پیاس

آج پھر کرفیو لگا تھا ۔
گاؤں کے باسی اپنے اپنے گھروں میں دبکے بیٹھے تھے ۔ ان کے دل خوف سے کانپ رہے تھے ۔ حالات بتا رہے تھے کہ آج پھر یہاں شیطانیت کا ننگا ناچ ہونے والا ہے ۔ سفاکیت کی نئی تاریخ رقم ہونے والی ہے ۔
آنے والے وقت کا سوچ کر ہی ان کے ہوش اڑے جا رہے تھے ۔ یہ وادی ِ لولاب کا ایک گاؤں تھا ۔ جنت ِ نظیر کشمیر کا یہ گاؤں خوب صورتی میں اپنی مثال آپ تھا ، لیکن اس وقت اس کا حسن گہنا رہا تھا ۔
گاؤں سے باہر ایک میدان تھا ، جہاں بچے مختلف کھیلیں کھیلتے تھے ، لیکن یہی میدان اس وقت ظلم و جبر کی داستانوں کا مرکز بن جاتا ، جب کبھی بھارتی درندے اپنی پیاس بجھانے کے لیے اس طرف کا رخ کرتے تھے ۔ انھیں اپنی پیاس بجھانے کے لیے خون کی ضرورت پڑتی تھی ، جو انھیں کشمیری مسلمانوں کی صورت میں وافر مقدار میں میسر تھا ۔ اسی میدان میں وہ انھیں جمع کرتے اور پھر چنگیزخان کے مظالم کی یاد تازہ کرتے ۔ کبھی کبھی تو سفاکی میں چنگیز خان کو بھی مات دے دیتے تھے ۔
پورے گاؤں کو بھارتی فوجیوں نے گھیرے میں لے رکھا تھا ۔ گلیوں میں فوجی دستے گشت کر رہے تھے ۔ ان کے بلند ہوتے ہوئے قہقہے گھروں میں دبکے لوگوں کے ہوش اڑانے کے لیے کافی تھے ۔
دوسرے لوگوں کی طرح مقامی کسان نواز بھی اپنے گھر میں دبکا بیٹھا تھا ۔ اس نے اپنے بیٹوں کو آج اسکول جانے سے منع کر دیا تھا ۔ بڑا بیٹا دسویں میں اور چھوٹا آٹھویں میں پڑھتا تھا ۔ دونوں لڑکے بہت ذہین تھے اور ہر سال بہترین کار کردگی کا مظاہرہ کرتے تھے ۔ نواز کا دل عجیب سے انداز میں دھڑک رہا تھا ۔ اس کا دل کر رہا تھا کہ وہ یہاں سے بھاگ جائے ، لیکن اسے کون بھاگنے دیتا ۔ اسے پتا تھا کہ باہر موجود درندے اسے ایک لمحے کی بھی مہلت نہیں دیں گے ۔ انھیں تو ایسے سہمے ہوئے شکار چاہیے ہوتے تھے ، جو انھیں تفریح دے سکیں ۔
اس کی بیوی نے آج صبح ہی تو اسے کہا تھا ۔
” مجھے آج عجیب سی گھبراہٹ ہو رہی ہے …. “
” میرا بھی یہی حال ہے …. “
” سمجھ میں نہیں آ رہا کہ ایسا کیوں ہے ؟ “
” اللہ خیر کرے گا ۔ میں نے یہ فیصلہ کیا ہے ، آج میں کام پر جاؤں گا اور نہ ہی اپنے بیٹوں کو اسکول جانے دوں گا ۔ “
” ٹھیک ہے ۔ “
اصل میں اس گاؤں میں امن و امان کو کئی دن گزر چکے تھے ۔ یوں لگتا تھا کہ بھارتی اس گاؤں کو بھول چکے ہیں ۔ لوگ اب بڑے اطمینان سے اپنے روز مرہ کے کاموں میں مصروف رہتے تھے ، لیکن ان کی یہ بھول تھی ۔ وہ تو کسی موقعے کی تلاش میں تھے اور اگر انھیں موقع نہیں ملتا تھا ، تو وہ خود ہی نکال لیتے تھے ۔ خون کی ہولی کھیلنا تو ان کا دل پسند مشغلہ تھا ۔
اور آج انھوں نے اس گاؤں کو اپنا نشانہ بنانے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔
ابھی نواز اور اس کے گھر والے ناشتے سے فارغ ہی ہوئے تھے کہ انھیں ایک عجیب سے احساس نے آن گھیرا ۔ گلیوں میں بھاری بوٹوں کی دھمک سنائی دے رہی تھی ۔ یہ خطرے کی گھنٹی تھی ، جو آج اس گاؤں میں بھی بجنے جا رہی تھی ۔ جلد ہی صورت حال واضح ہوگئی ، کیوں کہ ایک میگا فون کے ذریعے سے اعلان ہونے لگا ۔
” اس گاؤں کو فوج نے اپنے گھیرے میں لے لیا ہے اور یہاں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے ، اس لیے کوئی باہر نکلنے کی کوشش نہ کرے ۔ جو بھی باہر نکلے گا اور ہم سے الجھنے کی کوشش کرے گا ، وہ نتائج کا خود ذمے دار ہوگا …. “
یہ سن کر سب گاؤں والے پھیکے پھیکے سے ہنس پڑے ، کیوں کہ پہلے کون سے نتائج کے وہ ذمے دار بنتے تھے ۔ جب بھی خون کی ہولی کھیلی جاتی تھی ، الزام کشمیریوں پر ہی آتا تھا ۔ یہ پہلی بار تو نہیں ہوا تھا ، اس لیے وہ خاموش ہی رہے ۔ اس کے علاوہ وہ اور کر ہی کیا سکتے تھے ۔
اعلان کرنے والا آگے کہہ رہا تھا ۔
” ہمیں خبر ملی ہے کہ یہاں گھس بیٹھیے آتے رہتے ہیں اور تم لوگ انھیں پناہ دیتے ہو …. ان کی ہر طرح سے مدد کرتے ہو …. رات کو بھی یہاں چند اگر وادی آتے تھے ، جنھیں تم لوگوں نے اپنے پاس ٹھہرایا …. ابھی تک وہ یہی موجود ہیں …. بہتر یہی ہے کہ انھیں ہمارے حوالے کر دو …. کسی کو کچھ نہیں کہا جائے گا ، لیکن اگر ایسا نہ کیا گیا ، تو جلد ہی ہم گھر گھر تلاشی لیں گے اور پھر نفع نقصان کی ذمے داری ہماری نہیں ہوگی ۔ “
اعلان تو ختم ہوچکا تھا ، لیکن اب گاؤں کے باسیوں کے ہوش اڑ چکے تھے ۔ انھیں احساس ہوچکا تھا کہ چنگیز خان کے وارث آج اس علاقے کو خاک و خون میں ڈبونے والے ہیں ۔
تھوڑی ہی دیر میں گلیوں میں فوجی بوٹوں کی دھمکیں گونجنے لگیں ۔ یہ دھمکیں کشمیریوں کو اپنے دلوں پر محسوس ہونے لگیں ۔ انھیں پتا چل چکا تھا کہ آج ان کی خیر نہیں ۔
تھوڑی تھوری دیر بعد چند بار یہ اعلان دہرایا گیا ۔ یہ اعلانات تو ایسے تھے ، جیسے بکرا قربان کرنے سے پہلے اسے پانی اورچارہ کھلایا جاتا ہے ۔ آج یہ بھی قربان ہونے والے تھے ۔ ظلم و جبر کی ایک نئی تاریخ رقم ہونے والی تھی ۔ یہ پہلی بار نہیں ہونے جا رہا تھا ، ایسے خوں چکا واقعات سے کشمیر کی تو تاریخ بھری پڑی ہے ۔ ستر سال سے پورا کشمیر خون میں ڈوبا ہوا ہے ، ہر روز لاشیں اٹھ رہی ہیں ، اس کے باوجود اقوام ِ عالم کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ۔
ہم کون سے کم ہیں ۔ صرف ایک دن ان کے نام کر دینے سے کشمیر حاصل نہیں ہو جاتا اور نہ ہی بیان بازیاں ان کی تقدیر بدل سکتی ہیں ۔ ہم صرف احتجاج اور بیان بازیاں ہی کر سکتے ہیں ۔ احتجاج بھی ایسے کہ جن میں ہم اپنی ہی املاک کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ ہم سے بڑا بے وقوف کون ہوگا ۔
کچھ دیر سب سولی پر لٹکے رہے ، کیوں کہ ان کی طرف سے کوئی اعلان نہیں ہوا تھا ۔ سب اس فکر میں رہے کہ اب وہ نیا کیا کرنے جا رہے ہیں ۔ ایک چھوٹی سی امید بھی تھی کہ ہو سکتا ہے ، آج وہ صرف تلاشی لے کر یہاں سے چلے جائیں ۔ جلد ہی ان کا انتظار ختم ہوگیا ، کیوں کہ میگا فون سے ابھرنے والی آواز نے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا تھا ۔
” سب لوگ باہر نکلیں اور میدان میں جمع ہو جائیں ۔ “
مرتے کیا نہ کرتے ، وہ سب باہر نکلے اور میدان کی طرف بڑھنے لگے ۔ بھارتی فوجی انھیں بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکتے ہوئے لے جا رہے تھے ۔ جو چلنے میں سستی کرتا ، اسے اپنی ٹھوکروں پر رکھ لیتے ۔ ساتھ ساتھ گالیاں بھی بک رہے تھے ۔
” ہم بلائیں ، تو تمھیں موت پڑ جاتی ہے ، لیکن اگر وہ گھس بیٹھیے یہاں آ جائیں ، تو تم بھاگ بھاگ کر ان کی خدمت کرتے ہو ۔ “
” ہر بار ہم تمھارے ساتھ رعایت کرتے ہیں ، لیکن آج تمھیں مزا چکھاتے ہیں ، آیندہ تم کسی گھس بیٹھیے کو پناہ نہیں دو گے ۔ “
” بھارت ماتا کے ساتھ غداری کرنے والوں کا انجام بہت بھیانک ہوگا ۔ “
انھوں نے معصوم بچوں ، عورتوں ، لڑکیوں ، بوڑھوں ، معذور اور بیمار لوگوں کو بھی نہ چھوڑا ۔ ہر ایک کے ساتھ مار پیٹ کر کے انھیں میدان میں لے گئے ۔ جب سب اکٹھے ہوگئے ، تو کچھ فوجی ان نہتے کشمیریوں کی نگرانی کرنے لگے ۔ باقیوں نے گھروں کا رخ کیا ۔ وہاں تلاشی کے نام پر انھوں نے سب کچھ تلپٹ کر کے رکھ دیا ۔ جو بھی قیمتی چیز ان کے ہتھے چڑھی ، وہ انھوں نے پار کر لی ۔ اتنا تو ان کا حق بنتا تھا کہ اپنی پیاس بجھانے کے بعد کچھ مال ِغنیمت بھی تو ملنا چاہیے ۔
جب ان کی تلاشی مکمل ہوگئی ، تو سب میدان میں اکٹھے ہوگئے ۔ اب ان کا اصل کھیل شروع ہونے والا تھا ۔ ان کے افسر میجر ونود نے کہا ۔
” تم خوش ہو رہے ہوگے کہ ہماری تلاشی ناکام ہوگئی ہے …. ہمیں کوئی ثبوت نہیں ملا …. اگر تم ایسا سوچ رہے ہو ، تو یہ تمھاری بہت بڑی غلط فہمی ہے …. “
یہ سنتے ہی نواز سے رہا نہ گیا اور وہ بے اختیار بول اٹھا ۔
” کیسی غلط فہمی ؟ “
کرنل ونود نے اسے گھور کر دیکھا ، اسے یہ بات پسند نہیں آئی تھی کہ کوئی اس کی بات کاٹے ۔ وہ غرا کر بولا ۔
” اس بار تو میں تمھیں چھوڑ رہا ہوں ، لیکن آیندہ اگر تم نے میری بات کاٹنے کی کوشش کی ، تو میں تمھیں ایسی موت ماروں گا کہ تمھاری روح نرگ میں بھی بلبلاتی رہے گی اور تم وہاں بھی میرے نام سے ڈرو گے …. “
اتنا کہہ کر وہ کچھ دیر کے لیے رکا ، پھر دوبارہ بولنے لگا ۔
” ہاں ! تو میں کیا کہہ رہا تھا ؟ “
” سر ! آپ ان کی غلط فہمی کی بات کر رہے تھے …. “ اس کا ایک ماتحت کشمیریوں کو طنزیہ انداز میں دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولا ۔
” ہمیں پکے ثبوت ملے ہیں کہ کل رات بھی یہاں چند گھس بیٹھیے آئے تھے اور انھوں نے رات یہاں گزاری تھی ۔ ہمارے یہاں آنے سے پہلے وہ دم دبا کر بھاگ گئے …. “
اچانک ایک قہقہہ گونجا ۔
” ہا ہا ہا ہا …. ہا ہا ہا ہا …. “
سب چونک کر ادھر دیکھنے لگے ۔ ایک بارہ تیرہ سالہ لڑکا قہقہے لگا رہا تھا ۔ یہ نواز کا چھوٹا بیٹا عدنان تھا ۔ نواز کے تو ہوش اڑ گئے ۔ اسے یقین ہوگیا کہ اب عدنان کا بچنا مشکل ہے ۔
میجر ونود پھاڑ کھانے والے لہجے میں چلایا ۔
” تم نے …. تم نے …. قہقہہ لگا کر اپنی موت کو آواز دے دی ہے ، اب تم بچ نہیں سکتے ، لیکن اس سے پہلے ایک بات بتانا پڑے گی …. “
یہ سنتے ہی عدنان بے خوفی سے آگے بڑھا ۔
” پوچھو ، جو پوچھنا چاہتے ہو ، لیکن ایک بات یاد رکھنا …. “
” وہ کیا ؟ “
” ہم مسلمان موت سے نہیں ڈرا کرتے …. ڈرتے تو تمھارے جیسے گیدڑ ہیں …. “
یہ سن کر بھارتی فوجیوں کے چہرے پر بارہ بج گئے ، کیوں کہ عدنان نے انھیں ان کی حقیقت سے آگاہ کر دیا تھا ۔
” بکواس مت کرو اور یہ بتاؤ …. تم نے قہقہہ کیوں لگایا تھا ؟ “
” تم نے بات ہی ایسی کی تھی …. “
” میں نے ایسی کیا بات کر دی تھی ، جس کی وجہ سے تم قہقہے لگانے لگے ؟ “
” تم نے مجاہدوں کے بارے میں کہا تھا کہ وہ دم دبا کر بھاگ گئے ، حالاں کہ تم بھی اچھی طرح سے جانتے ہو کہ یہ جھوٹ ہے …. دم دبا کر تو تم بھاگتے ہو ان کا نام سن کر …. اب ایسی بڑھک پر میں ہنستا نہ تو اور کیا کرتا …. “
اب تو میجر ونود کی ہمت جواب دے گئی ۔ اس نے مشین گن سیدھی کی اور عدنان پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی ۔ گولیوں نے عدنان کا سینہ چھلنی کر دیا تھا ، لیکن اس کے چہرے پر مسکراہٹ کھیل رہی تھی ۔ یہ دیکھ کر بھارتی درندے بپھر گئے اور انھوں نے خون کی ہولی کھیلنا شروع کر دی ۔
کچھ دیر کے بعد جب بھارتی درندے وہاں سے جا رہے تھے ، تو میدان میں خون ہی خون تھا ۔ بے گناہ کشمیریوں کی لاشیں پڑی تھیں اور زخمی تڑپ رہے تھے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں