پینڈو کی شہری لڑکی کے ساتھ زیادتی

مما وہ پینڈو سا ہے میں اس سے شادی نہیں کرنی
حلیمہ اپنی ماں سے کہہ رہی تھی
ماں نے پیار سے کہا بیٹی وہ تمہارا کزن ہے اچھا لڑکا ہے کیوں شادی نہیں کرنی اس سے
حلیمہ نے کہا مما وہ پینڈو سا ہے نہ اسے کپڑے پہنے کی تمیز نہ اسے بات کرنے کی تمیز ہے
میں اس کے ساتھ شادی نہیں کروں گی
ماں نے کہا حلیمہ شادی تو کرنی پڑے گی تم راضی ہو یا نا ہو
حلیمہ نے اپنے کزن کاشف کو کال کی کہا کاشف میں تم سے شادی نہیں کرنا چاہتی
تم شادی سے انکار کر دو
کاشف نے کہا میں ماں باپ کی مرضی کے خلاف نہیں جا سکتا
حلیمہ نے کہا میں تمہارے ساتھ زندگی بھر نہیں رہ سکتی
کاشف نے کہا تم خود انکار کر دو
میں تو کچھ نہ کہنے والا
حلیمہ نے جب دیکھا اس کی شادی کاشف سے کر رہے
حلیمہ نے خودکشی کرنے کے لیئے گھر میں پڑی میڈیسن کی کافی ساری ٹیبلٹ کھا لی
ہسپتال لے گئے
ڈاکٹرز نے معدہ واش کیا جان بچ گئی
حلیمہ نے اپنی ماں کے سامنے ہاتھ جوڑے مما مجھ پہ رحم کرو
میں اس جاہل انسان کے ساتھ نہیں رہ سکتی
وہ بھی گاوں میں
ماں نے کہا بیٹی سوچ لو ہم سب جانتے ہیں وہ کاشف بہت اچھا لڑکا ہے کیا ہوا وہ اتنا پڑھا لکھا نہیں ہے
وہ گاوں میں رہتا ہے تو
لیکن وہ لڑکا اچھا ہے
حلیمہ کے نہ چاہتے ہوئے بھی
حلیمہ کی شادی کاشف سے کروا دی
حلیمہ نے بس سمجھ لیا زندگی برباد ہو گئی
سارے خواب ختم ہو گئے
سب خوشیاں جلا دی گئ ہیں
سب کچھ ایک جاہل انسان کے حوالے ہو گیا
پہلی رات تھی حلیمہ نے کاشف کو کہا کاشف تم مجھ سے شادی کرنا چاہتے تھے شادی ہو گئی لیکن مجھ سے دور رہو
کاشف مسکراتے ہوئے کہنے لگا ٹھیک ہے حلیمہ آپ اتنا غصہ کیوں کر رہی ہیں
حلیمہ نے کہا تم نے میری زندگی تباہ کر دی کاشف
کاشف نے ایک ڈبیہ کھولی اس میں چمکتی ہوئی انگھوٹی تھی
کاشف نے وہ ڈبیہ حلیمہ کے سامنے رکھی
اور کہنے لگا حلیمہ یہ گفٹ آپ کے لیئے حلیمہ نے انگھوٹی
اٹھا کر سائڈ پہ رکھ دی اور کروٹ بدل کر لیٹ گئ رونے لگی
کاشف نوافل ادا کرنے لگا
پھر حلیمہ کے پاس لیٹ گیا
یوں زندگی کا سفر شروع ہوا حلیمہ کا دم گھٹنے لگا کاشف کے ساتھ
کاشف دیکھنے میں خوبصورت تھا بس زیادہ پڑھا لکھا نہیں تھا ڈیسینٹ سا بھی نہیں تھا
حلیمہ ماڈرن سی لڑکی تھی کاشف صبح اٹھتے ہی حلیمہ کا ماتھا چومتا
پھر خود ناشتہ بناتا حلیمہ کو غصہ آتا یہ بندہ مجھے امپریس کرنے کے چکروں میں ہے
حلیمہ جب کاشف کے ہاتھ کا بنا کھانا کھاتی بہت حیران ہوتی اتنا مزے کا کھانا
کاشف رات کو تھکا ہارا آتا حلیمی بس خاموش سی اپنی دنیا میں گم سی رہتی اس کو کوئی پرواہ نہیں تھی
کاشف کی ۔۔۔
کاشف بھی حلیمی کو کچھ نہ کہتا تھا
گھر آ کر کھانا بناتا حلیمی کو کھانا دیتا
حلیمہ پتھر دل تھی شاید
نہ گھر کی صفائی کرتی نہ وہ کبھی کاشف کے کپڑے صفائی کرتی
کاشف اپنے کام خود کرتا سال گزر گیا
کاشف حلیمہ کی ہر بے رخی چوم کر برداشت کرتا
حلیمہ کو یوں لگتا تھا ایک بدو سا انسان پلے پڑ گیا ہے
کاشف چونکہ ایک مرد تھا وہ عورت پہ ہاتھ اٹھانا مرد کی شان کے خلاف سمجھتا تھا
پھر اس پہ ہاتھ اٹھانا جو ہمسفر ہو
کاشف نے ایک دن کہا حلیمہ تم اپنا خیال کیوں نہیں رکھتی
پاگل
دیکھو رنگ کتنا دھیما پڑ گیا تمہارا
تمہارے بال دیکھو کتنے روکھے سے ہو گئے
کاشف حلیمہ کے پاس بیٹھ گیا ایک سال کے بعد کاشف نے یوں حلیمہ خلکو چھوا تھا
حلیمہ کے بالوں میں آئل لگانے لگا
حلیمہ نے کہا چھوڑ دو مجھے کاشف
کاشف نے کہا نہیں چھوڑوں گا، حلیمہ نے دھکا دیا
آئل کاشف کے اوپر گر گیا
حلیمہ جانے لگی اٹھ کر
کاشف نے بازو پکڑا پاس بیٹھا لیا مسکراتے ہوئے کہنے لگا حلیمہ میں یوں ایسے آپ کو نہیں دیکھ سکتا
حلیمہ نے کہا میرا بازو چھوڑو کاشف مجھے درد ہو رہا ہے
کاشف نے پاس بٹھایا آئل لگانا شروع کیا حلیمہ کے سر میں
حلیمہ کے سر میں آئل لگایا پھر چہرے پہ سکرب کرنے لگا
حلیمہ خاموش بیٹھی
کاشف نے مسکراتے ہوئے کہا چڑیل جاو اب شاور لے کر آو اور پنک ڈریس پہنو
میں تمہاری فیورٹ بریانی تیار کرتا ہوں
حلیمہ حیران تھی اتنی بے رخی پہ بھی اتنا پیار کرتا ہے کاشف
حلیمہ شاور لے کر آئی آج چہرے پہ عجیب سی چمک تھی
حلیمہ نے اپنی دوست کو کال کی یار کاشف نے ایسے کیا میرے ساتھ
اس کی دوست نے کہا کاشف اچھا انسان ہے اس کی قدر کرو
حلیمہ نے کہا وہ مجھے امپریس کر رہا ہے
اس کئ دوست نے کہا حلیمہ قمست والوں کو ایسے مرد ایسے ہمسفر ملتے ہیں
اتنے میں کاشف نے آواز لگائی جاں پناہ کھانا تیار ہے آ جاو حلیمہ مسکرانے لگی
آج بریانی سے مزے کی خوشبو آ رہی تھی
حلیمہ نے کھانا شروع کیا اتنے مزے کی بریانی اس کا دل چاہا تعریف کرے کاشف کی لیکن
خاموش رہی کھانا کھایا کمرے میں سونے چلی گئی
کاشف نے برتن اٹھائے واش کرنے لگا
برتن واش کیئے سارا دن کا تھکا ہارا بیڈ پہ پڑا سو گیا
صبح اٹھا حلیمہ کو اٹھایا کہا حلیمہ میری جان ناشتہ تیار کر دیا ہے کر لینا میں جا رہا ہوں اور ہاں آج تمہارے لیے گفٹ لے کر آوں گا
رات کو کاشف گھر آیا
ہاتھ میں ایک گلاب کا پھول تھا حلیمہ کرسی پہ بیٹھی ہوئی تھی گارڈن میں
ہلکی سی ہوا چل رہی تھی شام کا وقت تھا ہلکی دی روشنی تھی
کاشف گھٹنے کے بل بیٹھ گیا گلاب کا پھول حلیمہ کو دیا مسکراتے ہوئے کہنے لگا ہیپی برتھ ڈے حلیمہ
حلیمہ نے کہا تم کو کیسے یاد میرا آج برتھ ڈے ہے
کاشف نے کہا ہمسفر ہوں آپ کا حلیمہ
پیسے نکالے ایک لفافے سے کہا حلیمہ کا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگا حلیمہ جانتی ہو یہ پیپرز کا چیز کے ہیں
حلیمہ کا دل دھڑکنے لگا کیا ہے یہ کاشف
کاشف نے کہا یہ ہم دونوں کی خوشی ہے حلیمہ
حلیمہ نے کہا بتاو کاشف یہ کیا ہے
کاشف نے پیار بھرے لہجے میں کہا یہ ہمارے نئے گھر کے پیپرز ہیں میں نے کیا گھر لیا ہے اور تمہارے نام کیا ہے
حلیمہ کو یقیں نہیں ہو رہا تھا
حلیمہ نے دیکھا نیا گھر وہ بھی میرے نام
حلیمی کرسی پہ بیٹھ گئی آنکھوں میں آنسو آگئے
کاشف اتنی محبت
کاشف کی آنکھ سے پہلی بار آنسو چھلکا تھا
کاشف نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا
حلیمہ ایک چیز مانگوں
حلیمی نے ہاں میں سر ہلا دیا
حلیمہ ہمیشہ خوش رہنا
جانتی ہو تم پری سی ہو معصوم سی
بہت پیاری ہو تم میں بہت خوش نصیب ہوں تم جیسی ہمسفر ملی مجھے
حلیمہ ہماری شادی کو دو سال گزر گئے لیکن ہم نے کبھی ایک دوسرے کو سینے سے نہیں لگایا
مجھے آج سینے سے لگا لو نا
حلیمہ نہ چاہتے ہوئے آج کاشف کو سینے سے لگا لیا
کاشف زور سے سینے سے لگا روتے ہوئے کہنے لگا
یہ بانہیں کیا پتا پھر نصیب ہوں نہ ہوں
اتنا کہہ کر کاشف کمرے میں چلا گیا
حلیمہ کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کرے کاشف کو کیا سمجھتی کاشف کتنا اچھا انسان ہے کتنا برا سلوک کیا میں کاشف کے ساتھ
حلیمہ کا دل چاہ رہا تھا کاشف کی بانہوں میں سما جاوں
کاشف کی بے بے پناہ محبت
دو سال میں کاشف کو اگنور کرتی رہی کاشف پھر بھی مجھے چاہتا رہا
رات بھر حلیمہ خواب دیکھتی رہی کل کاشف کے لیئے ناشتہ خود بناوں گی
کاشف کو اب دنیا کی ہر خوشی دوں گی
کاشف کو اب کبھی اداس نہ ہونے دوں گی
رات بیت گئی حلیمہ اٹھی ناشتہ تیار کیا بہت خوش تھی شاور لیا
کاشف کے اٹھنے کا انتظار کرنے لگی
کافی ٹائم گزر گیا کاشف نہ اٹھا حلیمہ کمرے میں گئی محبت سے آواز دینے لگی کاشف اٹھ جائیں میں نے آج آپ کے لیے ناشتہ تیار کیا ہے
کاشف کروٹ کیئے سویا تھا
حلیمہ نے محبت سے کاشف کو چھوا دیکھا کاشف کا جسم ٹھنڈا پر چکا ہے
حلیمہ نے آگے بڑھ کر دیکھا
کاشف کے بستر پہ خون پڑا تھا منہ پہ خون لگا ہوا تھا
حلیمی چیخنے لگی
زور زور کے آوازیں دینے لگی کاشف اٹھ جاو یہ کہا ہوا آپ کو
کاشف اٹھو نا
محلے والے اکھٹے ہو گئے ہسپتال لے گئے
ڈاکٹر نے چیک کیا دیکھا کاشف
ڈاکٹر نے کہا میں نے کہا تھا اسے اپنا خیال رکھو اپنا علاج کرواو
کسی کو ساتھ لیکر آو لیک شاید یہ جینا نہیں چاہتا تھا
حلیمی نے روتے ہوئے کہا کیا تھا کاشف کو
ڈاکٹر نے ایک آہ بھری اور کہنے لگا کاشف کو پچھلے ڈیڑھ سال سے بلڈ کینسر تھا
شاید اس کا خیال رکھنے والا کوئی نہیں تھا
مجھے اکثر کہتا تھا ڈاکٹر صاحب میں کس کے لیئے جیوں
کوئی ہے ہی نہیں جو مجھے اپنا کہہ سکے
میرے گھر میرا انتظار کرنے والا کوئی نہیں ہے
کوئی نہیں ہے جو مجھے محبت سے پوچھے دن کیسا گزرا
کوئی نہیں ہے جو مجھے کہے آپ تھک گئے ہیں چلو سر دبا دوں
رات کو کمرےمیں اکیلا درد سے تڑپتا ہوں لیکن کوئی نہیں ہے جو میرا درد سمجھے
حلیمہ زمیں پہ گر گئی کاشف یہ کیا کر دیا تم نے
کاشف مجھے معاف کر دو کاشف
میں پاگل ہو گئی تھی
کاشف نہ جاو مجھے چھوڑ کر
کاشف میں مر جاوں گی کاشف تمہارے بنا
کاشف کی لاش سامنے پڑی تھی جو زندگی میں شاید حلیمی کی محبت کو ترستا رہا
حلیمہ کاشف کے چہرے کو ہاتھوں میں لیئے چیخ چیخ کر رو رہی تھی لیکن شاید کے اب محبت کا وقت ختم ہو چکا تھا
کاشف ہمیشہ کے لیئے آزاد کر گیا تھا حلیمہ کو
فارس تو بس اتنا کہتا ہے کسی کے جذبات سے مت کھیلو
کسی کو اتنا نہ ستاو کے وہ مر جائے
اپنے ہمسفر کو سینے سے لگا ایک دوسرے کو گالی دینے کی بجائے ایک دوسرے کو چوم لو
انا میں محبت کے لمحوں کو نہ جلا دینا
چھوٹی سی زندگی ہے نہ جانے کب بچھڑ جائیں جب موت آ گھیرے
محبت بانٹتے رہو
کسی کے مرنے کے بعد پچھتاوے سے اچھا ہے کسی کو زندگی میں ہی سینے سے لگا لو

اپنا تبصرہ بھیجیں