کنجری

میری شادی ہو رہی ہے اور میں تم سے رابطہ نہیں رکھ پاؤں گی مجھے ایک خواب سمجھ کر بھول جاؤ…
اور ہاں میں چاہتی ہوں کہ تم خود مجھے اپنے ہاتھوں سے رخصت کرو
بلا کسی جواز کے مجھے تمہارا عشق دیکھنا ہے تم کہتے ہو نا کہ تم مجھے کسی اور کا ہوتے نہیں دیکھ سکتے
سمجھو تمہارے عشق کا امتحان ہے۔۔۔

تم آؤ گے تو ڈولی میں بیٹھو گی ورنہ نہیں بیٹھو گی۔
اور تمہیں پتہ ہے مجھے پگڑیوں کے واسطے دیئے گئے ہیں کہ میں تم سے بات نہیں کروں لیکن کیا کرو نہیں رہا جاتا ۔۔۔۔
دوسری طرف سے مسلسل سسکیوں کی آواز آ رہی تھی تم رو رہے ہو مرد تو نہیں روتا مرد بہت مضبوط ہوتا ہے کل میری بارات ہے اور تم نے آنا ہے اور اگر تم نہ آئے تو میں سمجھو گی تمہیں مجھ سے محبت کبھی نہیں تھی ۔۔۔۔۔
2 منٹ کی خاموشی اور مسلسل سسکیوں کی آواز سنی جا رہی تھی۔۔۔۔

تم مجھ سے یہ مت کہو کہ میں تمہیں خود رخصت کروں کیوں کہ میں نہیں کر سکتا میں مر جاؤ گا۔ مجھے میرا ضمیر ہی مار دے گا اس کے سوالات کا کیسے جواب دو گا۔۔۔۔
تم تم نے بھی کہا تھا تم میرے علاوہ کسی کی نہیں ہو گی میرے نام کے الاپ کرو گی تو پھر آج ایسا کیوں ؟ تم نے بھی کہا تھا تم نہ ملے تو مر جاؤ گی سب یاد ہے تمہیں۔۔۔۔
ہاں علی مجھے میرا ایک ایک لفظ یاد ہے تبھی تو تمہیں بلا رہی دیکھو تو میں کتنی ثابت قدم ہوں تم آؤ گے۔۔۔۔ میں انتظار کرو گی۔۔۔۔۔۔
کل وہ بجھے منہ سے تیار ہوتا ہے آنکھوں سے لاہور روانہ ہوتا ہے اور وہ نہ چاہتے ہوئے بھی عائشہ کی شادی میں پہنچ جاتا ہے آخر عشق ہے تڑپ تو ہوتی ہے اس میں اس کی آنکھیں مسلسل عائشہ کو ڈھونڈ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
وہ دلہن کے کمرے میں جا پہنچا ۔۔۔۔
ماشااللہ بہت خوبصورت لگ رہی ہو! اس نے عائشہ کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔ عائشہ علی کی آواز سنتے فورا متوجہ ہو جاتی ہے۔۔ دیکھو مجھے مہندی کا کتنا رنگ آیا ہے علی میں بہت خوش رہوں گی وہاں مہندی بتا رہی مجھے ۔۔۔دیکھو ناں اس میں کتنا پیارا لگ رہا نام لکھا۔۔۔۔پتہ میں بہت خوش ہوں میری خواہش تم نے آکر پوری کر دی ۔۔۔
خوش خوش ہونا کسے کہتی ہو تم تم خود سے لڑ رہی ہو تم میرے بغیر خوش نہیں رہ سکتی ۔۔۔۔
لیکن علی میں خوش ہوں مجھے محبت سے زیادہ باپ کی پگڑی عزیز ہے علی ۔۔۔۔۔
میں مر جاؤ گا عائشہ۔ ۔پلیز علی ٹپکل باتیں مت کرو کوئی نہیں مرتا کسی کے لئے۔۔مجھے پتہ تھا اس نے مر جانا لیکن میں اس کا ضبط دیکھ رہی تھی سنو آ تو گئے ہو جب نکاح ہو تو میرے قریب رہنا تاکہ تم میرا اقرار سن سکوں ۔۔۔میری اندر کی رگیں بے جان ہو چکی تھی میں رونا چاہ رہی تھی مجھے آنسوؤں نہیں تھے آرہے میں مسکرانا چاہتی تو لب ہی نہی ہلتے تھے کیونکہ جو میں علی سے کہ چکی تھی شاید اب میرا زندہ رہنا بھی مشکل تھا۔۔۔۔
اے عشق جی بھر کے آزما مجھے لیکن یاد رکھو میری موت سے مر تم بھی جاؤ گے۔۔۔۔علی کہ کر چلا گیا۔۔۔۔۔
اپ کا نکاح ندیم ولد فراز سے کیا جاتا کیا اپ کو قبول ہے۔۔۔۔۔مولوی صاحب عائشہ سے پوچھ رہے تھے ۔۔
علی بلکل عائشہ کی بائیں طرف کھڑا تھا ۔۔۔۔
جی قبول ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
عائشہ کی آواز میں لڑکھڑاہٹ محسوس کی جا رہی تھی لیکن وہ جواب دے رہی تھی۔۔۔
کیا آپ کو قبول ہے ۔۔۔مولوی صاحب نے پھر پوچھا۔۔۔۔
قبول ہے ۔۔۔عائشہ نے کہا ۔۔۔۔
عائشہ کے کندھے پر آنسوؤں مسلسل گر رہے تھے لیکن وہ اس کو اگنور کر رہی تھی۔۔۔
کیا آپ کو قبول ہے۔۔۔۔؟؟
مولوی صاحب نے پھر پوچھا ۔۔۔۔
خاموشی چھا گئی عائشہ خاموش تھی مسلسل خاموشی پا کر عائشہ کی ماں نے اسے جنجھوڑا اور وہ صوفہ پر بیٹھی زمین کی طرف گر گئی جی عائشہ
کے ہونٹ نہیں ہلے اس کے لب سی دیئے گئے اس کے لبوں پر مہر لگا دی گئی اس کے لبوں کی حرکت رک چک تھی ہونٹوں نے ہونٹوں سے ملنا چھوڑ دیا لڑکھڑاہٹ ختم ہو چکی تھی اور عائشہ بھی ختم ہو چکی تھی!!
حقیقی پہ مبنی کہانی ___

اپنا تبصرہ بھیجیں