قربانی کی کھالوں کو کیسے کام میں لایا جائے؟

مدارس کیلئے ایک مفید مشورہ
۔۔
مارکیٹنگ کی دنیا میں ایک سٹریٹجی بہت عام ہے جسے ڈسٹرمیڈیشن مارکیٹنگ Disintermediation Marketing کہا جاتا ہے۔۔ جس میں Supplier بغیر کسی Intermediary (بیچوان) یعنی درمیانی واسطہ کے Manufacturer یعنی کارخانہ دار کو Raw materials خام مال بیچتا ہے۔۔اسے سادہ الفاظ میں Direct Marketing بھی کہتے ہیں۔۔ مختلف ممالک کے مجبور کسانوں اور محنت کش طبقہ نے ایک نظم کے تحت اس حکمت عملی کو اپنایا۔۔ نتیجتاً کاروباری مافیاز اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔۔۔۔۔!

چرم قربانی جو کہ دینی مدارس اور دوسرے فلاحی تنظیموں کی آمدنی کا ایک مؤثر ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔۔۔۔ دو چار سالوں سے اجارہ دار مافیا نے مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے Value less بنا دیا ہے، جس سے دینی مدارس اور فلاحی و رفاہی تنظیموں کو اربوں کھربوں کا نقصان ہوا ہے۔۔۔۔ یہ مسلمان امت کے بڑے دماغوں کیلئے کسی چیلنج سے کم نہیں۔۔۔ وفاق المدارس العربیہ، جو کہ پوری دنیا کی سطح پر ایک بہت بڑی منظم تنظیم ہے، کو ایک مشورہ دینا مناسب سمجھتا ہوں۔۔۔۔!

عام طور پر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ہر مدرسہ اپنے ذرائع کو استعمال میں لاکر کھالیں اکٹھی کرتا ہے۔۔ اور پھر مختلف ٹھیکیدار اونے پونے داموں ان سے خرید لیتے ہیں۔۔۔۔ بالفرض اگر بھینس کی کھال ایک ہزار میں خرید لے تو آگے اسے 3 ہزار میں فروخت کرتا ہے اور بڑے ٹھیکیدار سٹاکسٹ کو 6 ہزار پر فروخت کرتا ہے اور اسٹاکسٹ اس کی صفائی کرکے 15 ہزار پر انٹرنیشنل مارکیٹ میں فروخت کرتا ہے۔۔ یہ لوگ ہی اس کی قیمت طے کرتے ہیں۔۔۔۔
وفاق المدارس کے پاس ہر ضلع میں ایک مسئول اور معاونین کی باصلاحیت افراد کی ایک ٹیم ہوتی ہے۔۔ اگر ایک ایسا سسٹم بنایا جائے جس کے تحت متعلقہ ضلع کے مدارس اپنی کھالیں ضلعی مسئول کے پاس جمع کریں، مسئول ان کو رسید دیں جسمیں تعداد اور اقسام کی تفصیل درج ہو۔۔ اسی طرح ہر صوبہ میں وفاق کی طرف سے مقرر کردہ اسٹاکسٹ ہو اور تمام اضلاع کی جمع شدہ کھالیں وہاں سٹاک اور محفوظ کی جائیں۔۔۔۔ اور چاروں صوبوں میں بھی اسٹاکسٹ مقرر کریں۔۔۔
وفاق المدارس کے بین الاقوامی سطح پر تعلقات ہیں جن کو استعمال میں لا کر بین الاقوامی مارکیٹ میں پہلے سے گاہک تلاش کریں اور ان سے باقاعدہ معاہدہ بھی کریں۔۔میں یقین کیساتھ کہہ سکتا ہوں کہ بہت بڑا فائدہ ہوگا۔۔۔۔!

اگر ہر صوبے میں اسٹاکسٹ کیساتھ وفاق معاہدہ کرے کہ کھالیں محفوظ کرنے کے بعد اس کو صفائی کے عمل سے گزارنے کیلیے پلانٹ بھی لگائیں تو آپ کو کل قیمت کا 25 فیصد ملے گا جبکہ اسکا 25 فیصد وفاق کو اور 50 فیصد مدارس کو ملے گا۔۔ یقین جانئے مدارس کا بجٹ اس سے بھی پورا ہوسکتا ہے۔۔ اور وفاق المدارس اپنے حصے کے 25 فیصد سے نہ صرف ملازمین کی تنخواہیں پوری کرے گا بلکہ اس سے ایک بہت بڑا رفاہی ٹرسٹ بھی قائم کرسکتا ہے جس کے پاس اربوں روپے بجٹ ہوگا۔۔۔۔۔!

اگر وفاق المدارس صرف اعلان ہی کر دیں کہ ہم آئندہ کھالیں خود ڈائریکٹ مارکیٹنگ کے ذریعے بیچیں گے تو ان اجاردار مافیاز کی چیخیں نکلیں گی۔۔ اور کھال کی قیمتیں کم از کم پرانے لیول تک آجائیں گی۔۔!
۔
یہ ابتدائی لیول کا ایک مختصر خاکہ ہے۔۔ اس پر کافی کام کیا جاسکتا ہے۔۔ جواز اور عدم جواز کے مسئلے کو بھی خوش اسلوبی سے حل کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہاں قیمت گھٹتی نہیں بلکہ بڑھتی ہے۔۔ امسال جو ہوا سو ہوا، لیکن آئندہ سال کیلئے اس کا حل نکالنا وفاق المدارس پر قرض ہے۔۔۔۔۔!!

اپنا تبصرہ بھیجیں