پراسرار حویلی

پراسرار حویلی۔۔۔۔۔۔۔۔

سلیم یار سامنے دیکھ۔۔۔۔۔

کیا ہے سامنے ؟

” یار وہ سفید کپڑوں والی”

” ہاں تو پھر کیا؟ سلیم نے سوالیہ نظروں سے سلطان کی طرف دیکها”

” اوۓ آج رات بہت حسين گزرنے والی ہے”

“اچھا وہ کیسے؟”
کیا آج رات لاٸیٹ نہیں جاٸی گی !

“اور سلطان کا دل کیا کہ سلیم کے اس سوال پر اس کی گردن اڑا دے”

“اے پاگل !! دیکھ علاقہ بھی سنسان ہے رات بھی جوان ہے شکار بھی آسان ہے اور دیکھ

اس حویلی ٹ ہم آسانی سے اس حسین دوشزہ کے ساتھ گزار سکتے ہيں”۰

اب کے بار بات سلیم کی سمجھ میں آہی گئی جس کو دیکھ سلطان نے بھی شکر کا سانس ليا

دونوں ایک دوسرےکو گھٹیا انداز میں آنکھ مار کر اپنے شکار کی طرف بڑھنے لگے )
اب دیکھنا یہ تھاکہ یہ کہاں تک اپنے مقصد میں کامياب ہوتے ہيں)

گھاس میں چھپی چار شراتی آنکھیں اس منظر کو اپنی پانچویں آنکھ میں محفوظ کرنے

لگیں

جیسے ہی وہ دونوں لڑکی کے قریب پہنچےسلطان یکدم رک گيا اور

حیران +پریشان +خوفزدہ نظروں سے اس لڑکی کی پشت دیکھنے لگا

جبکہ سلیم کا حال بھی کچھ سلطان جیسا ہی تھا بس فرق یہ تھا کہ سلطان لڑکی کے

پائوں دیکھ کر جو کہ الٹے تھے اور سليم لڑکی کی شکل کی طرف جس کی شکل زخموں سے

بھری تھی (ویسے دیکھا جاۓ توسلیم کی حالت زیادہ قابل رحم تھی)

جس کی حالت لڑکی کو دیکھنے کے بعد کچھ اور دیکھنے کے قابل نہيں رہی تھی یہ کہنا زیادہ بہترہوگا کہ
اس کہ حواس بہت مشکل ہی سے قائم تھے
(آخر اپنی جان بچانےکے لیے ہوش میں تو رہناہی تھا) .

اب ان دونوں نے دوڑ لگائی ابھی تھوڑا دورتک ہی یہ دونوں پہنچے ہوں گے کہ اچانک

ایک بزرگ بابا جو کہ شاید ابھی اس گلی میں آۓ تھے انہوں نے ان سے دوڑنے کی وجہ

پوچھیں

‘وہ ….وہ …. ‘

ہاں بیٹا وہ کیا

‘وہ …وہا…وہاں ….بہت ,,,,ہی….

ڈرو…..نی …چا……ڑیل…..’

سلیم اور سلطان نے اٹک اٹک کر اپنی بات بزرگ بابا کو سمجھانے کی کوشش کی

پر بیٹا وہاں پر تو کوئی بھی نہيں

بزرگ بابے کی اس بات پر دونوں نے ایک مڑ کر پیچھے دیکها تو واقعی وہاں کوئی نہ تھا

‘وہاں کہاں دیکھ رہے ہو ميں تو یہاں ہوں’

دونوں نے ڈرتے ڈرتے واپس دیکھا تو بابا غائب تھا اور اس کی جگہ وہی چڑیل کھڑی تھی

اور ان دونوں سے ہی اپنی خوفناک آواز میں مخاطب تھی

اب کہ ان کہ لیے اپنے حواس قامٔ کرنا ممکن نہ رہا اور وہیں بےہوش ہوگۓ

لوجی اب کیا کرنا ہے ان کا ”

اوے چڑیل تجھے ہی پتا ہو گا کیونکہ یہ ساری پھسوڑی تیری ہی پائی ہوئی ہے ‘

ہاں نا ”

اچھا اچھا کرتی ہوں کچھ “” زرواہ جلدی کرو یار حزیفہ کے بھی بار بار میسج آ رہے ہيں ‘”

حرب کو بھی اریج کی بات سے پریشانی ہونے لگی تو تب سے خاموش انمول بولی

مرے پاس ایک ترکيب ہے

جلدی بولو

چاروں ایک ساتھ بولے جن میں سب سے اونچی آواز ذرواہ کی تھی کہ اب اس کو بھی
فکر ہو نے لگی تھی کیونکہ ایسا پہلے کھبی نہیں ہوا تھا کہ کوئی ان کی شرارت سے
بےہوش ہی ہو جائے

(وہ اس بات سے بے خبر تھی کہ آج کی شرارت کے بعد جو جواس کے ساتھ ہوگا وہ بھی

پہلے کھبی نہیں ہوا ہوگا)

ہم سب لڑکیاں اس حویلی کی ایک طرف چھپ جاتی ہیں اور حرب تم ان کے منہ پر
ہمارے چھپتے ہی پانی پھنک دینا اس سے ان کو ہو ش آ جائے گا

تم اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتی ہو کہ ایسے یہ ہوش میں آجائیں گے ذرواہ نے الجھ کر

پوچھا

کیونکہ یہ خوف سے بے ہوش ہوئے ہیں

اوہ آئی سمجھ۔۔۔۔۔۔۔

شکریہ آپ کو بھی سمجھ آنے کی شینت ہوئی ہے

اب کہ امل چڑ کر بولی

اب کوئی مجھے یہ بتائے گا کہ پانی کہاں سے آئے گا جو میں نے گرانا ہے ان پر

لو حرب اب بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے دیکھو یہ بوتل پکڑو اور حویلی کے گیٹ کے

اندر جاتے ہی جو نلکا ہے وہاں سے پانی بھر لو

ذرواہ نے نیچے سے پلاسٹک کی خالی بوتل پکڑ کر حرب کی جانب کرتے ہوئے اپنی بات مکمل کی

تو پھر شاباش یہ بوتل کو پکڑے رکھو اور جاؤ پانی لے کر آؤ

حرب نے بوتل واپس اسے پکڑاتے ہوئے کہا

لو جی یہ کیا بات ہوئی میں نہيں جا رہی

دیکھو گڑیا لے آؤ جلدی سے ابھی ہم نے گھر بھی جانا ہے (انمول پیار سے ذرواہ کو اکثر
گڑیا کہیتی تھی خاص کر تب جب کوئی بات منوانی ہو جیسے کہ اب)

اب کی بار انمول بولی اور ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ بولے اور ذرواہ اس کی بات نہ مانے
اچھا جاتی ہوں

اس کے مان جانے پر سب نے شکر کا سانس لیا

اور ہاں گڑیا منہ بھی دھو لینا تاکہ گھر پہنچ کر کوئی مسئلہ نہ ہو

جی اچھا

اس کے اندر جاتے ہی سب نے شکر کیا اور انمول کے منصوبےکے مطابق اپنی اپنی جگہ سنبھال لی۔

اممممم اب پانی والا نلکا کہاں گیا

اووو ہاں وہ رہا اب بس اس میں پانی آ رہا ہو

شر شر شر

شکر ھے پانی آ رہا ھے

خود سے باتیں کرتی ذرواہ کو بار بار یہ لگ تھا جیسے اس کو کوئی دیکھ رہا ھے لیکن
اسے کوٸی نظر نہیں آ رہا تھا

کوٸی نہیں کوٸی نہیں ہے بس مجھے لگ رہا ہے اب یہاں کون ہوسکتا ہے

اس نے خود کو تسلی دی

ایک دم اسے لگا جیسے اس کے پیچھے کوئی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پراسرار حویلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قسط # 2

ایک دم اسے ایسا محسوس کوٸی اس کے پیچھے کھڑا ہے

اس سے پہلے وہ ہمت کر کے مڑتی اسے لگا جیسے اس کو کوٸی بلا رہا ھے آواز یوں

محسوس ہو رہی تھی ہے جیسے کہی دور سے آ رہی ہے

ارے یہ تو بلال کی آواز ہے اس نے مجھے جلدی آنے کا کہا تھا اب میری خیر نہیں۔۔۔

وہ جلدی سے دوڑتے ہوئے آواز کی طرف بھاگی یہ غور کیٔے بغیر کےجس طرف وہ جا
رہی تھی اس طرف تو راستہ باہر کی بجاۓ اندر کی طرف جاتا ہے جہاں سے
واپسی بہت بہت مشکل ہوسکتی ہے یا ہو ہی نہیں سکتی

یہ ذرواہ کہاں رہ گٸ ہے اس و پانی لانے کا کہا تھا ایجاد کرنے کا نہیں کوٸی حال نہیں
اس لڑکی کا کجلدی کا کام تو جان کر دیر سے کرے گی

ایک طرف تو بلال کو اپنی بہن کی رج کے فکر ہو رہی تھی اور خوب غصہ بھی کے پھر
سے کوٸی شرارت نہ کر رہی ہو

تم لوگ یہی رکنا میں ذرا اپنی سر پھری بہن کو دیکھ کر آیا

سب نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔۔۔
صرنہ ان کو بھی مفت میں بےعزتی کا سامنہ کرنا پڑنا تھا

بلال حویلی کی طرف چل پڑا۔۔۔۔۔۔۔

تھوڑی دیر بعد سب کی نظر جب امل کی طرف گئی جو اتنی دیر سے کچھ نہیں بولی تھی
بس ایک طرف درخت کو دیکھی جا رہی تھی

ان سب نے بھی اس کی نظر کے تعاقب میں دیکھا پر وہاں کچھ نہیں تھا تو وہ کیا دیکھ رہی ہے

اس سے پہلے کے وہ امل سے پوچھتی ایک دم سے ان کو کچھ یاد آیا

تو ان سب نے دوبارہ درخت کی طرف دیکھا

جیسے یقین کرنا چاہ رہے ہوں

اب کی بار تو ان سب کی سیٹی گم ہو گئی

کہاں ہے ذرواہ آج بس اس کو آنے دو آج نہیں اس کی خیر

افففففف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کہاں گئی یہاں بھی نہیں۔۔۔۔
پیچھے کی طرف بھی نہیں۔۔۔
حویلی کے ہر طرف تالا لگا ہوا ہے۔۔۔۔۔

مطلب اندر بھی نہیں ۔

اس سے پہلے وہ کچھ اور سوچتا اس کے موبائل کی میسج ٹون بجی

موبائل نکال کر دیکھا تو ذرواہ کا میسج آیا تھا

میں گھر آ گئی ہوں اب تم لو گ بھی آجاؤ وہاں رکنے کا کوئی مقصد نہیں
اس بات کا کیا مطلب کہ یہاں رکنے کا کوٸی مقصد نہیں؟؟؟؟؟؟؟

بلال نے پوچھا لیکن جواب نہیں آیا
چلو کوٸی نہیں گھر جا کے اچھی طرح پوچھوں گا

لو بھلا یہ کوٸی حرکت ہے ہم سارے باہر محترمہ کا انتظار کر رہے ہیں اور یہ گھر
پھونچی ہوٸی ہیں۔۔۔۔۔۔
یہ کیا بات ہوئی بھلا۔۔۔۔۔

وہ سوچتے سوچتے باہر نکل گیا

حویلی ویسے ہی خاموش اور پراسرار کھڑی تھی

یہ کیسے ہو سکتا ہے ابھی ایک سکینڈ پہلے تو وہ دونوں یہیں تھے بےہوش پڑے ایک دم
کہاں غاٸب ہو گئے

سب سے پہلے انمول کو ہوش آیا اور وہ اپے حواس کو قاٸم کر کے بولی

مجھے کیسے پتا ہو میں نے بھی تم لوگوں کے ساتھ ہی ان لوگوں کے غاٸب ہونے کا پتا لگایا
ہے اریج چڑ کر بولی

اےےےےے امل ہوش کر تم تو وہاں ایسے دیکھ رہی ہو جیسے ان کو زمین سے اگانے کا
ارادہ ہے

انمول امل کو اس طرح بت بنا دیکھ کر اکتا کر بولی۔۔۔۔۔۔

امل کو انمول کی آواز ہوش میں لاٸی اس نے خاموش اور ویران آنکھوں سے ان سب کو
دیکھا اور با پھر اس درخت کی طرف اور ایک دم اس کو ہر طرف اندھیرا نظر آنے لگا اور
وہ بے ہوش ہوگئی۔۔۔۔۔

بے ہوش ہونے سے پہلے ایک ہی بات اس کے ذہن میں تھی

یہ کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں