لبنان دارالحکومت کی بندرگاہ میں دھماکہ کیسے ہوا

(ایموشنل ریڈر نامہ نگار،ایموشنل ریڈر نیوز ایجنساں،ایموشنل ریڈر صحافی فورم)
لبنان کے دارالحکومت بیروت میں بندرگاہ پر اتنا بڑا دھماکہ ہوا ہے کہ اس کا شمار جدید دور میں ہونے والے دنیا کے سب سے بڑے دھماکوں میں کیا جا سکتا ہے، یا پھر شاید حالیہ تاریخ کا سب سے بڑا دھماکہ ہے۔ (غیر ایٹمی دھماکہ جس کی طاقت تقریباً ایٹمی دھماکے کی سی معلوم ہوتی ہے )
امریکہ میں اوکلا ہوما میں دو ٹن بارود استعمال ہوا،جس سے دو عمارات تباہ ہو گئی تھیں جبکہ لبنان میں ہونے والے اس دھماکے میں ستائیس سو ٹن نائٹریٹ پھٹی ہے۔
اس دھماکے سے کئی کلومیٹر کے علاقے میں عمارات تباہ ہوئی ہیں اور ہزاروں لوگ اس سے جانبحق اور زخمی ہو گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ہونے والے دھماکے میں اب تک 78 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں ، زخمی ہونے والو کی تعداد 4000 سے زائد بتائی جا رہی ہے ، نقصان کا تخمینہ بوجہ کرونا معیشت کے زوال اور پورے شہر کی تباہی کے بعد دگنا لگایا جا رہا ہے ، کہا جا رہا ہے کہ لبنان میں 1975 سے لیکر 1990 کے بعد یہ سب سے بڑا معاشی دھچکا ہے ، دھماکہ اس قدر زور دار تھا کہ بحیرہ روم کے ملک قبرص جو کہ شمال میں 240 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ، میں بھی جھٹکے محسوس کئے گئے ، جن کو لوگ زلزلہ سمجھتے رہے ،،

دھماکے کے متعلق سرکاری طور پر کوئی اعلان ابھی تک تو نہیں کیا گیا ، لیکن کہا جا رہا ہے ، کہ یہ دھماکہ ایمونئم نائٹریٹ کے 2750 ٹن مادے کے گودام میں رکھے ہوئے ذخیرے سے ہوا ، جو 6 ماہ قبل ایک بحری بیڑے سے ضبط کر کے سٹور کر دیا گیا تھا ، یاد رہے کہ ایمونئم نائٹریٹ زیادہ تر کھاد میں استعمال کیا جاتا ہے ، تاہم اگر آگ کو اس کے قریب کیا جائے ، تو اس کے پھٹنے سے زہریلی گیسوں کا اخراج ہوتا ہے ، جن میں نائٹروجن ، آکسائڈز ، اور ایمونیا شامل ہیں۔
لبنان میں اس وقت 2 ہفتوں کے لئے ایمرجنسی نافذ کی گئ ہے ، لبنانی صدر نے تحقیقات کے لئے 100 ارب لیرا دیئے ہیں ، جن کا مقصد کشیدہ صورتحال سے نمٹنا ہے اور حالات کو قابو کرنا ہے ، جن کی مالیت ساڑھے 6 کروڑ ڈالر بنتی ہے۔
ابھی تین دن پہلے ہی لبنان نے اعلان کیا تھا کہ وہ اسرائیلی حملوں سے دفاع کے لئے تیار ہے، اور صرف تین دن بعد ہی لبنان میں قیامت صغرٰی بپا ہو گئی

بے غیرت مسلم حکمرانوں اور ان کے چمچوں کی وجہ سے مسلمانوں کی جان مال اور حرمت کتنی سستی ہو چکی ہے اس بات کا اندازہ اس سے ہی لگا لیں کہ اگر ایسا واقع کسی مغربی ملک میں ہوا ہوتا تو ساری دنیا میں چیخ و پکار کی جا رہی ہوتی اور سب اپنے اس مغربی “ابو” کی “بارگاہ” میں رو رو کر ہلکان ہو چکے ہوتے، اور ذمہ دار ملک کو تباہ و برباد کر کے رکھ دینے کے منصوبے پر عمل شروع ہو گیا ہوتا.

نہایت افسوس کی یہ بات بھی ہے کہ لبنان معاشی بحران کا شکار اور غربت کی طرف گامزن ہے۔۔۔ بزرگ شیطان امریکہ کے ساتھ ساتھ بزرگ شیطان ایران نے جہاں بھی دخل اندازی کی ہے وہاں گند ہی ڈالا ہے اور تباہی و بربادی ہی آئی ہے، شام، لبنان ، عراق اور یمن کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں

ان خبروں پر محض دشمنوں کو کوسنے کی بجائے ایک سبق کبھی نہ بھولیں:
آپ ہجوم کی حیثیت سے دشمن ممالک سے نہیں نمٹ سکتے، یہ کام آپ کی ریاست کے کرنے کا ہے، اس لئے اپنے بے غیرت بندوبستوں، اپنے بے غیرت اسٹیبلشمنٹ اور حکمرانوں کی خبر لیں، اور اپنی ریاستوں میں انصاف کے ذریعہ طاقت حاصل کریں، تاکہ پھر مسلمانوں کی فوجیں نکلیں مسلمانوں کی حفاظت کو، اور دشمنوں کو فتح کرنے کو۔۔۔۔ کیونکہ یہٰی واحد راستہ ہے، ورنہ پراکسی وارز میں غیر سرکاری طور پر بندے بھیج لینا بزدل طریقہ ہوا کرتا ہے اور اس سے اعلٰی تر مقاصد حاصل نہیں ہوا کرتے۔
لبنان میں ہونے والا یہ دھماکہ کس نے کیا ؟ کیوں کیا ؟ کیا مقاصد ہیں ؟ یہ سب سوالات وقت پر قرض ہیں ، لیکن اسرائیلی وزیراعظم کا ٹویٹ بہت سارے کنڈے کھول رہا ہے ، بہت ساری جڑیں باہر نکل رہی ہیں ، حالات کی نزاکت واضح کر رہی ہے ، فلسطین پر قبضہ اب قوت پکڑ رہا ہے ، تاریخ میں یاد رکھا جائے گا ، کہ ایک طرف دنیا میں لبنان عراق شام فلسطین یمن میں دگرگوں صورتحال تھی ، کشمیر میں ایک سالہ لاک ڈاؤن اور کرفیو تھا ، دوسری طرف ایٹمی طاقت کی حامل اسلامی ریاست کے حکام عملی طور پر پیش قدمی ، حالات کے سازگار اور پر امن بنانے کے بجائے ، منٹوں کی خاموشی اور چند ساعتوں کے قیام میں اظہار یکجہتی کرتی اپنے آپ کو بہلانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں