ناول : ادھورا عشق (قسط نمبر 2 )

ناول : ادھورا عشق

رائٹر : ایم تجمل بیگ

قسط نمبر 2

شازیہ بیگم ابھی فجر کی نماز سے فارغ ہوئی ہی تھی کہ رضیہ بی بی بھی آگئی-

رضیہ کو شازیہ بیگم کے گھر کام کرتے ہوئے دس سال ہوگئے تھے یہی وجہ تھی کہ رضیہ بی بی سے سب گھر والے مانوس تھے اور اس کی دل سے عزت و احترام کرتے تھے-

رضیہ کے گھر والا ایک فروٹ کی ریڑھی لگاتا تھا مگر اتنی مہنگائی میں ایک فروٹ والی ریڑھی سے کہاں تین بچیوں اور دو بچوں کا پیٹ پلتا ہے-

بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے جب یہ ایک فروٹ کی ریڑھی کافی نہ ہوئی تو رضیہ نے بھی لوگوں کے گھروں میں کام کرنا شروع کردیا. لیکن _________ کوئی بھی گھر ایسا نہیں تھا جو رضیہ کو دو ہزار ماہانہ سے زیادہ دینے کو تیار ہو-

اللہ تعالیٰ کا کرنا کہ ایک دن شازیہ بیگم کی کام والی اپنے گاؤں چلی گئی اور پھر واپس ہی نہ آئی، اور ادھر _______کام ڈھونڈتے ڈھونڈتے رضیہ بی بی شازیہ بیگم کے گھر پہنچ گئی-

شازیہ بیگم ایک امیر خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود سلجھی ہوئی اور نیک خاتون تھی لوگوں کی مدد کا جزبہ اس میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا یہ وجہ تھی کہ شازیہ بیگم نے رضیہ بی بی کی پریشانی سن کر اسے پانچ ہزار ماہانہ تنخواہ پہ رکھ لیا تھا اور اس کے بچوں کی پڑھائی کا خرچہ بھی اپنے زمہ لے لیا تھا-

آج چونکہ اتوار تھا اور عمران صاحب کی بہن اور سائرہ وغیرہ کی پھوپھو جو کہ لاہور میں رہتی تھی اس نے بھی آنا تھا جس کی اطلاع اس نے رات فون پر دی تھی__________اسی وجہ سے شازیہ بیگم نے آج رضیہ بی بی کو جلدی بلا لیا تھا –

نماز سے فارغ ہوکر شازیہ بیگم رضیہ بی بی کو کام کی ہدایات دیتے ہوئے خود کچن میں چلی گئی اور مہمانوں کے لیے ابھی سے تیاری شروع کردی۔

ڈاکٹر بھی جب سائرہ کو سعدیہ سے چھڑوانے میں ناکام رہا تو اس نے تھوڑا سخت لہجا کرکے سعدیہ کو ڈانٹا تو سعدیہ فوراً سائرہ کو چھوڑ کر پیچھے ہٹ گئی اور ایک طرف روہانسی سی شکل بنا کر کھڑی ہوگئی-

جیسے ہی سائرہ کی نظر ڈاکٹر اشعر پر پڑی تو وہ اپنی مظر کو گھنگھریالے بالوں، سفید رنگت اور ہلکی سی نیلی آنکھوں والے ڈاکٹر اشعر کے چہرے سے ہٹانا ہی بھول گئی تھی ______ڈاکٹر اشعر نرس کو سائرہ کی میڈیسن کے بارے میں ہدایت دے رہا تھا مگر سائرہ یک ٹک ڈاکٹر اشعر کو گھورے جارہی تھی-

ابھی تک وہ ڈاکٹر اشعر پر نظریں جمائے ہوئے ہی تھی جب اسے سعدیہ نے کندھے سے پکڑ کر ہلکا سا جھٹکا دیا جس کی وجہ سے وہ خوابِ کیفیت سے باہر آئی اور سعدیہ کی طرف متوجہ ہوگئی، کچھ دیر بعد ڈاکٹر اشعر نرس کو سائرہ کی میڈیسن کی ترتیب بتاکر اور سعدیہ کو بھی جلد باہر آنے کا کہہ کر واپس پلٹ گیا اور سائرہ کی نظروں نے دروازے تک اس کا تعاقب کیا-

رضیہ بی بی بھی کام سے فارغ ہوکر دعائیں دیتے ہوئے شازیہ بیگم کے ___________گھر سے رخصت ہوگئی تھی.
مگر شازیہ بیگم اور مہوش دونوں کچن میں ابھی تک مصروف تھیں –

سائرہ، حمزہ اور مہوش کی صرف ایک ہی پھوپھی تھی جو کہ سال میں ایک مرتبہ ہی ان کے پاس اسلام آباد آتی تھی اور وہ سب مل کر خوب اپنی پھوپھو کی ضیافت کا اہتمام کرتے تھے –

آج بھی پھوپھو کی ضیافت کے لیے انہوں نے بریانی،کڑاھی گوشت، رشین سیلڈ، کسٹرڈ، اور اس کے ساتھ اور بہت زیادہ چیزوں کا اہتمام کیا تھا-

دس بجے کے قریب وہ اپنا کچن کا کام مکمل کرکے فارغ ہوگئیں تھیں اور اب حمزہ کو جوس اور بوتل وغیرہ لینے کےلیے بھیج کر شازیہ بیگم خود نہانے کے لیے چلی گئی تھی-

شازیہ بیگم نہا کر اپنے بالوں کو ڈرائے کررہی تھی کہ اتنے میں ڈور بیل کی آواز ان کے کانوں میں گونجی _________
ساتھ والے کمرے میں بیٹھے حمزہ اور مہوش دونوں گیٹ کی طرف دوڑ پڑے-

جیسے ہی انہوں نے گیٹ کھولا سامنے ان کی پھوپھو اپنے نو سالہ بیٹے احمد اور سات سال کی بیٹی نمرہ کے ساتھ ہاتھوں میں ڈھیروں طائف اور پھل وغیرہ لیے کھڑی تھی-

ان کی پھوپھو ایسی ہی تھی بچوں سے پیار کرنے ______والی بڑوں کی عزت کرنے والی اور سب کے ساتھ ہنسی مذاق کرنے والی، وہ جب آتی تھی تو آتے وقت سائرہ، حمزہ اور مہوش کے لیے گفٹ لانا نہیں بھولتی تھی –

مہوش نے پھوپھو سے سامان پکڑ کر حمزہ کو پکڑایا اور پھوپھو کو لیتے ہوئے ڈرائینگ روم کی طرف بڑھ گیا جبکہ مہوش احمد اور نمرہ کے ساتھ ابھی تک گیٹ میں کھڑی ہی خوش گپیوں میں مصروف تھی۔

سعدیہ جو کب سے بیٹھی سائرہ کی اس حرکت کو دیکھ رہی تھی اور سوچوں میں غرق تھی کہ آیا کہ یہی وہی سائرہ ہے جس نے ایک مرتبہ یونیورسٹی میں ایک لڑکے کو تھپڑ مارا تھا صرف_______ اس وجہ سے کہ وہ کافی دنوں سے اس کے رستے میں کھڑا ہوکر اسے دیکھتا تھا –

سعدیہ سے جب رہا نہ گیا تو اس نے آخر سائرہ سے اس ساری صورتحال جو کہ وہ پچھلے پندرہ منٹ سے دیکھ رہی تھی اس کے بارے میں پوچھ ہی لیا –

سعدیہ کہ اس اچانک سوال پر پہلے تو سائرہ سٹھیا گئی_______ مگر پھر جلد ہی سنبھل بھی گئی اور سعدیہ کو ڈانٹتے ہوئے یہ کہہ کر خاموش کروایا کہ ایسا کچھ نہیں ہے-

وہ سعدیہ کو تو مطمئن کر چکی تھی مگر اس کا دل نہ جانے کیوں اس کے اختیار سے باہر ہوتا جارہا تھا _________ایسا سائرہ کے ساتھ پہلی مرتبہ ہورہا تھا ورنہ یونیورسٹی میں کسی لڑکے سے دوستی کرنا تو دور وہ کسی لڑکے کو منہ لگا _______کر بھی راضی نہیں تھی بلکہ وہ تو اپنے والدین کی عزت کو سر پے سجائے ہوئے ہمیشہ لڑکوں سے دور ہی بھاگتی تھی، لیکن_______یہاں معاملہ سب کچھ الٹ تھا-

سائرہ خود پریشان تھی کہ یہ اس کے ساتھ کیا ہورہا ہے وہ ایسی تو نہ تھی کے کسی لڑکے پر پہلی نظر میں دل ہار جانے والی،_______ بغیر کسی جان پہچان کے کسی کو دل میں جگہ دینے والی-

وہ دل کے ہاتھوں مجبور خود کو کوستی ہی جارہی تھی لیکن آج اس کا دماغ _______بھی مسلسل اسی کے خیال لا رہا تھااس کا دل_______ بھی اس کے ساتھ زد کیے ہوئے تھا وہ بھی مسلسل ڈاکٹر اشعر کے لیے ہی دھڑک رہا تھا، اس کی آنکھیں ________ ڈاکٹر اشعر کی ایک جھلک کے لیے ترس رہی تھیں، اس کے__________کان بھی ڈاکٹر اشعر کی آواز کے گرویدہ ہوگئے تھے اور وہی آواز دوبارہ سننے کو بے چین ہوئے جارہے تھے-

شازیہ بیگم اپنے کمرے سے نکلی تو اس نے گیٹ پر کھڑے ہوئے احمد، مہوش اور_______ نمرہ کو کمرے میں آنے کا کہا اور خود حمزہ کی پھوپھو سے ملنے ڈرائینگ روم میں چلی گئی –

حمزہ اپنی پھوپھو کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھا جب شازیہ بیگم ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی شازیہ بیگم کو دیکھتے ہی حمزہ بھی اپنی پھوپھو کے ساتھ کھڑا ہوگیا، شازیہ بیگم_________ میمونہ بیگم یعنی حمزہ لوگوں کی پھوپھی کے ساتھ خوش دلی اور کشادہ پیشانی سے ملی اور حال احوال پوچھنے لگی-

حمزہ اپنی ماما یعنی شازیہ بیگم اور اپنی پھوپھو میمونہ بیگم کو باتوں میں مصروف دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوا اور _________کمرے سے باہر آگیا-

شازیہ بیگم اور میمونہ بیگم اپنی سال بڑھ کی روداد ایک دوسرے کی گوش گزارہی تھی جب مہوش چائے کے ساتھ دوسرے لوازمات بھی لیکر کمرے میں داخل ہوئی، مہوش سامان کمرے میں رکھ کر احمد اور نمرہ کو بلانے چلی گئی جو کہ باہر لاؤنج________ میں کھیل رہے تھے –

سعدیہ ناجانے کب کس وقت سائرہ کو سوچوں میں گم چھوڑ کر کمرے سے چلی گئی تھی، ایک گھنٹے سے زیادہ وقت ہونے کو تھا جب سعدیہ دوبارہ کمرے میں داخل ہوئی اور_______ سائرہ کو ابھی تک سوچوں میں گم دیکھ کر پریشانی کے ساتھ اس کے ساتھ آکر بیٹھ گئی اور سائرہ کو ادھر ادھر کی________ باتوں میں لگا کر اس کے دل کا بوجھ ہلکا کرنے لگی-

پندرہ منٹ کی انتھک کوشش کے بعد وہ سائرہ کو ہنسانے میں کامیاب ہوہی گئی تھی اور اب اس کے ساتھ مذاق وغیرہ کررہی تھی کہ اتنے میں________ ڈاکٹر اشعر دوبارہ کمرے میں داخل ہوا- ڈاکٹر اشعر کو دیکھتے ہی سائرہ کا دل ایک بار پھر بند پنجرے میں کسی معصوم سے____ پرندے کی طرح پھرپھرانے لگا، اس کا دماغ اسے عجیب سی کشمکش میں مبتلا کرنے لگا. پاس بیٹھی سعدیہ بھی_______ حیران و پریشان کبھی ڈاکٹر اشعر کی طرف دیکھ رہی تھی اور کبھی کان لگا کر وہ آواز سن رہی تھی جو ڈاکٹر_______ اشعر کو دیکھ کر سائرہ کے دل سے باہر تک آرہی تھی…………..

جاری ہے…………..

اپنا تبصرہ بھیجیں