ایک رنڈی عورت کی کہانی

بیڈ پر پڑے بے ترتیب کپڑوں میں، سفید قمیص کے اوپر رکھا وہ ملائم بریزر کسی بھی متقی بندے کے دامنِ ایمان کو تار تار کرنے کے لیے کافی تھا۔ یہ مٹی سے بنا ایک خستہ حال کمرہ تھا جس کے تاریک کونے میں لالٹین جل رہی تھی۔ لالٹین کی مدھم روشنی میں اس مہ تاباں کا جسم کبھی جل رہا تھا، کبھی بجھ رہا تھا۔۔ایک لالٹین میرے سینے میں بھی سلگنے لگا تھا جس کی تپش مجھے میرے حواس سے بیگانہ کر رہی تھی.. ایک ایسی بیگانگی جس میں طلب تھی، جستجو اور طلبِ وصال تھی.. وہ مہ تاباں چار پائی سے بندھی جھولی میں ایک ہاتھ سے اپنے روتے بچے کو جھولا جھلا رہی تھی تو دوسرے ہاتھ کی مخروطی انگلیوں سے بیک وقت سرِ پستان اور میرا دل مسل رہی تھی۔اس حسینہ کی ٹانگیں غلیل کی مانند کھلی ہوئی تھیں اور میں عین اس ویکٹوری کے نشان کے سامنے کھڑے اس کے جذباتی تلاطم کا منتظر تھا۔۔ کب اس کی جوانی کی شعلے بھڑک اٹھیں گے، کب وہ پیامِ قرب دے گی۔۔ اور کب میں کسی بھوکے شیر کی طرح اس پر ٹوٹ پڑونگا۔۔

بچہ سو چکا تھا۔۔ جذبات بے قابو ہوچکے تھے۔۔ دل دھک دھک کرنے لگا تھا۔۔اس کی سسکیوں سے کمرے کا پرسکون ماحول مسحور کن ہوگیا۔۔۔۔ میں ڈگمگاتے قدموں کے ساتھ اس کی اور بڑھا۔۔آنکھوں سے آنکھیں ملیں۔ آنکھیں چار اور میں مشکل سے دوچار ہونے لگا۔۔ اس کی آنکھوں میں مجھے ایک عجیب چمک نظر آئی۔ اس چمک کی دمک میں کھوئے میرے گرم ہونٹ اس کے رخسار کو چومنے لگے۔۔۔ میرا ایک ہاتھ زیرِ گریبان بڑھا۔۔ کچھ مسلا، کچھ دبوچا۔۔ بوسوں کا تبادلہ شروع ہوا ۔ اس کی گردن ایک سمت کو جھکی تو تب تک میں اس کی صراحی گردن پر اپنے ہونٹوں کا نقش ثبت کرچکا تھا۔۔
جھولے میں پڑا اس کا بچہ پھر سے رونے لگا۔ ایک ہاتھ سے وہ بچے کو جھولا دینے لگی اور دوسرا ہاتھ میرے گردن پر رکھ کر مجھے اپنے سینے سے لگائے رکھا۔۔۔

اب آغازِ جنگ ہوچکا تھا۔۔۔ دونوں طرف سے برابر یلغار جاری تھی۔۔ ایک طرف لطف کی سرد آہیں بھری جارہی تھیں تو دوسری طرف شدتِ درد کی سسکیاں سنائی دے رہی تھیں۔۔پسینہ ہم دونوں سے برابر ٹپک رہا تھا۔ اس نے اپنے ریشم کے دھاگوں کے بنے دوپٹے سے میرے ماتھے کا پسینہ پونچھا اور لمبی لمبی سانسیں لینےلگی۔ بچے کو روتے ہوئے چھوڑ کر اس نےاپنے دونوں ملائم ہاتھ میرے گرد حمائل کردیے۔۔اس کے خنجر جیسے تیز ناخن مجھے اپنے پیٹ پر لکیریں کھینچتے ہوئے محسوس ہورہے تھے۔۔اس کے نرم شبنمی ہونٹ لرز رہے تھے۔۔!!

کچھ دیر بعد۔۔

پانچ سو روپے کا نوٹ خفیہ مقام میں رکھتے ہوئے سرخ اناری رخسار لیے اس نے ایک اچٹتی ہوئی نظراپنے ماتھے پر بکھرے ریشمی بالوں پر ڈالی اور کیچر می جکڑ کر کانوں کے پیچھے کرتے ہوئے کہنے لگی:

“سنو نور! اگلی بار آتے ہوئے ہزار سے کم پیسے مت لانا، آٹے کی قیمت تئیس سو سے بڑھ کر تین ہزار تک پہنچ گئی ہے”..

اپنا تبصرہ بھیجیں