اترتے ڈوپٹے کی درد ناک کہانی

میرا نام دوپٹہ ہے اس کے علاوہ مجھے شال اور چادر بھی کہا جاتا ہے. میں عورت کے حصے میں آیا. میں زمانہ قدیم سے تہزیب میں شامل ہوں. مگر مجھے عزت اور مرتبہ اللہ کے آخری نبی حضرت محمد صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کے دور میں ملا.. اللہ پاک نے عورت کو اپنا جسم ڈھانپے کا حکم دیا. اور اللہ کو ایسا کرنے والی کو بہت پسند کرتا ہے.
ہوا کچھ یوں کہ ایک دن
حضرت محمد صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کسی کو مل نہیں رہے تھے سب ڈھونڈ ڈھونڈ پریشان ہوے جا رہے تھے.. کسی صحابی کو ایک چراوے
نے بتایا کہ اس نے ایک بندے کو اس غار میں جاتا دیکھا ہے. وہ صحابی وہاں گئے تو دیکھا کہ پیارے نبی کریم صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم سجدے میں ہیں اور زاروقطار روے جا رہے ہیں. بہت کوشش کے باوجود آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نے اپنا سر مبارک نہیں اٹھایا تو وہ
صحابی باقی سب کو بھی ساتھ لے گئے مگر کوئی بھی کامیاب نہیں ہوے.
جب اس بات کا علم حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ہوا تو آپ بھی وہاں پہنچیں. آپ نے بھی بہت کوشش کی کہ پیارے نبی کریم صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم سجدے سے سر مبارک اٹھائں مگر ہمارے نبیصَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم بس روے جا رہے۔اور دعا میں اپنی امت کی بخشش مانگ رہے
ایک دم حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ
پیارے با با اب میں اپنے سر سے چادر اتار کے اس کے واسطے سے دعا مانگوں گی کہ اے
اللہ میرے بابا کی امت کو بخش دے ابھی ایسا کہنا تھا کہ فرشتہ حاضر ہوا اور امت کی بخشش کی نوید سنائی.
آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نے اپنا سر مبارک سجدہ سے اٹھا لیا.
اس بات سے مجھے بہت عزت ملی.
مگر موجودہ دور میں بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مجھے میری اہمیت کو بھلا دیا گیا. ایک وقت آیا جب مجھے سر سے اتار کندھے پہ ڈالا جانے لگا اس ک بعد پٹی کی شکل میں گردن سے لپیٹ دیا جانے لگا ایک بار یہ حد ہوی کہ مجھے فیشن کے طور پر بالکل ہٹا دیا گیا . اب بھی اکثر اوقات ایسا ہی ہوتا ہے میرے ساتھ.
ٹی وی چینل پر ایڈ آتا ہے کہ “دوپٹہ چھوڑو پاؤ اصلی نکھار”
میری درخواست ہے کہ مجھے میرا مقام واپس دیا جائے. اور میری اہمیت کو سمجھا جائے میرے بارے میں چھوٹی بچیوں کو لازمی بتایا جائے اور مجھے ہر حال میں ضروری سمجھا جائے…

اپنا تبصرہ بھیجیں