میں اور میرا مولوی

مجھے یاد ہے جب میں نے پہلی بار میاں جی کو دیکھا تھا………سرخ و سفید لمبی داڑھی…سر پر پگڑی اور ہاتھ میں لمبی سی ڈانگ…..میں اسے بچے اٹھانے والا پٹھان سمجھا…….. .اور بھاگ کر چارپائ کے نیچے چھپ گیا….پتا نییں کتوں کو میاں جی سے کیا پرخاش تھی کہ انہیں دیکھتے ہی بے تحاشا بھونکتے تھے…..
گھر میں ہر چاند کی 11 کو ختم شریف ہوتا…جو میاں جی کی “دعائے ارواح” کے بغیر ناقابل دست اندازیء بچگان سمجھا جاتا…ہم لوگ حلوے کی کڑاھی کو دور سے دیکھتے….. اس کی سوندھی سوندھی خوشبو محسوس کرتے زور وشور سے میاں جی کا انتظار کرتے…کتوں کی “بھونکاڑ” .میاں جی کی آمد کا پتا دیتی…دو ہی کتے تھے..کالو اور ڈبو…. منہ سے کف نکالتے….عجیب منحنی سی آوازیں نکالتے…طوفان برپا کر دیتے تھے……میاں جی بس اپنی ڈانگ آگے کر دیتے… گویا اپنی بے گناہی کی دلیل پیش کر رہے ہوں…اور کتے اس ڈانگ کو بھی نوچنے کی کوشش کرتے…..
شعور کی کسی منزل پر جب ہمیں معلوم ہوا کہ میاں صاحب ہی وہ شخص ہیں جن کی اذان پورے گاؤں میں گونجتی ہے تو حیران ہوکر بابا سے پوچھا ” بابا یہ چھوٹا سا بندہ اتنی اونچی آواز کیسے نکال لیتا ہے”… اس اس پر بابا جی نے معلومات میں اضافہ کیا کہ کمال میاں صاحب کا نہیں لاؤڈ اسپیکر کا ہے…..
بابا جی نے یہ بھی بتایا کہ…..میاں جی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے پیدائش کے بعد ہمارے کان میں اذان دی تھی…اور ہمارے نومولود لاشعور میں یہ بات بٹھائ تھی کہ خوش قسمتی سے ہمارا جنم ایک مسلمان گھرانے میں ہو چکا ہے….اس لیے مشتری ہوشیار باش….اگر عالم ارواح میں بھی عالم دنیا کی طرع رشوت و سفارش چلتی تو شاید کچھ لوگ بھاری رشوت دیکر امریک اور برطانیہ میں پیدا ہوتے….
گرمی ہو یا سردی..میاں جی وقت پر مسجد پہنچتے ..اذان دیتے اور نمازیوں کا انتظار کرتے…شام کو بچوں کو قران پڑھاتے….جمعہ کے دن مسجد کی صفائ کراتے…شادی کے پنجرے میں قید ہونے والے نئے پرندوں کا نکاح پڑھاتے…کوئ مر جاتا تو اس کا جنازہ پڑھاتے…عید میلاد…دس محرم…شب برات کو مسجد کی تزئین و آرائش کراتے…ریڈیو…ٹیپ..گانے بجانے…سے ہمیشہ بچتے…عورت کو گلی میں آتا دیکھ ایک طرف ہو لیتے…کہ یہ سب ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داری کا تقاضہ تھا……
میں بچپن ہی سے سوچتا تھا کہ میاں جی کی زندگی کتنی مشکل ہے…اتوار کی بھی چھٹی نہیں..کام کےلیے شہر جانا پڑے تو قائم مقام مؤذن کے لئے…بند ے بندے کی منت ترلے کرتے پھرتے ہیں……میں اسکول ٹیچر ہوں…کبھی وقت پر سکول نہیں گیا…ہمیشہ جلدی چھٹی کرکے آجاتا ہوں…اور جب چاہے….درخواست بھیج کر دن بھر کی چھٹی لے لیتا ہوں….اور سرکاری چھٹی مفت میں انجوائے کرتا ہوں…اور اس کے بدلے میں.12 ہزار تنخواہ ہر ماہ میرے اکاؤنٹ میں آجاتی ہے……..میاں جی…کتنی محنت کرتے ہیں…اور اس کے بدلے میں انہیں کیا ملتا ہے….
انگریز کے عائلی قوانین کی رو سے انہیں دو ایکڑ زمین اس خدمت کے معاوضے میں ملی ہوئ ہے- اگر خود کاشت کریں تو مسجد چھوٹتی ہے…اگر ٹھیکے پر دیں تو سال کے 60 ہزار ملتے ہیں….یعنی پانچ ہزار ماہانہ…اس دور میں…ایک مزدور کی دیہاڑی 400 سے 600 روپے ہے لیکن میاں جی کی ہمت ہے کہ 166 روپے کی دیہاڑی میں اتنی کٹھن سروس کر رہے ہیں….لیکن حیرت اس بات پر ہے کہ پھر بھی کتے میاں جی پر ہی کیوں بھونکتے ہیں..شاید….اس لیے کہ وہ ایک مولوی ہیں..!!!
حیرت یے کہ ہم خود تو زردہ پلاؤ مٹن بریانی سب کچھ ڈکار جاتے ییں….لیکن میاں جی کا حلوہ کھانا ہم سے ہضم نہیں ہوتا…ہم خود تو پیار محبت عشق وشق کے نام پر جو چاہے کرتے پھریں.. .لیکن فکر ہمیں میا ں جی کے حجرے کی رہتی ہے….ملک بھر میں جنسی طور پر ہراساں کرنے کے روزانہ سیکڑوں کیس رپورٹ ہوتے ہیں لیکن اگر کوئ قاری راہ ہدایت سے ہٹ کر غلط کاری کر بیٹھے تو ہمیں تاعمر یاد رہتی ہے…….سکول میں بچوں پر تشدد کے سیکڑوں واقعات ہوتے ہیں لیکن مسجد کا ملا کسی بچے کا کان مروڑ دے تو ہم پھدکنے لگتے ہیں…..
ہم مولوی کو کبھی اپنے جیسا انسان سمجھنے کو تیار ہی نہیں ……نہ ہی اپنے جیسے حقوق دینے کو راضی ہیں…….ہم خود تو اچھی سے اچھی گاڑی کا خواب دیکھتے ہیں…لیکن کسی مولوی کو لینڈ کروزر چلاتے دیکھ کر ہمارا کلیجہ جلنے لگتا ہے…ہم اپنے سیاسی جلسوں میں جی بھر کے سرکاری ڈیزل جلاتے ہیں لیکن کسی سیاسی مولوی کے پٹرول پمپ ہم سے برداشت نہیں ہوتے….ہم خود تو دن میں بے شمار یو ٹرن لیکر مطمئن رہتے ہیں لیکن ملاؤں کے سیاسی جوڑ توڑ پر ہمیشہ معترض رہتے ہیں…….
لوگ کچھ بھی کہیں……لیکن مولوی پر دشنام طرازی کرنے والوں کے بارے میں میرا گمان ہے کہ ان کے کان میں اذان میاں جی نے نہیں ……کسی اور نے دی ہو گی………..شاید….بلقیس ایدھی نے !!!!

اپنا تبصرہ بھیجیں