ناول : ادھورا عشق (پہلی قسط )

ناول : ادھورا عشق

رائٹر : ایم تجمل بیگ

پہلی قسط

آجا کے ابھی ضبط کا موسم نہیں گزرا
آجا کے ابھی پہاڑوں پہ برف جمی ہے
خوابوں کے جزیروں سے ستاروں کی حدوں تک
یہاں ہر چیز موجود ہے بس تیری کمی ہے

سائرہ کو کالج سے آئے ہوئے دو گھنٹے ہوگئے تھے ____وہ بیڈ پر اوندھے منہ لیٹے ہوئے مسلسل یہ شعر____ پڑھے جارہی تھی –

وہ خود احساس بے خودی میں مبتلا تھی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیوں اشعر____کو بار بار یاد کرکے خود کو ہلکان کیے جارہی ہے-

سائرہ، حمزہ اور مہوش تینوں عمران صاحب اور____ شازیہ بیگم کی فرمانبردار اور لاڈلی اولاد تھی-

وہ پاکستان کے مشہور شہر اسلام آباد میں خوش و خرم زندگی گزارہے تھے- سائرہ اسلام آباد میں ہی ایک یونیورسٹی میں “Bsc” کے فائنل ایئر میں پڑھ رہی تھی جبکہ حمزہ ساتویں کلاس میں اورمہوش چھٹی کلاس میں اسلام آباد میں ہی زیر تعلیم تھے-

سائرہ ایک ذہین طلبہ ہونے کے ساتھ ساتھ سنجیدہ مزاج بھی رکھتی تھی یہی وجہ تھی کہ آج تک یونیورسٹی میں اس کی فرینڈ لسٹ میں کوئی لڑکا نہیں تھا-

اس کے برعکس حمزہ اور مہوش میں لاابالی پن کافی زیادہ نظر آتا تھا جس کی وجہ سے وہ اکثر____سائرہ کو تنگ کرتے رہتے تھے- مگر سائرہ ہمیشہ انہیں دیکھا ان دیکھا کردیتی تھی-

چونکہ عمران صاحب اپنی اولاد کو زیادہ وقت نہیں دے پاتے تھے تو اسی لیے ان کی تربیت کی بھاری ذمہ داری شازیہ بیگم کے کندھوں پر تھی جسے وہ بخوبی انجام دے رہی تھی-

یہ شازیہ بیگم کی اچھی تربیت کا ہی نتیجہ تھا کہ آس پاس والے پڑوسی اور سارے رشتے دار عمران صاحب کی فیملی کو قدر کی نگاہ سے ____دیکھتے تھے اور اپنے بچوں کو سائرہ، حمزہ اور مہوش کی مثالیں دیتے تھے-

عمران صاحب اکثر کام کے سلسلے میں ملک سے باہر رہتے تھے_____ اور اس وقت بھی وہ ایک بزنس میٹنگ کے سلسلے میں دو سے تین دن کی قلیل مدت کے لیے دبئی میں آئے ہوئے تھے-

ایسا نہیں تھا کہ وہ اپنے بچوں سے غافل تھے بلکہ وہ ان کی ہر خواہش پوری کرتے تھے یہی وجہ تھی کہ ان_____کے گھر دنیا داری کی ہر سہولت موجود تھی اور وہ خوش باش زندگی گزارہے تھے-

سائرہ “Bsc” کے فائنل ائیر میں تھی جب وہ اپنی سب سے پیاری سہیلی سعدیہ کے کہنے پر ناچاہتے ہوئے بھی کشمیر کے ٹور کے لیے راضی ہوگئی تھی چونکہ گھر میں بتائے بنا کوئی فیصلہ کرنا اس کے لیے مناسب نہیں تھا اسی لیے حتمی فیصلہ اس کے گھر سے ہی ہونا تھا-

ٹیچرز اور سہیلیوں کے کہنے پر اس نے گھر کا نمبر ڈائل کیا جوکہ چند ہی لمحوں میں ریسیو کرلیا گیا، کشمیر کی سیر کے لیے ساری صورتحال اس نے اپنی ماما یعنی____شازیہ بیگم کے سامنے رکھی…!!!

شازیہ بیگم سائرہ کی بات سننے کے بعد کچھ لمحے خاموش رہی اور پھر اپنی بیٹی کو اجازت دے دی لیکن شازیہ بیگم کا دل بری طرح کانپ رہا تھا، شازیہ بیگم کو کسی انہونی کا احساس ہورہا تھا مگر اس نے____ “سورتیں” وغیرہ پڑھ کر گھر بیٹھے ہوئے ہی سائرہ پر پھونک دی تھی اور مطمئن ہوکر کچن کی جانب چل پڑی تھی-

شازیہ بیگم ابھی کچن میں ہی تھی جب حمزہ اور مہوش سکول سے واپس آگئے تھے-
مہوش اور حمزہ نے آتے ہی شازیہ بیگم سے شکوے شروع کردیئے تھے-

آج چونکہ مہوش اور حمزہ کا رزلٹ اناؤنس ہونا تھا جس میں والدین کا جانا ضروری بھی تھا لیکن عمران صاحب ملک سے باہر اور شازیہ بیگم طبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے اس تقریب میں نہ جا سکے-

کچھ دیر شکوہ و شکایت کے بعد مہوش شازیہ بیگم کو اپنی فرسٹ پوزیشن آنے پر ملنے والی شیلڈ اور رزلٹ کارڈ دکھا رہی تھی اور ادھر بیچارہ حمزہ ٹھرڈ پوزیشن آنے پر اپنے علیحدہ لیپ ٹاپ سے محروم ہوگیا تھا جو کہ فرسٹ آنے پر اس کو ملنا تھا.

ادھر سائرہ اپنی فرینڈز اور ٹیچرز کے ساتھ کشمیر کی سیر کے لیے نکل پڑی تھی-

ایسا نہیں تھا کہ وہ اتنا لمبا سفر پہلی بار کررہی تھی بلکہ وہ دو سے تین مرتبہ اپنے____ بابا کے ساتھ “آؤٹ آف کنٹری” بھی جا چکی تھی-
مگر اس بار شازیہ بیگم کی طرح اس کا دل بھی کسی انجانے خوف سے کانپ رہا تھا-

وہ جیسے جیسے اپنی منزل یعنی کشمیر کی اوڑھ بڑھ رہی تھی ویسے ویسے ہی اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوتی جارہی تھی______مارے خوف کے وہ کانپی جارہی تھی شدید سردی میں بھی اس کی پیشانی پر پسینہ ابھر آیا تھا-

اس کے پاس بیٹھی سعدیہ اس کی حالت سے بے خبر موبائل میں جھوم جھوم کر کانوں میں ہینڈ فری لگائے______گانے سننے میں مگن تھی-

گانا مکمل ہوا تو اچانک سعدیہ کو سائرہ کا خیال آیا مگر وہ صورتحال دیکھ کر ٹھٹک گئی_____سعدیہ نے اتنی پریشانی سائرہ کے چہرے پر کبھی نہیں دیکھی تھی-

سعدیہ نے سائرہ کی یہ حالت دیکھی تو فوراً رومال سے اس کا چہرہ صاف کیا اور اسے تسلی دینے لگی –

سعدیہ سائرہ کو تسلی دے رہے تھی کہ یکدم جھٹکے لگنا شروع ہوگئے________ رات کے سفر میں اچانک لائٹ خراب ہونے سے ان کی وین ایک دوسری وین سے ٹکڑا گئی تھی-

وین کے ٹکڑانے سے سائرہ کا سر سامنے والی سیٹ پر لگا تھا جس کی وجہ سے اس کے سر سے بہت زیادہ خون بہہ گیا تھا جس کی وجہ سے وہ بیہوش ہوگئی تھی-

بیہوش ہوتے وقت اس کے ذہن میں_____ شازیہ بیگم کی وہ خاموشی گردش کررہی تھی جو اجازت مانگنے پر انہوں نے چند لمحوں کے لیے اختیار کی تھی-

اس حادثے میں سب سے زیادہ چوٹ سائرہ کو ہی آئی تھی باقی سب کو معمولی سی خراشیں وغیرہ ہی آئی تھیں_____!!!

دو گھنٹے ہوچلے تھے مگر ابھی تک سائرہ کو ہوش نہیں آیا تھا،لیکن ابھی تک کسی کے بھی گھر والوں کو اس حادثے کی اطلاع نہیں دی گئی تھی کیونکہ سائرہ کے علاوہ باقی سب محفوظ تھے اور________سائرہ کے لیے بھی دعا مانگ رہے تھے-

ایک کمرے میں جائے نماز پر بیٹھی سعدیہ رو رو کر سائرہ کی صحت یابی کے لیئے دعا مانگ رہی تھی کہ اتنے میں اسے ایک نرس نے خوشخبری دی کہ سائرہ میڈم ہوش میں آگئ ہیں یہ سننا تھا کہ سعدیہ نے ایمر جنسی روم کی طرف دوڑ لگادی ادھر کھڑی نرس سعدیہ کی طرف عجیب نظروں سے دیکھ رہی تھی-
سعدیہ کو بھاگتے ہوئے یہ بھی احساس نہیں تھا کہ کتنے لوگوں کی نظریں اس کے وجود کا تعاقب کر رہی ہیں وہ تو بس_______دیوانہ وار بھاگتے جارہی تھی اسے لوگوں کی نظروں کی کوئی پرواہ نہیں تھی _______ نہ ہی اسے یہ پریشانی تھی کہ مجھے ایسے بھاگتے ہوئے دیکھ کر لوگ کیا باتیں کریں گے اسے فکر تھی تو بس_____________ سائرہ کی وہ سائرہ کو پہلے جیسی ہنس مکھ اور اٹھکھیلیاں کرتی پری کے روپ میں دیکھنا چاہتی تھی-

ہسپتال میں موجود لوگوں کی نظروں کے تیر اپنے بدن پر سجائے جب وہ سائرہ کے پاس پہنچی تو اسے تب احساس ہوا کہ اس نے کیا کیا ہے __________مگر وہ ان احساسات کو اگنور کرکے سائرہ کے گلے سے جاکر لپٹ گئی –

وہ سائرہ کے گلے سے لپٹی ہی تھی کہ سائرہ نے ایک زور دار چیخ ماری جس کی وجہ سے باہر کھڑی نرس اندر آگئی اور سائرہ کو سعدیہ سے چھڑوانے لگی. مگر __________سعدیہ تو سائرہ کے ساتھ ایسے چپٹی ہوئی تھی جیسے کوئی دو دیوانے مدتوں بعد ملیں ہوں-

سائرہ کی آواز میں مزید درد اتر آیا تھا مگر سعدیہ اس سے دیوانہ وار چپٹی ہوئی تھی نرس نے بھی جب خود کو ناکام دیکھا تو باہر سے وہ ایک سینیئر ڈاکٹر کو بلا لائی تھی۔

جاری ہے……………….

اپنا تبصرہ بھیجیں