ناول : ادھورا عشق ( قسط نمبر 3 )

ناول : ادھورا عشق

رائٹر : ایم تجمل بیگ

قسط نمبر 3

احمد، نمرہ چلو اندر شاباش چائے پر آپ کا انتظار ہورہا ہے _______مہوش ان دونوں کو اندر جانے کا کہہ رہی تھی مگر وہ دونوں اپنی موج مستی میں دنیا سے بے خبر کھیلنے میں مصروف تھے ________جب مہوش نے دیکھا کہ ان کو آوازیں دینا فضول ہے تو وہ ان دونوں احمد اور نمرہ کو بازو سے پکڑ کر کمرے کی جانب لے جانے لگی مگر وہ دونوں_______ مسلسل کھیلنے کی ضد کررہے تھے، لیکن مہوش نے ان کی ایک نہ سنی اور ان دونوں کو اس کمرے میں پہنچا کر دم لیا جہاں شازیہ بیگم اور میمونہ بیگم چائے پر ان دونوں بچوں کا انتظار کررہی تھیں، چلیں پھوپھو جان شروع کریں اب تو آپ کا لاڈلہ بیٹا اور بیٹی دونوں آگئے ہیں ________مہوش کی آواز پر میمونہ بیگم نے مسکراتے ہوئے مہوش کی طرف دیکھا اور چائے کپ میں انڈیلنے لگی جبکہ مہوش نے شازیہ بیگم کی نگاہوں کو اپنی طرف گھورتے ہوئے دیکھ کر کمرے سے باہر جانے میں ہی عافیت سمجھی-

سائرہ اور ڈاکٹر اشعر دونوں ہی ایک دوسرے کو ٹکٹکی باندھے دیکھ رہے تھے اس بات سے بے خبر کے ان دونوں کے علاوہ بھی کوئی کمرے میں موجود ہے_________!!!
یہ بات بھی درست تھی کہ ڈاکٹر اشعر _________کو بھی سائرہ پہلی ہی نظر میں اپنا گرویدہ کر گئی تھی مگر وہ اسے ایک مریض اور انجان سمجھ کر اگنور کررہا تھا –

ڈاکٹر اشعر نے اب جو _______سائرہ کی آنکھوں میں اپنے لیے چاہتوں سے بڑھے سمندر کو دیکھا تو اس کو اپنے آپ پر اختیار نہ رہا اور وہ بھی سائرہ پر اپنی نظروں کو مرکوز کر کے ہٹانا بھول گیا تھا –

یہ سلسلہ ناجانے کب تک چلتا کہ اچانک سعدیہ کی_______ کھانسی جو کہ اس نے جان بوجھ کر کی تھی اس کھانسی نے ان دونوں کو احساس دلوایا کہ آپ دونوں کہ علاوہ بھی کمرے میں کوئی موجود ہے-

جیسے ہی ڈاکٹر اشعر نے سعدیہ کی کھانسی کی آواز سنی تو جلدی جلدی سائرہ کو میڈیسن کے حوالے سے ہدایات دینے لگا، اچانک جلدی جلدی میں ہدایات _______دیتے ہوئے ڈاکٹر اشعر سے کچھ الفاظ الٹ پلٹ ہوگئے تھے جس کی وجہ سے سائرہ چہرہ چھپا کر ہنسنے لگی جبکہ سعدیہ __________کھلکھلا کر ہنس پڑی –

ڈاکٹر اشعر کو بھی سائرہ اور سعدیہ کے ہنسنے کی وجہ معلوم ہوگئی تھی اور اسے اپنے غلط بولنے کا بھی احساس ہوگیا تھا اسی لیے جلدی جلدی ہدایات دے کر ڈاکٹر اشعر ______بھی مسکراتے ہوئے باہر کی طرف چل پڑا اور دروازہ بند ہوتے ہی سائرہ اور سعدیہ کھلکھلا کر ہنسنے لگی ان دونوں کی آوازیں باہر دروازے سے باہر جاتے ہوئے ڈاکٹر اشعر__________کو بھی ہلکی ہلکی سنائی دے رہی تھیں جس کی وجہ سے ڈاکٹر اشعر کے چہرے کی مسکان مزید گہری ہوگئی تھی.

میمونہ بیگم اور ان کے بچوں کے ساتھ ساتھ شازیہ بیگم بھی چائے اور دوسرے لوازمات کے ساتھ لطف اندوز ہورہی تھی کہ جب ان کے موبائل پر رنگ بجنا شروع ہوگئی –

جیسے________ہی انہوں نے اپنے پاس پڑا ہوا موبائل اٹھایا تو سامنے عمران صاحب لکھا ہوا جگمگا رہا تھا، شازیہ بیگم نے حیرت اور خوشی کی ملی جلی کیفیت میں کال پک کی کیونکہ اس وقت________شازیہ بیگم کو عمران صاحب کی کال کی بالکل بھی امید نہ تھی –

جیسے ہی شازیہ بیگم نے کال پک کی تو حال احوال کے بعد شازیہ بیگم نے انہیں ان کی________ بہن میمونہ کی آمد کے بارے میں بھی بتایا جسے سن کر عمران صاحب کے چہرے پر__________ خوشی کی لہر دوڑ گئی اور جیسے ہی عمران صاحب نے اپنی واپسی کی خبر اور رات کا ڈنر اپنے بچوں اور اپنی بہن میمونہ بیگم کے ساتھ کرنے کی اطلاع دی تو شازیہ بیگم___________کا بھی خوشی کے ساتھ چہرہ سرخ ہونے لگا-

میمونہ بیگم جو کہ شازیہ بیگم کے چہرے کو حیرانگی کے ساتھ دیکھ رہی تھی _______وہ اندازہ لگانے کی کوشش کررہی تھی کہ کیا بات ہوسکتی ہے جس کی وجہ سے شازیہ بیگم کا___________چہرہ خوشی سے کھل اٹھا تھا، میمونہ بیگم اسی کشمکش میں مبتلا تھی کہ اتنے میں شازیہ بیگم نے کال بند کی اور بڑی طمانیت کے ساتھ خود ہی میمونہ بیگم _______کو بتانے لگی کہ آج شام کا کھانا ہم آپ کے بھائی کے ساتھ مل کر کھائیں گے. جیسے ہی انہوں نے اپنے بھائی کی واپسی کی خبر سنی تو اللہ کا _________شکر ادا کرنے لگی اور اس کے ساتھ ہی احمد اور نمرہ بھی اپنے ماموں جان سے ملنے کے لیے بے چین ہوگئے تھے –

سائرہ اب آنکھوں پہ ہاتھ رکھے لیٹی ہوئی تھی کہ سعدیہ کہنے لگی کہ سائرہ دیکھو _________ہم کیا کرنے آئے تھے اور کیا کر بیٹھیں ہیں. ہمارا ارادہ کشمیر جسے جنت کی وادی کہتے ہیں اس میں آکر اپنی زندگی کے______کچھ لمحوں کو پرکشش، حسین، یادگار اور دلچسپ بنانا تھا __________!!!
مگر شاید اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا. سائرہ سعدیہ کی باتوں کو بڑی توجہ اور دلچسپی کے ساتھ مگن ہوکر سن رہی تھی کہ اچانک سعدیہ کی نظر سائرہ پر پڑی __________سعدیہ کو شرارت سوجھی سعدیہ نے ماحول کو تھوڑا گرمانے کے لیے باتوں ہی باتوں میں میں سائرہ سے کہہ دیا کہ ہم کشمیر میں حسین وادیوں، پہاڑوں اور جھیلوں کے نظارے لینے آئے تھے مگر یہاں کچھ لینے کی بجائےےےےےےےےے ہماری ایک محترمہ………
بجائے کو تھوڑا سا کھینچ کر ہماری “ایک محترمہ”کہہ کر سعدیہ خاموش ہوگئی جبکہ _______سائرہ کے دل کی دھڑکن پھر تیز ہوگئی اور سعدیہ سے کہنے لگی کہ بتاؤ کیا ہماری؟؟؟
سعدیہ سائرہ کی______ طرف دیکھ کر دھیمے سے مسکرائی مگر بولی کچھ نہیں –

سعدیہ کو خاموش دیکھ کر سائرہ روہانسی سے چہرے کے ساتھ دوبارہ گویا ہوئی کہ سعدیہ _____________بتاؤ نہ پلیز کیا ہماری ایک محترمہ ؟؟؟؟
سعدیہ جو کہ سائرہ کو تنگ کر رہی تھی اب بھی خاموش ہی رہی اور سائرہ کے چہرے کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگی –

اب جو سائرہ نے سعدیہ________ کو پھر خاموش دیکھا تو سچ میں رونے لگی. سائرہ کو روتے ہوئے دیکھ کر بھی سعدیہ کو شرارت ہی سوجھی اور سائرہ سے کہا کہ سائرہ آپ________ روتے ہوئے اور بھی زیادہ کیوٹ لگتی ہو –

یہ سننا تھا کہ سائرہ یکدم خاموش ہوگئی اور سعدیہ کے کندھے پر ایک چپت رسید کرکے کہنے لگی کہ اب صبر ختم ہوگیا ہے اب بتاؤ بھی کہ کیا ہماری ایک محترمہ ؟؟؟

جاری ہے…………….

اپنا تبصرہ بھیجیں