ناول : ادھورا عشق ( قسط نمبر 4 )

ناول : ادھورا عشق

رائٹر : ایم تجمل بیگ

قسط نمبر 4

شازیہ بیگم میمونہ بیگم اور بچے چائے سے فارغ ہوچکے تھے جب شازیہ بیگم نے مہوش کو___________آواز دی اور برتن اٹھانے کا کہا –

اب مہوش اکیلی ہی برتن اٹھا کر کچن میں رکھ رہی تھی جب کچن میں سارے برتن آگئے تو مہوش باقی بچی ہوئی چیزوں کا جائزہ لینے لگی-

_________مہوش ابھی بسکٹ اور لیز وغیرہ کے ساتھ حساب برابر کر ہی رہی تھی تو نہ جانے کہاں سے حمزہ بھی ادھر ہی آٹپکا ________حمزہ کو آتا دیکھ کر مہوش کو اپنا سامان بھی خطرے میں محسوس ہونے لگا اس نے فوراً ہی بسکٹ ہاتھ میں اٹھائے بچی کھچی لیز سے منہ بھڑا اور شازیہ بیگم کی طرف باگ گئی-

مہوش اپنی ماما کے پاس پہنچ کر ایک سائیڈ پر بیٹھ کر دوبارہ ہاتھ میں پکڑے ہوئے بسکٹ کھانے لگی ادھر جب حمزہ کو______کھانے کے لیے کچھ نہ ملا تو وہ مہوش کی تلاش میں نکلا اس کو مہوش شازیہ بیگم کے پہلو میں بیٹھی ہوئی ملی مگر اس کے ہاتھ خالی تھے وہ حمزہ ____________کے آنے سے پہلے ہی سب بسکٹ وغیرہ چٹ کر گئی تھی اور اب حمزہ کو زبان چڑھا رہی تھی _

میمونہ بیگم جو کہ ان کی حرکتوں سے محفوظ ہورہی تھیں اور انہیں حمزہ پر ترس بھی آرہا تھا اس نے مہوش کو مصنوعی غصہ_______ ظاہر کرتے ہوئے ڈانٹا اور بھائی کو تنگ نہ کرنے کے آرڈرز جاری کیے-

ابھی میمونہ بیگم خاموش ہوئی ہی تھی کہ ظہر کی____________ اذان شروع ہوگئی اور کمرے میں مکمل سناٹا چھا گیا-
اذان مکمل ہوئی تو سب اذان کے بعد کی دعا پڑھتے ہوئے وضو کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے_

اچھا چلو بتا ہی دیتی ہوں کیا یاد کرو گی کہ کس کو اپنی رازداں بنایا تھا—–
یہ سننا تھا کہ سائرہ ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھے بڑی رغبت کے ساتھ سعدیہ کی طرف متوجہ ہوگئی ___________!!!

سعدیہ نے پھر دوبارہ بات کو شروع سے دہرانا شروع کیا جس کی وجہ سے سائرہ_________مزید غصے میں آگئی مگر سعدیہ اس کی ___________ پرواہ کیے بغیر بڑے مزے سے کہہ رہی تھی کہ ہم یہاں سیر کرنے آئے تھے کچھ یادیں ماضی بنا کر لے جانا چاہتے تھے ________کیمرے کی آنکھ میں سب کو قید کرکے ماضی کی ڈائری کو پرکشش بنانا چاہتے تھے———-
مگر………………….. ہماری ایک محترمہ سب پرکشش اور دلفریب لمحوں کو یادگار بنا کر ساتھ لے جانے کی بجائے حال ہی میں اپنا دل بھی___________ڈاکٹر اشعر کے حوالے کر بیٹھی ہے –

سعدیہ اپنی موج مستی میں باتیں بگاڑ رہی تھی کہ اچانک اسے ایک زور دار مکہ اپنی کمر پر پڑتا ہوا محسوس ہوا اگلے ہی لمحے وہ مکے کی وجہ جان گئی تھی اور دروازے_____________ کی جانب بھاگ کھڑی ہوئی _
مگر سائرہ کی آواز پر دوبارہ سائرہ کے پاس آکر بیٹھ گئی اور دوبارہ گفتگو کا سلسلہ شروع ہوگیا_

حمزہ وضو کرکے احمد کو ساتھ ____________لیتے ہوئے مسجد کی جانب چل دیا جبکہ عورتوں نے گھر میں ہی نماز ادا کی-

حمزہ نماز پڑھ کر گھر آیا تو شازیہ بیگم اور میمونہ بیگم بھی نماز پڑھ کر فارغ ہوچکی تھیں اور ________اب تسبیحات میں مشغول تھیں –

حمزہ اپنی ماما اور پھوپھو کو دیکھ کر کچھ دیر وہاں ان کے پاس ہی کھڑا رہا پھر اپنے کمرے ______________کی طرف چل دیا –

حمزہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا تو اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی –

حمزہ اپنی مہوش کے ہاتھوں اپنی روبوٹ گیم کی تشویشناک حالت دیکھ کر سکتے میں آگیا یہی ایک_________ گیم تھی جسے وہ خود سے زیادہ عزیز رکھتا تھا-

اپنی گیم کی ایسی حالت دیکھ کر اسے غصہ تو بہت آیا لیکن مہوش کو وہ کچھ کہہ تو سکتا نہیں تھا چونکہ________ وہ گھر میں سب سے چھوٹی اور سب کی لاڈلی تھی سو اسی لیے اس نے اپنی ماما یعنی شازیہ بیگم کو ہی بتانا مناسب سمجھا اور روتے ہوئے________ شازیہ بیگم کو بتانے چل دیا-

سائرہ اور سعدیہ کی گفتگو کا سلسلہ____________نا جانے کب تک جاری رہتا اگر وہاں ان کی میم تبسم نہ آجاتی…………!!!!
جی ہاں ان کی گفتگو کا سلسلہ ہنسی مذاق کے ساتھ جاری تھا کہ اتنے میں کمرے کی اندر _________ان کی بلکہ ہر دلعزیز میم تبسم داخل ہوئی –

یہ ہی وہ میم تھی جس کو سب لڑکیوں نے مل کر سائرہ کو پکنک پر چلنے __________کے لیے سفارش کا کہا تھا –

میم تبسم ایسی ہی تھیں ہر کسی کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے
والی، کلاس میں بھی سب کے ساتھ دوستانہ________ رویہ رکھنے والی اور کلاس کے باہر بھی اپنی سٹوڈنٹس کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے والی تھیں –

یہی وجہ تھی کہ انہوں نے میم تبسم کو سفارش کے لیے کہا انہیں یقین تھا کے سائرہ کبھی بھی میڈم تبسم صاحبہ کی بات رد نہیں__________ کریں گی-

اور ہوا بھی ایسے ہی تھا سائرہ نے نا چاہتے ہوئے بھی ان کے ساتھ پکنک پے ___________جانے کی حامی بھر لی تھی اور اب اسی کے نتیجے میں دو دن سے پکنک منانے کی بجائے ہسپتال میں زیر علاج تھی-

جیسے ہی تبسم میم کمرے_________ میں داخل ہوئیں تو فوراً ہی سعدیہ اور سائرہ خاموش ہوگئیں، خاموش ہوتے ہی سعدیہ احتراماََ فوراً کھڑی ہوگئی –

سعدیہ کو کھڑے ہوتے ہوئے دیکھ کر سائرہ نے بھی اٹھنے کی کوشش کی مگر تبسم میم نے اس کی حالت کو____________ دیکھتے ہوئے اسے اٹھنے سے منع کردیا-

منع کرکے میم تبسم صاحبہ سائرہ کے قریب آکر بیٹھ گئی اور سعدیہ کو_________ بھی بازو سے پکڑ کر بٹھا لیا جو کب کی کھڑی ہوئی میم کے چہرے کی طرف___________ دیکھ رہی تھی-

ماما دیکھیں نہ مہوش نے میری گیم کی کیا حالت کردی __________حمزہ روتے ہوئے شازیہ بیگم کو مہوش کی کارستانی سنا رہا تھا جو اس نے کچھ دیر پہلے ہی حمزہ کے_________ کمرے میں جاکر انجام دی تھی-

شازیہ بیگم حمزہ کی بات کو غور و فکر کے ساتھ سن بھی رہی تھی اور ساتھ ساتھ حمزہ کو دلاسے بھی دی رہی تھی _

یہ پیار و محبت کا سلسلہ جاری تھا کہ اچانک حمزہ نے کہا کہ ماما پاپا کو فون پر کہیے نہ کہ میرے لیے آتے ہوئے ___________ادھر سے ہی ایک ویڈیو گیم لیتے آئیے گا –

شازیہ بیگم حمزہ کے چہرے کی طرف دیکھ کر مسکرائی اور کہا کہ میں آپ کے پاپا کو ابھی فون کرکے کہہ دیتی ہوں کہ اپنے__________ لاڈلے بیٹے حمزہ کے لیے “لیپ ٹاپ کے” کے ساتھ ساتھ ایک عدد ویڈیو گیم بھی لیتے آیے گا –

کیا کہا ماما ذرا پھر سے کہنا میں کہیں نیند میں تو نہیں ہوں ______________شازیہ بیگم نے پہلے حمزہ کو چٹکی کاٹی اور پھر دوبارہ گویا ہوئی کہ میں تمہارے پاپا یعنی عمران صاحب سے ابھی کہتی ہوں کہ اپنے لاڈلے کے لیے لیپ ٹاپ کے ساتھ ساتھ ویڈیو گیم بھی لیتے آنا _

حمزہ لیپ ٹاپ کا سن کر تو جیسے سکتے میں آگیا تھا اور پھر دوبارہ اپنے تجسس کو بڑھنے سے روکنے کے لیے اپنی ماما سے پوچھنے لگا کہ___________ ماما میں تو فرسٹ نہیں آیا ہوں پھر یہ لیپ ٹاپ کس لیے؟؟؟
اتنی شفقت کیونکر کی جارہی ہے؟؟؟؟

شازیہ بیگم حمزہ کی بات سن کر کھلکھلا کر ہنس پڑی اور اسے سونے کی ہدایات دیتے ہوئے اپنے کمرے____________ کی جانب یہ کہہ کر چل دی کہ اسے بس ہماری محبت ہی سمجھ لو –

اچھا تو سائرہ بتاؤ اب تمہاری طبیعت کیسی ہے….. ؟؟؟؟
سائرہ کی پیشانی پر آئے بالوں کو میم تبسم صاحبہ اپنے ہاتھ سے پیچھے کرتے ہوئے ________سائرہ سے پوچھ رہی تھیں –

جی میم میں اب الحمدللہ بہت بہتر محسوس کررہی ہوں یہ آپ کی دعاؤں اور محبت_________ کا ہی نتیجہ ہے جو میں اتنی جلدی صحتیاب ہوگئی ہوں –

کچھ دیر خاموشی کے بعد میم تبسم صاحبہ نے دوبارہ گفتگو کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے آج رات واپسی کا_________ ذکر کیا اور ان دونوں کی طرف جواب طلب نگاہوں سے دیکھنے لگی،
اس سے پہلے کہ سائرہ کچھ بولتی سعدیہ کہنے لگی کہ جی میم ہمیں اب روانہ ہوجانا چاہیے یقیناً ہمارے_________ گھر والے بھی ہمارے لیے فکر مند ہونگے خاص طور پر سائرہ کی ماما تو اس کے لیے بہت پریشان ہونگی –

سائرہ واپسی کا سن کر ان دونوں سے بے خبر کسی اور کہ ہی خیالوں میں کھو گئی تھی –

جاری ہے………….

اپنا تبصرہ بھیجیں