تعلیم دینا پیشہ یا خدمت؟

لاک ڈاؤن کے دوران جب چند ایک اسکول کھلنے لگے تو والدہ محترمہ نے کہا “جا پتر چھوٹی بہنوں کی فیس کے بارے میں میڈم نے کوئی بات کرنی ہے، ان سے بات کر آ” چھوٹی ایک بہن کو ساتھ لئے وہاں پہنچا تو میڈم غیر حاضر تھیں، ان کے قائم مقام اسکول کی ایک ٹیچر وہاں موجود تھیں جن سے سلام دعا کے بعد فیسوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں چاروں بہنوں کے متعلق کہا کہ “ان کی چار مہینے کی فیس بمع امتحانی فیس کے جمع کروا دیں” اب ہم سا آدھی کھوپڑی ایسا کچھ سن لے تو ویسے حالت آؤٹ آف کنٹرول ہو جاتی ہے، جھٹ سے کہا کہ جن دنوں اسکول بند رہے اس دوران کی فیس کس لئے میڈم؟ محترمہ فرمانے لگیں “سر ٹیچروں کو تنخواہیں جاری کی گئی ہیں، اسکول بدستور کھلا رہا، بجلی کے بل، کرایہ وغیرہ سب ادا کرنا ہے” عرض کیا محترمہ اب ہم نے ٹیچروں اور اسکول انتظامیہ کی مکمل پرورش تو اپنے ذمے نہیں لے رکھی نا؟ آج تک آپ صرف کماتے آئے ہیں تو اس موقعہ پر اگر آپ یہ سب اپنے سر لے بھی لیں تو یقیناً کوئی خسارہ نہیں ہوگا، اب ہم سے متوسط طبقے کے لوگ ایسی ظالمانہ فیسیں ادا کرتے پھریں یا دیگر ضروریات پوری کریں، پورا سال ہم آپ کی منہ مانگی فیسیں ادا کرتے رہے ہیں تو اس معاملے میں ہمارے ساتھ تعاون اب آپ کا بھی فرض بنتا ہے، میڈم کے تیور بدلتے دیکھے تو جلتی پر تیل ڈالنے کیلئے میرا یہ جملہ بڑا کارآمد ثابت ہوا کہ “میڈم ٹھیک ہے تعلیم ایک زیور ہے مگر اس کی قیمت اتنی بھی مت بڑھائیں جتنی سونے کی بڑھتی جا رہی ہے”
شدید حیرت ہوئی جب میڈم صاحبہ نے فرمایا کہ “سر یہ انویسٹمنٹ ہے، آج آپ ان کی پڑھائی پر جتنا خرچ کریں گے یہ اتنا ہی کل کو آپ کو کما کر دیں گی، ہمیں ہی دیکھ لیں، ہمیں والدین نے لاکھوں خرچ کرکے پڑھایا اور آج ہم خوب کما کر دے رہی ہیں” ایسی گھٹیا لاجک سن کر میں نے ان کی بات بیچ میں کاٹی اور صاف انداز سے کہا کہ “میڈم اس غلیظ سوچ کو خود میں ہی دفن کر دیں، خدارا نئی نسل کے دل ودماغ میں یہ خباثت مت بھریں کہ وہ کل کو لوگوں کا پیٹ کاٹ کر اپنا مال بنانے میں مگن رہیں، انہیں تعلیم کی افادیت اور اہمیت سمجھائیں نا کہ انہیں ڈگریوں کے بل بوتے پر مال کمانا، اس بدبودار سوچ کو لیکر نا ہم نے کبھی بچوں کو پڑھایا ہے اور نا ہم یہ گوارہ کر سکتے ہیں، جب آپ تعلیم دیتے وقت سوچ ہی اتنی ہلکی رکھیں گی تو آپ سے پڑھنے والے درندے اور شقی القلب تو بن سکتے ہیں مگر ایک باشعور اور قابل شخص نہیں، آپ کو بچوں کی تربیت کا موقعہ ملا ہوا ہے تو ان کی تربیت بھی ایسی ہی کریں جیسا کرنے کا حق ہے، انہیں ملک وملت کی خدمت سکھائیں نا کہ انہیں انسانیت کا خون کرکے کمانا سکھائیں”
میں بدستور بولتا ہی چلا گیا اور جب میں نے بات ختم کی تو ان کا وہی ٹکے کا جواب کہ “ہمارے لئے گنجائش ممکن نہیں سر، پلیز کاپریٹ کیجئے گا، ہم آپ کے ساتھ یہ گنجائش کر سکتے ہیں کہ آپ ہمیں فیسیں ماہانہ فیسوں کے ساتھ قسط وار ادا کر دیں، کمی بیشی ممکن نہيں۔
لو کر لو گل فر، یہ نظام تعلیم ہے جس سے گزرنے والوں سے ہم امید کرتے ہیں کہ وہ معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں گے اور ملک وملت کے بدلاؤ کا سبب بنیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں