انجام محبت

#انجام_محبت
(ہاں مجھے اس سے محبت ہے
ہاں وہی محبت جسے لوگ ایک خوبصورت احساس کا نام دیتے ہیں لیکن یہ بات تو میں خود سے بھی چھپاتی ہو اس ڈر سے کہ کہیں اس کا انجام جدائی نا ہو شاید وہ بھی مجھ سے محبت کرتا ہو کیوں کہ جب میں اس کی طرف دیکھتی ہو تو وہ بھی مسکرا کر مجھے دیکھتا ہے دل کڑتا ہے میرا جب اسے کسی اور کے ساتھ دیکھتی ہو اور زخمی کر دیتا ہے اس کا یہ رویا جب وہ انجان بن کر پاس سے گزر جاتا ہے دل چاہتا میری جگہ پے کھڑے ہونی والی کا منہ نوچ لو: نا جانے یہ کیسی محبت ہے ہر دعا میں اس کی خوشی مانگتی ہو ،اور جب دوسروں کے ساتھ خوش دیکھتی ہو تو خود کو کوستی ہو؛شاید وہ میری محبت سے آشنا ہی نا ہو سکے کیونکہ میں تو آنا پرست ہو کیسے تسلیم کر سکتی ہو کہ مجھے اس سے محبت ہے)
اسنے اپنی ڈائری بند کی اور اس پر سر رکھ کے رونے لگ گئی اس کے رونے کی آواز بلند ہوتی جا رہی تھی
( وہ اکثر ایسا ہی کرتی تھی اپنے الفاظ ڈائری میں لکھ لیتی تھی اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے لیکن وہ ہر بار ناکام ہوتی تھی اور پہلے سے زیادہ دکھی ہو جاتی)
اتنے میں ہی ذور سے دروازہ کھلتا ہیں کیا ہوا ہور میری جان کیوں رو رہی ہو آخر تمھیں کیا ہوتا جا رہا ہے کیوں رو رہی ہو
چہرا صاف کرتے ہوئے بولتی ہے میری اماں جان کچھ نہیں ہوا بس سر میں درد ہو رہا ہے
حور بیٹا تمھارا یہ سردرد بڑھتا ہی جا رہا ہے پتا نہیں میری ننی پری کو کس کی نظر لگ گئی ہے کل تم یونیورسٹی نا جانا میں تمھیں ڈاکٹر کے پاس لے کر جاؤ گی مجھ سے تمھارا درد برداشت نہیں ہوتا ادھر آؤ میرے پاس دم کر دو
نہیں اماں میں ٹھیک ہو آپ فکر نا کرے بس تھوڑا سا درد ہے ٹھیک ہو جائے گا صبح میری ضروری پریزنٹیشن ہے مجھے یونی جانا ہو گا آپ فکر نا کرے سرد درد ٹھیک ہو جائے گا خودی..
وہ ہر بار سردرد کا بہانا بنا کر اپنا درد چھپا لیتی تھی
#انجام_محبت
#Episode_2

ذور سے سے موبائل بجنے لگتا ہے ….
حور عادتاً پہلے کی طرح الارم بند کر کے سو جاتی ..کچھ دیر بعد آنکھ کھلتی ہے تو ہربڑا کر اُٹھتی ہے اُف 8 بج گئے دیر ہو گئی ..تیزی سے اٹھتی ہے منہ ہاتھ دھونے کے بعد اپنا عبایا پہنتی ہے اور سٹولر سے اپنا چہرے کور کر لیتی ہے اور ہلکا سا گلوز اور کریم لگا کر کمرے سے نکتے ہی چلانا شروع کر دیتی ہے ۔

اماں مجھے اٹھایا کیوں نہیں آپ نے دیکھے کتنی دیر ہو گئی ہے .. شازیہ بیگم جو کے کچن میں ناشتہ تیار کر رہی ہوتی جواب دیتی ہے میں سمجھی تم نے آج نہیں جانا
وہ اپنے چھوٹے بھائی کو اٹھاتے ہوئے کہتی اماں بتایا تو تھا کہ میری آج پریزنٹیشن ہے
احمد جلدی اٹھو مجھے پہلے دیر ہو گئی ہے جلدی کرو مجھے یونی چھوڑ کر آؤ ..اُسنے اسے ہلاتے ہوئے کہا تھا
احمد جو کہ اپنی اکلوتی بہن کا اکلوتا بھائی تھا میٹرک کے امتحان کے بعد فارغ تھا اور دیکھنے میں خوبصورت۔۔ وہ کروٹ لیتے ہوئے بولا تھا کیا مسئلہ ہے ! آپ کی وجہ سے مجھے روز جلدی اٹھنا پڑتا ہے
حور نے اسے بازو سے کھینچ کر اٹھایا.. کیا مصیبت ہے ! وہ واشروم کی طرف جاتے ہوئے چلایا
آج کہا جلدی اٹھے ہو 8بج گئے ہے حور بیگ کو ٹھیک کرتے ہوئے بولی جلدی کرو میری سیکنڈ لیکچر میں پریزنٹیشن ہے پہلا لیکچر بھی مس ہو گیا ہے
دونوں کھانا تو کھاتے جاؤ شازیہ بیگم اِنہیں کار کی طرف جاتے ہوئے دیکھ کر بولی تھی
احمد جس کی عادت تھی کے اپنی بڑی بہن کو تنگ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نا جانے دیتا تھا فوراً کار میں بیٹھتے ہوئے بولا اماں جان میں تو آ کر کر لو گا اور اس حور کا تو روز کا یہ تماشا ہے
حور روز صبح جلدی جلدی میں ناشتہ کیے بغیر نکل جاتی جس کی وجہ سے اس کی اپنی اماں سے کںٔی بار ہو چکی تھی
پلیز اماں جان اب شروع مت ہویے گا اس نے خدا حافظ کہتے ہوئے بولا تھا
احمد سپیڈ سے کار چلانے لگا……
(حور کی چھوٹی سی فیملی تھی جس میں وہ اس کی اماں اور بھائی ہے
اس کے ابا جان اس جہان فانی سے رخصت ہو چکے تھے جب وہ میٹرک میں تھی ان کا ایک چھوٹا سا پیارا سا گھر تھا جسے بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا لاہور میں ان کے کوںٔی خاص جاننے والے لوگ نہیں رہتے تھے بس ایک پھوپھو رہتی تھی جن کے بچے چھوٹے چھوٹے تھے ،باقی سب رشتےدار کراچی رہتے تھے ،شازیہ بیگم بھی کراچی سے رخصت ہو کر یہاں اںٔی تھی)
احمد کار آہستہ چلاؤ حوریہ اسے دیکھتے ہوئے بولی تھی .. آپی یہ ڈرنے کا وقت نہیں آپ کو جلدی یونی جانا ہے
نہیں مجھے نہیں جانا جلدی تم سلو چلاؤ
اتنے میں کار اچانک سے رک گئی
کیا ہوا ! ہے حور فوراً بولی
پتا نہیں لگتا پیٹرول ختم ہو گیا
حوریہ کو اس پر شدید غصہ آیا وہ اسے ڈانٹتے ہوئے بولی ہاں یہ تو ہونا ہی تھا سارا سارا دن کار لے کر باہر آوارہ گردی جو کرتے ہو .. تمھیں پتا نہیں تھا کے میں نے یونی جانا ہوتا اور میں اسے دیکھ لو آپی بس کر جاۓ اب یہاں نا شروع ہو جاۓ ایک تو صبح صبح آپ کی خاطر اٹھتا ہو
ہاں کوئی احسان نہیں کرتے فرض ہے یہ تمھارا
چپ کرے یہ جو موٹر سائیکل والا آ رہا اس سے پیٹرول مانگتا ہو
ہاں کٹورا لے کر بیٹھ جاؤ تاکہ سب یونی کے بچوں کو پتا چلے حور کے بھائی کے کارنامے
آچھا چپ ہو جائے میں اس لڑکے سے مانگتا ہو وہ کار کا دروازہ بند کرتے ہوئے باہر نکلا تھا ۔۔اندر آتے ہی اس نے کار کی سپیڈ پکڑ لی تھی اور حوریہ سارے رستے چیختے چلاتے اںٔی تھی
لے آ گئی یونی آپ کی جاۓ وہ بے زاری سے بولا تھا وہ تیزی اپنے نوٹس سنبھالتے ہوئے باہر نکلی تھی اور تیزی سے اپنے کیمپس کی طرف جا رہی تھی …..

اپنا تبصرہ بھیجیں