1857 میرٹھ کی چنگاری

9 مئی 1857……..میرٹھ کی فوجی چھاونی………صبح ہی صبح کچھ فوجی جوان اپنی اپنی P-53 اینفیلڈ رائفلز صاف کر رہے تھے کہ چند سپاہی بھاگتے ہوئے آئے اور واویلا کر دیا………”سنو بھائیو……سازش…..سازش….پھر وہی کارتوس بھیج دیے ہیں…کمپنی بہادر نے…….کوئ آدمی کارتوسوں کو منہ سے نہ کھولے….گائے کی چربی سے بنے ہیں یہ کارتوس……!!!!
1853 ٹائپ لاٹ کے ان راؤنڈز کو رائفلز پر نصب کرنے سے پہلے منہ سے ان کی کیپ کھولنا پڑتی تھی……..
” پھر کیا ہوا…….میں تو کھولوں گا…..میری تو ماتا نہیں ہے گائے…..” ایک مسلمان نے کہا
“بے وقوف……پوری بات تو سنو……گائے کے ساتھ ساتھ …..سؤر کی چربی بھی استعمال ہوئ ہے….” کہنے والے نے کہا.
غلامی کی اس زندگی سے تو سب تنگ تھے…..17 صدی کے اواخر میں ٹیپو سلطان کی شکست سے لیکر آج تک غلامی کی زنجیروں میں بندھے ہوئے ہندوستانی…اوپر سے….انگریز کا ہتک آمیز سلوک…….کتوں سے بدتر زندگی ….کتوں کی تو عیش تھی بشرطیکہ نسل ولائتی ہو…..باقیوں کےلیے صاحبوں نے دفتروں پر لکھ رکھا تھا..”کتوں اور ہندوستانیوں کا داخلہ بند ہے”….سب مجبور تھے… . کچھ انگریز بہادر سے مرعوب…….خوئے غلامی نس نس میں بس چکی تھی… برما اور دیگر دور دراز علاقوں میں جانے والے فوجیوں کو ملنے والے اسپیشل الاؤنس کی بندش نے پہلے ہی فوج کا مورال گرایا ہوا تھا……اوپر سے نئے بھرتی ہونے والوں کو انگریز بہادر نے صاف صاف بتا دیا تھا کہ ریٹائرمنٹ پر پنشن نہیں ملے گی….وہ بھی مایوس تھے…..عیسائ مشنریوں کی مختلف پلٹنوں میں چپکے چپکے تبلیغ بھی….ہندو مسلم کو برانگیختہ کر رہی تھی…..اوپر سے اب کارتوسوں پر لگی چربی کا انکشاف………پہلے بھی مختلف یونٹس کی طرف سے کمپلین اٹھائ گئ تھی…لیکن اب تو گورا صاحب پوری کی پوری فیکٹری اٹھا کر کلکتہ لے آیا تھا…جہاں مختلف فارموں سے گائے کی چربی دھڑا دھڑ مہیا کی جا رہی تھی……
تھوڑی ہی دیر میں….چالیس پچاس جوان ….بندوقیں پھینک کھڑے ہوگئے… اور بولے..”ہم لعنت بھیجتے ہیں اس غلامی کی زندگی پر……اور فرنگی بدمعاش پر”
بحث و تکرار شروع ہو گئ…..نامنظور نامنظور……اور….گو فرنگی گو کے نعرے لگنے لگے……..
اسی اثنا میں کسی نے چپکے سے جا کر صاحب بہادر کو شکایت لگا دی……
تھوڑی ہی دیر میں میجر کلائیو ہمراہ کچھ گورکھوں کے آن دھمکا…چہرے سے مخصوص فرنگی رعونت ٹپک رہی تھی…..آتے ہی کڑک دار لہجے میں پوچھا…….”کون ہے جو ہمارا آرڈر نہیں مانتا………بولو….سامنے آؤ….”
پلٹن میں ایک سراسیمگی پھیل گئ….سب چپ…….ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے….” آل پلاٹون….فالن ان گراؤنڈ ” کلائیو دھاڑا….
جلدی جلدی سارے فوجی پلٹن میدان میں فالن ہو گئے…..
“تم میں کون اے جو امارا آرڈر نہیں مانتا….” ایک بار پھر دھاڑا…….
ایک مسلمان فوجی بول اٹھا……”صاحب….کیا ان کارتوسوں پر گائے اور سؤر کی چربی لگی ہوئ ہے”
“ہم اس کی تحقیق کرائے گا……..لیکن ابھی آرڈر ماننا مانگتا ہے” میجر نے کہا….
“ہم تمہارا آرڈر نہیں مانتا…” ایک اور جوان آگے بڑھا….
جو آرڈر نہیں مانتا……..فالن آن دی لیفٹ….” کلائیو نے آرڈر دیا….
صرف 35 آدمی نکلے….اور پرعزم چال چلتے ایک سائیڈ پر جا کھڑے ہو ئے….. ……کچھ مسلم…کچھ ہندو.
“ام ٹم کو دوبارہ آرڈر دیتا ہے….اپنا اپنا گن اٹاؤ” میجر نے رعونت سے کہا
لیکن وہ چٹان بن کر کھڑے رہے….میجر نے ایک طائرانہ نظر باقی فوج پر ڈالی اور بولا…..” ٹم میں کوئ اور گیرت والا ہے…ٹو ابی سامنے آجائے …..” سب چپ رہے………میجر نے گورکھوں کو حکم دیا کہ سب باغیوں کی وردیاں اتارکر انہیں فوجی جیل میں ڈال دیا جائے…….. گورکھے اور سکھ پل پڑے….باغیوں کو سب کے سامنے الف ننگا کیا..پاؤں میں بیڑیاں پہنائیں…..اور لاتیں مارتے…ذلیل کرتے….جیل خانے لے چلے…….دس سال قید بامشقت کےلیے……
باقی فوجی کھڑے رہے….عرق ندامت میں ڈوبے ہوئے…دل سب کے رو رہے تھے…لیکن بے بس تھے…….
اس رات لنگر پر حاضری بہت کم رہی…کھانے کو ذلت اور دکھ جو تھا……بہتے بھوکے سوئے….کیمپ کے آس پاس خالی میدان میں دور دور تک ڈبھ اور جنگلی گھاس زمین پر بچھا کر فوجی رات بسر کرتے تھے….اور صاحب بہادر بنگلے کی چھت پر میم کے پہلو میں لیٹا….ان پر نظر رکھتا تھا…..لیکن اس رات میجر اور میم چرچ گئے ہوئے تھے….اور بھی سارے گورے آفیسر اور ان کی فیمیلیز چرچ میں جمع تھیں….کوئ خاص مذہبی تقریب تھی…ہاتھوں میں موم بتیاں اٹھائے ہیم پڑھی جارہی تھی…ساز بج رہے تھے…!!!
ادھر کیمپ میں ….نصف صدی سے خاموش آتش فشاں…..کے دہانے سے آج پہلی بار ہلکا ہلکا دھواں اٹھ رہا تھا…….پانچ مجاھدوں نے رات کے اندھیرے میں پہلے جیل کے سنتریوں کو اس خاموشی سے جہنم واصل کیا کہ وہ چیخ بھی نہ سکے…پھر اسلحہ خانہ توڑا……اور.آخر میں جیل توڑی……اور تمام قیدی آزاد کرا لیے…..
پھر ڈبھ اور جنگلی گھاس پر لیٹے اپنے ساتھیوں کو خاموشی سے جگایا….. اور دھڑا دھڑ اسلحہ تقسیم کرنے لگے………ان کی تعداد ہزاروں میں تھی…..
سب سے پہلے اپنی ہی صفوں میں چھپے صاحب بہادر کے غداروں کو قتل کیا….فضاء…نعرہء تکبیر….نعرہء حیدری…..اور ” جے جے بکرم بلی کی جے ” …اور فائرنگ کی تڑتڑاہٹ سے گونج اٹھی…………سرفروشوں نے چھوٹتے ہی چرچ کا رخ کیا…….اور فرنگی کو بھاگنے کا موقع نہ دیا.. نصف صدی سے دہکتا لاوہ جب پھٹا تو تو فرنگی کے ساتھ ساتھ..اس کے بیوی بچوں کو بھی نگل گیا………عورتوں….بچوں…..بوڑھوں….چھوٹوں …..بڑوں ….یہاں تک کہ فرنگی کے کتوں کو بھی مار دیا گیا….!!!!!!…ہر طرف فرنگیوں….میموں….بچوں …..کی لاشیں….اور بارود کی بو پھیلی ہوئ تھی………….
تبدیلی آ نہیں رہی تھی…….آ چکی تھی…….بس…..سمت متعین نہیں تھی…..نہ کوئ لیڈر تھا …نہ رہنما……
“ہم سب دلی چلیں گے…..اسی وقت……..بہادر شاہ ظفر ہی ہندوستان کا بادشاہ ہے..” کسی نے نعرہ لگایا……سب نے حمایت کی……
مدت تک غلامی کے پنجرے میں قید پرندے چند سانپوں کو مار کر پورے ہندوستان کو آزاد سمجھ رہے تھے…..
گھوڑے…تلواریں…تیر….بھالے……کاربین رائفل……P53 رائفلز……جو کچھ ہاتھ لگا…اس رات لوٹ لیا گیا…..
کارواں اب دلی کی سمت جا رہا تھا…….بادشاہ کو سلامی دینے………..

اپنا تبصرہ بھیجیں