تو زیادتی ہے اس کے لیے گاڑی بھی———– اور ساتھ لیپ ٹاپ بھی اور میرے لیے صرف ایک گولڈ کی رنگ؟؟

باوجود اس کے کہ وہ ٹھرڈ آیا ہے اور میں فرسٹ……..

مہوش کے معصوم سے چہرے پر پریشانی دیکھ کر شازیہ بیگم کو بھی ترس آیا اور اسے اپنے پاس بلا_____ کر کہنے لگی کہ میں ابھی آپ کے پاپا سے بات کرتی ہوں کہ مہوش بیٹی کے لیے بھی رنگ کے علاوہ کچھ لیتے آئیے گا…….
شکریہ میری پیاری ماما مہوش شازیہ بیگم کے گلے سے لگتے ہوئے بولی-

چلو حمزہ اب تم بھی جاکر سوجاؤ پھر شام کو تمہارے پاپا کو ائیر پورٹ ___سے پک بھی کرنے جانا ہے شازیہ بیگم حمزہ کو سونے کی ہدایت دیتے ہوئے کمرے سے نکل گئی——

مس سائرہ ہم 24 /7 آپ کے لیے میسر ہیں آپ جب چاہیں کال کرسکتی ہیں____ ہم آپ کو انتظار نہیں کروائیں گے ڈاکٹر اشعر نے سائرہ کو نمبر دینے کے بعد کہا….
کیا مطلب ؟؟
کہہ کر سائرہ نے سوالیہ نگاہوں سے اشعر کی_____ طرف ایسے دیکھا جیسے اس نے کچھ غلط کہہ دیا ہو –

میرا مطلب آپ جب چاہیں کال کر کے ____مجھ سے اپنی میڈیسن کے متعلق ہدایات لے سکتی ہیں اشعر نے اپنی بات کی مسکراتے ہوئے وضاحت کی-

جی بہتر….!! سائرہ نے بس اتنا ہی کہنے پر اکتفاء کیا-

مس سائرہ اب آپ میڈیسن کھا کر کچھ دیر کے لیے لیٹ جائیں تاکہ آپ کی حالت بہتر ہوجائے اور آپ کو سفر میں کوئی پریشانی نا بنے –

ڈاکٹر اشعر سائرہ کو میڈیسن کھانے کا کہہ کر کمرے سے باہر چلے گئے اور __سائرہ بھی میڈیسن کھا کر لیٹ گئی——

جاری ہے……….

اپنا تبصرہ بھیجیں