ناول : ادھورا عشق ( قسط نمبر 5 )

ناول : ادھورا عشق

رائٹر : ایم تجمل بیگ

قسط نمبر 5

اس کا دل اشعر سے جدائی کے خوف سے کانپ اٹھا تھا باوجود اس کے کہ اسے ہسپتال میں آئے ہوئے ابھی دوسرا دن تھا اور__________ اس نے اشعر سے ابھی تک اپنی کیفیت کے بارے میں بھی کچھ نہیں کہا تھا –

وہ اک انجانے سے خوف سے خود کو ہلکان کررہی تھی کہ اتنے میں دروازے پر_________ دستک ہوئی اور وہ اپنی سوچوں کو دماغ میں ہی الجھتا ہوا چھوڑ کر دروازے کی طرف کچھ اس انداز سے متوجہ ہوئی کہ___________ دروازے سے اندر آتے ہوئے ڈاکٹر اشعر بھی حیران ہوئے بنا نہیں رہ سکا-

سائرہ کے بیڈ کے نزدیک آکر ڈاکٹر اشعر نے گھڑی کی جانب دیکھتے ہوئے سعدیہ اور میم تبسم کو کمرے________ سے باہر جانے کے لیے کہا کیونکہ اب سائرہ کی میڈیسن________ کا ٹائم ہوگیا تھا اور اس کے بعد اسے کچھ آرام کرنے کی بھی ضرورت تھی-

جب میم تبسم اور سعدیہ کمرے سے باہر چلی گئیں تو کمرے میں صرف سائرہ اور اشعر ہی تھے سائرہ کا جسم پسینے میں شرابور ہوگیا تھا __________دوسری طرف اشعر کی حالت بھی سائرہ سے مختلف نہ تھی-

سائرہ جانے سے پہلے اپنی حالت ڈاکٹر اشعر کو بتانا چاہتی تھی اور دوسری طرف ڈاکٹر اشعر جو خود بھی _________سائرہ کو دیکھ کر بے بس ہوگیا تھا وہ بھی اپنی محبت کا اظہار سائرہ سے اب کر ہی دینا چاہتا __________تھا –

کچھ دیر کمرے میں یونہی خاموشی چھائی رہی خاموشی بھی ایسی کہ وہ ایک دوسرے کے سانس لینے کی آواز بھی سن رہے تھے-

یہ خاموشی نہ جانے کب تک جاری رہتی کہ ڈاکٹر اشعر نے اپنی محبت کے______________ اظہار کے لیے اپنے لبوں کو حرکت دی ہی تھی کہ سائرہ بھی بول پڑی کہ میں آپ سے کچھ کہنا چاہتی ہوں، ڈاکٹر اشعر کے بھی تقریباً یہی الفاظ تھے جس کی وجہ سے دونوں__________ کی بات آپس میں گڈ مڈ ہوکر رہ گئی تھی اور دونوں ہی ایک دوسرے کی طرف ________دیکھنے لگے اور جو بات وہ واضح الفاظ میں ایک دوسرے کو بتانا چاہتے تھے وہ بات ان کی____________ آنکھوں نے چند ہی لمحوں میں انہیں سمجھا دی تھی، آنکھوں ہی آنکھوں میں اپنی محبت کا اظہار کرکے اب وہ دونوں نظریں جھکائے ہوئے مسکرا رہے تھے-

***************

یا ہو وووو I love you Mom and Dad حمزہ نے لیپ ٹاپ ملنے کی__________ خوشی میں تقریباً چلاتے ہوئے اپنے مام ڈیڈ سے محبت کا اظہار کیا جسے سن کر باہر جاتی ہوئی شازیہ بیگم بھی سن کر مسکرا پڑی-_________________

حمزہ اپنے لیے لیپ ٹاپ کی خبر سن کر اچھل کود کرتا ہوا سونے کی بجائے مہوش جس کی_____________ شکایت وہ تھوڑی دیر پہلے ہی شازیہ بیگم کی گوش گزار رہا تھا اس کو بتانے اس کے کمرے کی جانب چلا گیا-

مہوش مہوش ایک خوشخبری ہے ایک بہت بڑی خوشخبری – مہوش حمزہ کو یوں خوشی سے اچھل کود کرتے ہوئے دیکھ تقریباً چلاتے ہوئے_____________ کہنے لگی کہ بس بھی کرو بابا کیوں آسمان سر پر اٹھا لیا ہے کونسی تجھ کو پرستان کی پریاں ملنے آرہی ہیں جو تم یوں خوشی سے نہال ہورہے ہو –

ابھی مہوش شاید اس کی اور کلاس لیتی_________ مگر حمزہ اس کی بات کاٹ کر بیچ میں ہی بول پڑا کہ خبر ہی ایسی ہے اگر تم سنو گی تو تم اپنے بھائی کی قسمت پر رشک کرنے کے ساتھ ساتھ جیلسی بھی فیل کرو گی______ اور ممکن ہے کہ تجھے یہ خبر جھوٹی بھی لگے کیونکہ خبر ہی کچھ ایسی ہے-

اچھا چلو بتاؤ کیا خبر ہے؟ کونسی ایسی خبر ہے جس کی وجہ سے میں تم سے جیلسی فیل کرونگی؟
ہمیں بھی تو_____________ پتے لگے کہ محترم شہزادے کو کونسی ایسی خوشخبری ملی ہے جس کی وجہ سے بے تاج شہزادے کو زمین پر پاؤں رکھنا محال ہوا پڑا ہے؟؟؟
جلدی بتاؤ پھر میں نے سونا بھی ہے چلو_____________ شاباش شروع ہوجاؤ مہوش حمزہ سے چھوٹی ہونے کی صورت میں بھی اس سے ایسے جواب طلب کررہی تھی جیسے وہ اس پر آفیسر متعین کی گئی ہو——

* * * * * *

ڈاکٹر اشعر کی نظر جیسے ہی مسکراتی ہوئی سائرہ پر پڑی تو گویا ان کی نظر وہیں منجمند ہوکر رہ گئی، __________اس کی سوچیں ساکت ہوگئیں مگر پھر بھی وہ مسکراتی ہوئی سائرہ کو دیکھ کر یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے تھے کہ کیا سچ میں کوئی اتنا خوبصورت بھی ہوسکتاہے؟

اس کے باریک سے گلابی ہونٹ، تھوڑی سی اوپر______________ کو اٹھی حسن کو قیامت بناتی ہوئی ناک، سیاہ پلکوں کے پہرے میں غزالی آنکھیں، پسینے سے چمکتی ہوئی خوبصورت پیشانی اور سب سے بڑھ کر ___________کمر سے نیچے تک آتے ہوئے براؤن بال جو ہر دور سے ہی دیکھنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کروانے کے لیے ایک ناقابل فراموش ہتھیار ثابت ہوسکتے تھے اور اوپر سے مسکراتے ہوئے__________ موتیوں جیسے دانت تو گویا دیکھنے والوں پر سحر طاری کرنے کے لیے ہی بنائے گئے تھے –

ڈاکٹر اشعر مسلسل قدرت کے اس حسین آشکار کو عشق کے سمندر ____________کی انتہا کو پہنچ کر انتہائی غور سے دیکھنے میں مصروف تھا اور وہ سب کہانیاں جو اس نے اپنی دادی سے پریوں کے متعلق سنی تھی کہ ان___________ کا ایک الگ جہان ہے وہ ادھر ہی رہتی ہیں وہ انتہائی خوبصورت ہوتی ہیں-

ان پر سے نظریں ہٹانا محال ہوجاتا ہے اگر وہ نظر آجائیں سب یاد آرہیں تھیں-
________________
اور اب سائرہ کو دیکھ کر بھی ڈاکٹر اشعر کو ایسا ہی محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے یہ بھی پرستان سے انسانی روپ میں آئی ہوئی________________ ایک پری ہی ہے جس کو خدا نے اس کی قسمت میں لکھ دیا ہے-
یوں تو سائرہ کو ہسپتال میں ایڈمیٹ ہوئے دو دن ہوگئے تھے مگر اتنی رغبت__________ اور قریب سے ڈاکٹر اشعر نے آج ہی سائرہ کو دیکھا تھا-

آج واقع ہی سائرہ اشعر کی روح کی گہرائیوں میں اترتی چلی گئی تھی جس کا احساس اشعر کو اپنی حالت سے_____________ باآسانی ہورہا تھا اور وہ ابھی تک سائرہ کو ہی مسلسل ٹکٹکی باندھے دیکھنے میں مصروف تھا اور سائرہ اس سے بے خبر مسکرانے میں مشغول تھی-

مسکراتے ہوئے جیسے ہی سائرہ کی نظر ڈاکٹر اشعر پر پڑی تو وہ ڈاکٹر اشعر کو اتنی رغبت کے ساتھ اپنی طرف متوجہ دیکھ کر کچھ شرمندہ سی ہوگئی –

اس کی شرمندگی کو محسوس کرتے ہوئے__________ ڈاکٹر اشعر نے اپنی آنکھوں کی گردش کو سائرہ سے ہٹا کر ایک دیوار پر پیوست کردیا————–

جاری ہے…………..

اپنا تبصرہ بھیجیں