کھسرہ دین سکھاتا ہے !!

خلق قرآن کا مسئلہ سر چڑھ کر بول رہا تھا ۔ حکومت کی قوت حاصل تھی ۔ علماء اسلام میں سے درجنوں معتزلہ کے ظلم و ستم کی بھینٹ چڑھ چکے تھے اور سینکڑوں قیدوبند کی صعوبتیں جھیل رہے تھے ۔ امام احمد بن حنبل جیسا جلیل القدر امام استقامت کا کوہ گراں بنا ہوا تھا ۔ زبان زد و خاص و عام پر آپ کے تقوی و علم کے تذکرے تھے لیکن خلیفہ تھا کہ سمجھ کر نہیں دے رہا تھا !! ہر مرنے والا اپنے جانشین کو وصیت کرتے جاتا کہ خلق قرآن کو نہ چھوڑنا اور جانشین ظلم و ستم میں اور اضافہ کردیتا ۔یہاں تک کہ اچانک ایکدن عبادہ نامی “ایک مسخرہ” واثق کی خدمت میں حاضر ہوا۔
اے امیر المومنین اللہ آپ کو قرآن کےبارے میں بہت بڑا اجر دے ۔(یہ عربی زبان میں کسی شخص کو کسی کی موت کے وقت کہا جاتا ہے )
واثق نے کہا : اے کمبخت قرآن بھی کیا مرنے کی چیز ہے ؟
مسخرہ بولا : یا امیرالمومنین ہر مخلوق چیز پر موت طاری ہوگی ۔ خدا کی قسم قرآن کے مرنے کے بعد لوگ تراویح کیسے پڑھیں گئیں ؟!!
واثق ہنسنے لگا اور کہا کہ “خدا تجھے غارت کرے چپ”۔ لیکن وہ مسئلہ جو کہ بڑے بڑے علماء بھی اسے نہ سمجھا سکے ایک مسخرے نے چند ہی لمحوں میں اسے سمجھا دیا اور وہ خلق قرآن کے عقیدے سے تائب ہوا اور علماء پر ظلم و تشدد کا بازار بند کردیا !!
پہلے حکمران اس لحاظ سے بہتر تھے کہ مسخروں سے بھی دین سیکھ لیتے تھے اور اب کے اس لیے زیادہ بدتر ہیں جو کے طنزومزاح میں بھی تنقید کرے اسکو بھی بند کردیتے ہیں ، ظلم لاجواب ہونے کی دلیل ہوتا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں