بتونا

جیل کے احاطے میں کافی رش تھا-
ھم چھ دوست یہاں ایک مقامی سیاستدان کو ملنے آئے تھے جس نے ایک مقامی تھانیدار کو گھّسن مار کر قانون کا جبڑا توڑا تھا-

مجھے اپنے لیڈر کے نام نہاد گھسُن اور اس کے مابعد سیاسی مضمرات سے کچھ غرض نہ تھی- میں تو بس کسی کہانی کی تلاش میں یہاں چلا آیا تھا-

ہر کھڑکی کے پیچھے ایک اسیر کھڑا تھا اور باہر اس کے چاھنے والوں کا ہجوم- میں نے ایک پیرانہ سالہ ماں کو دیکھا جو آہنی سلاخیں چومتے ہوئے اپنے لعل سے کہ رہی تھی …
” ببر شیرا …. جے چھُٹ جاویں تےبدلہ ضرور لویں مامے دا ….. !!! ”
اور ببر شیر کسی گہری سوچ میں ڈوبا سر ہلا رہا تھا-

بیرک کے آخری پنجرے میں ایک اداس ھستی کھڑی نظر آئ- عمر کوئ پچپن ساٹھ کے لگ بھگ اور چہرے پر تفکّر کے آثار- شکل و صورت سے وہ کوئ زمیندار معلوم ہوتا تھا- شاید اسے ملنے کوئ نہ آیا تھا- مجھے دیکھ کر وہ ہلکا سا مسکرایا- اس کی مسکراھٹ میں چھپا کرب دیکھ کر میں رُک گیا-

ازراہ اخلاق میں نے پوچھا
” کی حال اے …. مَہر صاب !!”
وہ زیرلب کچھ بڑبڑایا جیسے تقدیر پہ شکوہ کناں ہو- ویسے بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے کھڑے کسی شخص سے حال پوچھنا میرے نزدیک ایک انتہائ احمقانہ فعل ہے-

میں نے سوچا شاید یہی شخص میری اگلی کہانی کا کردار ہو ، چنانچہ عقل کے گھوڑے دوڑاتے ہوئے دوسرا سوال سوچنے لگا
“خیر نال آئے او چودھری صاب …. جیل وچ ؟؟ ” کافی سوچ بچار کے بعد میں نے پوچھا-

میرے خیال میں یہ سوال بھی انتہائ سوقیانہ تھا- جیل میں بھلا کون خیریت سے آتا ہے- میں نے سوچا کہ اگر یہ شخص بااختیار ہوتا تو میرے اس بے تُکّے سوال پر ضرور مجھ پر شکاری کُتّے چھوڑتا-

اس کے چہرے پر تلخ سی مسکراھٹ ابھری اور وہ ایک ٹھنڈی سانس لیکر بولا …..
“قتل دے کیس وِچ !!!! ”

میرا دِل زور سے دھڑکا اور میں غیر ارادی طور پر ایک قدم پیچھے ہٹ گیا-
تقریباً ایک منٹ تک فضاء بوجھل سی رہی پھر کڑی ہمت کر کے میں نے پوچھا-
“کس نوں قتل کیتا تُسی ؟؟ ”

میں بے وقوفانہ سوالات کی ھیٹ ٹرک مکمل کر چکا تھا- ظاہر ہے قتل ہونے والا بھی کوئ انسان ہی ہو گا ، ہماری طرح کا جیتا جاگتا انسان-

وہ کچھ دیر خاموش رہا جیسے الفاظ جوڑ رہا ہو پھر مختصر سا جواب دیا
” جھوٹا الزام ایں …”
“پھر … سزا کیسے ہو گئ ؟؟ ”
اس نے ایک اور طویل وقفہ لیا پھر بولا:
“سب گواہ میرے خلاف بھگت گئے … وکیل وی ٹُھس ہو گیا … پارٹی ای بڑی تگڑی سی … وکیل جج سب خرید لئے”

میں نے تلخی سے اپنے ہونٹ چبائے اور کہا
“سخت ناانصافی ہے یہ …. میں اس بات کا میڈیا پر چرچا کرونگا … ”

“کوئ ضرورت نئیں … سزا میرا حق اے … اور میں ایس واسطے تیار”
“کیا مطلب ؟؟”
” کیتا سی میں وی اک معصوم دا قتل …. کئ سال پہلے ….”

اتنا کہ کر وہ کچھ دیر سلاخوں کے پار دور کسی مبہم سائے کو گھورتا رہا ، پھر گویا ہوا

“میں 35 چک سلانوالی دا زمیندار آں- نہر دے نال میری زمین سی … رب دا دتّا سب کچھ سی میرے کول …. مجھاں ، گاواں ، جھوٹیاں ، کھوتیاں … بہار سی چار چفیرے ….

اک سال …. پوہ دے مہینے وِچ …. ساڈی کھوتی نے ایک بچہ دِتّا … بوہت معصوم …. پیارا جیہا …. چِٹا سفید بتونا !!!!

دسویں روز معلوم ہویا کہ کھوتی دا بچّہ اَنہاں ایں … پیدائشی نابینا ….

او سارا دن چوکڑیاں بھردا … تے مونہہ بھار گِردا …. کدّی ایس کِلّے نال وجدا …. کدّی اوس ٹوہے وِچ ڈِگدا … کدّی مجھ تھلّے وڑدا … کدّی جھوٹی وِچ وجدا … اَنہاں جو سی …. اُتوں یار بیلی مجاق کردے … کہندے صدیقے تیری کھوتی نے پھل وی دتّا تے انھاں …. اینوں عینکاں لواء …. ایدی اکھاں دا اپریشن کراء ….

میں ایس سیاپے توں تنگ آگیا … سیالے دی اک ٹھنڈی رات … کَکّر پیا سی … میں اوس معصوم بتونے نوں کناڑھے تے چُکیا …. تے سلانوالی نہر وچ جا کے سُٹ دِتّا …. اج اسے جرم دی سزا بھگت ریاں واں ….. ”

ملاقات کا وقت ختم ہو چکا تھا- میں اپنے دل کادرد چھپاتے ہوئے خاموشی سے رخصت ہونے لگا تو قیدی نے آواز دی …
“اک گل یاد رکھنا وِیر …. گناہ نوں کدّی چھوٹا نہ سمجھیں … رب دی ذات بڑے حساب رکھدی آ …. تے اوس نوں کسے گواہ دی وی لوڑ نئیں …..

اپنا تبصرہ بھیجیں