ایمان کامل

ایمان کامل۔

زندگی میں کچھ پل ایسے بھی آتے ہیں جنہیں ہم چاہ کر بھی اپنی یاداشت سے نکال نہیں سکتے مجھے اختلاف ہے ان لوگوں سے جو کہتے ہیں “وقت ہر زخم کا مرہم ہے۔”
ارے مجھے لگتا ہے ہماری کلاس اس طرف ہے ہم بلاوجہ ادھر آ گئی ہیں اس طرح گھومنے سے ہماری کلاس نہیں مل جائے گی چل واپس چلتے ہیں۔
رانیا نے آخر تنگ آکر لیلیٰ سے کہا جو پچھلے آدھے گھنٹے سے کلاس ڈھونڈنے کے نام پر اسے گھمائے جا رہی تھی۔
لیلیٰ پر کسی بات کا اثر نہ ہوتے دیکھ کر بلا آخر تنگ آ کر پاس سے گزرتی ہوئی ایک لڑکی سے مخاطب ہوئی۔
بات سنی ایم ایس سی کلاس کس طرح ہے؟
میں ایم ایس کی ہیاسٹوڈنٹ ہوں ابھی ابھی مجھے پتا چلا ہے کہ اس طرف ہے شاید ،
اگر جانا چاہتی ہیں تو چلیں اکٹھے چلتے ہیں۔
لیلیٰ نےسر سری سا حیا کا جائزہ لیا، سفید چادر میں لپٹی ہوئی ایک عام سادہ سی لڑکی معلوم ایسے.
کوفت سے اس کا جائزہ لینے کے بعد پھر سے اپنے فون پر مصروف ہوگئی۔
چلے لیلیٰ محترمہ اگر آپ کی اجازت ہو تو؟؟
رانیہ نے طنزیہ ہاتھ اٹھا کر باقاعدہ لیلیٰ سے اجازت مانگی اور وہ تینوں چل پڑیں۔

پانچ منٹ کی محنت کے بعد تینوں اپنی کلاس ڈھونڈنے میں کامیاب ہوگئیں۔ اگرچہ حیا کے مزاج ان تینوں سے مختلف تھے مگر پھر بھی تینوں کی کلاس میں ہی اچھی خاصی دوستی ہو گئی اور پھر تینوں ایک ساتھ نظر آنے لگیں۔۔ رفتہ رفتہ تینوں کی دوستی اس قدر گہری ہوگئی کہ آنکھیں بند کر کے ایک دوسرے سے پہ اعتبار کرنے لگیں۔ شروع شروع میں لیلیٰ کو حیا سے کافی شکایات تھیں مگر اس کے مزاج کو سمجھتے ہوئے عادی ہوگئی۔
دنیا میں اندھا بھروسہ صرف اور صرف خدا کی ذات پر یہ اچھا ہوتا ہے کیوں کہ ایک وقت ایسا آتا ہے جب دنیا کا ہر رشتہ ساتھ چھوڑ جاتا ہے کبھی کبھی لوگ زندہ ہوتے ہوئے بھی نہیں ہوتے یہ تلخ حقیقت ہے۔
یہ وقت کا خاصہ ہے کہ وہ آہستہ آہستہ سب کچھ انسان پر آشکارا کر دیتا ہے۔ اسی لیے جیسے جیسے وقت کا پہیہ گھومتا ہے انسان لہجے اور انداز سمجھنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ لیلیٰ اور رانیہ ماڈرن خاندان سے ہیں جبکہ حیا ایک مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتی ہے۔
آہستہ آہستہ وقت گزرتا گیا اور لیلیٰ کی شہرت پوری یونیورسٹی میں پھیل گئی۔ الٹرا ماڈرن بےباک ہونے کی وجہ سے وہ نمایاں تھی کچھ رہی سہی کمی رانیا کی آمد نے پوری کر دی اگرچہ وہ لیلا جتنی شہرت یافتہ نہ تھی مگر لیلیٰ کو اپنا رول ماڈل سمجھتی تھی اور اس کی طرح بننے کی پوری کوشش کرتی لیلیٰ کیلئے تو یہ ایک عام سی بات تھی مگر رانیا کی یہ شدید خواہش تھی کہ اسے لیلیٰ کی طرح سراہا جائے، جس طرح لوگ لیلیٰ کے برینڈڈ کپڑے جوتوں اور بیگز کو دیکھ کر اپنی دلچسپی ظاہر کرتے اور اس کی پسند کی داد دیتے۔ اس کی بھی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملائیں۔
لیلیٰ کی طرح اس کی بھی حوصلہ افزائی ہو اور راہ چلتے لوگ اسے بھی مڑ مڑ کر دیکھیں۔

اکثر رانیہ حیا کو بھی ان سب باتوں پر عمل کرنے کو کہتی، اسے دولت اور شہرت کی چکاچوند سے روشناس کرانے کی پوری کوشش کرتی۔ مگر یہ یا ان سب باتوں میں اس کا ساتھ دینے سے انکار کر دیتی۔
حیا کیلئے یہ سب چیزیں بے معنی تھیں۔
رانیہ اکثر حیا سے بھی ان سب چیزوں پر عمل کرنے کو کہتی ہے جس پر حیا شائستگی سے اسے منع کر دیتی۔
حیا ان دونوں سے اس قدر مختلف تھی کہ اکثر لڑکیوں سے یہ بات جیتا دیا کرتیں کہ “حیا تم لیلیٰ اور رانیہ کی دوست ہو تمہیں دیکھ کر تو یہ بالکل نہیں لگتا”
اور پھر حیا کے اصرار پر بھی کوئی اسے کچھ نہ کر کے بتاتا کیونکہ یہ ایک عام سی بات ہے کہ کوئی دوست اپنے دوست کے بارے میں ایک غلط لفظ بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ لیلیٰ کو بھی کھایا کا دوسروں سے گلے ملنا پسند نہیں تھا کیونکہ وہ اپنی کوئی بھی چیز شیئر کرنا بالکل پسند نہیں کرتی چاہے وہ دوستی کیوں نہ ہو۔
لیلیٰ حیا اور رانیہ ہمیشہ کی طرح آج بھی اپنی فری کلاس کا وقت یونیورسٹی میں گھوم پھر کر گزار رہی تھیں جب لیلیٰ کی نظر تابش پر پڑی ۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

اسے سوئے شاید آدھا گھنٹہ بھی نہ ہوا ہوگا جب مسلسل فون بجنے سے اس کی نیند ٹوٹی۔

فون اٹھا کر نام دیکھے بنا ہی جھٹ سے کان سے لگا کر کہا۔

ہیلو! السلام علیکم!!!

”ہوں تو آپ سو رہیں تھیں میں نے آپ کو ڈسٹرب کر دیا ویری بیڈ!! “

مراد حیا کی خمار آلود آواز سن کر دھیرے سے مسکراتے ہوئے بولا۔

” کون ہیں آپ اور کس سے بات کرنی ہے؟؟ “

فون کان سے ہٹا کر حیرت سے سکرین کو دیکھا اور کندھے اچکاتے کچھ سوچتے ہوئے پھر فون کان سے لگا کر پوچھنے لگی۔

” حیا احمد میں کون ہوں یہ تو ایک راز ہے!!
جو بہت جلد آپ پالیں گی اور رہی بات کس سے بات کرنے والی تو آپ کو کال کی ہے تو آپ سے ہی بات کرنی ہے ویسے ایک بات کہوں؟؟“

کچھ توقف کے بعد وہ پھر سے گویا ہوا۔

” چلیں آپ تو اجازت دیں گی نہیں میں خود ہی کہہ دیتا ہوں۔“

” دیکھیں مسٹر میں آپ کو نہیں جانتی مگر آپ میرا نام جانتے ہیں تو مطلب میرے بارے میں باقی ساری معلومات بھی ہوگی ۔

تو کیا آپ یہ بتانا پسند کریں گے کہ آپ کون ہیں؟؟؟ مجھے کیسے جانتے ہیں اور میرا نمبر کہاں سے لیا؟؟“

اپنا نام سن کر حیا حیران ہوتے ہوئے اس کی بات کاٹتے ایک ہی سانس میں جلدی سے بولی اسے ابھی تک سمجھ نہیں آیا کہ یہ بندہ کون ہے اور اس کے بارے میں اتنا کیسے جانتا ہے۔

”ہاہاہاہا!!! آپ کو تو میرے بارے میں جاننے کی بہت جلدی ہے!!

خیر درست فرمایا میں شاید آپ کو آپ سے بھی زیادہ جانتا ہوں اور نہ صرف نام، بلکہ میں آپ کے بارے میں سب جانتا ہوں اور رہی نمبر حاصل کرنے والی بات تو ڈھونڈنے سے خدا بھی مل جاتا ہے یہ تو صرف ایک نمبر ہے!!!!“

وہ بھی کمال کا ڈھیٹ تھا حیا کو اسی کے انداز میں جواب دیا۔

” ہاں تو میں کیا کہنے والا تھا ؟؟ اوہ ہاں یاد آیا میں یہ کہنے لگا تھا کہ مس حیا احمد آپ کی آواز میرے گمان سے بھی زیادہ خوبصورت ہے ویسے آپ بھی۔۔۔۔۔۔۔“

” میری بات سنیں مسٹر آپ جو بھی کہنے والے تھے۔ آپ جو کوئی بھی ہیں میں آپ کو نہیں جانتی اور رہی بات آپکی مجھے جاننے کی تو۔

آپ میری ایک بات دھیان سے سنیئے ہمیں اللّٰہ سے زیادہ کوئی نہ ہی جانتا ہے نہ ہی جان سکتا ہے۔ اور مجھے جو آپ جاننے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ سراسر جھوٹ ہے!!“

حیا نے اپنے مخصوص انداز میں کہا۔

” ارے آپ تو فلاسفر نکلیں!!!۔ ویسے مجھے ایک بات تو بتائیں اتنے دنوں سے میں شاعری سینڈ کر کر کے تھک گیا مگر آپ نے ایک بھی جواب نہیں دیا کیا اچھی نہیں لگی؟؟“

سامنے بھی مراد سکندر خان تھا لڑکیوں کو ٹریپ کرنے کے سارے ہنر اور ہتھیاروں سے لیس۔

”مجھے کوئی انٹرسٹ نہیں ہے شاعری میں!! اور نہ ہی آپ میں آئی سمجھ اور برائے مہربانی دوبارہ مجھے پریشان مت کریئے گا!!“

اس کی بات کاٹ کر جھنجھلاتے ہوئے کہا اور جھٹ سے کال کاٹ دی۔

” بدتمیز …….سٹوپڈ آدمی ۔۔نالائق “

غصے سے فون ڈرار میں پٹختے ہوئے اس فون کال والے بندے کی عقیدت میں کچھ پھول بیجھ کر وہ پھر سے سو گئی…
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

سیمینار ختم ہوا تو سارے سٹوڈنٹس گھروں کو جانے لگے۔ شام کا وقت تھا یونیورسٹی آہستہ آہستہ خالی ہوتی جارہی تھی اور حیا کو بھی گھر جانا تھا لیکن اس کے پاس کوئی بھی بہتر ذریعہ موجود نہیں تھا۔۔
حیا انجان آدمی اور شام کا وقت دیکھ کر گھبرا رہی تھی وہ ایسے حالات میں پھنس چکی تھی جہاں پر صرف دو ہی راستے تھے ، اور دونوں کی بہت دشوار تھے۔
انسان مشکل حالات میں تبھی گرفتار ہوتا ہے جب وہ اپنے اللہ کے سوا کسی اور پر اندھا بھروسہ کرتا ہے۔۔۔۔۔۔
کیا خدا کی ذات یہ پسند کرتی ہے کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے؟؟؟ اگر ہم اللہ سے محبت کے دعویدار ہیں تو کیا ہمیں یہ زیب دیتا ہے کہ ہم اپنی نمازوں میں سجدہ تو اللّٰہ کو کریں لیکن سوچیں کسی اور جانب ہوں۔۔

دوسری طرف حیا کے گاڑی سے نکلتے ہیں مراد نے لیلی سے سوالات شروع کردیے…..” لیلا تم نے کبھی اپنی اس دوست کا ذکر نہیں کیا؟ ” لیلیٰ جو کہ اپنے فون میں اس قدر محو تھی۔۔ مراد کے سوال پر چونک کر اس کی طرف دیکھا۔۔
ہوں۔۔ ہاں کس دوست کا؟…. اوہ اچھا تم حیا کی بات کر رہے ہو لیلیٰ نے غائب دماغی سے جواب دیا۔۔۔

مراد نے بہت سمجھداری کے ساتھ لیلیٰ سے حیا کے بارے میں ساری معلومات نکلوا لی۔۔ وقت گزرتا گیا اور اس بات کو گزرے ہوئے چار ماہ ہو گئے حتیٰ کے لیلیٰ بھی سب کچھ بھول گئی مگر کوئی تھا جو آب بھی سب یاد رکھے ہوئے تھا۔۔۔ اور وہ تھا مراد صدیقی۔۔۔
جو کہ بس اچھے وقت کے انتظار میں تھا۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں