رکن الدین محمد بیبرس

منگولوں کے طوفان کے دور میں واحد مسلمان تھا، جو یہ کہتا تھا…
” ہم انھیں شکست دے سکتے ہیں….”
سب اسے پاگل کہتے تھے…. ان کا کہنا تھا ۔
” تم بے وقوف ہو… بغداد کا انجام بھول گئے، جس کی گلیوں میں مسلمانوں کا خون بہنے لگا تھا…..”
وہ بھی سچے تھے….
حالات اس نہج پر پہنچ چکے تھے کہ بغداد کی گلیوں میں ایک منگولی فوجی گزرتا.. وہاں ہزار بھی مسلمان کھڑے ہوتے، تو وہ اس کے سامنے لیٹ جاتے تھے…. قتل کرتے کرتے اس کے ہاتھ شل ہو جاتے تھے، لیکن مسلمان ہلتے بھی نہیں تھے ۔
لیکن رکن الدین بھی سرپھرا تھا ۔
اس نے پورے ملک کی ذہن سازی کی..
وہ زندگی پر یقین رکھتے ہیں…. ہم مسلمان ہیں… زندہ رہے، تو غازی…. قتل ہوگئے، تو شہید…. مطلب دونوں صورتوں میں کامیابی ہمارا مقدر ہے…. ان کا مقصد قتل و غارت اور لوٹ مار …. ہمارا مقصد جہاد فی سبیل اللہ….
وقت تو لگا، لیکن وہ ناکام نہیں رہا ۔
اس کے اس جنون کا صلہ اسے عین جالوت کے میدان میں ملا ۔
39 جنگوں کا مسلسل فاتح منگول سپہ سالار قطبوغا…. رکن الدین کے مقابلے میں ٹھہر نہ سکا ۔ شکست اس کا مقدر بنی اور قاہرہ کے بڑے چوک میں کئی دن تک اس کی لاش لٹکی رہی…..
یہ بتانے کے لیے کہ منگول ناقابل شکست نہیں… انھیں شکست دی جا سکتی ہے…. بس ہمت و حوصلے کی ضرورت ہے ۔ ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں