یہ محبتیں

“مما آپ کو کتنی بار کہہ چکی ہوں میں اب بڑی ہو چکی ہوں میری اپنی بھی کوئی زندگی ہے کیوں ہر ٹائم مجھ پر پابندیاں لگاتی رہتی ہیں ۔کبھی بھائی شروع ہو جاتے ہیں ۔

یہاں نہ جاؤ وہاں جاؤ عبایا لو موبائل نہ لے بازار نہ جا اور کبھی آپ شروع ہو جاتی ہیں ۔

یہ دوست تماری اچھی نہیں یہ امیر ہے اپنے برابر کے ہی دوست بناؤں پر اچھے اچھے ۔
اس دوست کے گھر جاؤ اس کے گھر نہ جاؤ ۔چھت پر نہ جاؤ بازار جاؤ بھائ کے ساتھ جاؤ ۔
کبھی یہاں ایسے نہ بیٹھ سر پر دوپٹہ لے ۔تنگ آ گی ہوں میں اس گھر کے ان دقیانوسی خیالات اور رسم و رواج سے ۔زمانے کے ساتھ چلنا سیکھیں امی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا سو سال پرانی خواتین کی روح سما چکی ہے آپ اور بھائی میں ۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔

میری دوستوں کی مائیں ،بھائی، باپ، کوئی بھی انہیں روکتا ٹوکتا نہیں وہ جو بھی کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ راتیں گھر سے باہر گزاریں دوستوں کے ساتھ کہیں بھی جا کر اپنی لائف انجوائے کریں ۔میں پانچ منٹ یونی سے دیر کیا کر دوں آپ اور بھائی کا تو سانس اٹک جاتا ہے اور میرے پیچھے سائے کی طرح کھڑے رہتے ہیں آپ لوگ ۔”

“رابعہ تم میں اور ان لڑکیوں میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ان کے ماں باپ بھائیوں اور یہاں تک کہہ شوہروں میں بھی شرم حیا نہیں ہوتی اور لوگ انہیں ماڈرن کہتے ہیں ۔نہ ان کی کوئی عزت خراب ہوتی ایسی باتوں سے نہ ہی لوگ باتیں بناتے ہیں ۔ان کی سوسائیٹی میں یہی کچھ ہوتا ہے ۔نہ خوف خدا ہے ان میں اور نہ خود میں شرم ۔اس لیے تم ان لڑکیوں سے دور رہو تمارے باپ کے بعد تمارے بھائی نے تمیں باپ بن کر پالا ہے ہر خواہش منہ پر آنے سے پہلے پوری کی ۔اور اب اگر تمارے بھلے کے لیے کچھ کہہ دیا تو اس میں اتنا غصہ کرنے والی بات تو نہیں ۔اور یاد رکھنا تم یونی میں پڑھنے جاتی ہو ہمارے سر خاک نہ مل لینا ۔کل کہیں ایسا نہ ہو ہم کسی کو منہ دکھانے کے قابل بھی نہ رہیں تماری ان دوستوں کے سبب ۔”

رابعہ کئی بار دبے الفاظ میں احتجاج کر چکی تھی میرے پیچھے نہ آیا کریں میری فکر نہ کیا کریں مجھے بھی دوستوں کے ساتھ گھر سے باہر گھومنے پھرنے کی اجازت دی جائے پر بھائی اسے اپنے ساتھ لے کر جاتا جہاں بھی جاتا اگر بھائی کہیں مصروف ہوتا تو امی ساتھ جاتیں ا گر رابعہ ضد کرتی کہیں جانے کی تو ہی ایسا کرتے ۔
رابعہ تو بہت خوش تھی پہلے بھائ اور امی کے ساتھ جانے سے پر جیسے ہی اس نے یونی میں پری ،رانی اور انسہ سے دوستی کی تھی تب سے اس کے تیور بدل گئے تھے ۔اب رابعہ وہ فرمائیشیں کرتی جو اس کے گھر والوں کی پہنچ سے دور ہوتیں پر بھائ جیسے بھی کرتا اسے وہ سب لا کر دیتا اور پوچھنا تو حق بنتا تھا بھائ کا ۔
اگر پوچھتا کس لیے یہ چیز ضرورت ہے کیوں چاہیے تو رابعہ چڑ جاتی رونے لگ جاتی اگر زیادہ سختی کرتا تو رابعہ کھانا پینا بند کر دیتی ۔۔اور اس کی سہلیاں جب رابعہ کے بھائی کو اس کے ساتھ آیا دیکھتیں یا اس کی امی کو دیکھتیں تو رابعہ پر ہنستییں اور اسے باتیں سناتیں جس کی وجہ سے رابعہ اب گھر میں روز ہی لڑائی کرتی تھی اسے اب پردہ کرنا جلدی گھر جانا اور گھر سے لگائی ساری پابندیاں دقیانوسی لگتیں ۔

******************،********

“رابعہ سنو کاشف سے دوستی کر لو بہت اچھا لڑکا ہے وہ تم سے دوستی کا خواہش مند ہے ۔”
جیسے ہی رابعہ کینٹین میں آ کر بیٹھی رانی نے اسے کاشف سے دوستی پر اکسایا ۔
“یار تمیں تو میرے گھر کے حالات کا پتہ ہے بھائی لڑکوں سے دوستی کو سخت ناپسند کرتے ہیں وہ تو مجھے کئی بار تم لوگوں سے بھی دوستی ختم کرنے کا کہہ چکے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔

رابعہ آگے کچھ بولتی رانی نے اس کی بات منہ سے ہی چھین لی ۔
“تم ابھی بھی بھائ کے کہنے پر ہی چلنا جیسے تمارے گھر میں یہ نہیں پتہ تم گھر سے عبایا پہن کر آتی ہو اور یونی میں وہ پہلے عبایامیں لپٹی رابعہ نہیں رہتی اب ماڈرن ڈریس زیب تن کئے عبایا اتار کر گھومنے والی رابعہ ہو اور یار ہم نہیں بتاتے تمارے وہ دقیانوسی بھائی اور امی کو ۔کاشف بہت امیر کبیر لڑکا ہے اس نے تماری خاطر اپنی پہلی گرل فرینڈز کو چھوڑ دیا ہے پر تم ہو کہہ نخرے کر رہی ہو ۔اور تم بھی ہمارے ساتھ ہماری طرح چلنا پھرنا اٹھنا بیٹھنا سیکھ لو ۔کیا تمیں ساری عمر اس چار مرلے کے چھوٹے سے ڈڑبے میں ہی رہنا ہے ۔؟؟تم نہیں چاہتی کیا تماری بھی ہماری طرح ہی لائف ہو اپنی مرضی ہو ہر چیز تمارے قدموں میں ہو ۔۔۔۔”
رانی اپنے سارے بیچ و تاو آزما رہی تھی اور رابعہ شیشے میں اتر رہی تھی ۔
“یار کاشف تم سے شادی کی خواہش بھی رکھتا ہے “۔
رانی نے اپنا آخری پتہ پھینکا جو کارگر ثابت ہوا ۔اور رابعہ کاشف سے دوستی کرنے پر رضامند ہو گئی ۔

**†*#****************************

رابعہ کی اور کاشف کی دوستی چند دنوں میں ہی بہت گہری ہو گی پورے یونی میں ان دونوں کی دوستی کے چرچے ہونے لگے ۔کچھ لڑکیاں افسوس کرتیں رابعہ پر جو سب کچھ جانتے ہوئے بھی کاشف جیسے لڑکے سے دوستی کر بیٹھی تھی اور کچھ خیر خواہ اسے سمجھاتیں ۔کچھ جیلس ہوتیں ۔۔
کاشف رابعہ کو کئی مہنگے تحفے دے چکا تھا ۔جن میں ایک موبائل بھی تھا جو کہ رابعہ نے بھائی اور امی سے چھپا کر رکھا ہوا تھا ۔

“ہوش نہ خبر ہے یہ کیسا اثر ہے
تم سے ملنے کے بعد دلبر دلبر دلبر

ٹی وی پر گانا اونچی آواز سے لگا کر رابعہ ساتھ ساتھ خود بھی گنگنا رہی تھی ۔
“رابعہ خوف خدا تو ہے نہیں تم میں شرم حیا بھی صاف ختم ہو گی ہے کیا؟؟؟؟یہ کیا حرکتیں کرتی پھر رہی ہو ۔۔۔

جب یونی سے واپس آتی یا خود کو کمرے میں بند کر کے بیٹھ جاتی ہو یا یا پھر ٹی وی لگا کر بیٹھ جاتی ہو ۔۔۔۔۔اور آج کل تماری کلاسس کچھ دیر سے نہیں ہونے لگیں جاتی اتنی جلدی ہو اور گھنٹہ دو گھنٹے لیٹ واپس آتی ہو ۔۔۔نماز قران سے دور ہوتی جا رہی ہو ۔۔۔۔اور میں نے نوٹ کیا ہے جب بھی راحیل آتا ہے تم خود کو کمرے میں بند کر دیتی ہو ۔منہ بنا لیتی ہو،،،،، بات نہیں کرتی ،،،،،،کیا بگاڑا ہے اس بچے نے تمارا وہ تمارا بچپن کا منگیتر ہے ،،،،،،__،۔اسی نے تمارے بھائی کو تمارا کہا تھا آگے پڑھائیں صرف تمارے کہنے پر کیوں کہ احمد تماری شادی کروا رہا تھا پر اس نے کتنی منتیں کیں تھیں تماری وجہ سے اس نے شادی دو سال بعد کروانے کا کہا خاندان والوں سے کیا کچھ سننا پڑا اسے صرف تماری وجہ سے اور اب جب تماری پڑھائی مکمل ہونے والی تو تم اس سے منہ پھیر رہی ہو “۔۔۔۔۔۔۔۔
“مما احسان نہیں کیا مجھ پر اس کالے کلوٹے نے ،،،،،،،،راحیل کو خود پڑھنا تھا اسی لیے بھائ سے بات کی تھی،،،،،،،،،،، پر آپ تو ہمیشہ مجھے ہی غلط کہیں گیں،،،،،،،،،،، اور یاد رکھیں میں نے اس کالے سے شادی نہیں کرنی اس کے پاس ہے ہی کیا ۔،،،،،،،نہ پیسہ ہے نہ ہی کوئی زمین جائیداد ہے ،،،،،،،،بچپن سے لے کر ابھی تک سسک سسک کر زندگی گزاری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہاں کی پابندیوں میں گزار دی زندگی اب نہیں گزارنی ایسی زندگی نہ میں نے کسی غریب سے شادی کرنی ہے ۔پہلے پسند تھا اب پسند بھی نہیں وہ میری ۔”
“تم اتنی بگڑ جاؤ گی اس یونی میں جا کر میں نے سوچا نہیں تھا اور کل سے تمارا یونی جانا بند ،،،،،،،_،__،_،،کوئی یونی نہیں جانا رہو گھر میں اور کل ہی میں احمد اورنسرین باجی سے بات کرتی ہوں تماری شادی کی ،،،،،،،،شادی تو تماری راحیل سے کروا کر چھوڑوں گی ۔اور اپنی زبان کو لگام دو خبر دار جو تم نے اب راحیل کے بارے ایک لفظ بھی غلط بولا تو ۔سلجھا ہوا بچہ ہے تماری ہر غلط بات بھی برداشت کر جاتا ہے اور تم اتنی خود سر اور بگڑ گی ہو ماں کو بھی ماں نہیں سمجھتی وجہ صرف تماری وہ آوارہ دوستیں ہیں جن کو چھوڑنے کا تمارا بھائی اور میں کتنی بار بول چکے ہیں ”
رابعہ کی امی غصے میں کانپنے لگ گیں ۔
“امی میں آپ کو بتا دوں اگر آپ نے زبردستی کی مجھ پر یا میں نے بھاگ جانا ہے یا پھر زہر کھا لوں گی پر اس کنگلے کالو سے شادی نہیں کروں گی اور میری دوستوں کے بارے میں تو آپ بات ہی نہ کریں سب جلتے ہیں میری دوستوں سے اور آپ تو شروع سے ہی جلتی تھیں ۔ ۔ ۔۔۔۔
چٹاخ سے رابعہ کے منہ پر تھپڑ لگا ابھی رابعہ سمبھلتی ایک اور تھپڑ پڑا اسے ۔رابعہ نے جیسے ہی دیکھا سامنے احمد کھڑا تھا ۔
“بھ بھ بھائی وہ وہ مم میں ”
“چپ ایک دم چپ جاؤ دفع ہو جاو میری نظروں سے امی امی خود کو سمبھالیں پلیز اس نے جو بولا وہ کچھ نہیں ہو گا آپ خود کو سمبھالیں ”
امی بے ہوش ہو کر گر گیں تھیں ۔
احمد بچوں سے طرح بلک بلک کر رو رہا تھا ۔۔۔ساتھ ہی بے ہوش پڑی ماں کو ہوش میں لانے کی کوشش کر رہا تھا ۔
رابعہ اپنا تھپڑ بھول کر بھاگ کر پانی کا گلاس لے آئے ۔
“ب ببھائی یہ پپ پانی ۔۔۔۔
رابعہ کی بات پوری ہونے سے پہلے احمد لال ہوتی آنکھیں لیے ایک دم کھڑا ہوا ۔رابعہ کے ہاتھ میں پکڑا پانی کا گلاس لے کر دور پھینک دیا ۔
” میں نے کہا تمیں میری نظروں سے دور ہو جاؤ اور امی کو یہاں تک لانے کی ذمہ دار بھی تم ہو یاد رکھو امی کو کچھ ہو گیا تو میں تمیں کبھی زندگی بھر معاف نہیں کروں گا اور اگر امی کو کچھ ہو گیا تو میں تمارا وہ حال کروں گا جو تم سوچ بھی نہیں سکتی اب دفع ہو جاؤ یہاں سے ۔”
رابعہ منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنے کمرے کی طرف بھاگ گی ۔احمد ماں کو لے اٹھا کر باہر کی طرف بھاگا ۔

***********#* *******#* **************

احمد ہسپتال کے کوریڈور میں بے چینی سے یہاں وہاں ٹہل رہا تھا ۔امی کو ہوش آ گیا تھا ڈاکٹر نے بی پی ہائی ہو جانے کا کہا تھا اب اماں کو ڈرپ لگی ھوئی تھی احمد کو اب صرف رابعہ کی طرف سے پریشانی تھی وہ بغاوت پر کیوں اتر آئی تھی وہ ایسی کیوں بن گی تھی اس سب کے پیچھے وجہ کیا تھا یہی باتیں اسے بے چین کئے ہوئے تھیں ۔سب سے بڑی بات جس بہن کو آج تک انگلی کا چھالہ بنا کر رکھا تھا آج س پر ہاتھ اٹھایا اور ڈانٹا ۔اور اب وہ کس حال میں ہو گی ۔ماں تو اس کی بھی ایسی ہی ہے جیسے رابعہ کی ۔

**#* ********************************
” ہیلو کاشف ”
“رابعہ تم اور وقت کال کر لی تم تو بھائی کے ڈر سے رات کو بھی صرف میسج پر بات کرتی ہوتی ہو آج تم نے کال کر لی اور تم رو کیوں رہی ہو ؟۔۔۔”
رابعہ نے بھائ کے گھر سے امی کو ہسپتال لے کر جاتے ہی موبائل نکال کر کاشف کو کال کر لی ۔
” کاشف پلیز تم اپنی امی ابو کو بھیجو میرے رشتے کے لیے بھائ مجھے اس کالے سے باندھ لے گا اور کل سے میرا یونی جانا بھی بند ہو گیا پلیز کاشف کچھ کرو ۔۔”
” ارے میری جان رونا بند کرو اور بتاؤ کیا ہو گیا ہے ۔”
رابعہ نے ساری بات کاشف کو بتا دی ۔
“ٹھیک ہے تم پریشان نہ ہو اور رونا بند کرو میں شادی تم سے ہی کروں گا اور اپنی اور بھائی کی فکر نہ کرو وہ نہ مانے تب بھی تماری اور میری شادی ہو کر رہے گی بس تم ویٹ کرو ۔”
کاشف انتظار نہیں کر سکتی امی ہسپتال سے واپس آ کر پھپھو سے بات کریں گیں اور اسی ماہ کی کوئی تاریخ رکھ دیں گیں تم میری امی اور بھائی کو جانتے نہیں ہو۔”
“ارے میری جان وہ لوگ ابھی مجھے نہیں جانتے بس تم ساری فکر ختم کرو اور مجھے مسکرا کر دکھاؤ تم تو میری ہو میں تم سے بے انتہا محبت کرتا ہوں ۔۔۔ مجھے یہ روتی دھوتی رابعہ نہیں پسند وہی ہنستی مسکراتی رابعہ چاہیے مجھے ۔۔”
کاشف کی باتوں میں کیا جادو تھا کہ رابعہ ہنس ہنس کر باتیں کرنے لگی ۔

********************

راحیل نے احمد کو بہت سمبھالا گھر باہر سب کو دیکھا احمد کی امی دکھ برداشت نہ کر سکیں اور وہ ہسپتال میں ہی دم توڑ گیں ۔ایک قیامت گزری نہیں تھی کہ احمد پر ایک اور غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ۔لوگوں کے طنز بھرے الفاظ اس کی روح تک کو زخمی کر جاتے ۔پر لوگوں کے منہ پر کون ہاتھ رکھ سکتا ہے ایک کے ساتھ دس لگا لیتے ہیں ۔اور جتنے منہ اتنی ہی باتیں کرتے ہیں ۔اور وہی بات ھوئی جب جب احمد گھر سے باہر نکلتا یا کوئی اس سے تعزیت کرنے آتا اسے باتوں باتوں میں سنا دیتے ۔
ادھر رابعہ نے شادی کر لی تھی وہ خوش تو تھی اپنی محبت پا کر پر محبت نے صرف دس دن تک ہی محبت دی اسے ۔۔۔۔۔۔۔۔اسے یہ نہیں پتہ تھا وہ گھر میں کیا آگ جلا کر نکلی تھی ۔
***************************

ایک ماہ ہو گیا تھا امی کے فوت ہوئے اور رابعہ کے گھر سے بھاگے ہوئے ۔احمد کو اب وہ گھر کاٹ کھانے کو دوڑتا تھا ۔اسی لیے اس نے گھر بیچ کر وہ علاقہ چھوڑ دیا ۔

“*”*”*****”*”*”*”*”*”*”*”*”*’* “*”*”*

“کاشف آپ کے ایسے کون سے دوست ہیں جو دن رات آپ کو کال کرتے رہتے ہیں ؟”

“میرے کئی دوست ہیں جو کال کرتے ہیں اب تمیں سب کی ڈیٹیل بتاؤں کیا ۔”؟؟

کاشف نے بھڑک کر جواب دیا ۔
“کاشف آپ کیسے بات کر رہے ہیں مجھ سے ۔؟ہم دو ہی تو ہیں ایک دوسرے کے لیے ہم بھی ایک دوسرے کو ٹائم نہ دیں تو کیا فائدہ ہم دونوں کے ایک ساتھ رہنے کا ۔”
رابعہ شادی کے ایک ماہ بعد ہی کاشف کی عادتوں سے تنگ ا گی تھی ۔سارا سارا دن ساری ساری رات موبائل پر مصروف رہنا کبھی کال کبھی چیٹ ۔اگر کاشف کال پر بات کر رہا ہو رابعہ اس کے پاس چلی جائے تو بری طرح ڈانٹ دیتا ۔موبائل کو پاسورڈ لگا کر رکھتا ۔کئی بار رابعہ نے پاسورڈ جاننے کی کوشش کی پر جان نہ پائی ۔
کام کاج کچھ نہیں کرتا تھا ۔ادھار جتنا لیا تھا یا جو پیسے رابعہ لے کر بھاگ کر آئی تھی وہ سب ختم ہونے والے تھے ۔
جب بھی رابعہ اسے کام کا بولتی پھر ڈانٹ سنتی ۔

اسے یاد آیا اس کا بھائی کبھی کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دیتا تھا کچن میں ہر چیز موجود ہوتی تھی کبھی رابعہ کو یا اس کی امی کو کسی چیز کے لیے پریشان نہیں ہونا پڑا نہ ہی احمد کو بولا فلاں چیز نہیں ہے یا فلاں چیز نہیں ہے ۔
فریج ہمیشہ بھرا ہی ہوتا تھا سبزی فروٹ اور گوشت سے ۔
اس نے کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ اس کا بھائی کیا کام کرتا ہے کب جاتا ہے کب واپس آتا ہے کہاں سے لاتا ہے وہ سب کچھ ۔

پر اس ایک ماہ میں ہی اسے جب ہزار بار ایک چیز کے لیے بولنا پڑتا تو اس کے آنسو نکل آتے گھر کی یاد بھائی کی یاد اور اپنے غلط فیصلے پر ۔

******************************

” کاشف تم کوئی کام کرو پلیز میں تنگ آ گی ھوں اس غربت سے ھر چیز ہزار بار مانگنی پڑتی ہے تم لا کر ہی نہیں دیتے آخر کب تک ایسے ہی رہو گے ۔”

” تمیں ہی اپنی ماں کے گھر آرام نہیں تھا تب تو تمیں میری محبت چاہیے تھی اب کیا مسلہ ہے ۔”
“کاشف محبت کے ساتھ ساتھ زندہ رہنے کے لیے بھی کچھ اور چیزوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے ۔”

“ہاں تمیں جس چیز کی ضرورت ہے لو خود جا کر خود کماو ہمیں بھی کھلاؤ۔یہ حسن کس دن کام آئے گا میری جان کیش کروا اس حسن کو ۔اور پلیز مجھے کوئی لیکچر مت دینا گھر سے بھاگی لڑکی کی یہی اوقات ہوتی ہے ۔اور مجھے کیا پتہ تم نے صرف مجھ سے ہی پیار کیا ہے نجانے تمارے اور کتنے عاشق ھوں گے ۔”
کاشف کے منہ سے نکلتے تیروں نے رابعہ کو زخمی کر دیا ۔
وہ بپھری شیرنی کی طرح کاشف پر جھپٹی پر کاشف اس کے ردعمل کے بارے میں پہلے سے ہی جانتا تھا اسی لیے ہاتھ پکڑ کر منہ پر تھپڑ مارا رابعہ وہیں چکرا کر گری۔

“تم جیسی عورت کا یہی حال ہونا چاہیے جو اپنے ماں بھائ کی نہ ہو سکی میری کیا ہو سکے گی ۔”
کاشف نے رابعہ کے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا ۔
” ک ۔۔۔۔۔ک ۔۔۔۔کاشف بال چھوڑ پلیز بال چھوڑو ۔”
رابعہ گڑگڑا رہی تھی پر کاشف نے ایک ہاتھ سے بال پکڑ رکھے تھے دوسرے ہاتھ سے رابعہ کے منہ پر تھپڑ برسا رہا تھا ۔
ساتھ ہی مغالظات کا طوفان تھا جو اس کی زبان سے نکل رہا تھا ۔
“تم صبح ہی نوکری ڈھونڈو اور گھر کو سمبھالو بہت ہو گئے تمارے نخرے باپ کو میں تماری وجہ سے چھوڑ چکا اب سمبھالو گھر کو ۔”
یہ کہتا کاشف موبائل اٹھا کر گھر سے نکل گیا ۔
پیچھے رابعہ اپنی کم عقلی اور اپنی بیوقوفی پر ماتم کرتی رہی ۔
**********************

راحیل کی بھی شادی ہو گی اور اس کی امی نے ہی احمد کی بھی شادی کروا دی ۔جس کے ساتھ احمد بہت خوش تھا ۔
راحیل کی بیوی راحیل سےبہت محبت کرتی تھی ۔راحیل کو اب احساس ہوا تھا “چاہنے سے زیادہ چاہے جانے کا احساس بہت قیمتی ہوتا ہے ”

اس نے اپنے کئی سال رابعہ کی چاہت میں گزار دیئے تھے جس سے وہ بے پناہ محبت کرتا تھا ۔
پہلے پہل تو رابعہ بھی اس سے محبت کے دعوے کرتی رہی پر پھر اس نے کاشف سے دوستی کی کچھ امیر لڑکیوں کی دوستی اور کاشف کی دوستی نے اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی ۔اسے کاشف اور بہت زیادہ پیسہ چاہیے تھا ۔راحیل جیسا بے لوث محبت کرنے والا شوہر اسے نہیں چاہیے تھا کیوں کہ محبت ہی سب کچھ نہیں ہوتی ۔پیسہ بھی ہونا چاہیے ۔

****************

کاشف کی بے رخی دن بدن بڑھتی ہی جاتی تھی ۔کاشف سارا سارا دن گھر سے باہر رہتا رات گئے گھر واپس آ کر اپنے روم میں جا کر روم لاک کر کے سو جاتا ۔نہ رابعہ سے حال چال پوچھتا نہ ہی کوئی چیز کھانا بنانے کے لیے لاتا ۔
دو دن بھوکی رہنے کے بعد رابعہ کی عقل ٹھکانے لگ چکی تھی ۔
وہ بھائی اور ماں کی لاڈلی جب ایک ٹائم کھانا نہ کھاتی تو دونوں منتیں کرتے مناتے اس کی پسند کا کھانا بناتے کبھی باہر لے جاتا کبھی پیزا عآڈر کر دیتا کبھی باہر سے کھانا منگوا لیتا پر کبھی بھی رابعہ کو بھوکی نہیں سونے دیا ۔
آخری بار بھی جب رابعہ بھوکی سوئی تھی تب احمد بہت تڑپا تھا ۔
اب رابعہ نے خود ہی باہر نکل کر کوئی نوکری تلاش کرنے کا سوچا ۔
اسے ایک اسکول میں پندرہ ہزار پر نوکری مل ہی گی ۔

************”**************

پانچ چھ ماہ ہو چکے تھے رابعہ کو کام کرتے ہوئے ۔پر ابھی تک کاشف کی روٹین نہیں بدلی تھی بعض اوقات تو کاشف کئی دن تک گھر واپس ہی نہیں آتا پہلے پہل رابعہ بہت ڈرتی تھی اکیلے تین تین چار چار دن تک اسے بخار ہو جاتا تھا پر کبھی کاشف نے پلٹ کر خیریت دریافت نہیں کی ۔رابعہ بہت اکیلی پڑ گئی تھی ۔وہ اب ہر لمحہ اپنے بھائ اور ماں کو یاد کرتی پر واپس جا کر ان کا حال دریافت کرنے کی ہمت نہ بن پائی ۔جو سلوک وہ ان کے ساتھ کر کے آئی تھی اس کے بعد کیسے واپس جا کر ان سے ملتی کس منہ سے جاتی ۔اسی لیے رات دن اللّه سے اپنے گناہ کی معافی مانگتی یا اپنے کام سے کام رکھتی اسکول جاتی اسکول سے واپس آتی گھر کی صفائی کرتی اپنے کھانا بناتی اور کبھی راحیل کو سوچتی کتنا اچھا تھا وہ ہر بات بنا رابعہ کے بولے ہی سن لیتا تھا اور وہ اسے چھوڑ کر اس بد مزاج اور بدتمیز انسان کے ساتھ بھاگ آئی ۔

***************************
ایک دن حسب معمول رابعہ گھر واپس لوٹی تو گھر کا دروازہ کھلا پایا ۔
اسے بہت حیرت ھوئی کیوں کہ جب سے رابعہ کی شادی ھوئی تھی اور پھر جب لڑائی ھوئی تھی اس کے بعد سے کاشف نے کبھی تو رات دیر سے آنا شروع کر دیا تھا اور کبھی رات بھی واپس نہیں آتا تھا ۔
آج گھر کا لاک کھلا ہوا تھا ۔
دروازے کے قریب پہنچنے پر اسے معلوم ہوا اندر دو لوگ ہیں اور کھانا بننے کی بھی مہک آ رہی تھی وہ سخت حایران ھوئی ۔
جلدی سے دروازہ کھول کر دیکھا تو سامنے کاشف کھڑا تھا بہت خوش دکھائی دے رہا تھا ۔اور کچن سے کچھ بنانے کی آوازیں اور خوشبو آ رہی تھی ۔

رابعہ بھاگ کر کچن میں پہنچی اسے حیرت کا جھٹکا لگا کیوں کہ سامنے اس کی یونی کی دوست رانی کھڑی کھانا بنا رہی تھی ۔
” رانی رانی تم بہت خوشی ھوئی رانی تمیں یہاں دیکھ کر ۔۔۔۔۔۔
رابعہ جیسے ہی رانی کو گلے ملنے آگے بڑھی رانی نے وہیں ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا ۔

” رابعہ وہیں رہو میرے ساتھ گلے مت ملنا ۔مجھے تم جیسی دو کوڑی کی لڑکی سے مل کر ذرا برابر بھی خوشی نہیں ھوئی ۔کیوں کہ میں تم سے دوستی ختم کر چکی ھوں کئی ماہ پہلے ہی ۔اور جو دوستی تم سے کی تھی وہ بس کاشف کا شوق پورا کرنے کے لیے پورا ہو چکا کاشف کا شوق ۔۔۔”
رانی کی بات سن کر رابعہ وہیں بیٹھتی چلی گی یہ وہی رابعہ تھی جو اس کے گھن گاتے نہ تھکتی تھی ۔یہ وہی رانی تھی جو اسے مہنگے مہنگے گفٹس دیتی تھی اور یہی رانی رابعہ کو اس کی ماں کے خلاف بھڑکاتی تھی اسے بھائ کا دشمن بنایا تھا اس رابعہ نے اور آج یہ رانی کا کون سا روپ تھا ۔
ابھی رابعہ اس سب سے سمبھلی نہیں تھی کہ کاشف کاغذ پکڑے کچن میں داخل ہوا ۔
” یہ تمارا گفٹ ”
“ک۔۔۔۔۔۔ک ۔۔۔کک کیا ہے یہ ؟”

آج کئی ماہ بعد کاشف نے رابعہ سے بات کی تھی ۔
” کھول کر دیکھ لو میری جان ”

رابعہ نے جیسے ہی کاغذ کھول کر دیکھا اس کے پاؤں تلے زمین نکل گی ۔
” کاشف تم ایسا کیسے کر سکتے ہو تم مجھے طلاق نہیں دے سکتے کاشف پلیز مجھے نہ چھوڑو میں اپنے بھائی اور ماں کو تمارے لیے چھوڑ کر آئ ھوں اور تم مجھے ایسے چھوڑ رہے ہو ۔کاشف تمیں خدا کا واسطہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔

” چپ کر جاؤ بند کرو یہ ڈرامہ اور ایک اور بات سنو میں کاشف کی بیوی ھوں اس کے پاپا کو کچھ پتہ نہیں تھا اس کی شادی کا انہوں نے دھوم دھام سے اس کی شادی کروائی ہے میرے ساتھ ۔ اور آج تمیں ایک اور سرپرائیز بھی دے دوں تماری ماں مر چکی تماری بیوفائی کا غم سہہ نہیں پائی اور تمارا بھاٹئ یہ شہر چھوڑ کر کہیں اور جا بسا ہے اور یہ مکان فلیٹ بھی میرا ہے تم ابھی اور اسی وقت یہاں سے نکل جاؤ ورنہ میں نے گارڈ بلا کر تمیں یہاں سے نکلوا دینا ہے ۔اب یہاں کھڑی کیا کر رہی ہو جاؤ اپنا سامان لو اور نکلو یہاں سے ۔”

***********#* *****

چار ماہ بعد
رابعہ کسی مزار کسی مسجد کے آگے پڑی ملتی ہے اور آنے جانے والے ترس کھا کر کچھ کھانے کو دے جاتے ہیں ۔

کسی بھی لڑکی کو دیکھ کر بھاگ کر اس کے پاس جاتی ہے اور یہی کہتی ہے

“کبھی ماں کو نہ چھوڑنا کبھی کسی کا اعتبار نہ کرنا ۔”

رائٹر مانو ماہی

اپنا تبصرہ بھیجیں