عید ہو تو ایسی

کرم دین چوکیدار اپنی سائیکل کے ہینڈل سے گوشت کی چند تھیلیاں لٹکائے تیز تیز پیڈل مارتا ہوا اپنی دھن میں چلا جا رہا تھا اس کے چہرے پہ ایک انوکھی سی مسرت اور طمانیت کے آثار نظر آ رہے تھے ایک انتہائی غریب سے محلے میں پہنچ کر اس نے ایک گھر کے سامنے سائیکل روکی اور گھر کا دروازہ بجا دیا کچھ دیر بعد اندر سے ایک نسوانی آواز آئی کہ جی کون؟ باجی میں ہوں کرم دین چوکیدار۔۔۔! اس کے بلند آواز سے جواب دیتے ہی دروازہ کھلا اور دوپٹے کے پلو سے چہرہ ڈھانپے ایک عورت نظر آئی!
کرم دین نے نگاہیں جھکاتے ہوئے اس خاتون کو بڑے احترام سے سلام کیا حال احوال پوچھا عید کی مبارک باد دی اور گوشت کی ایک تھیلی اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا کہ لیں باجی یہ آپ کا حصہ ہے۔
اس عورت نے تھیلی لیتے ہوئے بڑے گلوگیر لہجے میں کرم دین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کرم دین میں تیرا شکریہ ادا نہیں کر سکتی بس اللہ کے سامنے اپنے بچیوں کی یتیمی پیش کر کے تیرے لئے ہمیشہ خیر مانگتی رہتی ہوں یہ سن کر کرم دین کی آنکھیں بھی ڈبڈبا گئیں اس نے جلدی سے چہرہ دوسری طرف کرتے ہوئے کہا کہ دیکھ بہن تجھے کتنی بار کہا ہے کہ ایسی باتیں نا کیا کر مجھے اچھا نہیں لگتا تو میری بہنوں کی طرح ہے اور تیری بیٹیاں مجھے اپنے بیٹیوں کی طرح ہی عزیز ہیں، اچھا میں اب چلتا ہوں مجھے اور گھروں میں بھی انکا حصہ پہنچانا ہے یہ کہہ کر وہ اس خاتون کا جواب سنے بغیر سائیکل پہ بیٹھا اور جلدی سے آگے بڑھ گیا۔
یہ حاکم علی مالی کا گھر تھا اور یہ خاتون حاکم علی کی بیوہ تھی کرم دین چوکیدار اور حاکم علی مالی ایک بہت بڑے سیٹھ کے بنگلے پہ کام کرتے تھے دونوں میں اگرچہ کچھ خاص تعلق نہیں تھا بس اچھی سلام دعا تھی اور روز آتے جاتے ایک دوسرے کا حال احوال پوچھ لیتے تھے دونوں میں غریبی کے علاوہ ایک بات یہ بھی مشترک تھی کہ دونوں کی چار چار بیٹیاں ہی تھیں بیٹا کوئی نہیں تھا۔
ایک دن ایسا ہوا کہ حاکم علی کام پہ نا آیا یوں تو وہ پہلے بھی کئی بار چھٹی کر لیا کرتا تھا مگر آج شاید سیٹھ صاحب کے کچھ مہمان آنے تھے اس لئے انہوں نے کرم دین کو اسکا پتا کرنے کے لئے اس کے گھر بھیج دیا کرم دین وہاں پہنچا تو دیکھا کہ اس کے گھر تو گویا قیامت صغریٰ برپا تھی حاکم علی کی بیوی اور بیٹیاں دھاڑیں مار مار کے رو رہی تھیں حاکم علی رات سویا تو صبح اٹھا ہی نہیں وہ اپنی بیوی اور بیٹیوں کو اس دنیا کے رحم و کرم پہ چھوڑ کر ہمیشہ کے لئے سو چکا تھا۔
کرم دین بےچارہ خود بھی بہت غریب آدمی تھا اور بال بچے دار بھی مگر اس دن سے ہر چھوٹی بڑی عید پہ جتنا ہو سکتا تھا ان کے لئے کوئی نا کوئی چیز اور گوشت پہنچا دیا کرتا تھا کرم دین جب پہلی بار ان کے ہاں گوشت لے کر آیا تو حاکم علی کی بیوی نے روتے ہوئے کہا کہ کرم دین اللہ تیرا بھلا کرے آج میرے بچے ڈیڑھ دو سال بعد پہلی بار گوشت کھائیں گے بس یہ جملہ سننا تھا کہ اس کے دل پہ خنجر سے چل کے رہ گئے بس وہ دن تھا اور آج کا دن کہ وہ ان کے ساتھ ساتھ ایسے چار پانچ اور گھروں کی بھی وقتا فوقتا مدد کرتا رہتا تھا۔
باقی گھروں میں بھی گوشت کی تھیلیاں پہنچا کر وہ واپس پلٹا تو کافی دیر ہو چکی تھی اس نے سائیکل موڑی اور اپنے گھر کی راہ پکڑ لی جیسے جیسے اس کا گھر نزدیک آ رہا تھا اس کے چہرے پہ پریشانی کے تاثرات بڑھتے جا رہے تھے رستے میں ایک جگہ ایک نلکے پہ رک کر اس نے سائیکل صاف کرنے والا کپڑا بھگو کر ہینڈل پہ لگے گوشت اور خون کے نشانات کو صاف کیا وہ شاید یہ نشانات اپنے گھر والوں سے چھپانا چاہتا تھا اور پھر وہ دوبارہ اپنے گھر کی طرف چل دیا۔
یہ اس کا ہر سال کا معمول تھا کہ وہ صبح سویرے اپنے پرانے دھلے ہوئے کپڑے پہن کر عید کی نماز پڑھنے اپنی کچی بستی سے بہت دور شہر کے سب سے بڑے محلے میں جاتا اور عید کی نماز کے بعد لوگوں کے گھروں سے گوشت جمع کرنا شروع کر دیتا گو کہ وہ ذاتی طور پہ بہت خوددار انسان تھا کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانا اس کے لئے مر جانے کے برابر تھا مگر حاکم علی کی بیوہ اور یتیم بچیوں کی خاطر وہ یہ کام بھی کر گزرتا وہ دوپہر تک گوشت جمع کرتا اور دوپہر کے بعد ان گھروں میں جا کے دے آتا اور وہ لوگ یہی سمجھتے کہ شاید کرم دین کی اپنی قربانی ہوتی ہے۔
اور واقعی یہ کرم دین کی قربانی ہی تھی وہ اپنی عزت نفس اور خودداری کے گلے پہ چھری پھیر کر ہی ان کے لیے لوگوں کے سامنے دامن پھیلا کر گوشت اکٹھا کیا کرتا تھا اور ظاہر ہے اس کے لئے اس سے بڑی قربانی اور کیا ہوسکتی تھی۔
سال سال بعد کرم دین کی بدولت گوشت کا مونہہ دیکھنے والے یہ کب جانتے تھے کہ خود کرم دین کے گھر سال کے بعد بھی گوشت نہیں پکتا کئی بار کرم دین کے جی میں آیا بھی کہ وہ ایک آدھ تھیلی اپنے گھر بھی لے جائے مگر ہر بار اس کا ضمیر اسکے آڑے آجاتا اور اپنے بچوں کو یہ گوشت چاہتے ہوئے بھی نا کھلا پاتا۔
کرم دین کی بستی قریب آچکی تھی اس نے اپنی آنکھوں کی نمی کو لوگوں سے نظریں بچا کر صاف کیا اور اپنے درد و الم کو چہرے کے مصنوعی تاثرات سے چھپانے کی کوشش کرتا ہوا اپنی گلی میں مڑ گیا۔ اب اس کے سامنے اس کے اپنے گھر کا دروازہ موجود تھا جس کے اس پار غربت و افلاس کا لبادہ اوڑھے اس کی بیوی اور بیٹیاں اس کی منتظر تھیں۔
کرم دین نے کچھ لمحے توقف کر کے دروازہ بجا دیا اس کی چھوٹی بیٹی نے دروازے کی درز میں سے اپنے باپ کو دیکھ کر دروازہ کھول دیا کرم دین سر جھکائے ہوئے اپنے گھر میں داخل ہو گیا اس نے اسی طرح اونچی آواز میں سب کو سلام کر کے سر اٹھایا تو دیکھ کے حیران رہ گیا کہ اس کے صحن کے بیچوں بیچ کھانے پکانے کے سامان کا ڈھیر لگا ہوا ہے اور ساتھ ہی ایک تھیلے میں اچھا خاصا گوشت بھی پڑا ہوا ہے۔
کرم دین نے حیرت سے اپنی بیوی کی طرف دیکھا اور پوچھا کہ یہ سب کہاں سے آیا؟ اسکی بیوی بولی کہ ایک بہت بڑی گاڑی میں کوئی بڑا آدمی آیا تھا وہ کہہ رہا تھا کہ وہ آپ کو جانتا ہے اور ساتھ میں ایک چٹھی بھی دے کر گیا ہے میں نے سامان تو اس کے اصرار پہ رکھ لیا مگر اب آپ کے انتظار میں ہی تھی اور ساتھ ہی ایک لفافہ کرم دین کی طرف بڑھا دیا کرم دین نے جلدی سے لفافہ کھولا اور اس میں موجود چٹھی پڑھنے لگ گیا
سلام دعا کے بعد لکھا تھا کہ
یار کرمے میں تجھے ایک عام سا بندہ سمجھتا رہا مگر تو تو بہت بڑا آدمی نکلا، اتنا بڑا کہ تیرے سامنے مجھے اپنا آپ بہت چھوٹا محسوس ہونے لگا ہے۔
مجھے تیرے بارے میں کچھ باتیں کہیں سے پتا چلیں تھیں پھر میں نے سارا دن تیرا پیچھا کیا اور حاکم علی کے گھر تک جا پہنچا وہاں سے مجھے تیرے بارے میں باقی سب پتا چل گیا اور جب تیرے گھر آیا تو پتا چلا کہ تیرے اپنے گھر کے حالات بھی بالکل انہی لوگوں جیسے ہیں
کرمے یہ کچھ چیزیں عید کا تحفہ سمجھ کر قبول کر لے تجھے اللہ کا واسطہ انکار نا کرنا آج سے تیرا اور باقی پانچوں گھروں کا سارا خرچ میرے ذمہ ہوا باقی باتیں شام کو بنگلے پہ کرتے ہیں اور ہاں آج ڈیوٹی پہ ذرا جلدی آ جانا۔ منجانب ”تیرا سیٹھ۔
کرم دین کی آنکھوں سے آنسو نکل کر چٹھی کی تحریر بگاڑ رہے تھے اور اسکی زبان پہ بے اختیار جاری تھا۔۔۔ اللہ اکبر اللہ اکبر لاالہ الااللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد۔

اپنا تبصرہ بھیجیں