آجکل جادو کے بڑھتے ہوئے مسائل کی وجوہات

اگر ہم آج سے چند سال پہلے دیکھیں تو یہ مسائل اتنے زیادہ نہیں تھے جتنے آج کل موجودہ دور میں ہے
رسول اللہﷺ کے دور میں بھی جادو موجود تھا اور جادوگر بھی موجود تھے لیکن صحابہ کرام کی زندگیوں میں یہ مسائل بہت کم تھے کیونکہ صحابہ کرام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کرتے تھے ان میں توکل موجود تھا اس وجہ سے وہ ان مسائل کا بہت کم شکار ہوتے تھے اور ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو پیچھے چھوڑ دیا اور آج ہم ان مسائل کے گھراؤ میں ہیں

آجکل کی مائیں اپنے بچوں کو پاکی کے بارے میں بتاتی نہیں ہیں جس کی وجہ سےشیاطین کو اثر ڈالنے میں آسانی ہوتی ہے اور ان کا اثر زیادہ ہوتا ہے
اگر آپ آج سے دس سال پہلے دیکھیں جو واش روم ہوتے تھے وہ گھروں سے بہت دور ہوتے تھے پھر یہ ہوا کہ گھروں کے اندر آ گئے بلکہ آج کل وہ واش روم کمروں میں آ گئے ہیں
اللہ کے نبی نے فرمایا کہ تم جب واش روم جاؤ توخبیث جنوں سے بچنے کے لئے دعا پڑھ لیا کرو اس سے ثابت ہوا کہ واش روم میں شیاطین ہوتے ہیں
ایک اور وجہ ہمارے اپنےکپڑے ہیں۔ جوہم واش روم میں ہی رکھ کے آتے ہیں جس سے شیاطین ان کپڑوں پر جادو کر دیتے ہیں اور جب ہم وہ کپڑے پہنتے ہیں تو اس سے ہمارے اوپر بھی اثر ہوتا ہے
کیوں کہ ہم دعا پڑھ لیں تو وہ ہمارے اوپر تو اثرنہیں کر سکتے لیکن پھر وہ ہمارے کپڑوں پر جادو کر دیتے ہیں
ایک بہت بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے دعائیں چھوڑ دی ہیں دعا پڑھنے سے انسان اللہ کی پناہ میں آ جاتا ہے تو وہ شیاطین پھر اس بندے کو کچھ بھی نہیں کہہ سکتے

ایک اور وجہ حسد بھی ہے لوگ ایک دوسرے سے حسد کرتے ہیں اور ایک دوسرےپرجادو اور تعویذ کرواتے ہیں
ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کچھ لوگ جنوں کو اپنے قابو میں کرنا چاہتے ہیں تو وہ ان سے کام لینا چاہتے ہوتے ہیں لیکن وہ اکثر اوقات ان پر الٹا اثر کر جاتے ہیں جس سے وہ اس مسئلے کا شکار ہو جاتے ہیں

اب اس کا حل یہ ہے کہ تمام گھر والے پاکیزگی اور صفائی کا خاص خیال رکھیں ۔نماز باقاعدگی سے ادا کریں۔صبح شام مسنون اذکار اور دعاؤں کا اہتمام کریں ۔شریعت کے احکامات کی پابندی کریں۔اور اللہ تعالی پر توکل کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں