پروین کی لڑکی

میں نے اپنی ڈیوٹی ساتھی سیکیوریٹی گارڈ کے حوالے کی اور ٹوپی سنبھالتا بینک بلڈنگ سے باہر آگیا…..فیڈرل گورنمنٹ کاج سے فیصل ایوینیو کی طرف جاتے ہوئے سوچا ایوبیہ مارکیٹ سے کچھ سامان پارچہ جات خریدتا چلوں….کہ اچانک…. دھماکے کی آواز سنی….اور کچھ لوگوں کو روڈ کی طرف بھاگتے دیکھا…..میں بھی تجسس کے گھوڑے پر سوار اس طرف دوڑا…..ایکسیڈنٹ بلا کا تھا ایک کار اور بس کا………..مجھ سے پہلے پندرہ بیس لوگ وہاں پہنچ چکے تھے….بس فٹ پاتھ ہر چڑھ گئ تھی اور کار کا اگلا حصہ شدید متاثر ہوا تھا…..قریب آیا…تو خون بھی نظر آیا…… ایک خاتوں شدید زخمی تھیں…بے ہوش تھیں یا شاید بے جان …لمبے سیاہی مائل بال…چہرے پر بلا کا اطمینان اور معصومیت….یوں لگ رہا تھا…..ابھی ابھی سوئ ہیں…..اتنے میں ایمبولیس آگئ….اور زخمی کو اسٹریچر پر ڈال…سائرن بجاتی….چلی گئ…کوئ پوچھ رہا تھا….کون تھی…کسی نے کہا…..ڈپٹی کلکٹر لکھا تھا کارڈ پر……..نام سنا سنا لگا…..پروین ………پروین….کون ہے پروین ………..
حکومتی شہر میں ہونے والے اس چھوٹے سے حادثے کو فراموش کر کے میں گھر آ گیا….اگلے دن چھٹی تھی…میں ریڈیو لیے..دالان میں آن بیٹھا………. ریڈیو پر مہدی حسن کی ایک غزل گونجی….
کو بکو پھیل گئ بات شناسائ کی
اس نے خوشبو کی طرع میری پزیرائ کی
غزل ختم ہوئ تو اناؤنسر نے بتایا کہ یہ غزل پروین شاکر کی ہے…جو کل ایک المناک حادثے میں اللہ کو پیاری ہو گئی ہیں..مجھے جھٹکا لگا……ہاتھ ماتھے پہ مارا……اچھا ….تو وہ….. پروین شاکر تھیں…… شاعرہ پروین شاکر…..اوہ میرے خدا !!!!
میں نے پروین شاکر کو مرتے دیکھا…….روڈ پر….لیکن ایک ایسا ملک جہاں سالانہ ہزاروں افراد ٹریفک کے حادثے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں…اور جہاں مرنے والوں کی کم تعداد ہی واحد خبر اطمینان کی ہو…اس کے شاعر…ادیب….فنکار….کون سا دودھوں دھلے ہیں…کہ آرام سے دفتر میں بیٹھے بیٹھے انتقال فرمائیں…پروین شاکر….تو ایک خوشبو تھی…. سو….ہوا میں بکھر گئ….
کل شب کو جو اندھن کےلیے کٹ کے گرا ہے
چڑیوں کو بہت پیار تھا اس بوڑھے شجر سے
لیکن پروین تو ایک توانا شجر تھیں…بھلا وقت کی آندھیوں کو ان سے کیا شکایت ہو سکتی تھی…..
خوبصورت الفاظ کی ساحرہ پروین شاکر 24 نومبر 1952 کو کراچی میں پیدا ہوئیں…..کے جی سے ایم اے کراچی ہی میں کیا…..شروع ہی سے مائل بہ شاعری تھیں….اور مینا کے نام سے کسی اخبار میں انکی تحریریں بھی شائع ہوتی تھیں….مقامی مشاعروں میں بھی شرکت رہتی تھی…غزل اور آزاد نظم انکی صنف شاعری تھی….1976 میں پہلی بار “خوشبو” بن کر پھیلیں تو پورے چمن کو مہکا گئیں….میں نے “خوشبو” کو کئ بار پڑھا ہے…لیکن ہر بار نیا لطف آیا ہے….جدید اردو شاعری کی بانی پروین نے پہلی بار شاعری میں لفظ “لڑکی” متعارف کرایا…جو اردو شاعری میں صرف ان کی لائ ہوئ جدت تھی…….پہلے شعرا اس مخلوق کو محبوب…یار….ساجن…حسین…صنم …بت…..اور نہ جانے کیا کیا کہتے تھے….لیکن … پروین نے معاشرے کی پہنائی ہوئی ساری ملمع کاریاں اتار کر اسے محض ایک “لڑکی” کے روپ میں آشکار کیا……..
پروین کی ساری کی ساری شاعری رومان انگیز محبت سے بھری ہے….. خوشبو کے بعد انکے مجموعہء کلام میں صد برگ …خود کلامی ….. انکار……کف آئینہ…….سب کے سب مشہور ہوئے…..اور شعرو شاعری کے دلدادوں نے انہیں خوب سراہا……
پروین شاکر کی “لڑکی” کہیں تو ہمیں شب ہجر کا استقبال کرتی نظر آتی ہے کہ….

شب سے بھی گزر جائیں گے گر تیری رضا ہو
اس راہ میں کوئ مرحلہء شام تو آیا

اور کہیں گئ رفاقتوں کے ادھورے قصے سناتی…..دکھائ دیتی ہے…

بات وہ آدھی رات کی….رات بھی پورے چاند کی
چاند بھی عین چیت کا اس پر تیرا جمال بھی
سب سے چھپ کر وہ تیرا مجھ کو ایسے دیکھنا
ایک لمحے کو رک گئ تھی گردش ماہ و سال بھی

اور کہیں واردات ّغم…….کہ
کیا بات ہے جس کا غم بہت ہے
کچھ دن سے یہ آنکھ نم بہت ہے

کہیں وصل کی آرزو……
دوگھڑی میسر ہو اس کا ہم سفر ہونا
پھر ہمیں گورا ہے اپنا در بدر ہونا

کہیں ادھورا شکوہ کہ……
تو بدلتا ہے تو بے ساختہ میری آنکھیں
اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں الجھ جاتی ہیں

کہیں یہ لڑکی تقاضا کرتی ہے…
طلاق دے تو رہے ہو غرورو قہر کے ساتھ
مرا شباب بھی لوٹا دو میرے مہر کے ساتھ

میں سوچتا ہوں اس انا ہرست معاشرے میں ایک بہادر لڑکی کب تک زندہ رہتی……اسے آسودہ خاک ہی ہونا تھا سو ہو گئ…لیکن اس کی خوشبو اب بھی میرے چار سو پھیلی ہوئ ہے………….

اپنا تبصرہ بھیجیں