سازش نا کام ہو گئی

وہ بہت قابل تھے ، اس لیے انھوں نے خلیفہ کی نظروں میں اہمیت حاصل کر لی ۔
بحرین پر گورنر مقرر کرنا تھا ۔ خلیفہ کو کوئی مناسب بندہ نہیں مل رہا تھا ۔ دن گزرتے جا رہے تھے اور انھیں فکر کھائے جا رہی تھی ۔ آخر خلیفہ کو خیال آیا کہ انھیں گورنر بناتا ہوں ۔
یوں خلیفہ نے انھیں بحرین کا گورنر مقرر کر دیا ۔ جلد ہی انھوں نے وہاں جا کر اپنی ذمے داری سنبھال لی ۔
وہ بہت سخت مشہور تھے اور کسی کو ذرا سی بھی رعایت دینے کے بارے میں سوچتے بھی نہیں تھے ، اس لیے بحرین کے لوگوں نے انھیں قبول نہ کیا ۔ وہ ان سے راضی نہیں تھے ۔ اب لوگ منصوبے سوچنے لگے کہ کس طرح سے انھیں گورنری سے ہٹایا جا سکتا ہے ۔ آخر ایک آدمی نے کہا ۔
” خلیفہ اپنے گورنروں کے بارے میں بہت سختی سے کام لیتے ہیں اور وہ ان کی ذرا سی بھی کوتاہی کو نظر انداز نہیں کرتے ، اس لیے ان سے گورنر کی شکایت کر دی جائے ۔ “
” کیسی شکایت ؟ “ ایک اور آدمی بولا ۔
” ایک بات یاد رکھنا …. “ دوسرے نے کہا ۔
” وہ کیا ؟ “ سب تیزی سے بولے ۔
” اگر ہم شکایت کا ثبوت پیش نہ کر سکے ، تو پتا ہے کیا ہوگا ؟ “
” کیا ہوگا ؟ “
” انھیں ہم پر دوبارہ گورنر مقرر کر دیا جائے گا ۔ “
” یہ تو ہے …. اس لیے کوئی ایسی ترکیب سوچی جائے ، جو پائےدار ہو اور گورنر سے ہماری جان چھوٹ جائے ۔ “
پھر وہ سب مل کر غورو فکر ہونے لگے ۔ کافی دیر کی سوچ و بچار کے بعد ان کے سر دار نے کہا ۔
” ایک ترکیب میرے ذہن میں آئی ہے …. “
” ترکیب …. کیسی ترکیب ؟ “ سب چونک پڑے ۔
” پہلے تو یہ یاد رکھو کہ اگر تم اسے استعمال کرنے میں کامیاب ہو جاؤ ، تو اگر انھیں دوبارہ کبھی گورنر بنایا بھی گیا ، تو اس علاقے میں نہیں بھیجا جائے گا ۔ “
” ٹھیک ہے …. ہم ہر ممکن کوشش کریں گے ۔ “ سب نے یقین دلایا ۔
” میرے پاس ایک لاکھ درہم جمع کراؤ ۔ “
” اس کا کیا کریں گے ؟ “ وہ حےرت سے بولے ۔
” میں یہ رقم لے کر خلیفہ کے پاس جاؤں گا اور ان سے کہوں گا کہ گورنر نے بیت المال سے یہ رقم چرا کر میرے پاس رکھوائی ہے ۔ “
” اس سے کیا ہوگا ؟ “
” اس طرح ان پر چوری کا الزام لگے گا اور پھر سزا کے طور پر انھیں گورنری سے ہٹا دیا جائے گا اور یہ کبھی دوبارہ گورنر نہیں بن سکیں گے ۔ “
” زبردست …. ایک بہترین ترکیب …. ٹھیک ہے …. ہم تیار ہیں ۔ “ وہ سب تیار ہوگئے ۔
پھر ان مخالفوں نے ایک لاکھ درہم اکٹھے کیے اور سردار کے پاس جمع کرا دیے ۔ وہ یہ رقم لے کر منصوبے کے مطابق مدینے کی طرف روانہ ہو گیا ۔
جب وہ مدینے شریف پہنچا ، تو اس نے خلیفہ سے ملاقات کی اور ان سے کہا ۔
” امیر المومنین ! آپ کے گورنر نے یہ ایک لاکھ درہم بیت المال سے نکال کر مجھے دیے ہیں …. “
” تمھیں کس لیے دیے ہیں ؟ “ خلیفہ نے اسے غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا ۔
” کہ میں انھیں اپنے پاس حفاظت سے رکھوں …. “
” اچھا!!!!!! “
” یوں وہ امانت میں خیانت کے مرتکب ہوئے ہیں …. مجھ سے ان کا یہ سنگین جرم برداشت نہیں ہو سکا اور میں پہلی فرصت میں آپ کی خدمت میں حاضر ہو گیا ہوں ۔ “
خلیفہ نے سردار کو اپنے ہاں ٹھہرا لیا اور گورنر کو بلانے کے لیے اسی وقت آدمی بھیج دیے ۔
خلیفہ حکمرانوں کی معمولی سی کوتاہی بھی برداشت نہیں کرتے تھے اور یہاں تو ایک گورنر پر خیانت کا الزام لگایا جا رہا تھا ۔ جلد ہی گورنر ان کی خدمت میں حاضر ہو گئے ۔ خلیفہ نے گورنر سے کہا ۔
” یہ شخص کیا کہہ رہا ہے اور اس کا جواب تمھارے پاس کیا ہے ؟ “
” کیا کہہ رہا ہے ؟ “
یہ سن کر خلیفہ نے اسے ساری تفصیل بتائی ۔ گورنر نے اپنے اوپر لگا ہوا الزام بڑے تحمل سے سنا اور عرض کیا ۔
” اللہ تعالیٰ آپ کو صحت و سلامتی دے …. یہ شخص جھوٹا ہے ۔ “
” جھوٹا ہے ؟ “ خلیفہ نے حیرت سے پوچھا ۔
” ہاں جی ! میں نے اسے ایک لاکھ نہیں، بلکہ دو لاکھ درہم دے رکھے تھے ۔ “
یہ سن کر خلیفہ نے پوچھا ۔
” تم نے ایسا کیوں کیا ؟ “
” اہل و عیال اور ذاتی ضروریات کے لیے ۔ “
اب خلیفہ سردار کی طرف متوجہ ہوئے اور اس سے کہا ۔
” اب تم کیا کہتے ہو …. “
” کس حوالے سے ؟ “
” یہ تو دو لاکھ تھے …. تم ایک لاکھ کی بات کرتے ہو …. دوسرا لاکھ کہاں ہے ؟ “
سردار بری طرح سے پھنس گیا تھا ۔ اس کے پاس اصل بات ظاہر کرنے کے علاوہ کوئی اور راستا نہیں بچا تھا ، اس لیے وہ نہایت شرمندہ اور نادم ہو کر بولا ۔
” اللہ تعالیٰ آپ کا بھلا کرے! گورنر نے مجھے کوئی مال نہیں دیا تھا …. “
” یہ …. یہ…. کیا کہہ رہے ہو ؟ “ خلیفہ نے حیرت سے چلا کر پوچھا ۔
” میں سچ کہہ رہا ہوں …. انھوں نے مجھے کچھ مال نہیں دیا …. نہ تھوڑا نہ زیادہ ۔ “
” پھر تم نے جھوٹا الزام کیوں لگایا ؟ “
” اس کی ایک وجہ ہے …. “
” اور وہ وجہ کیا ہے ؟ “
” اصل میں ان کی سخت مزاجی ہمیں پسند نہیں تھی …. “
” اچھا …. ! ! “
” یہ شریعت اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو کسی قسم کی رعایت نہیں دیتے ہیں …. ہمیں ان کی یہ عادت پسند نہیں تھی ، اس لیے ہم نے انھیں گورنری سے ہٹانے کے لیے یہ سازش تیار کی تھی ۔ “
اب خلیفہ گورنر کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا ۔
” اب تم کیا کہتے ہو اور تم نے ایسا کیوں کہا کہ تم نے اسے دو لاکھ دیے تھے ؟ “
گورنر نے احترام سے عرض کیا ۔
” اس خبیث نے میرے اوپر جھوٹ باندھا ، اس لیے میں نے چاہا کہ اسے رسوا کروں …. ورنہ ! میں نے کسی قسم کی کوئی رقم کسی کو نہیں دی تھی ۔ “
یہ سن کر خلیفہ امیرالمومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے گورنر حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ضروری نصیحتوں کے ساتھ واپس بھیج دیا ۔ پھر کبھی ان سے کسی کو کوئی شکایت پیدا نہ ہوئی ۔

ماخوذ ….
سیرت اعلام النبلا …. جلد …. ۳ ، صفحہ ۷۲ ۔
تاریخ ابن ِ عساکر …. جلد …. ۸۱ ، صفحہ …. ۸۳ ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں