خواجہ سرا کی حقیقت

یہ کہانی ایک خواجہ سرا کی ہے جو میرے گھر اکثر آتے رہتے ہیں اور مجھے بہت عزیز ہیں یہ اپنے علاقے کے “گرو” ہیں ساٹھ سال کے قریب پہنچ چکے ہیں
کچھ عرصے سے آپ کی طبیعت بہت خراب ہے آپ سے دعاؤں کی درخواست ہے تو لیجیے پڑھیے ان کی آپ بیتی ان کی زبانی..
میں اپنے والدین کی پہلی اولاد ہوں جب پیدا ہوا تو والدین بڑے خوش ہوئے جمشید نام رکھا.. میں گورا چٹا خوبصورت تھا جسے دیکھتے ہی ہر کوئی پیار کرتا..
علاقے کے خواجہ سرا میری پیدائش کے ایک ہفتے بعد گھر آئے تو میری ماں نے انہیں ایک جوڑا سوٹ کا اور پچاس روپے دیے اس وقت پچاس روپے کی
بڑی اہمیت تھی.. خواجہ سرا نے مجھے دیکھ کر میری ماں کو میری حقیقت بتادی.. اس کے بعد مجھے اپنے باپ سے پہلے والی پیار کی خوشبو محسوس نہیں ہوئی
البتہ ماں کی پہلے والی خوشبو برقرار رہی.. جب میں پانچ سال کا ہوا تو اماں نے ابا کے منع کرنے کے باوجود مجھے اسکول میں داخل کرادیا..
عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ میری چال اور بولنے کا انداز زنانہ سا ہونے لگا.. پانچ کلاس تو جیسے تیسے کرکے پاس کرلیں لیکن جب چھٹی میں پہنچا تو بچے مجھے
کھسرا کہہ کر چھیڑنے لگے.. مجھے یاد ہے میں پہلی بار جب اماں سے جب یہ پوچھا کہ.. اماں یہ کھسرا کیا ہوتا ہے؟؛؛.. تو اماں نے مجھے اپنی بانہوں میں دبوچ لیا
اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں انہیں روتا دیکھ کر میں بھی رو پڑا اور سمجھ گیا کہ یہ کھسرا اچھا لفظ نہیں.. ابا مجھ سے بالکل بھی بات نہیں کرتے تھے..
حالانکہ میں ابا سے بہت محبت کرتا تھا ایک دن میں نے ابا سے پوچھ ہی لیا.. ابا سب دوستوں کے ابا انہیں پیار کرتے ہیں لیکن آپ مجھے پیار نہیں کرتے..
تو ابا غصے سے یہ کہتے ہوئے باہر چلے گئے.. وہ اپنے بیٹے کو پیار کرتے ہیں اور تو بیٹا نہیں بلکہ کھسرا ہے.. ابا کی یہ بات سن کر مجھے بہت رونا آیا اور
اماں کے گلے لگ کر کافی دیر تک روتا رہا.. میں بارہ سال کا ہوچکا تھا میرے سے چھوٹے دو بھائی اور تین بہنیں تھیں ابا کو ان سب سے پیار کرتا دیکھتا تو
بڑا دکھی ہوتا..ساتویں کلاس میں گیا تو لڑکوں نے میرا جینا حرام کردیا ٹیچرز سے شکایت کرتا تو وہ بھی ہنسنے لگتے آخرکار اماں نے مجبور ہوکر مجھے اسکول
سے ہٹادیا.. بہن بھائی بھی مجھ سے کھنچے کھنچے رہتے
ایک دن میں گھر کا سودا لینے گیا خواجہ سرا راستے میں مل گیا اور مجھے بڑے پیار سے ایک طرف
لےگیا اس میں مجھے ایک کشش سی محسوس ہوئی اپنا اپنا سا لگا کہنے لگا.. بیٹا تم ان لوگوں کے ساتھ کبھی بھی نہیں رہ سکتے یہ تمہیں جینے نہیں دیں گے..
میرے دروازے ہمیشہ تمہارے لیے کھلے ہیں.. اس کی بات سن کر میں گھر آگیا اور اماں کو بتایا اماں یہ سن کر تڑپ اٹھیں اور مجھے اسی وقت ساتھ لیکر
خواجہ سرا کے گھر گئیں اسے خوب سنائیں.. جب تک میں زندہ ہوں اسے مجھ سے کوئی طاقت جدا نہیں کرسکتی اور خبردار جو آج کے بعد کبھی میرے بیٹے
سے ملنے کی کوشش کی.. خواجہ سرا خاموشی سے اماں کی سنتا رہا دس منٹ بعد جب اماں تھک گئیں اور رونے لگیں تو اس نے پانی کا گلاس اماں کو
لاکر دیا اماں کے پانی پینے کے بعد خواجہ سرا کہنے لگا.. بہن
مجھے معلوم ہے کہ آپ کو بہت دکھ ہوا ہوگا لیکن یہ ظالم دنیا والے اسے اپنی دنیا میں کبھی
شامل نہیں کریں گے اس نے لوٹ کر آخر میں ہمارے پاس ہی آنا ہے کیونکہ آپ بھی جانتی ہیں کہ اسے ہمارے علاوہ اور محبت نہیں دے سکتا.. جب بھی آپ
محسوس کریں کہ آپ اپنے بچے کو اس ظالم سماج سے محفوظ نہیں رکھ سکتیں تو اسے ہمارے حوالے کردینا کم از کم یہاں محفوظ تو رہے گا اور
اسے محبت تو ملے گی.. اس کی بات سن کر اماں مجھے گھر لے آئیں.. چھ ماہ بعد آخر وہ وقت بھی آگیا جب اماں بھی مجبور ہوگئیں..

اپنا تبصرہ بھیجیں