چھپن سال کا دائرہ

سسکیوں کی آواز نے مجھے چونکا دیا ۔
پلٹ کر دیکھا، تو قریب والے بنچ پرایک بوڑھا موجود تھا ۔
اس کی عمر ساٹھ کے قریب ہوگی ۔ وہی رو رہا تھا ۔ بوڑھے کو روتے دیکھ کر حیرت ہوئی ۔
میں اس وقت ایک پارک میں موجود تھا اور یہ میرا روز کا معمول تھا… عصر کے بعد اس قریبی پارک میں جاتا اور ایک گھنٹہ وہاں گھومتا پھرتا ۔ پارک کی خوب صورتی پورے دن کی کلفت دور کر دیتی تھی اور میں تازہ دم ہو جاتا تھا ۔
میں اس کے پاس جا بیٹھا اور احترام سے پوچھا ۔
” بابا جی! کیا ہوا… آپ رو کیوں رہے ہیں؟”
میری آوز نے اسے چونکا دیا ۔ جلدی سے آنسو پوچھتے ہوئے کہنے لگا ۔
” کک….. کچھ نہیں…”
” بابا جی! کچھ تو ہے…. بتا دیجیے…. سنا ہے…. کہنے سے غم کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے…. میں آپ کے کسی کام تو نہ آ سکوں، لیکن ہو سکتا ہے، آپ کا حوصلہ بڑھ جائے…. ”
میرے نرم گرم لہجے نے بزرگ کو کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ۔ وہ چند لمحے مجھے جانتی نظروں سے دیکھتا رہا…. پھر بولا ۔
” بیٹا! میں تو اس لیے رہا ہوں کہ جب میں چار سال کا تھا اور جس بات پر یقین تھا…. گزرتے وقت نے وہ یقین گہنا دیا، لیکن آج تقریباً چھپن سال بعد دوبارہ یقین ہوگیا ہے… درمیان والے یہ ماہ و سال میں غلطی پر تھا….”
” کیا مطلب….”
” مطلب یہ ہے بیٹا! جب میں نے ہوش سنبھالا، تو تب میری عمر چار برس تھی.. اس وقت میرے خیالات یہ تھے کہ میرے والد سب سے اچھے انسان ہیں… ان جیسا کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا…. ”
” یہ تو سب کے خیالات ہوتے ہیں… ” میں نے بات بڑھائی ۔
بوڑھے نے مسکرا کر مجھے دیکھا اور سلسلہ کلام دوبارہ شروع کیا۔
” جب میں چھے سال کا تھا، تو اس وقت یہ احساسات تھے کہ میرے والد سب کچھ جانتے ہیں… ان کا علم لامحدود ہے… چار سال بعد میرے خیالات میں پہلی بار تھوڑی سی تبدیلی آئی…. واد صاحب تو بہت اچھے ہیں، لیکن غصے کے تھوڑے تیز ہیں….. ابھی شاید انہی خیالات پر ٹھہرا رہتا، لیکن گزرے مزید دو سالوں نے میرا ذہن یکسر بدل ڈالا… ”
” وہ کیسے…؟ ”
“اب میرے یہ خیالات تھے کہ جب میں چھوٹا تھا، تب ابا جان بہت اچھے تھے…. اب وہ ویسے نہیں رہے…. مزید دو سالوں کے سفر نے خیالات بدل ڈالے… اب یہ تصور تھا کہ وہ بہت حساس ہوگئے ہیں…. بات یہاں تک رہتی، تو ٹھیک تھی، لیکن مزید دو سالوں کے سفر نے یہ احساس دلایا کہ ابا جان جدید دور کے تقاضوں سے آشنا نہیں ہیں…. وہ پرانے دور کے آدمی ہیں…. جب اٹھارہ سال کا ہوا، تو تب تک یہ یقین ہو چکا تھا کہ ان میں برداشت کا مادہ کم ہوتا جا رہا ہے….”
وہ سانس لینے کے لیے رکا، تو میں چونک پڑا ۔ ان کی باتیں ایسی تھیں کہ بڑی توجہ سے سن رہا ۔ چند لمحوں کے بعد وہ دوبارہ بولنے لگا ۔
” جب میں بیس سال کا تھا، تو یہ احساس شدت سے جاگا کہ ان کے ساتھ تو وقت گزارنا بہت ہی مشکل کام ہے…..جانے امی بے چاری کیسے ان کے ساتھ اتنی مدت سے گزارہ کررہی ہیں…. جب میں پچیس سال کا ہوا، یوں لگنے لگا، میرے ابا کو ہر اس چیز پر اعتراض ہے، جو میں کرتا ہوں…. پانچ سال مزید گزرے ، تو یہ خیالات امنڈنے لگے… ابا جان کے ساتھ باہمی رضامندی بہت ہی مشکل کام ہے۔شاید دادا جان کو بھی ابو سے یہی شکایت ہوتی ہوگی، جو مجھے ہے…. ”
وہ خاموش ہوا، تو میں بول پڑا ۔
” پھر؟ ”
” پھر ایک عجیب بات ہوئی….. ”
” وہ کیا… ”
” اب میرے خیالات میں واپسی کا سفر شروع ہوگیا… ”
” واپسی کا سفر…. آپ کھل کر بتائیے ناں…. ”
” جب میں چالیس سال کا ہوا، تو یہ احساس ہوا کہ ابا جان نے میری پرورش بہت ہی اچھے اصولوں کے ذریعے کی تھی ، مجھے بھی اپنے بچوں کی پرورش ایسی ہی کرنی چاہیے۔ پانچ سال بعد حیرت ہونے لگی کہ ابا جان نے ہم سب کو کیسے اتنے اچھے طریقے سے پالا پوسا…. پانچ سال کے مزید سفر نے بتا دیا کہ میرے لیے تو بچوں کی تربیت بہت ہی مشکل کام ہے…. جانے ابا جان ہماری تعلیم و تربیت اور پرورش میں کتنی اذیت سے گزرے ہوں گے۔ پچپن سال کی عمر میں یہ احسا شدت سے ہونے لگا کہ میرے ابا جان بہت دانا اور دور اندیش تھے اور انھوں نے ہماری پرورش اور تعلیم و تربیت کے لیے بہت ہی زبردست منصوبہ بندی کی تھی۔ جب میں ساٹھ سال کا ہوا، تو پتا چلا کہ میرے ابا جان سب سے اچھے ہیں…. ”
بوڑھا خاموش ہوا، تو میں اسے ٹکر ٹکر دیکھ رہا تھا ۔ وہ چند لمحے خاموش رہا، پھر بولنے لگا ۔
” بیٹا! غور کرو…. اس دائرے کو مکمل ہونے میں چھپن سال لگے اور بات آخر میں پھر پہلے والے قدم پرآگئی کہ میرے ابا سب سے اچھے ہیں…. آج اسی احساس نے مجھے رونے پر مجبور کر دیا…. میرے بچوں کو ابھی اس بات کا احساس نہیں، اس لیے میں ان کے سامنے نہیں رویا کہ کہیں وہ مجھے پاگل نہ سمجھ بیٹھیں…… ”
یہ سنتے ہی میں اٹھ کھڑا ہوا اور تیزی سے گھر کی طرف چل پڑا۔
میں اس دائرے کو مکمل ہونے کے لیے چھپن سال کا انتظار نہیں کرنا چاہتا تھا….. میں ابھی واپسی کا سفر کرنا چاہتا تھا ۔ دوپہر کو ہوئی بحث کی تلافی کرنا چاہتا تھا، کیوں کہ اس بات کی سمجھ آ گئی تھی کہ والد کبھی بھی پرانے دور کے نہیں ہوتے…. ان کی نظر مستقبل پر ہوتی ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں