کتاب کی تلاش

ایک دفعہ ڈیرہ اسمعیل خان سے ہمارے ایک چچا زاد ہمیں ملنے کھرڑیانوالہ تشریف لائے… میں اس وقت 8 سال کا تھا…. گھر میں عجیب سی چہل پہل ہو گئ ..فورا ہی ایک مرغا قتل ہوا….باجرے کا حلوہ بنا….لسی تازہ کی گئ…. … مہمان بھی لسی کی طرع کھٹا ہی تھا…..ہمارے لیے نہ تو مٹھائ لایا…نہ پھل فروٹ….شاید گھر سے یہی ھدایت لےکے آیا تھا کہ چھوٹوں کو پیار اور بڑوں کو سلام دینا…….لیکن ہم کچھ زیادہ ہی حسن ظن رکھتے تھے….چنانچہ ادھر مہمان اور مرغا دست بدست ہوئے…… ادھر ہم بلی کی طرع دبے پاؤں کچے کوٹھے میں چلے گئے…..اور موصوف کے سوٹ کیس کو سونگھنے لگے….کہ شاید مٹھائ رکھی ہو….اور دینا بھول گئے ہوں….سوٹ کیس سے…کپڑے…عینک….مفلر….رومال…تولیہ…استرا….ازار بند..نسوار…..سب کچھ نکلا…نہ نکلی تو مٹھائ….بارے ایک کتاب ہاتھ آئ……اور ….بھاگتے چور کی” کتاب ” سمجھ کر ورق گردانی کرنے لگے……کتاب کیا تھی….. طلسم ہوشربا تھا…….!!!!
ہم تازہ تازہ…. دوسری جماعت سے اول پوزیشن لیکر تیسری میں گئے تھے…..ذوق مطالعہ انگڑائ لے کر بیدار ہوا…….اور علمی پیاس سے گلا خشک ہو نے لگا….. دروازے کو کنڈی لگائ…..ورق گردانی شروع کی تو ……خیالات سے لاشعوری کی گرد چھٹنے لگی….یہ ہماری زندگی کا پہلا طویل ترین مطالعہ تھا……. پانچ دن تک روزانہ چھپ کر پڑھتے رہے…….روزانہ کتاب بستر میں چھپا دیتے اور بوقت قیلولہ افراد دیگر… کنڈی لگا کر گزشتہ سے پیوستہ مطالعہ شروع فرمادیتے ……. پانچویں دن کچے کوٹھے سے باہر نکلے…تو بالغ ہو چکے تھے…………..کتاب تھی………… “کاما سوترا” …..باتصویر !!!!
اس کے بعد بے شمار کتب ہماری زندگی میں آئیں اور ہماری شخصیت کو نکھارتی چلی گئیں….چوتھی جماعت میں ماسٹر اکبر علی صاحب دامت برکاتہم نے ہمارے ذوق مطالعہ کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر دو غیر نصابی کتابوں کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی- چنانچہ بابا جی کو پرچی بھجوائ گئ…..فیصل آباد سے بڑی تلاش و بسیار سے “تعلیم و تربیت” اور” تحصیل الاملاء” لائے گئے…بابا جی تو دو کتابیں مہیا کر کے دوبارہ کھیتوں میں ہل چلانے لگے… اور ہم دونوں رسالے چاٹ کر پھر سوکھے کا شکار ہو گئے…..
آخر بڑی منت سماجت سے بابا جی ہر فصل پر ایک رسالہ ” تعلیم وتربیت ” لانے ہر راضی ہوئے …. ہم چھ ماہ تک رسالے کا انتظار کرتے …..اس دوران پرانے رسالے کو اتنا چاٹتے کہ اس میں چھید ہو جاتے……
دوسال بعد وہی کزن دوبارہ ملنے آئے تو شاید توبہ تائب ہو چکے تھے کہ بیگ سے “موت کا منظر ” دریافت ہوئ….خیر سر عام پڑھی ..خود بھی ڈرے…دوسروں کو بھی ڈرایا……لیکن یہ کتاب نہ پڑھتے تو عاقبت کے احوال سے شاید بےخبر ہی رہتے….
پھر ڈپٹی نزیر احمد صاحب کا ترجمہ قران پڑھا……..عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کی غنیہ الطالبین……تھانوی رح کی بہشتی زیور….مودودی صاحب کی کچھ کتابیں….ابن جوزی رح کی تلبیس ابلیس اور عشق مجازی کی تباہ کاریاں….مترجم پڑھیں…لدھیانوی صاحب کی “اختلاف امت اور صراط مستقیم …..ایک کتاب غلام احمد پرویز کی..نام یاد نہیں…سر سید اور..مودودی صاحب کے کچھ رسائل….ندوی صاحب کی “تاریخ دعوت عزیمت”….پڑھی…بہت سے نام ابھی بھول چکا ہوں….
جب دہ جماعت پاس کرکے باباجی نے مزید تعلیم کا بار اٹھانے سے انکار کر دیا….تو نوکری کے لیے…بڑے شہر آگئے…..یہاں شفیق الرحمن صاحب کی “پرواز” .”حماقتیں”….”مذید حماقتیں….صدیق سالک کی “میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا”….”ہمہ یاراں دوزخ”…..بانو قدسیہ کی “راج گدھ” …شہاب صاحب کی “شہاب نامہ” …پطرس کے مضامین….میر امن کی باغ و بہار….ہیر وارث شاہ…غرض جو کچھ میسر آیا جی بھر کر پڑھا….اور پڑھ رہے ہیں……
ایک بار آئل پینٹنگ کا شوق ہوا….اس موضوع پر کتاب کی تلاش کےلیے اردو بازار کا رخ کیا تو حیرت ہوئ کہ ہمارے ملک میں فنون کے کتب خانوں میں…..گھریلو ٹوٹکے….الو تنتر….کالا جادو قانون محبت……جدید پامسٹری….سبزیوں سے علاج….خواب نامہ یوسفی…ٹی وی ریڈیو مکینک……ٹریکٹر کی دیکھ بھال….جیسی کتابیں تو موجود ہیں…کوئ سنجیدہ ہنر کی کتاب نہ ہونے کے برابر ہے….بعد از خرابیء بسیار ایک کباڑیے کے پاس ایک انگریزی میں لکھی بوسیدہ سی ایک کتاب ملی…..
کتاب انسان کا بہترین دوست ہے…اگر آپ اپنے ماہانہ بجٹ سے ایک کتاب ہر ماہ خرید کر پڑھیں تو سال میں 12 کتابیں پڑھ لیں گے…اور اگر گھر کے قریب کوئ لائبریری ہے تو ہفتہ میں کم از کم ایک چکر تو ضرور لگائیے….یاد رکھیے….فلم دیکھنے سے…انٹرٹینمنٹ ضرور ملتی ہے…لیکن زندگی کا قرینہ اچھی کتاب ہی فراہم کرتی ہے… اچھی کتابیں ضرور پڑھیے…..محض کسی ایک مکتبہء فکر کی کتابیں پڑھنے سے بھی ذہنی نشونما رک جاتی ہے….پڑھیے سب کو….لیکن عمل صرف حق بات پر کیجیے……
کتاب علم میں اضافے کے ساتھ ساتھ….آپ کو تحریر کا ہنر بھی دیتی ہے….محترم رعایت اللہ فاروقی جیسے جڑاؤ الفاظ…..پیر مستان شاہ صاحب جیسی شوخئ تحریر…اور جناب قاری حنیف ڈار جیسا حسن بیان…..صرف اور صرف ذوق مطالعہ کے مرہون منت ہے…..
آج کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں بھی کتاب کی افادیت مسلم ہے…انٹرنیٹ پر بے شمار کتب Pdf فارمیٹ میں موجود ہیں….اگر آپ کے پاس اینڈرائیڈ ہے تو Scribd نامی سوفٹوئیر ڈاؤن لوڈ کیجیے…اور من چاہی کتاب کا مطالعہ فرمالیجیے……..

اپنا تبصرہ بھیجیں